۲سموئیل ۲۴

د۔ داؤد کی مردم شماری اور اِس کے نتائج (‏باب ۲۴)‏

وِلیم۔ڈی۔کروکٹ (‏Krockett)‏ کا خیال ہے کہ یہاں جن واقعات کو درج کیا گیا ہے وہ داؤد کے یروشلیم کو فتح کرنے کے بعد (‏باب ۵)‏ اور شہر میں عہد کا صندوق لانے سے پہلے وقوع پذیر ہوئے (‏باب ۶)‏۔

۲۴:‏ ۱ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اپنے قہر میں داؤد سے کہا کہ وہ اِسرائیل اور یہوداہ کی مردم شماری کرے۔ لیکن ۱۔تواریخ ۲۱:‏۱ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے اُسے یہ قدم اُٹھانے کے لئے اُبھارا۔ شیطان نے تحریک دی‏، داؤد نے اِس پر عمل کیا (‏اپنے دل کے غرور کی وجہ سے)‏ اور خدا نے اِس کی اِجازت دی۔ ہفتادی ترجمے میںآیت ۱ میں ’’اُس نے‘‘ کے بجائے ’’شیطان نے‘‘ لکھا ہے۔ 

۲۴:‏ ۲۔۹ جب بادشاہ نے یوآب کو حکم دیا کہ وہ گنتی کرے‏، تو اِس فوجی سپہ سالار نے داؤد کی نسبت زیادہ دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔ اُس نے بھانپ لیا تھا کہ مردم شماری کا مقصد داؤد کے غرور کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ اُس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ وہ اس کام سے باز رہے‏، لیکن سب بے سود تھا۔ داؤد کے فرماں بردار یوآب اور اُس کے آدمی پورے ملک میں پھر کر لوگوں کی گنتی کرنے لگے۔ اُن کے شمار کے مطابق سارے اِسرائیل میں آٹھ لاکھ اور یہوداہ میں پانچ لاکھ بہادر مرد نکلے۔ 

خروج ۳۰:‏ ۱۲‏،۱۳ میں حکم دیا گیا ہے کہ جب مردم شماری کی جائے تو فی کس نیم مثقال خداوند کی نذر کے طور پر لیا جائے۔ لیکن داؤد کی اِس مردم شماری میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔ اُس کے غرور نے مردم شماری کی تحریک دی۔ مردم شماری کی بنا پر اُس کا بھروسا خداوند کے بازُو پر نہیں بلکہ فوج کی کثرت پر ہو گا۔ 

۲۴:‏ ۱۰۔۱۴ جب مردم شماری کے اِختتام پر بادشاہ کو مجرم قرار دیا گیا تو اُس نے خدا سے معافی کی درخواست کی۔ خدا نے جاد نبی کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس کے لئے تینوں میں سے کسی ایک سزا کو قبول کرنے کی پیش کش کی۔

  1. ملک میں سات سال کال رہے۔
  2. تین مہینوں تک اپنے دشمنوں سے بھاگتا پھرے۔
  3. تین دن تک مملکت میں مری ہو۔ داؤد نے کہا کہ ہم اِنسان کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں میں پڑنا قبول کرتے ہیں۔ 

۲۴:‏ ۱۵۔۲۵ پھر خداوند نے تین دن تک مری بھیجی تو ستّر ہزار مر گئے۔ فرشتہ سارے یروشلیم کو برباد کرنے کو تھا‏، لیکن خدا نے اُسے اروناہ (‏ارنان)‏ کے کھیت میں روک دیا۔ داؤد نے خداوند سے کہا کہ وہ کیوں بنی اسرائیل کو ہلاک کر رہا ہے جب کہ اُس کا اپنا گھرانا گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ خدا نے جاد کی معرفت داؤد کو جواب دیا کہ وہ اروناہ کے کھلیان پر ایک مذبح بنائے۔ چنانچہ داؤد نے فوری طور پر اروناہ یبوسی سے جگہ خریدنے کے اِنتظامات کئے۔ گو اروناہ ایک غیر قوم تھا اُس نے نہ صرف بغیر کسی قیمت کے کھلیان کی پیش کش کی بلکہ قربانی کے لئے بیلوں اور ایندھن کے لئے دائیں چلانے کے اوزار اور بیلوں کا سامان بھی پیش کیا۔ داؤد نے بہت خوبصورت جواب دیا ’’ مَیں خداوند اپنے خدا کے حضور ایسی سوختنی قربانیاں نہیں گزرانوں گا جن پر میرا کچھ خرچ نہ ہوا ہو۔‘‘

بالآخر داؤد نے وہ بیل اور کھلیان چاندی کے پچاس مثقال دے کر خرید لیا۔ ۱۔تواریخ ۲۱:‏۲۵ میں لکھا ہے کہ داؤد نے اِس جگہ کے لئے سونے کے چھے سو مثقال ادا کئے‏، لیکن اِس میں کھلیان کی ملحقہ جگہ بھی شامل تھی)‏۔ جب قربانی چڑھائی گئی تو وَبا جاتی رہی (‏آیت ۲۵)‏۔

