۲سموئیل ۱۲

ب۔ خداوند کے سامنے اِقرار (‏باب ۱۲)‏

۱۲:‏ ۱۔۹ اکثر یہ خیال پیش کیا جاتا ہے کہ باب ۱۱ اور ۱۲ کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ اِس عرصے کے دوران خداوند کا ہاتھ داؤد پر بھاری تھا‏، اُس کی روحانی کش مکش کا زبور ۳۲ اور ۵۱ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ناتن نبی نے اِس تمثیل کو داؤد کے سامنے بیان کرتے ہوئے‏، اِس معاملے کے لئے اُس کا فیصلہ مانگا۔ ایک امیر آدمی کے پاس ایک مہمان آیا‏، لیکن اُس نے کھانے کے لئے اپنی بہت سی بھیڑوں میں سے کسی کو ذبح نہ کیا‏، بلکہ اُس نے ایک غریب کی واحد بھیڑ کو لے کر مہمان کے لئے پکایا۔ داؤد اپنے گناہ کے بجائے دوسرے کے گناہ کا آسانی سے فیصلہ دے سکتا تھا۔ اُس نے بڑے غصے سے کہا کہ اُس شخص کو اِس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا اور وہ خود واجب القتل بھی ہے۔ ناتن نے بغیر کسی خوف کے یہ کہتے ہوئے اُس پر الزام لگایا کہ وہ شخص تُو ہی ہے جس نے یہ کام کیا۔ خدا نے تجھ پر بہت فضل کیا‏، تجھے بادشاہ بنایا‏، تجھے دولت مند بنایا‏، اور تیری ہر ایک خواہش کے مطابق تجھے دیا۔ لیکن تُو نے بت سبع کو اُس کے شوہر سے لے لیا اور اِس کے بعد اپنے جرم کو چھپانے کی غرض سے اُسے قتل کر وا دیا۔ 

۱۲:‏ ۱۰۔۱۴ پھر بادشاہ کی سزا کا اعلان کر دیا گیا۔ اُس کے بچے اُس کے لئے دُکھ کا باعث ہوں گے۔ اُس کے خاندان کے افراد خونی تصادم سے ہلاک ہوں گے۔ اُس کی بیویاں اُس سے چھین لی جائیں گی اور عوام کے سامنے اُن کی بے حرمتی کی جائے گی (‏دیکھیں ۲۔سموئیل ۱۶:‏۲۲)‏۔ اُس کے گناہ آلود کاموں کا عام لوگوں کو پتا چل جائے گا۔ اِس پر داؤد نے توبہ کی اور اپنے گناہ کا اِقرار کیا۔ مورگن اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:‏

’’آیت ۱۳ میں لفظ ’’بھی‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔ جب کوئی شخص خلوص دلی سے اپنے گناہ کا اِقرار کرتا ہے تو وہ اُسے ترک کرتا ہے۔ یوں خدا کے لئے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ ’’بھی‘‘ اُس کا گناہ بخش دے۔‘‘ 

ناتن نے فوری طور پر اُسے یقین دلایا کہ اُس کے گناہ کی سزا معاف کر دی گئی ہے۔ وہ مرے گا نہیں‏، لیکن اُسے چوگنا ادا کرنا ہو گا (‏خروج ۲۲:‏۱)‏۔ امیر آدمی کی تمثیل میں اُس نے خود اِس کا فیصلہ دیا تھا۔ یعنی لڑکا مر جائے گا‏، امنون کو قتل کر دیا جائے گا (‏باب ۱۳)‏‏، ابی سلوم مارا جائے گا (‏باب ۱۸)‏‏، اور ادونیا کو سزائے موت دی جائے گی (‏۱۔سلاطین ۲ باب)‏۔ 

۱۲:‏ ۱۵۔۲۳ جب لڑکا بیمار ہو گیا تو داؤد نے زمین پر لیٹ کر دعا اور روزے میں وقت گزارا۔ وہ نہایت غم زدہ تھا۔ لیکن جب اُسے معلوم ہوا کہ بچہ مر گیا ہے‏، وہ اُٹھا اور کھانا کھایا اور اُس نے وضاحت کی کہ بچہ تو میرے پاس واپس نہیں آئے گا بلکہ مَیں ایک دن مر کر اُس کے پاس جاؤں گا۔ آیت ۲۳ ایمان دار والدین کے لئے جن کے بچے فوت ہو گئے ہیں بڑی تسلی کا باعث رہی ہے۔ 

ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جو بچے سمجھ بوجھ کی عمر سے پہلے مر جاتے ہیں وہ آسمان پر جاتے ہیں۔ یسوع نے کہا ’’آسمان کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے‘‘ (‏متی ۱۹:‏۱۴)‏۔ 

داؤد کو خدا کے کردار کا گہرا علم تھا۔ یہ اِس اَمر سے ظاہر ہے کہ اُس نے خدا کی عدالت پر کیسے ردِّعمل کا اِظہار کیا۔ اِس سزا سے پہلے اُس نے دعا کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہوواہ رحیم خدا ہے اور سزا کے بعد اُس نے سجدہ کیا کہ یہوواہ راست باز خدا ہے۔ اُس نے پچھلی باتیں بھلا کر خدا کی تادیب قبول کر لی اور مستقبل پر نگاہیں جما لیں۔ وہ مایوسی کے گڑھے میں غرق نہ ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ خدا اُسے برکت دے گا۔ اِس میں وہ حق بجانب تھا۔ 

۱۲:‏ ۲۴‏،۲۵ بت سبع نے ایک اَور بیٹے سلیمان کو جنم دیا جو اپنے باپ کا بادشاہ کی حیثیت سے جانشین بننے کو تھا۔ ناتن نبی کی معرفت خدا نے بچے کو یدیدیاہ کا اضافی نام دیا‏، جس کا مطلب ہے خداوند کا محبوب۔

۱۲:‏ ۲۶۔۳۰ اب پھر رِبہ پر حملے کا بیان شروع ہوتا ہے جو ۱۱:‏۱ میں داؤد کے گناہ کے بیان کے باعث منقطع ہو گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یوآب نے ایک محدود حصے (‏شاید قلعہ)‏ کے علاوہ سارا شہر فتح کر لیا تھا (‏یوسیفس کے کہنے کے مطابق یوآب نے شہر کے آب رسانی کے نظام کو فتح کر لیا تھا‏، اِس لئے اُن کا ہتھیار ڈالنا واضح تھا)‏۔ تب اُس نے داؤد کو بلا بھیجا کہ آ کر اِس کام کو ختم کرے‏، یوں فتح کی ساری عزت اُسے ملی۔ یوآب کا یہ بے غرض عمل قابلِ تعریف ہے۔ یوآب ایک ایسا شخص تھا جس کے بارے میں رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ بعض اوقات تو وہ پختہ کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اُس کے رویے سے عیاری‏، سنگ دلی اور شرارت کی منصوبہ بندی کا اِظہار ہوتا ہے۔ داؤد رِبہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اُسے سونے کا ایک تاج ملا جس کا وزن ایک قنطار تھا۔ علاوہ ازیں اُسے بہت سا مالِ غنیمت بھی ملا۔ 

۱۲:‏ ۳۱ علمائے بائبل متفق نہیں ہیں کہ آیا آخری آیت میں داؤد کی بنی عمون کے لئے ظالمانہ سزا کا بیان ہے یا محض سخت محنت و مشقت کا۔ عموماً موخرالذکر داؤد کا دستور تھا۔

