ح۔ سلیمان کی برگشتگی اور موت (باب ۱۱)
۱۱: ۱۔۳ اِستثنا ۱۷:۱۷ میں اِسرائیل کے بادشاہ کو غیر قوم عورتوں سے بیاہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ جان کر بہت صدمہ ہوتا ہے کہ سلیمان نے کس حد تک اِس اہم حکم کی نافرمانی کی۔ اور اِس کے نتائج پیش گوئی کے عین مطابق نکلے کہ اُس کی بیویوں نے اُس کے دل کو بت پرستی کی طرف پھیر دیا۔
۱۱: ۴۔۸ آیت ۴ کا مطلب ہے کہ جہاں تک بت پرستی کا تعلق ہے داؤد کا دل اپنے خداوند خدا سے کامل رہا، لیکن سلیمان نے اِس معاملے میں اپنے باپ کی پیروی نہ کی۔ اُس نے یروشلیم کے مشرق میں کوہِ زیتون پر بت پرستی کے لئے بلند مقام بنائے۔
۱۱: ۹۔۱۳ خدا سلیمان پر دو بار ظاہر ہوا یعنی جبعون میں (۳:۵) اور ہیکل کی مخصوصیت کے وقت یروشلیم میں (۹:۲)۔ اب اُس نے اعلان کیا کہ سلیمان کی بت پرستی کی وجہ سے اُس کی سلطنت اُس سے چھین لی جائے گی اور اُس کے ایک خادِم کو دے دی جائے گی۔ تاہم یہ سلیمان کی زندگی کے دوران نہیں ہو گا اور نہ ہی تمام قبیلے داؤد کے گھرانے سے لے لئے جائیں گے۔ ایک قبیلہ (بنیمین، جب کہ یہوداہ پہلے ہی شامل تھا ۱۲:۲۳) سلیمان کے بیٹے کو دیا جائے گا۔
۱۱: ۱۴۔۲۲ اب سلیمان کے تین مخالفین کا بیان ہے۔ پہلا مخالف تو ادومی ہدد تھا جو لڑکپن میں مصر کو بھاگ گیا تھا، جب یوآب ادوم میں تمام مردوں کو ہلاک کر رہا تھا۔ فرعون نے اُس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا، یہاں تک کہ اُس نے مَلِکہ تحفنیسکی بہن اُسے بیاہ دی۔ جب ہدد نے سنا کہ داؤد اور یوآب مر گئے ہیں تو اُس نے فرعون سے ادوم واپس جانے کی اِجازت مانگی جو اُس نے قدرے پس و پیش کے بعد دے دی۔ وہاں سے اُس نے جنوب سے سلیمان کے خلاف جنگی مُہمات کا آغاز کیا۔
۱۱: ۲۳۔۲۵ دوسرا مخالف رِزون تھا، جو اُس وقت بچ نکلا جب داؤد نے ضوباہ وغیرہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ وہ ایک فوج کا سردار ہو گیا۔ بعد ازاں اُس نے دمشق میں ایک خود مختار حکومت قائم کی اور سلیمان کے لئے شمال کی طرف سے جنگی خطرے کا سبب بن گیا۔ دمشق اُس وقت سے اسرائیل کی غلامی میں تھا جب سے داؤد نے شہر کو فتح کر کے وہاں فوجی دستے رکھے (۲۔سموئیل ۸: ۵،۶)۔
ارام کے سب سے بڑے شہر دمشق کا چھن جانا نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آنے والی صدیوں میں ارام کی سلطنت اِسرائیل کے لئے مسلسل تکلیف کا باعث بنی رہی۔
۱۱: ۲۶۔۲۸ سلیمان کا تیسرا مخالف سلیمان کا اپنا خادم تھا جس کا خدا نے آیت ۱۱ میں ذکر کیا تھا۔ یہ مخالف افرائیم کے قبیلے سے نباط کا بیٹا یرُبعام تھا۔ سلیمان نے اِسے مِلّوکی تعمیر کی ذمہ داری سونپی تھی۔ شاید اِس اِختیار نے اُس کے دل میں سارے اِسرائیل پر حکومت کرنے کی خواہش پیدا کی۔
