(۲) ہیکل کا نقشہ اور تعمیر (باب ۶)
۶: ۱ پہلی آیت کے مطابق ہیکل کی تعمیر کا کام مصر سے خروج کے ۴۸۰ سال بعد شروع کیا گیا۔ اگر سلیمان نے ۶۶/ ۹۶۷ ق م میں تعمیر کا آغاز کیا تو اِس کے مطابق خروج کی تاریخ ۴۷/ ۱۴۴۶ ق م ہو گی۔ تاہم حتمی طور پر تاریخوں کا تعین ممکن نہیں ہے۔ اِس سلسلے میں علما کے مابین بہت اِختلاف ہے، لیکن ۱۴۴۶ ق م خروج کی پہلی تاریخ کے بہت قریب ہے۔
۶: ۲۔۶ ہیکل کے نقشے کے سلسلے میں باب چھے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ بعض اوقات یہ بہت ہی تکنیکی اہمیت کی حامل ہیں اور اِس کی قطعی تصویر معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہیکل کی تعمیر یوں کی گئی۔ یہ ۹۰ فٹ لمبی، ۳۰ فٹ چوڑی اور ۴۵ فٹ بلند تھی (آیت ۲)۔ یہ دو کمروں میں تقسیم کی گئی تھی۔ پہلا کمرا پاک مقام تھا۔ اِس کی لمبائی ۶۰ فٹ، چوڑائی ۳۰ فٹ اور اونچائی ۴۵ فٹ تھی (آیات ۲،۱۷)۔ غالباً چھت کے قریب جالی دار کھڑکیاں بنائی گئیں جن سے روشنی اندر آتی اور دھواں باہر جاتا تھا۔ دوسرا کمرا پاک ترین مقام تھا جس کی لمبائی ۳۰ فٹ، چوڑائی ۳۰ فٹ اور اُونچائی ۳۰ فٹ تھی۔ ڈیوڑھی میں مزید ۳۰ فٹ لمبائی کا مشرق یا سامنے کے کونے میں اضافہ کیا گیا اور یہ زمین کی سطح سے ۱۵ فٹ بلند تھی۔ ہیکل کے شمال، مغرب اور جنوب کی اطراف میں کاہنوں کے لئے ملحقہ کمروں کی تین منزلیں تھیں۔ یہ کمرے ہیکل کی دیوار کے ساتھ تھے، لیکن اِس کا حصہ نہ تھے۔
۶: ۷۔۱۰ ہیکل کے لئے لکڑی کا کام اور پتھروں کا کام کان میں ہی اُن کے حجم کے مطابق تیار کر کے مکمل کیا گیا تاکہ جب اُنہیں یروشلیم میں لایا جائے تو لوہے کے اوزاروں کے بغیر ہی اُنہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا جائے (آیت ۷)۔ یوں ہیکل بڑی خاموشی سے تعمیر کی گئی، بعینہٖ خدا آج کل خاموشی سے اپنی زندہ ہیکل کو تعمیر کر رہا ہے۔ آیت ۸ اور ۱۰ میں ملحقہ کمروں کے لئے دروازوں اور ہر ایک منزل کی لمبائی کا بیان کیا گیا ہے (ساڑھے سات فٹ)۔ آیت ۹ میں پوری ہیکل کی چھت کا بیان ہے۔
۶: ۱۱۔۲۲ ہیکل کی تعمیر کے دوران خداوند کا کلام سلیمان پر نازل ہوا اور اُس نے داؤد کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کی تصدیق کی کہ اگر بادشاہ خداوند کا فرماں بردار رہے تو خدا بنی اِسرائیل کے درمیان اپنی ہیکل میں رہے گا (آیات ۱۱۔۱۳)۔ عمارت کے اندر کی طرف دیودار کی لکڑی لگی ہوئی تھی، اور اُس پر سونا منڈھا ہوا تھا۔ کوئی پتھر دِکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ پتھر بڑی مہارت سے کاٹے گئے تھے۔ سپرجن (Spurgeon) اِس کا روحانی اطلاق کرتا ہے:
’’حتیٰ کہ بنیاد کے پتھر بھی کھردرے نہیں تھے، وہ تراشے ہوئے تھے اور نہایت قیمتی تھے۔ خدا چاہتا ہے کہ جو کچھ اُس کے لئے کیا جائے اچھی طرح سے کیا جائے۔ اُسے اِس بات کی پروا نہیں کہ اِنسان کس نگاہ سے دیکھتا ہے بلکہ وہ اپنی روحانی ہیکل کے زندہ پتھروں کی خوبصورتی سے خوش ہوتا ہے جو مشاہدے کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں۔‘‘
۶: ۲۳۔۲۸ پاک ترین مقام میں عہد کے صندوق کے دونوں طرف کندہ کئے ہوئے دو کروبی تھے جن پر سونا منڈھا ہوا تھا۔ اُن کے پھیلے ہوئے پر ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پہنچتے تھے۔ یہ وہ کروبی نہیں تھے جو سرپوش پر تھے (خروج ۲۵:۱۸؛ ۳۸:۹)۔
