۲سموئیل ۸

ز۔ اسرائیل کے دشمنوں کی شکست (‏باب ۸)‏

۸:‏ ۱‏، ۲ بادشاہ کی حیثیت سے داؤد کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ اپنی سلطنت سے اُن غیر قوم باشندوں کو نکال دے جو اُس کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کرتے تھے۔ اِس حکمتِ عملی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسرائیل کا علاقہ وسیع ہو گیا۔ 

مثلاً اُس نے فلستیوں کو شکست دے کر اُن سے جات کا علاقہ لے لیا (‏۱۔تواریخ ۱۸:‏۱)‏۔ ایک وقت تھا جب اُس نے جات میں ایک دیوانے کا کردار ادا کیا تھا (‏۱۔سموئیل ۲۱:‏ ۱۰۔۱۵)‏‏، لیکن اب وہ وہاں بادشاہ کی حیثیت سے حکمرانی کرے گا۔ اُس نے موآبیوں کو بھی فتح کیا اور دو تہائی لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے منتخب کرنے کے واسطے ایک رسی اِستعمال کی۔ ضرور ہے کہ موآبیوں نے اِسرائیل سے دھوکا بازی کی ہو۔ 

۸:‏ ۳۔۸ داؤد کی دوسری فتح ارام کے علاقے میں ہوئی۔ اُس نے حمات اور دمشق کے درمیان ضوباہ نامی ایک ملک کے بادشاہ ہدد عزر کو شکست دی اور ایک ہزار رتھوں‏، سات ہزار گھڑ سواروں اور بیس ہزار پیادہ سپاہیوں کو فتح کیا۔ 

داؤد نے رتھوں کے سب گھوڑوں کی کونچیں کاٹیں‏، پر اُن میں سے سو رتھوں کے گھوڑے بچا رکھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ٹانگ میں ایک نس کو کاٹ دیا جس سے جانور جنگ کے لئے بے کار ہو جاتا ہے۔ جب دمشق کے ارامی ہدد عزر کی مدد کے لئے آئے تو داؤد نے اُن میں سے بائیس ہزار کو ہلاک کر دیا اور ارامیوں کو اپنے خادم بنا لیا۔ اِس کے بعد داؤد ہدد عزر سے چھینی ہوئی سونے اور پیتل کی ڈھالیں لئے ہوئے یروشلیم میں واپس لوٹا۔

۸:‏ ۹۔۱۲ حمات کے پڑوسی بادشاہ تُوغی نے ہدد عزر پر داؤد کی فوجی فتح کے لئے اُسے مبارک باد دی اور اُسے چاندی‏، سونے اور پیتل کے تحائف بھیجے۔ اِن قیمتی دھاتوں اور جنگوں کے دوران حاصل کئے ہوئے سونے چاندی کو داؤد نے خداوند کے لئے مخصوص کر دیا جو بعد ازاں ہیکل میں استعمال کیا گیا۔ 

۸:‏ ۱۳‏،۱۴ یہاں بظاہر تضاد ہے۔ یہاں لکھا ہے کہ داؤد نے نمک کی وادی میں ۱۸ ہزار ارامیوں کو مار دیا۔ لیکن ۱۔تواریخ ۱۸:‏۱۲ میں لکھا ہے کہ ابی شے نے نمک کی وادی میں ۱۸ ہزار ادومیوں کو مارا۔ بعض ایک عبرانی نسخوں‏، قدیم ہفتادی ترجمے اور سریانی تراجم میں ۲۔سموئیل ۸:‏ ۱۳ میں ’’ادومیوں‘‘ کا ذکر ہے۔

لیکن یہ غیر معمولی بات ہے کہ ۲۔سموئیل میں مذکور فتح سے داؤد کا بڑا نام ہوا جب کہ ۱۔تواریخ میں ابی شے کو اعزاز دیا گیا۔ ۱۔تواریخ میں عموماً داؤد کی نمایاں تعریف کی گئی ہے۔ جیسا کہ اکثر اوقات جنگوں میں ہوتا ہے کہ کامیابی سب سے اعلیٰ افسر (‏یہاں داؤد)‏ کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے‏، جب کہ ابی شے براہِ راست جنگ میں قیادت کر رہا تھا اور تواریخ کا مصنف جو داؤد کی نسل کو نمایاں دکھانا چاہتا تھا‏، اُس کی روح القدس نے راہنمائی کی کہ وہ میدانِ جنگ کے قائد پر توجہ مرکوز کرے۔ حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں جب زبور ۶۰ کے تعارُف میں لکھا ہے کہ ’’یوآب‘‘ (‏ابی شے کے بھائی)‏ نے وادیِ شور میں ۱۲ ہزار ادومیوں کو مارا۔ 