۱۱: ۲۹۔۳۹ ایک دن یربعام کی اخیاہ نامی نبی سے ملاقات ہوئی۔ جب وہ دونوں میدان میں اکیلے تھے تو اخیاہ نے اپنی نئی چادر کے بارہ ٹکڑے کر دیئے۔ اُس نے دس ٹکڑے اِس نشان کے طور پر یربعام کو دیئے کہ وہ اِسرائیل کے دس قبیلوں پر حکومت کرے گا۔ اُس نے یربعام کو یہ بھی بتایا کہ ایک قبیلے (بنیمین) پر سلیمان کے بیٹے (یہوداہ اِس میں شامل ہے ۱۲: ۲۳) کی حکومت ہو گی۔ لیکن سلیمان کی موت کے بعد ہی سلطنت تقسیم ہو گی۔ اگر یربعام خداوند کی فرماں برداری کرے تو خداوند یقیناًاُس کی مدد کرے گا اور اُسے برکت دے گا۔ ملاحظہ فرمائیے کہ خدا یربعام پر کیسی بندشیں لگاتا ہے۔ وہ پوری سلطنت پر نہیں بلکہ صرف دس قبائل پر حکمرانی کرے گا، اُسے سلیمان کی موت کے بعد ہی اِقتدار ملے گا۔ اگر وہ خداوند کی فرماں برداری کرے اور پورے دل سے اُس کی پیروی کرے تو خدا اُس کے لئے ایک پائیدار گھر بنائے گا۔
۱۱: ۴۰ لیکن یربعام نے جب سلیمان ابھی زندہ تھا بغاوت کر دی جس کے نتیجے میں اُسے بادشاہ کے غضب سے بچنے کے لئے مصر کو بھاگنا پڑا۔ وہ سلیمان کی موت تک وہیں رہا۔ سلیمان نے اپنے گناہ کو تسلیم کرنے اور توبہ کرنے کے بجائے یربعام کو ختم کرنے کے ارادے سے خدا کے کلام کی مزاحمت کی۔ یربعام کا مقابلہ کرنا عین حماقت تھی کیونکہ خدا نے اُسے شمالی قبائل کا وارث مقرر کر دیا تھا۔ ساؤل اپنے جانشین داؤد کو قتل کرنے کی کوششوں میں ناکام رہا۔ بعینہٖ سلیمان بھی یربعام کو ہلاک کرنے کی کاوشوں میں ناکام ہوا۔ جن قبیلوں پر یربعام حکومت کرنے والا تھا وہ یہ ہیں: روبن، دان، نفتالی، جد، آشر، اشکار، زبولون، افرائیم، منسی اور لاوی اور شمعون کا کچھ حصہ۔ جن قبیلوں پر سلیمان کا بیٹا حکومت کرے گا وہ یہوداہ، بنیمین اور لاوی اور شمعون کا کچھ حصہ ہو گا۔ لاوی اور شمعون کا بیشتر حصہ (۲۔تواریخ ۱۱: ۱۳۔۱۶) یہوداہ کا وفادار تھا۔
۱۱:۴۱ سلیمان کے احوال کی کتاب غالباً اُس کے دَورِ حکومت کی سرکاری تاریخ تھی، لیکن یہ اِلہامی نہیں تھی۔
۱۱: ۴۲،۴۳ چالیس سال تک حکومت کرنے کے بعد سلیمان فوت ہو گیا اور اُسے یروشلیم میں دفن کیا گیا۔ اُس کا بیٹا رحبعام اُس کا جانشین ہوا۔ سلیمان کا آغاز اُس کے اِختتام کی نسبت کہیں بہتر تھا۔ اچھا آغاز، اچھے انجام کی ضمانت نہیں ہے۔ اُسے عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا گیا، لیکن وہ بت پرستی اور اخلاقی زوال کے اتھاہ گڑھے میں گر گیا۔ کاش بادشاہ نے واعظ ۱۲:۱۳،۱۴ میں جس بات کی منادی کی ہے، اُس پر خود بھی عمل کر لیتا!