۶: ۲۹،۳۰ ہیکل کے اندر صرف سونا ہی سونا دِکھائی دیتا تھا۔
۶: ۳۱۔۳۵ پاک ترین مقام میں دروازوں کا آیات ۳۱ اور ۳۲ میں ذکر ہے۔ دونوں کمرے ایک پردے کے ذریعے بھی علیٰحدہ کئے گئے تھے، جو پاک مکان کے دروازوں کے اندر کی طرف لٹکے ہوئے تھے (۲۔تواریخ ۳:۱۴)۔ پاک مقام میں جانے کے لئے دروازوں کا آیات ۳۳۔۳۵ میں بیان ہے۔
۶:۳۶ ہیکل کے سامنے کاہنوں کا اندرونی صحن تھا۔ بیرونی صحن اور اُس کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ یہ دیوار تراشے ہوئے پتھروں کی تین صفوں اور دیودار کے شہتیروں کی ایک صف پر مشتمل تھی۔
اندرونی صحن میں قربانیوں کے لئے ایک بڑی سی پیتل کی قربان گاہ تھی اور پیتل کا ایک بڑا حوض کاہنوں کی طہارت کے لئے تھا اور دس چھوٹے حوض بھی تھے (باب ۷)۔ بیرونی صحن عام بنی اِسرائیل کے لئے تھا۔
۶: ۳۷،۳۸ ہیکل کی تعمیر کا آغاز سلیمان کی حکومت کے چوتھے سال میں ہوا۔ تعمیر کا کام سات سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
مقدس کتاب
۱ ۔ اور بنی اسرائیل کے مُلک مصر سے نکل آنے کے بعد چار سو اسیویں سال اسرائیل پر سُلیمان کی سلطنت کے چوتھے برس زیو کے مہینہ میں جو دُوسرا مہینہ ہے ایسا ہُوا کہ اُس نے خُداوندکا گھر بنانا شروع کیا۔
۲ اور جو گھر سُلیما بادشاہ نے خُداوند کے لیے بنایا اُسکی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ اور اُونچائی تیس ہاتھ تھی۔
۳ ۔ اور اُس گھر کی ہیکل کے سامنے ایک برآمدہ اُس گھر کی چوڑائی کے مطابق بیس ہاتھ لمبا تھا او ر اُس کے سامنے اُسکی چوڑائی دس ہاتھ تھی ۔
۴ اور اُس نے اُس گھر کے لیے جھرو کے بنائے جن میں جالی جڑی ہوئی تھی۔
۵ اور اُس نے گِردا گِرد کی دیوار سے لگی ہوئی یعنی ہیکل اور اِلہام گا کی دیواروں سے لگی ہوئی گِردا گِرد منزلیں بنائیں اور حُجرے بھی گِردا گِرد بنائے۔
۶ سب سے نچلی منزل پانچ ہاتھ چوڑی اور تیرسی ساتھ ہاتھ چوڑی تھی کیونکہ اُس نے گھر کی دیوار کے گِردا گِرد باہر باہر کے رُخ پُشتے بنائے تھے تاکہ کڑیاں گھر کی دیواروں کو پکڑے ہوئے نہ ہوں۔
۷ اور وہ گھر جب تعمیر ہو رہا تھا تو ایسے پتھروں کا بنایا گیا جو کان پر تیار کیے جاتے تھے ۔ سو اُسکی تعمیر کے وقت نہ مار تول نہ کُلہاڑی نہ لوہے کے کسی اوزار کی آواز اُس گھر میں سُنائی دی ۔
۸ اور بیچ کے حجروں کا دروازہ اُس گھر کی دہنی طرف تھا اور چکر دار سیڑھیوں سے بیچ کی منزل کے حجروں میں اور بیچ کی منزل سے تیسری منزل کو جایا کرتے تھے۔
۹ سو اُس نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کیا اور اُس گھر کو دیودار کے شہتہروں اور تختوں سے پاٹا۔
۱۰ اور اُس نے اُس پورے گھر سے لگی ہوئی پانچ پانچ ہاتھ اوُنچی منزلیں بنائیں اور وہ دیوار کی لکڑیوں کے سہارے اُس گھر پر ٹِکی ہوئی تھیں ۔
۱۱ اور خُداوند کا کلام سُلیامن پر نازل ہوا کہ ۔
۱۲ یہ گھر جو تُو بناتا ہے سو اگر تُو میرے آئین پر چلے اور میرے حُکموں کو پورا اور میرے فرمانوں کو مانکر اُن پر عمل کرے تو مَیں اپنا وہ قول جو مَیں نے تیرے باپ داود سے کِیا تیرے ساتھ قائم رکھونگا۔
۱۳ اور مَیں بنی اسرائیل کے درمیان رہونگا اور اپنی قوم اسرائیل کو ترک نہ کرونگا ۔
۱۴ پس سُلیمان نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کیا۔
۱۵ اور اُس نے اندر گھر کی دیواروں پر دیودار کے تختے لگائے ۔ اِس گھرکے فرش سے چھت کی دیواروں تک اُس نے اُن پر لکڑی لگائی اور اُس نے اُس گھر کے فرش کو صنوبر کے تختوں سے پاٹ دیا ۔