یوجین میرل (‏Eugene Merrill)‏ یوں وضاحت کرتا ہے:‏

’’شاید سوائے اِس بات کے اِس فرق کی وضاحت کرنا ممکن نہیں کہ ساری مہم کا اِنچارج ابی شے تھا‏، اور یوآب (‏اپنی امدادی فوج کے سپاہیوں کے ساتھ)‏ دو تہائی ادومیوں کو مار دینے کا ذمہ دار تھا۔ ‘‘

۸:‏ ۱۵۔۱۸ چنانچہ داؤد کی بادشاہی اور حکمرانی کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا۔ اُس نے عدل و اِنصاف سے حکمرانی کی۔ آیات ۱۶۔۱۸ میں اُس کے بعض ایک اعلیٰ افسروں کی فہرست دی گئی ہے۔ یوآب فوج کا سپہ سالار تھا‏، یہوسفط مورِّخ‏، صدوق اور اخی مَلِک کاہن (‏غالباً نقل نویس سے ابیاتر نہ لکھنے کی غلطی ہوئی۔ نیچے کی سطور میں پڑھیں)‏ تھے۔ شرایاہ منشی یا سیکرٹری‏، بنایاہ‏، داؤد کے محافظوں کا اِنچارج تھا‏، اور داؤد کے بیٹے وُزرائے اعلیٰ تھے۔ آیت ۱۷ میں متن کا مسئلہ ہے۔ یہاں اور ۱۔تواریخ ۱۸:‏ ۱۶ اور ۲۴:‏۶ میں اخی مَلِک کو ابیاتر کا بیٹا لکھا گیا ہے‏، لیکن ۱۔سموئیل ۲۲:‏۲۰ میں لکھا ہے کہ ابیاتر اخی مَلِک کا بیٹا تھا۔ اِس کا سادہ سا حل یہ ہے کہ جن آیات میں لکھا ہے کہ اخیمَلِک ابیاتر کا بیٹا تھا‏، یہ کاتب کی غلطی تھی کہ اُس نے ناموں کی ترتیب غلط لکھ دی۔ 

تاہم عہد عتیق کی ایک رسم پر مبنی ایک اَور امکان ہے۔ رسم یہ تھی کہ پوتوں کو اُن کے دادوں کا نام دیا جاتا تھا۔ یوں کسی وقت صدوق کا کہانتی ساتھی ابیاتر یا اخی مَلِک ہو گا۔ ابیاتر اور اخی مَلِک خداوند یسوع مسیح کے ایام میں حنّاہ اور کائفا کی طرح ہم خدمت کاہن تھے (‏لوقا ۳:‏۲)‏۔ 

جب ساؤل نے اخی مَلِک اور اُس کے بیٹوں کو نوب کے مقام پر قتل کیا تو صرف ابیاتر ہی بچ نکلا تھا۔ جب داؤد بادشاہ بنا‏، اُس نے ابیاتر کو سردار کاہن مقرر کیا‏، لیکن صدوق کو معزول نہیں کر دیا۔ 

