۲۔ داؤد کا زوال (باب ۱۱،۱۲)
الف۔ بت سبع اور اوریاہ کے خلاف جرائم (باب ۱۱)
۱۱: ۱۔۵ مفسر میتھیو ہنری داؤد کی اخلاقی گراوٹ کے تین اسباب کی نشان دہی کرتا ہے:
- اپنے کام سے کوتاہی
- آرام طلبی
- گمراہ نگاہیں۔
جنگ پر جانے کے بجائے داؤد نے یوآب کو بھیجا اور خود گھر میں بے کار بیٹھا رہا۔ کاہلی کے اوقات اکثر بڑی آزمائشوں کے اوقات ہوتے ہیں۔ ایک شام اُس نے محل کی چھت پر سے دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت نہا رہی ہے۔ جب اُس نے اُس کے بارے میں تحقیق کی تو پتا چلا کہ وہ داؤد کے ایک بہادر جنگی مرد اوریاہ کی بیوی بت سبع ہے۔ داؤد نے اُسے بلوا لیا اور اُس سے زِناکاری کی۔ بت سبع نے اپنے آپ کو اپنی ناپاکی سے پاک کیا اور اپنے گھر چلی گئی۔ جب اُسے پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے تو اُس نے داؤد کو اِس کے بارے میں خبر بھیجی۔
۱۱: ۶۔۱۳ بادشاہ نے اپنے گناہ کو چھپانے کی خاطر سازِش کا منصوبہ بنایا۔ سب سے پہلے تو اُس نے جنگ سے اوریاہ کو بلوایا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ یوآب اور جنگ کی کیفیت کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ جب اوریاہ نے اُس کے سوالوں کا جواب دے دیا تو داؤد نے اُسے کہا کہ وہ اپنے گھر جائے۔ اُسے اُمید تھی کہ وہ جا کر اپنی بیوی بت سبع سے مباشرت کرے گا۔ اور جب بچہ پیدا ہو گا تو اوریاہ کا خیال ہو گا کہ یہ اُس کا اپنا بیٹا ہے۔ لیکن اوریاہ نے داؤد کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ گھر واپس جانے کے بجائے وہ بادشاہ کے گھر کے آستانے پر سو گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ جب میری قوم جنگ کی حالت میں ہے تو گھر کے آرام سے لطف اندوز نہیں ہو سکوں گا۔ مایوسی کی حالت میں داؤد نے اوریاہ کو نشے میں متوالا کرا دیا، لیکن وفادار سپاہی نے تب بھی گھر جانے سے اِنکار کر دیا۔ بادشاہ کی فریب کاری کے مقابلے میں اوریاہ کی وفاداری روزِ روشن کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
۱۱: ۱۴۔۱۷ تب داؤد ذلت کی گہرائیوں میں گر گیا۔ اُس نے اوریاہ کو حکم دیا کہ وہ یوآب کے لئے خط لے جائے۔ اِس خط میں اوریاہ کی موت کا منصوبہ درج تھا۔ بادشاہ نے یوآب کو حکم دیا تھا کہ اوریاہ کو گھمسان کی لڑائی میں آگے رکھے جہاں اُس کی موت یقینی ہو۔ یوں اوریاہ زندہ رہے گا کہ وہ پیدا ہونے والے بچے کو قبول کرنے سے اِنکار کرے۔ یوآب نے جنگ کو یوں ترتیب دیا کہ اوریاہ یقینی طور پر مارا جائے۔ اُس نے فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، لیکن پھر اُنہیں پیچھے ہٹنے کو کہا۔ جب اوریاہ اور اُس کے آدمی جو مرکز میں تھے، آگے بڑھے تو وہ دیوار پر عمونیوں کا آسانی سے نشانہ بن گئے۔ فوجی نقطۂ نگاہ سے یہ مضحکہ خیز حکمتِ عملی تھی، لیکن یہ طریقِ کار اوریاہ اور داؤد کے دیگر وفادار خادموں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔
۱۱: ۱۸۔۲۰ جب یوآب نے داؤد کو خبر بھیجی، وہ جانتا تھا کہ بادشاہ فوجی شکست سے ناراض ہو گا۔ داؤد ضرور یہ کہے گا ’’تم لڑنے کو شہر کے ایسے نزدیک کیوں چلے گئے؟ کیا تمہیں پتا نہ تھا کہ جدعون (یربست) کا بیٹا ابی مَلِک مارا گیا جب اُس نے ایسا قدم اُٹھایا تھا؟‘‘ (قضاۃ ۹: ۵۰۔۵۵)۔ چنانچہ یوآب نے قاصد کو تاکید کی کہ بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ کہے ’’تیرا خادم حتیٰ اوریاہ بھی مر گیا ہے۔‘‘ اِس سے بادشاہ اِس دن کی فوجی شکست کو نظر انداز کر دے گا۔
۱۱: ۲۲۔۲۵ جیسا کہ قاصد کو تاکید کی گئی تھی ویسے ہی اُس نے داؤد کو خبر دی۔ تب اُسے پیغام دے کر یوآب کے پاس واپس بھیجا گیا کہ ’’فوجی پسپائی تو ہوتی ہے۔ اوریاہ کی موت سے ناخوش نہ ہو کیونکہ تلوار کبھی ایک کو اُڑاتی ہے کبھی دوسرے کو۔‘‘ یوں داؤد نے ریاکاری سے اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کی اور موت کو مقدر سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے تاثرات دیئے۔
روایتی ایامِ سوگ کے بعد داؤد نے بت سبع کو بلوا لیا کہ اُس کی بیوی بنے۔ کچھ عرصے کے بعد بچہ پیدا ہوا۔
’’داؤد کی زندگی کا یہ واقعہ بتانے سے کتابِ مقدس کی صاف گوئی کا اِظہار ہوتا ہے۔ پاک نوشتوں میں خدا کے لوگوں کا حال بڑی دیانت داری سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ فی الحقیقت کیسے تھے اور اُن کے داغ دھبوں کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘ (Scripture Union Daily Notes)
مقدس کتاب
۱ اور اَیسا ہُؤا کہ دوسرے سال جس وقت بادشاہ جنگ کے لئے نکلتے ہیں داؔؤد نے یؔوآب اور اُسکے ساتھ اپنے خادِموں اور سب اِسرائیلیوں کو بھیجا اور اُنہوں نے بنی عموُّن کو قتل کیا اور ربّؔہ کو جا گھیرا پر داؔؤد یرؔوشلیم ہی میں رہا۔
۲ اور شام کے وقت داؔؤد اپنے پلنگ پر سے اُٹھ کر بادشاہی محلّ کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اُس نے ایک عَورت کو دیکھا جو نہارہی تھی اور وہ عَورت نِہایت خُوبصورت تھی۔
۳ تب داؔؤد نے لوگ بھیجکر اُس عَورت کا حال دریافت کیا اور کِسی نے کہا کیا وہ اِلؔعام کی بیٹی بتؔ سبع نہیں جو حتِیّ اور یاّؔہ کی بیوی ہے؟۔ اور داؔؤد نے لوگ بھیجکر اُسے بُلالیا ۔ وہ اُسکے پاس آئی اور اُس نے اُس سے صُحبت کی( کیونکر وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہوُچکی تھی) ۔ پھر وہ اپنے گھر کو چلی گئی۔
۴
۵ اور وہ عَورت حاملہ ہوگئی ۔ سو اُس نے داؔؤد کے پاس خبر بھیجی کہ مَیں حامِلہ ہُوں۔
۶ اور داؔؤدنے یؔوآب کو کہلا بھیجا کہ حِتیّ اور یاّؔہ کو میرے پاس بھیج دے۔ سو یوؔآب نے اوؔریاّہ کو داؔؤد کے پاس بھیج دیا۔
۸ اور جب اوؔریاّہ آیا تو داؔؤد نے پُوچھا کہ یوؔآب کیَسا ہے اور لوگوں کا کیا حال ہے اور جنگ کَیسی ہو رہی ہے؟۔
۷ پھر داؔؤد نے اورؔیاّہ سے کہا کہ اپنے گھر جا اور اپنے پاؤں دھو اور اؔوریاّہ بادشاہ کے محلّ سے نِکلا اور بادشاہ کی طرف سے اُسکے پیچھے پیچھے ایک خوان بھیجا گیا۔
۹ پر اوؔریاّہ بادشاہ کے گھر کے آستانہ پر اپنے مالک کے اور سب خادِموں کے ساتھ سویا اور اپنے گھر نہ گیا۔
۱۰ اور جب اُنہوں نے داؔؤد کو یہ بتایا کہ اورؔیاّہ اپنے گھر نہیں گیا تو داؔؤد نے اورؔیاّہ سے کہا کیا تُو سفر سے نہیں آیا؟ پس تو اپنے گھر کیوں نہ گیا؟۔