۱۶ اور اُس نے اُس گھر کے پچھلے حصہ میں بیس ہاتھ تک فرش سے دیواروں تک دیودار کے تختے لگائے۔ اُس نے اِسے اُسکے اندر بنایا تاکہ وہ الہام گاہ یعنی پاکترین مکان ہو ۔
۱۷ ور وہ گھر یعنی اِلہام گاہ کے سامنے کی ہیکل چالیس ہاتھ لمبی تھی ۔
۱۸ اور اُس گھر کے اندر اندر دیودار تھا جس پر لٹو اور کِھلے ہوئے پھُول کندہ ئے گئے تھے ۔ سب دیودار ہی تھا اور پتھر مُطلق نظر نہیں آتا تھا ۔
۱۹ اور اُس نے اُس گھر کے اندر بیچ میں اِلہام گاہ تیار کی تاکہ خُداوند کے عہد کا صندوق وہاں رکھا جائے۔
۲۰ اور اِلہام گاہ اندر ہی اندر بیس ہاتھ لمبی اور بیس ہاتھ چوڑی اور بیس ہاتھ اونچی تھی اور اُس نے اُس پر خالص سونا منڈھا اور مذبح کو دیودار سے پاٹا۔
۲۱ اور سُلیمان نے اُس گھر کو اندر اندر خالص سونے سے منڈھا اور اِلہام گاہ کے سامنے اُس نے سونے کی زنجیریں تان دیں اور اُس پر بھی سونا منڈھا۔
۲۲ اور اُس پورے گھر کو جب تک کہ وہ سارا گھر تمام نہ ہو گیا اُس نے سونے سے منڈھا اور اَلہام گاہ کے پُورے مذبح پر بھی اُس نے سونا منڈھا ۔
۲۳ اور اِلہام گاہ میں اُس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے۔
۲۴ اور کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا اور اُسکا دُوسرا بازو بھی پانچ ہی ہاتھ کا تھا ۔ ایک بازو کے سِرے سے دوسرے بازو کے سِرے تک دس ہاتھ کا فاصلہ تھا ۔
۲۵ اور دس ہی ہاتھ کا دوُسرا کروبی تھا ۔ دونوں کروبی ایک ہی ناپ اور ایک ہی صورت کے تھے۔
۲۶ ایک کروبی کی اُونچائی دس ہاتھ تھی اور اِتنی ہی دوسرے کروبی کی تھی ۔
۲۷ اور اُس نے دونوں کروبیوں کو بھیتر کے مکان کے اندر رکھا او ر کروبیوں کے بازو پھیلے ہوئے تھے ایسا کہ ایک کا بازو ایک دیوار سے اور دوسرے کا بازو دوسری دیوار سے لگا ہُوا تھا اور اِنکے بازو گھر کے بیچ میں ایک دوسرے سے مِلے ہوئے تھے۔
۲۸ اور اُس نے کروبیوں پر سونا منڈھا ۔
۲۹ اور اُس نے اُس گھر کی سب دیواروں پر گِردا گِرد اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کی کھُدی ہوئی صورتیں کندہ کیں ۔
۳۰ اور اُس گھر کے فرش پر اُس نے اندر اور باہر سونا منڈھا ۔
۳۱ اور اِلہام گاہ میں داخل ہونے کے لیے اُس نے زیتون کی لکڑی کے دروازے بنائے ۔ اوپر کی چوکھٹ اور بازووں کا عرض دیوار کا پانچواں حصہ تھا ۔
۳۲ دونوں دروازے زیتون کی لکڑی کے تھے اور اُس نے اُن پر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کی کھُدی ہوئی صُورتیں کندہ کیں اور اُن پر سونا منڈھا اور اِس سونے کو کروبیوں پر اور کھجور کے درختوں پر پھیلا دیا۔
۳۳ ایسے ہی ہیکل میں داخل ہونے کے لیے اُس نے زیتون کی لکڑی کی چوکھٹ بنائی جو دیوار کا چوتھا حصہ تھی
۳۴ اور صنوبر کی لکڑی کے دو دروازے تھے ۔ ایک دروازہ کے دونوں پٹ دُہرے ہو جاتے تھے۔
۳۵ اور اِن پر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کو اُس نے کندہ کیا اور کھُدے ہوئے کام پر سونا منڈھا ۔
۳۶ اور اندر کے صحن کی تین صفیں تراشے ہوئے پتھر کی بنائیں اور ایک صف دیودار کے شہتیروں کی ۔
۳۷ چوتھے سال زیو کے مہینہ میں خُداوند کے گھر کی بُنیاد ڈالی گئی ۔
۳۸ اور گیارھویں سال بول کے مہینہ میں جو آٹھواں مہینہ ہے وہ گھر اپنے سب حصوں سمیت اپنے نقشہ کے مُطابق بن کر تیار ہُوا۔ یوں اُسکے بنانے میں اُسے سات سال لگے۔