ہ۔ سلیمان کی ہیکل (ابواب ۵۔۷)
(۱) سلیمان کا حیرام بادشاہ سے معاہدہ (باب ۵)
۵: ۱۔۱۲ حیرام صور کا ایک غیر قوم بادشاہ تھا۔ لبنان میں اُس کے پاس لکڑی کے وسیع ذخائر تھے۔ وہ داؤد کا بہت اچھا دوست تھا اور اَب سلیمان کے ساتھ ویسی ہی دوستی کا اِظہار کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے یہ اِنتظار کیا کہ وہ سلیمان کو لکڑی مہیا کرے گا جس سے وہ خداوند کے لئے ہیکل تعمیر کر سکے۔ سلیمان نے لبنان کے شمال میں لکڑی کاٹنے میں مدد کے لئے اپنے کارکن بھیجنے کا وعدہ کیا۔ یہ اِنتظام کیا گیا کہ لکڑیوں کو گٹھوں میں باندھ کر بحیرۂ روم کے ذریعے یافا تک پہنچایا جائے اور پھر وہاں سے یروشلیم لے جایا جائے۔ لکڑی کی قیمت کی ادائیگی کے طور پر سلیمان حیرام کے گھرانے کو سال بہ سال رسد پہنچاتا تھا۔
۵: ۱۳۔۱۸ لکڑی کاٹنے کے بہت بڑے کام کے لئے بہت سے آدمیوں کی ضرورت تھی۔ سلیمان نے بنی اِسرائیل کے تیس ہزار بیگاری لئے اور اُن میں سے دس دس ہزار کو ہر ماہ بھیجتا تھا۔ اِن آدمیوں کے علاوہ بادشاہ کے پاس ۸۰ ہزار کنعانی غلام بھی تھے، جو اِسرائیل کی پتھر کی کانوں میں کام کرتے تھے۔ وہ ہیکل کے لئے پتھر تیار کرتے تھے (قب ۵:۱۵؛ ۲۔تواریخ ۲: ۱۷،۱۸)۔ اُس کے پاس ۷۰ ہزار بوجھ اُٹھانے والے بھی موجود تھے۔
سلیمان کے وسیع تعمیراتی منصوبوں کے لئے بہت سے غلاموں کی ضرورت تھی (قب ۹:۱۵۔۲۲) لیکن اِس کام کے لئے یہ بھی ناکافی تھے۔ اِس لئے اُسے مجبوراً اِسرائیلیوں کو بھی بیگار کے لئے لینا پڑا (غالباً اُن میں یہوداہ کے لوگ شامل نہیں تھے)۔ اِسرائیلی روایتی طور پر آزاد خصلَت لوگ تھے۔ یہی اَمر بعد میں سلطنت کی تقسیم کا ایک بڑا سبب بنا (۱۲:۴)۔ کس قدر ضروری ہے کہ تمام معاملات میں الٰہی حکمت سے کام لیا جائے اور دوسروں کی فلاح اور احساسات کو کچلا نہ جائے۔
(۲۔تواریخ ۲ باب کی تفسیر میں، اِن دونوں ابواب میں بظاہر عددی تضادات کی تشریح ملاحظہ فرمائیے)۔
مقدس کتاب
۱ ۱۔ اور صُور کے بادشاہ حیرام نے اپنے خادموں کو سُلیمان کے پاس بھیجا کیونکہ اُس نے سُنا تھا کہ اُنہوں نے اُسے اُسکے باپ کی جگہ مسح کر کے بادشاہ بنایا ہے اِس لیے حِیرام ہمیشہ داود کا دوست رہا تھا ۔
۲ اور سُلیمان نے حیرام کو کہلا بھیجا کہ ۔
۳ تُو جانتا ہے کہ میرا باپ داود خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیے گھر نہ بنا سکا کیونکہ اُسکے چوگرد ہر طرف لڑائیاں ہوتی رہیں جب تک کہ خُداوند نے اُن سب کو اُس کے پاوں کے تلوں کے نیچے نہ کر دیا ۔
۴ اور اب خُداوند میرے خُدا نے مُجھ کو ہر طرف امن دیا ہے نہ تو کوئی مُخالف ہے نہ آفت کی مار۔