’’اب سب کچھ سنایا گیا۔ حاصلِ کلام یہ ہے۔ خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ اِنسان کا فرضِ کُلی یہی ہے۔ کیونکہ خدا ہر ایک فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بُری عدالت میں لائے گا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور سُلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی ۔ عمونی ۔ ادومی ۔ صیدانی اور حتی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔
۲ یہ اُن قوموں کی تھیں جنکی بابت خُداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تُم اُنکے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تُمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تُمہارے دلوں کو اپنے دیوتاوں کی طر مائل کر لینگی۔ سُلیمان اِن ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا ۔
۳ اور اُسکے پاس سات سو شہزادیاں اُسکی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں اور اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو پھیر دیا ۔
۴ کیونکہ جب سپلیمان بُڈھا ہو گیا تو اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُسکا دل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اُسکے باپ داود کا دل تھا ۔
۵ کیونکہ سُلیمان صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عنمونیوں کے نفرتی مِلکول کی پیروی کرنے لگا ۔
۶ اور سُلیمان نے خُداوند کے آگے بدی کی اور اُس نے خُداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اُس کے باپ داود نے کی تھی۔
۷ پھر سُلیمان نے موآبیوں کے نفرتی کموس کے لیے اُس پہاڑ پر جو یروشلیم کے سامنے ہے اور بنی عمون کے نفرتی مولک کے لیے بُلند مقام بنا دیا ۔
۸ اُس نے ایسا ہی اپنی سب اجنبی بیویوں کی خاطر کیا جو اپنے دیوتاوں کے حضور بخُور جلاتی اور قُربانی گذرانتی تھیں ۔
۹ اور خُداوند سُلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اُسکا دل خُداوند اسرائیل کے خُدا سے پھر گیا تھا جس نے اُسے دوبارہ دکھائی دیکر ۔
۱۰ اُسکو اِس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے وہ بات نہ مانی جسکا حکم خُداوند نے دیا تھا ۔
۱۱ اِس سبب سے خُداوند نے سُلیمان کو کہا چونکہ تُجھ سے یہ فعل ہوا اور تُو نے میرے عہد اور میرے آئین کو جنکا میں نے تُجھے حکم دیا نہیں مانا اِس لیے مَیں سلطنت کو ضرور تُجھ سے چھینکر تیرے خادم کو دونگا۔
۱۲ تَو بھی تیرے باپ داود کی خاطر تیرے ایام میں یہ نہیں کرونگا بلکہ اپنے بندہ داود کی خاطر اور یروشلیم کی خاطر جسے مَیں نے چُن لیا ہے ایک قبیلہ تیرے بیٹے کو دونگا۔
۱۳
۱۴ سو خُداوند نے ادومی ہدد کو سُلیمان کا مُخالف بنا کر کھڑا کیا ۔ یہ ادوم کی شاہی نسل سے تھا ۔
۱۵ کیونکہ جن داود ادوم میں تھا تو لشکر کا سردار یوآب ادوم میں ہر ایک مرد کو قتل کر کے اُن مقتولوں کو دفن کرنے گیا ۔
۱۶ ( کیونکہ یوآب اور سب اسرائیلی چھ مہینے تک وہیں رہے جب تک کہ اُس نے ادوم میں ہر ایک مرد کو قتل نہ کر ڈالا)۔
۱۷ تو ہدد کئی ایک ادومیوں کے ساتھ جو اُس کے باپ کے مُلازم تھے مصر جانے کو بھاگ نکلا ۔ اُس وقت ہدد چھوٹا لڑکا ہی تھا ۔
۱۸ اور وہ مدیان سے نکل کر فاران میں آئے اور فاران سے لوگ ساتھ لیکر شاہِ مصر فرعون کے پاس مصر میں گئے ۔ اُس نے اُسکو ایک گھر دیا اور اُسکے لیے رسد مُقرر کی اور اُسے جاگیر دی۔
۱۹ اور ہدد کو فرعون کے حضور اِتنا رسوخ حاصل ہُوا کہ اُس نے اپنی سالی یعنی ملکہ تحفنیس کی بہن اُسی کو بیاہ دی ۔
۲۰ اور تحفنیس کی بہن کے اُس سے اُسکا بیٹا جنوبت پیدا ہُدا جسکا دودھ تحفنس نے فرعون کے محل میں چھُڑایا اور جنوبت فرعون کے بیٹوں کے ساتھ فرعون کے محل میں رہا ۔
۲۱ سو جب ہدد نے مصر میں سُنا کہ داود اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور لشکر کا سردار یوآب بھی مر گیا ہے تو ہدد نے فرعون سے کہا مجھے رخصت کر دے تاکہ میں اپنے مُلک کو چلا جاوں۔