مقدس کتاب

۱ اِسکے بعد دؔاؤد نے فلِستیوں کو مارا اور اُنکو مغلوُب کیا اور داؔؤد نے دارؔلحکومت کی عِنان فلِسِتیوں کے ہاتھ سے چھین لی۔
۲ اور اُس نے مؔوآب کو مارا اور اُنکو زمین پر لِٹا کر رسّی سے ناپا ۔ سو اُس نے قتل کرنے کے لئے دو رسِیوں سے ناپا اور جیتا چھوڑنے کے لئے ایک پُوری رسّی سے ۔ یُوں موآبی داؔؤد کے خادِم بنکر ہدئے لانے لگے۔
۳ اور داؔؤد نے ضؔوباہ کے بادشاہ رحؔوب کے بیٹے ہدؔوعزر کو بھی جب وہ اپنی دریایِ فراؔت پر کی سلطنت پر پھر قبضہ کرنے کو جا رہا تھا مار لیا۔
۴ اور داؔؤد نے اُسکے ایک ہزار سات سَو سوار اور بیس ہزار پیادے پکڑ لئے اور داؔؤد نے رتھوں کے سب گھوڑون کی کھُونچیں کاٹیں پر اُن میں سے سَورتھوں کے لئے گھوڑے بچا رکھّے۔
۵ اور جب ددمشؔق کے ارامی ضؔوباہ کے بادشاہ ہدؔوعرز کی کُمک کو آئے تو داؔؤد نے ارامیوں کے بائیس ہزار آدمی قتل کئے ۔ تب داؔؤد نے دمشق کے ارؔام میں سِپاہیوں کی چَوکیاں بٹھائیں سوارامی بھی دؔاؤد کے خادِم بنکر ہدئے لانے لگے اور خُداوند نے داؔؤد کو جہاں کہیں وہ گیا فتح بخشی ۔
۶
۸ اور داؔؤد نے ہدؔوعزر کے مُلازموں کی سونے کی ڈھالیں چھین لیں اور اُنکو یروشلیم میں لے آیا۔
۷ اور داؔؤد بادشاہ بطاؔہ اور بُیروتی سے جو ہدؔعزر کے شہر تھے بہت سا پیتل لے آیا۔
۹ اور جب حمؔات کے بادشاہ تُوغؔی نے سُنا کہ داؔؤد نے ہدؔدعزر کا سارا لشکر مار لیا۔
۱۰ تو تُوغیؔ نے اپنے بیٹے یوؔورام کو داؔؤد بادشاہ کے پاس بھیجا کہ اُسے سلام کہے اور مُبارکباد دے اِسلئے کہ اُس نے ہددؔعزر سے جنگ کر کے اُسے مار لیا کیونکہ ہدؔدعزر تُوغؔی سے لڑا کرتا تھا اور یُرؔام چاندی اور سونے اور پیتل کے ظروُف اپنے ساتھ لایا۔
۱۱ اور داؔؤد بادشاہ نے اُنکو خُداوند کے لئے مخصوص کیا ۔ اَیسے ہی اُس نے اُن سب قوَموں کے سونے چاندی کو مخصوص کیا ۔ جنکو اُس نے مغلُوب کیا تھا۔
۱۲ یعنی ارامیوں اور موآبیوں اور بنی عمُوّن اور فلِستیوں اور عمالیقیوں کے سونے چاندی اور ضؔوباہ کے بادشاہ رؔجوب کے بیٹے ہدؔدعزر کی لُوٹ کو ۔
۱۳ اور داؔؤ د کا بڑا نام ہُؤا جب وہ نمک کی وادی میں ارامیوں کے اٹھارہ ہزار آدمی مار کر لَوٹا ۔
۱۴ اور اُس نے اؔدوم میں چَوکیاں بٹھائیں بلکہ سارے اؔدوم میں چوَکیاں بٹھائیں اور سب ادومی داؔؤد کے خادم بنے اور خُداوند نے دؔاؤد کو جہاں کہیں وہ گیا فتح بخشی۔
۱۵ اور داؔؤد نے کُل اِسرائیل پر سلطنت کی اور داؔؤد اپنی سب رعیّت کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا۔
۱۶ اور ضؔرویاہ کا بیٹا یوآؔب لشکر کا سردار تھا اور اِخؔیلود کا بیٹا یہؔوُسفط مُورّخ تھا۔ اور اخؔیطوب کا بیٹا صؔدوُق اور ابیؔ یاتر کا بیٹا اخؔیملک کاہن تھےاور شراؔیاہ مُنشی تھا۔
۱۸
۱۷ اور یہوؔیدع کا بیٹا بناؔیاہ کریتیوںاور فلیستیوں کا سردار تھا اور داؔؤد کے بیٹے کاہن تھے۔