مقدس کتاب

۱ اور خُداوند نے ناؔتن کو داؔؤد کے پاس بھیجا ۔ اُس نے اُسکے پاس آکر اُس سے کہا کِسی شہر میں دو شخص تھے ایک اِمیر دُوسار غریب۔
۲ اُس اِمیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلےّ تھے ۔
۳ پر اُس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سِوا کُچھ نہ تھا جسے اُس نے خرید کر پالا تھا اور وہ اُس کے اور اُسکے بال بچوّں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اُسی کے نوالہ میں سے کھاتی اور اُسکے پیالہ سے پیتی اور اُسکی گود میں سوتی تھی اور اُسکے لئے بطَور بیٹی کے تھی۔
۴ اور اُس اِمیر کے ہاں کوئی مسُافر آیا۔ سو اُس نے اُس مسُافر کے لئے جو اُسکے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلّہ میں سے کُچھ نہ لیا بلکہ اُس غریب کی بھیڑ لے لی اور اُس شخص کے لئے جو اُسکے ہاں آیا تھا پکائی ۔
۵ تب داؔؤد کا غضب اُس شخص پر بِشدت بھڑ کا اور اُس نے ناؔتن سے کہا کہ خُداوند کی حیات کی قسم کہ وہ شخص کو اُس بھیڑ کا چَوگُنا بھرنا پڑیگا کیونکہ اُس نے اَیسا کام کیا اور اُسے ترس نہ آیا۔
۶
۸ تب ناؔتن نے داؔؤد سے کہاکہ وہ شخص تُو ہی ہے۔ خُدواند اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تجھے مسح کرکے اِسرؔائیل کا بادشاہ بنایا اور مَیں نے تجھے ساؔؤل کے ہاتھ سے چُھڑایا ۔
۷ اور مَیں نے تیرے آقا کا گھر تُجھے دِیا اور تیرے آقا کی بیویاں تیری گود میں کر دیں اور اِؔسرائیل اور یہُؔوداہ کا گھرانا تجھ کو دیا اور اگر یہ سب کچھ تھوڑا تھا تو مَیں تجھ کو اور اور چیزیں بھی دیتا۔
۹ سو تُو نے کیون خُداوند کی بات کی تحقیر کرکے اُسکے حُضُور بدی کی ؟ تُ نے حِتیّ اورؔیّاہ کو تلوار سے مارا اور اُسکی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بپنے اور اُسکو بنی عموُّن کی تلوار سے قتل کر وایا۔
۱۰ سو اب تیرے گھر سے تلوار کبھی الگ نہ ہوگی کیونکہ تُو نے مجھے حقیر جانا اور حِتیّ اورؔیّاہ کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی ہو۔
۱۱ سو خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں شر کو تیرے ہی گھر سے تیرے خِلاف اُٹھاؤنگا اور مَیں تیری بیویوں کو لیکر تیری آنکھوں کے سامنے تیرے ہمسایہ کو دُونگا اور وہ دِن دہاڑے تیری بیویوں سے صُحبت کریگا۔
۱۲ کیونکہ تُو نے تو چھپ کر یہ کیا پر مَیں سارے اِؔسرائیل کے رُوبرُو دِن دہاڑے یہ کرُونگا ۔
۱۳ تب داؔؤد نے ناؔتن سے کہا مَیں نے خُداوند کا گُناہ کیا ۔ ناتؔن نے داؔؤد سے کہا کہ خُداوند نے بھی تیرا گُناہ بخشاہ ۔ تُو مریگا نہیں ۔
۱۴ تَو بھی چُونکہ تُو نے اِس کام سے خُداوند کے دُشمنوں کو کُفر بکنے کا بڑا مَوقع دیا ہے اِلئے وہ لڑکا بھی جو تجھ سے پَیدا ہوگا مرجائیگا۔
۱۵ پھر ناتؔن اپنے گھر چلا گیا اور خُداوند نے اُس لڑکے کو جو اورؔیّا ہ کی بیوی کے داؔؤد سے پیدا ہوا تھا مارا اور بہت بِیمار ہوگیا۔