۲۲ تب فرعون نے اُس سے کہا بھلا تُجھے میرے پاس کس چیز کی کمی ہوئی کہ تُو اپنے مُلک کو جانے کے در پے ہے؟ اُس نے کہا کچھ نہیںپھر بھی تُو مجھے جس طرح ہو رخصت ہی کر دے ۔
۲۳ اور خُدا نے اُس کے لیے ایک اور مُخالف الیدع کے بیٹے روزن کو کھڑا کیا جو اپنے آقا ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کے پاس سے بھاگ گیا تھا ۔
۲۴ اور اُس نے اپنے پاس لوگ جمع کر لیے اور جب داود نے ضوباہ والوں کو قتل کیا تو وہ ایک فوج کا سردار ہو گیا اور وہ دمشق کو جاکر رہیں رہنے اور دمشق میں سلطنت کرنے لگے ۔
۲۵ سو ہدد کی شرارت کے علاوہ یہ بھی سُلیمان کی ساری عُمر اسرائیل کا دُشمن رہا اور اُس نے اسرائیل س نفرت رکھی اور ارام پر حکومت کرتا رہا ۔
۲۶ اور صریدہ کے افرائمی نباط کا بیٹا یربعام جو سُلیمان کا مُلازم تھا اور جسکی ماں کا نام جو بیوہ تھی صروعہ تھا اُس نے بھی بادشاہ کے خلاف اپنا ہاتھ اُٹھایا ۔
۲۷ اور بادشاہ کے خلاف اُسکے ہاتھ اُٹھانے کا یہ سبب ہُوا کہ بادشاہ مِلو کو بناتا تھا اور اپنے باپ داود کے شہر رخنہ کی مرمت کرتا تھا ۔
۲۸ اور وہ شخص یربعام ایک زبردست سُورما تھا اور سُلیمان نے اُس جوانکو دیکھا کہ محنتی ہے ۔ سو اُس نے اُسے بنی یوسف کے سارے کام پر مُختار بنا دیا ۔
۲۹ اُس وقت یُربعام یروشلیم سے نکلر جا رہا تھا تو سیلانی اخیاہ نبی اُسے راہ میں مِلا اور اخیاہ ایک نئی چادر اوڑھے ہوئے تھا ۔ یہ دونوں میدان میں اکیلے تھے۔
۳۰ سو اخیاہ نے اُس نئی چادر کو جو اُس پر تھی لیکر اُسکے بارہ ٹکڑے پھاڑے ۔
۳۱ اور اُس نے یُربعام سے کہا کہ تُو اپنے لیے دس ٹکڑے لے لے کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں کہتا ہے کہ دیکھ میں سُلیمان کے ہاتھ سے سلطنت چھین لونگا اور دس قبیلے تُجھے دونگا۔
۳۲ ( لیکن میرے بندہ داود کی خاطر اور یروشلیم یعنی اُس شہر کی خاطر جسے میں نے بنی اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے ایک قبیلہ اُسکے پاس رہےگا)۔
۳۳ کیونکہ اُنہوں نے مُجھے ترک کیا اور صیدانیوں کی دیوی عستارات اور موآبیوں کے دیوتا کموس اور بنی عمون کے دیوتا مِلکول کی پرستش کی ہے اور میری راہوں پر نہ چلے کہ وہ کام کرتے جو میری نظر میں بھلا تھا اور میرے آئین اور احکام کو مانتے جیسا اُس کے باپ داود نے کیا ۔
۳۴ پھر بھی مَیں ساری مملکت اُسکے ہاتھ سے نہیں لونگا بلکہ اپنے بندہ داود کی خاطر جسے میں نے اِس لیے چُن لیا کہ اُس نے میرے احکام اور آئین مانے ۔ مَیں اُس کے بیٹے کے ہاتھ سے سلطنت یعنی دس قبیلوں کو لیکر اُنکو تُجھے دونگا۔
۳۵
۳۶ اور اُسکے بیٹے کو ایک قبیلہ دونگا تاکہ میرے بندہ داود کا چراغ یروشلیم یعنی اُس شہر میں جسے میں نے اپنا نام رکھنے کے لیے چُن لیا ہے ہمیشہ میرے آگے رہے۔
۳۷ اور مَیں تُجھے لونگا اور تُو اپنے دل کی پُوری خواہش کے موافق سلطنت کریگا اور اسرائیل کا بادشاہ ہو گا ۔
۳۸ اور ایسا ہو گا کہ اگر تُو اُن سب باتوں کوجنکا میں تُجھے حکم دوں سُنے اور میری روہوں پر چلے اور جو کام میری نظر میں بھلا ہے اُسکو کرے اور میرے آئین اور احکام مانے جیسا میرے بندہ داود نے کِیا تو مَیں تیرے ے ساتھ رہونگا اور تیرے لئے ایک پایدار گھر بناونگا جیسا میں نے داود کے لیے بنایا اور اسرائیل کو تُجھے دونگا ۔
۳۹ اور میں اِسی سبب سے داود کی نسل کو دُکھ دونگا پر ہمیشہ تک نہیں ۔
۴۰ اِسی لیے سُلیمان یُربعام کے قتل کے در پے ہُوا پر یُربعام اُٹھکر مصر کو شاہِ مصر سیساق کے پاس بھاگ گیا اور سُلیمان کی وفات تک مصر میں رہا۔
۴۱ اور سُلیمان کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور اُسکی حکمت سو کیا وہ سُلیمان کے احوال کی کتاب میں درج نہیں ؟
۴۲ اور وہ مُدت جس میں سُلیمان نے یروشلیم میں سب اسرائیل پر سلطنت کی چالیس برس کی تھی ۔
۴۳ اور سُلیمان اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں دفن ہُوا اور اُسکا بیٹا رجعام اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