کوہِ موریاہ پر اروناہ کا کھلیان غالباً وہی جگہ ہے جہاں ابرہام نے اضحاق کی قربانی دی۔ اِسی مقام پر بعد ازاں سلیمان کی ہیکل‏، اور مسیح کے ایام میں ہیرودیس کی ہیکل تعمیر کی گئی۔ آج کل یہاں مسجد اقصیٰ موجود ہے۔ یہی مصیبت کے دنوں میں اور بالآخر ہزار سالہ دَور میں ہیکل کی جگہ ہو گی۔ 

ایمان کے سورماؤں کے بیان کے سلسلے میں کتابِ مقدس میں بڑی دیانت داری سے کام لیا گیا۔ داؤد کے ایمان کے ساتھ ساتھ اُس کے گناہوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ہم نے داؤد کو بھیڑیں چراتے‏، جلاوطنی میں رہتے اور بالآخر سربلند ہوتے دیکھا۔ بہت تھوڑے لوگ خداوند کے اِتنے قریب رہے جتنا کہ داؤد رہا۔ اور تھوڑے ہی ایمان دار داؤد سے بڑے گناہ میں گرے۔ لیکن اِن سب حالتوں میں خداوند نے اُسے سنبھالے رکھا۔ داؤد جن تجربات سے گزرا‏، ہم اُن سے مستفید ہوتے ہیں کیونکہ اُس نے اُنہیں اپنے مزامیر میں درج کیا ہے۔ 

زبور ۴۰ کے الفاظ داؤد کی زندگی کا نہایت موزوں خلاصہ پیش کرتے ہیں:‏ 

’’ مَیں نے صبر سے خداوند پر آس رکھی۔ اُس نے میری طرف مائل ہو کر میری فریاد سنی۔ اُس نے مجھے ہولناک گڑھے اور دلدل کی کیچڑ میں سے نکالا اور اُس نے میرے پاؤں چٹان پر رکھے اور میری رَوِش قائم کی۔ اُس نے ہمارے خدا کی ستائش کا نیا گیت میرے منہ میں ڈالا۔ بہتیرے دیکھیں گے اور ڈریں گے اور خداوند پر توکل کریں گے‘‘ (‏زبور ۴۰:‏ ۱۔۳)‏۔