۱۶ اِسلئے داؔؤد نے اُس لڑکے کی خاطِر خُدا سے مِنت کی اور داؔؤد نے روزہ رکّھا اور اندر جا کر ساری رات زمین پر پڑا رہا۔
۱۸ اور اُسکے گھرانے کے بُزرُگ اُٹھکر اُسکے پاس آئے کہ اُسے زمین پر سے اُٹھائیں پر وہ نہ اُٹھا اور نہ اُس نے اُنکے ساتھ کھانا کھایا ۔
۱۷ اور ساتویں دِن وہ لڑکا مر گیا اور داؔؤد کے مُلازِم اُسے ڈر کے مارے یہ نہ بتا سکے کہ لڑکا مر گیا کیونکہ اُنہوں نے کہا کہ جب وہ لڑکا ہنوز زِندہ تھا اور ہم نے اُس سے گُفتگُو کی تو اُس نے ہماری بات نہ مانی پس اگر ہم اُسے بتائیں کہ لڑکا مرگیاتو وہ بہت ہی کُڑھیگا۔
۱۹ پر جب داؔؤد نے اپنے مُلازِموں کو آپس میں پھُسپُھساتے دیکھا تو داؔؤد سمجھ گیا کہ لڑکا مرگیا ۔ سو داؔؤد نے اپنے مُلازموں سے پُوچھا کیا لڑکا مرگیا؟ اُنہوں نے جواب دیا مرگیا۔
۲۰ تب داؔؤد زمین پر سے اُٹھا اور غُسل کرکے اُس نے تیل لگایا اور پوشاک بدلی اور خُداوند کے گھر میں جا کر سِجدہ کیا۔ پھر وہ اپنے گھر آیا اور اُسکے حُکم دینے پر اُنہوں نے اُسکے آگے روٹی رکھّی اور اُس نے کھائی۔
۲۱ تب اُسکے مُلازِموں نے اُس سے کہا یہ کَیسا کام ہے جو تُو نے کیا ؟ جب وہ لڑکا جیتا تھا تو تُو نے اُسکے لئے روزہ رکھّا اور روتا بھی رہا اور جب وہ لڑکا مر گیا تو تُو نے اُٹھ کر روٹی کھائی ۔
۲۲ اُس نے کیا کہ جب تک وہ لڑکا زِندہ تھا مَیں نے روزہ رکھّا اور مَیں روتا رہا کیونکہ مَیں نے سوچا کیا جانے خُداوند کو مُجھ پر رحم آجائے کہ وہ لڑکا جِیتا رہے؟۔
۲۳ پر اب تو وہ مرگا پس مَیں اُسے لَوٹا لا سکتا ہُوں ؟ مَیں تو اُسکے پاس جاؤنگا پر وہ میرے پاس نہیں لَوٹنے کا۔
۲۴ پھر داؔؤد نے اپنی بیوی بتؔ سبع کو تسلیّ دی اور اُسکے پاس گیا اور اُس سے صُحبت کی اور اُس کے ایک بیٹا ہُؤا اور داؔؤد نے اُسکا نام سُلؔیمان رکھا اور وہ خُدواند کا پیارا ہوُا ۔
۲۵ اور اُس نے ناؔتن نبی کی معرفت پَیغام بھیجا سو اُس نے اُسکا نام خُداوند کی خاطِر یدؔیدیا ہ رکھا۔
۲۶ اور یُؔوآب بنی عموُّن کے رؔبہّ سے لڑا اور اُس نے دارُالسلطنت کو لے لیا۔
۲۸ اور یُؔوآب نے قاصِدوں کی معرفت داؔؤد کو کہلا بھیجا کہ مَیں ربؔہّ سے لڑا اور مَیں نے پانیوں کے شہر کو لے لیا۔
۲۷ پس اب تُو باقی لوگوں کو جمع کر اور اِس شہر کے مُقابل خَیمہ زن ہو اور اِس پر قبضہ کرلے تانہ ہو کہ مَیں اِس شہر کو سر کُروں اور وہ میرے نام سے کہائے۔
۲۹ اتب داؔؤد نے سب لوگوں کو جمع کیا اور ربؔہّ کو گیا اور اُس سے لڑا اور اُسے لے لِیا۔
۳۰ اور اُس نے اُنکے بادشاہ کا تاج اُسکے سر پر سے اُتار لیا ۔ اُسکا وزن سونے کا ایک قِنطار تھا اور اُس میں جواہر جڑے ہُوئے تھے ۔ سو وہ داؔؤد کے سر پر رکھّا گیا اور وہ اُس شہر سے لُوٹ کا بہت سا مال نِکال لایا۔
۳۱ اور اُس نے اُن لوگوں کو جو اُس میں تھے باہر نِکال کر اُنکو آروں اور لوہے کے ہینگوں اور لوہے کے کُلہاڑوں کے نیچے کر دیا اور اُنکو اینٹوں کے پزادے میں سے چلوایا اور اُس نے بنی عموُّن کے سب شہروں سے اَیسا ہی کا۔ پھر دؔاؤد اور سب لوگ یرؔوشلیم کو لَوٹ آئے۔