۵ سو دیکھ ! خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیے ایک گھر بنانے کا میرا اِرادہ ہے جیسا خُداوند نے میرے باپ داود سے کہا تھا کہ تیرا بیٹا جسکو میں تیری جگہ تیرے تخت پر بٹھاونگا وہی میرے نام کے لیے گھر بنائےگا ۔
۶ سو اب تُو حُکم کر کہ وہ میرے لیے لُبننان سے دیودار کے درختوں کو کاٹیں اور میرے مُلازم تیرے مُلازموں کے ساتھ رہیں گے اور مَیں تیرے مُلازموں کے لیے جتنی اُجرت تُو کہے گا دونگا کیونکہ تُو جانتا ہے کہ ہم میں ایسا کوئی نہیں جو صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنا جانتا ہو ۔
۷ جب حیرام نے سُلیمان کی باتیں سُنیں تو نہایت خُوش ہُوا اور کہنے لگا کہ آج کے دن خُداوند مُبارک ہو جس نے داود کو اِس بڑی قوم کے لیے ایک عقلمند بیٹا بخشا۔
۸ اور حیرام نے سُلیمان کو کہلا بھیجا کہ جو پیغام تُو نے مُجھے بھیجا میں نے اُسکو سُن لیا ہے اور مَیں دیودار کی لکڑی اور صنوبر کی لکڑی کے بارہ میں تیری مرضی پُوری کرونگا ۔
۹ مرے مُلازم اُنکو لُبنان سے اُتار کر سُمندر تک لائیں گے اور میں اُنکے بڑے بندھو ا دونگا تاکہ سُمندر ہی سُمندر اُس جگہ جائیں جسے تُو ٹھیرائے اور وہاں اُنکو کھُلوا دونگا۔ پھِر تُو اُنکو لے لینا اور تُو میرے گھرانے کے لیے رسد دیکر میری مرضی پُوری کرنا ۔
۱۰ پس حیرام نے سُلیمان کو اُسک مرضی کے مطابق دیودار کی لکڑی اور صنوبر کی لکڑی دی ۔
۱۱ اور سُلیمان نے حیرام کو اُسکے گھرانے کے کھانے کے لیے بیس ہزار کو گیہوں اور بیس کور خالص تیل دیا۔ اِسی طرح سُلیمان حیرام کو سال بسال دیتا رہا ۔
۱۲ اور خُداوند نے سُلیمان کو جیسا اُس نے اُس سے وعدہ کیا تھا حکمت بخشی اور حیرام اور سُلیمان کے درمیان صُلح تھی اور اُن دونوں نے باہم عہد باندھ لیا۔
۱۳ اور سُلیمان بادشاہ نے سارے اسرائیل میں سے بیگاری لگائے ۔ وہ بیگاری تیس ہزار آدمی تھے ۔
۱۴ اور وہ ہرمہینہ اُن میں سے دس دس ہزار کو باری باری سے لُبنان بھیجتا تھا ۔ سو وہ ایک مہینہ لُبنان پر اور دو مہینے اپنے گھر رہتے اور ادونرام اُن بیگاریوں کے اوپر تھا ۔
۱۵ اور سُلیمان کے ستر ہزار بوجھ اُٹھانے والے اور اَسی ہزار درخت کاٹنے والے پہاڑوں میں تھے ۔
۱۶ اِنکے علاوہ سُلیمان کے تین ہزار تین سو خاص منصبدار تھے جو اِس کام پر مُختار تھے اور اُن لوگوں پر جو کام کرتے تھے سردار تھے ۔
۱۷ اور بادشاہ کے حُکم سے وہ بڑے بڑے بیش قیمت پتھر نکالکر لائے تاکہ گھر کی بُنیاد گھڑے ہوئے پتھروں کی ڈالی جائے۔
۱۸ اور سُلیمان کے معماروں اور حیرام کے معماروں اور جبلیوں نے اُنکو تراشا اور گھر کی تعمیر کے لیے لکڑی اور پتھروں کو تیار کیا ۔