مقدس کتاب

۱ اِسکے بعد خُداوند کا غُصہّ اِسراؔئیل پر پھر بھڑکا اور اُس نے داؔؤد کے دل کو اُنکے کلاف یہ کہ کر اُبھارا کہ جا کر اِسرائیل اور یہؔوُداہ کو گِن۔
۲ اور بادشاہ نے لشکر کے سردار یوُآؔب کو جو اُسکے ساتھ تھا حُکم کیا کہ اِسرائیل کے سب قبلیوں میں داؔن سے بیر سؔبع تک گشت کرو اور لوگوں کو گِنو تا کہ لوگوں کی تعداد مجھے معلوم ہو۔
۳ تب یُوآؔب نے بادشاہ سے کہا کہ خُداوند تیرا کُدا اُن لوگوں کو خواہ وہ یتنے ہی ہوں سَو گُنا بڑھائے اور میرے مالک بادشاہ کی آنکھیں اِسے دیکھیں پر میرے مالک بادشاہ کو یہ بات کیوں بھاتی ہے؟۔
۴ تو بھی بادشاہ کی بات یوُآؔب اور لشکر کے سرداروں پر غالب ہی رہی اور یُوآؔب اور لشکر کے سردار بادشاہ کے حُضُور سے اِسرؔائیل کے لوگوں کا شمار کرنے کو نِکلے۔
۵ اور وہ یرؔدن پار اُترے اور اُس شہر کی دہنی طرف عؔروعیر میں خیمَہ زن ہُوئے جو جدؔکی وادی میں لیعزؔیر کی جانب ہے۔
۶ پھر وہ جلعؔاد اور تحتؔیم حدسی کے علاقہ میں گئے اور دانؔیعن کو گئے اور گھُوم کر صَیدا تک پُہنچے۔
۸ اور وہاں سے صؔوُر کے قلعہ کو اور حوّیوں اور کنعانیوں کے سب شہروں کو گئے اور یہؔوُاہ کے جنوب میں بیر سؔبع تک نِکل گئے ۔
۷ چُنانچہ ساری مملکت میں گشت کرکے نو مہینے اور بیس دِن کے بعد وہ یرؔوشلیم کو لوٹے۔
۹ اور یُوآؔب نے مردم شماری کی تعداد بادشاہ کو دی سو اِؔسرائیل میں آٹھ لاک بُہادر مرد نِکلے جو شمشیر زن تھے اور یُہوؔداہ کے مرد پانچ لاکھ نکلے ۔
۱۰ اور لوگوں کا شمار کرنے کے بعد داؔؤد کا دِل بے چین ہُؤا اور داؔؤد نے خُداوند سے کہا یہ جو میں نے کیا سو بڑا گُناہ کیا ۔ اب اَے خُداوند میں تیری مِنت کرتا ہوں کہ تُو اپنے بندہ کا گُناہ دپور کر دے کیونکہ مجھ سے بری حماقت ہُوئی۔
۱۱ سو جب داؔؤد صُبح کو اُٹھا تو خُداوند کا کلام جادؔ پر جو داؔؤد کا غیب بین تھا نازِل ہوا اور اُس نے کہا کہ ۔
۱۲ جا اور داؔؤد سے کہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ میں تیرے سامنے تین بلائیں پیش کرتا ہُوں ۔ تُو اُن میں سے ایک کو چُن لے تاکہ میں اُےسے تجھ پر نازل کرُوں۔ سو جاؔد نے داؔؤد کے پاس جا کر اُسکو یہ بتایا اور اپس سے پُوچھا کیا تیرے مُلک میں سات برس قحط رہے یا تُو تی مہینے تک اپنے دُشمنوں سے بھاگتا پھرے اور وہ تجھے رگیدیں یا تیری مملکت میں تین دِن تک مری ہو؟ سو تو سوچ لے اور غَور کر لے مین اُسے جس نے مجھے بھیجا ہے کیا جواب دُوں۔
۱۳
۱۴ داؔؤد نے جاؔد سے کہا مٰں بڑے شکِنجہ میں ہُوں ۔ ہم خُداوند کے ہاتھ می پڑیں کیونکہ اُسکی رحمتیں عظیم ہیں پر مَیں انسان کے ہاتھ میں نہ پڑوں۔
۱۵ سو خُداوند نے اِسراؔئیل پر وبا بھیجی جو اُس صُبح سے لیکر وقتِ معُیّنہ تک رہی اور دؔان سے بیرؔسبع تک لوگوں میں سے ستّر ہزار آدمی مر گئے ۔
۱۶ اور جب فشتہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ یرؔوشلیم کو ہلاک کرے تو خُداوند اُس وبا سے مُلول ہوا اور اُس فرشتہ سے جو لوگوں کو ہلاک کر رہا تھا کہا یہ بس ہے ۔ اب اپنا ہاتھ روک لے ۔ اُس وقت خُداوند کا فرشتہ یُبوسی اؔروناہ کے کھلیان کے پاس کھڑا تھا۔
۱۸ اور داؔؤد نے جب اُس فرشتہ کو جو لوگوں کو مار رہا تھا دیکھا تو خُداوند سے کہنے لگا دیکھ گُناہ تو میں نے کیا اور خطا مجھ سے ہُوئی پر اِن بھیڑوں نے کیا کیا ہے؟ سو تیرا ہاتھ میرے اور میرے باپ کے گھرانے کے خِلاف ہو۔
۱۷ اُسی دن جاؔد نے داؔؤد کے پاس آکر اُس سے کہا جا اور یبُسی ارَؔوناہ کے کھلیہان میں خُداوند کے لئے ایک مذبح بنا۔
۱۹ سو داؔؤد جادؔ کے کہنے کے مُوافِق جَیسا خُداوند کا حکُم تھا گیا۔
۲۰ اور اؔرَوناہ نے نِگاہ کی اور بادشاہ اور اُسکے خادِموں کو اپنی طرف آتے دیکھا ۔ سو اؔرَوناہ نِکلا اور زمین پر سرنگُون ہو کر بادشاہ کے آگے سجدہ کیا۔
۲۱ اور اؔرَوناہ کہنے لگا میرا مالک بادشاہ اپنے بندہ کے پاس کیوں آیا؟ داؔؤد نے کہا یہ کھلیہان تجھ سے خریدنے اور خُداوند کے لئے ایک مذبح بنانے آیا ہُوں تاکہ لوگوں میں سے وبا جاتی رہے۔
۲۲ اؔرَوناہ نے داؔؤد سے کہا میرا مالِک بادشاہ جو کچُھ اُسے اچّھا معلوم ہو لیکر چڑھائے۔ دیکھ سو ختنی قُربانی کے لئے بیل ہیں اور دائیں چلانے کے اَوزار اور بَیلوں کا سامان ایندھن کے لئے ہیں ۔ یہ سب کچُھ اَے بادشاہ اؔرَوناہ بادشاہ کی نذر کرتا ہے اور اؔرَوناہ نے بادشاہ سے ککہا کہ خُداوند تیرا خُدا تجھ کو قُبول فرمائے۔
۲۳
۲۴ تب بادشاہ نے اؔرَوناہ سے کہا نہیں بلکہ مَیں ضرور قیمت دیکر اُسکو تجھ سے خیریدوُنگا اورمیں خُداوند اپنے خُدا کے حُضُور اَیسی سوختنی قربانیان نہیں گُذرانونگا جن پر میرا کچھُ خرچ نہ ہُؤا ہو۔ سو داؔؤد نے وہ کھلیہان اور وہ بَیل چاندی کی پچاس مثقالیں دیکر خریدے ۔ اور داؔؤد نے وہاں خُداوند کے لئے مذبح بنایا اور سوختنی قرُبانیاں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائیں اور خُداوند نے اُس مُلک کے بارہ میں دُعا سُنی اور وبا اِؔسرائیل میں سے جاتی رہی۔
۲۵