۱۱ اوؔریاّہ نے داؔؤد سے کہا کہ صندوُق اور اِسرؔائیل اور یہُؔوداہ کو جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور میرا مالک یوؔآب اور میرے مالک کے خادمکُھلے میدان میں ڈیرے ڈالے ہُوئے ہیں تو کیا مَیں اپنے گھر جاؤُںاور کھاؤُں پیوں اور اپنی بیوی کے ساتھ سوؤُں؟ تیری حیات اور تیری جان کی قسم مجھ سے یہ بات نہ ہوگی۔
۱۲ پھر داؔؤد نے اورؔیاّہ سے کہا کہ آج بھی توُ یہیں رہ جا۔ کل میں تجھے روانہ کردُونگا ۔ سو اورؔیاّہ اُس دِن اور دُوسرے دِن بھی یرؔوشلیم میں رہا۔
۱۳ اور جب داؔؤد نے اُسے بُلایا تو اُس نے اُسکے حُضوُر کھایا پیا اور اُس نے اُسے پلا کر متوالا کیا اور شام کو وہ باہرجاکر اپنے مالک کے اَور خادموں کے ساتھ اپنے بستر پر سو رہا پر اپنے گھر کو نہ گیا۔
۱۴ صُبح کو داؔؤد نے یؔوآب کے لئے ایک خط لکھا اور اُسے اورؔیاّہ کے ہاتھ بھیجا ۔
۱۵ اور اُس نے خط میں لکھا اور اُسے اوؔریاّہ کو گھمُسان میں سب سے آگے رکھنا اور تُم اُسکے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے اور جان بحق ہو۔
۱۶ اور یُوں ہُوا کہ جب یؔوآب نے اُس شہر کا مُلاخطہ کر لیا تو اُس نے اوؔریاّہ کو اَیسی جگہ رکھّا جہاں وہ جانتا تھا کہ بہادُر مرد ہیں ۔
۱۸ اور اُس شہر کے لوگ نِکلے اور یؔوآب سے لڑے اور وہاں داؔؤد کے خادِموں میں سے تھوڑے سے لوگ کام آئے اور حتِیّ اورؔیاّہ بھی مر گیا۔
۱۷ تب یوؔآب نے آدمی بھیج کر جنگ کا سب حال داؔؤد کو بتایا۔
۱۹ اور اُس نے قاصِد کو تاکید کر دی کہ جب تُو بادشاہ سے جنگ کا سب حال عرض کرچُکے ۔
۲۰ تب اگر اَیسا ہو کہ بادشاہ کو غُصہ آ جائے اور وہ تجھ سے کہنے لگے کہ تُم لڑنے کو شہر کے اَیسے نزدیک کیوں چلے گئے؟ کیا تُم نہیں جانتے تھے کہ وہ دیوار پر سے تِیر مارینگے ؟۔
۲۱ یؔرُبّست کے بیٹے ابؔیملک کو کِس نے مارا ؟ کیا ایک عورت نے چکیّ کا پاٹ دیوار پر سے اُسکے اُوپر اَیسا نہیں پھینکا کہ وہ تیبؔض میں مر گیا؟ سو تُم شہر کی دیوار کے نزدیک کیوں گئے ؟ تو پھر تُو کہنا کہ تیرا خادِم حِتیّ اورؔیاّہ بھی مرگیا ہے۔
۲۲ سو وہ قاصد چلا اور آکر جس کا م کے لئے یؔوُآب نے اُسے بھیجا تھا وہ سب داؔؤد کو بتایا ۔
۲۳ اور اُس قاصِد نے داؔؤد سے کہا کہ وہ لوگ ہم پر غالب ہُوئے اور نکلکر مَیدان میں ہمارے پاس آگئے ۔ پھر ہم اُنکو رگیدتے ہوُئے پھاٹک کے مدخل تک چَلے گئے۔
۲۴ تب تیراندازوں نے دیوار پر سے تیرے خادِموں پر تیر چھوڑے ۔ سو بادشاہ کے تھوڑے سے خادِم بھی مرے اور تیرا خادم حِتیّ اورؔیاّہ بھی مر گیا۔
۲۵ تب دؔاؤد نے قاصد سے کہا کہ تُو یؔوُآب سے یُوں کہنا کہ تجھے اِس بات سے ناخوُشی نہ ہو اِسلئے کہ تلوار جَیسا ایک کو اُڑاتی ہے وَیسا دوُسرے کو ۔ سو تُو شہر سے اَور سخت جنگ کرکے اُسے ڈھا دے اور تُو اُسے دم دِلا سا دینا۔
۲۶ جب اورؔیاّہ کی بیوی نے سُنا کہ اُسکا شَوہر اوؔریّا ہ مرگیا تو وہ اپنے شوہر کے لئے ماتیم کرنے لگی ۔
۲۸ اور جب سوگ کے دِن گُزر گؑے تو داؔؤد نے اُسے بُلوا کر اُسکو اپنے محلّ میں رکھ لیا اور وہ اُسکی بیوی ہوگئی اور اُس سے اُسکے ایک لڑکا ہُؤا پر اُس کام سے جِسے داؔؤد نے کا تھا خُداوند ناراض ہُؤا۔