۱سلاطِین ۱۷

(‏۲)‏ ایلیاہ اور کال (‏۱۷:‏ ۱۔۷)‏

۱۷:‏ ۱ باب ۱۷ میں ہمارا ایلیاہ نبی سے تعارُف ہوتا ہے۔ اُس کی خدمت ۲۔سلاطین ۲:‏۱۱ تک جاری رہتی ہے۔ گناہ اور زوال کے ایام میں خدا اپنے لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوا۔ یہ انبیا فی الحقیقت خدا کا منہ ہو کر بولتے تھے۔ وہ بغیر کسی خوف کے بت پرستی‏، بداخلاقی اور ہر طرح کی دیگر بُرائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو توبہ کرنے اور خدا کی طرف رجوع لانے کی تلقین کرتے‏، اور اُنہیں آگاہ کرتے کہ اگر اُنہوں نے ایسا نہ کیا تو اِس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ بعض ایک انبیا کی خدمت صرف اِسرائیل تک اور بعض ایک کی یہوداہ تک محدود تھی‏، اور بعض ایک نے دونوں میں خدمت کی۔ چونکہ دو سلطنتوں میں سے اِسرائیل میں زیادہ بدی تھی‏، خدا نے ابنیا کے پیغامات کے ساتھ ساتھ عجائبات و معجزات بھی دِکھائے۔ اِس سے اِسرائیل کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ 

ایلیاہ نبی

یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت کے سلسلے میں‏، اناجیل میں ایلیاہ کا ذکر آیا ہے۔ یوحنا ایلیاہ کی روح اور قوت میں آیا (‏لوقا ۱:‏۱۷)‏۔

ایلیاہ دریائے یردن کے مشرق میں جلعاد میں تِشب کا رہنے والا تھا‏، اِس لئے وہ تشبی کہلاتا تھا۔ اُس کی تاریخ کا صرف پہلی اور دوسری سلاطین میں بیان ہے۔ ہمیں اُس کے پس منظر‏، خاندان یا نبوتی خدمت کی بلاہٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ لیکن کوئی شخص بھی اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ اُسے خدا نے بھیجا تھا۔ وہ خدا کا چنا ہوا وسیلہ تھا جس نے بت پرست اور متکبر اِسرائیل کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا۔ اُس کی دعاؤں سے برکت (‏بارش)‏ یا غضب (‏خشک سالی اور آگ)‏ نازل ہو سکتا تھا۔ اُس نے اپنی نسل کی بلاخوف اور زندہ ضمیر کے ساتھ خدمت کی۔ اُس کا درج شدہ پہلا کام یہ تھا کہ اُس نے اخی اب کے سامنے اِس بات کا اعلان کیا کہ ملک میں خشک سالی ہو گی۔ یہ بت پرستی کے لئے خدا کی سزا تھی۔ خدا نے لوگوں کو متوجہ کرنے سے خشک سالی کو استعمال کیا۔ اُنہیں اِس بات کی بالکل پروا نہیں تھی کہ اُن کی بت پرستی سے ملک سے روحانی خشک سالی اور قحط تھا‏، لیکن اُنہوں نے فطری خشک سالی کو نظر انداز نہ کیا۔ 

۱۷:‏ ۲۔۷ خداوند کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایلیاہ سامریہ سے یردن کے مشرق میں کریت کے نالے پر چلا گیا۔ وہاں وہ نالے سے پانی پیتا اور صبح و شام کوّے اُسے کھانا لا کر دیتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد خشک سالی سے نالا سوکھ گیا۔ 

(‏۳)‏ ایلیاہ اور صارپت کی بیوہ (‏۱۷:‏۸۔۲۴)‏

۱۷:‏ ۸۔۱۶ خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایلیاہ صارپت کو گیا جو بحیرۂ روم کے ساحل پر صور اور صیدا کے درمیان واقع ہے۔ وہاں خدا نے اِنتظام کیا تھا کہ ایک غیر قوم بیوہ اُس کے کھانے پینے کی دیکھ بھال کرے۔ بیوہ نے پہلے تو پس و پیش کی کیونکہ صرف اُس کے بیٹے اور اُس کے اپنے لئے ہی کھانا تھا۔ تاہم نبی نے اُسے حکم دیا کہ پہلے اُس کے لئے ایک ٹکیہ بنا لائے۔ یہ کام کرنے سے وہ درحقیقت خدا کو اوّل درجہ دے رہی تھی۔ جب اُس نے حکم مانا تو اُس نے یہ خوبصورت سبق سیکھا کہ جو خدا کو اوّل درجہ دیتے ہیں خدا اُن کا خیال کرتا ہے۔ اُس کے آٹے کے مٹکے اور تیل کی کُپی میں کبھی کمی نہ ہوئی۔ یسوع نے اِس حقیقت کو خصوصی طور پر بتایا کہ ایلیاہ بے شمار اِسرائیلی بیواؤں کی بجائے غیر قوم بیوہ کے پاس بھیجا گیا (‏لوقا ۴:‏ ۲۶)‏۔ 

یہوواہ نے خشک سالی کے دوران نبی کو نہایت ادنیٰ طریقوں سے وسائل مہیا کئے۔ پہلے تو ناپاک جانوروں کے ذریعے سے اور پھر ایک غیر قوم عورت کی معرفت جو ایک غریب بیوہ تھی۔ بادشاہ اپنے محل میں پریشان تھا‏، لیکن ایلیاہ کی ساری ضروریات پوری ہو رہی تھیں۔ مردِ خدا کے اِرد گرد حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں‏، اگر وہ خدا کی آواز کو سنے تو اُس کی ضروریات ہمیشہ پوری ہوتی رہیں گی۔ 

۱۷:‏ ۱۷۔۲۴ بعد ازاں عورت کا بیٹا سخت بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مر گیا۔ ماں کو فوراً شک گزرا کہ میرے کسی گناہ کے باعث مردِ خدا کے حکم سے لڑکے کی موت واقع ہوئی ہے۔ نبی اُس مُردہ لڑکے کو اُوپر اپنے کمرے میں لے گیا اور اپنے آپ کو تین بار اُس پر پسارا اور خداوند سے فریاد کی۔ لڑکا زندہ ہو گیا اور اُسے صحت مند حالت میں نیچے اُس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔ اِس سے وہ عورت قائل ہو گئی کہ ایلیاہ مردِ خدا ہے اور کہ خدا کا کلام سچا ہے۔ ایک غیر قوم عورت ہوتے ہوئے اُس نے اِسرائیل کے خدا پر ایمان کا اِظہار کیا۔ 

مقدس کتاب

۱ ۱۔ اور ایلیاہ تشبی جو جلعاد کے پردیسیوں میں سے تھا اخی اب سے کہا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کی حیات کی قسم جسکے سامنے میں کھڑا ہوں اِن برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مینہ برسیگا جب تک میں نہ کہوں ۔
۲ اور خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا کہ ۔
۳ یہاں سے چلدے اور مشرق کی طرف اپنا رُخ کر اور کریت کے نالہ کے پاس جو یردن کے سامنے ہے جا چھپ۔
۴ اور تُو اُسی نالہ میں سے پینا اور مَیں نے کووں کو حکم کیا ہے کہ وہ تیری پرورش کریں ۔
۵ سو اُس نے جا کر خُداوند کے کلام کے مطابق کیا کیونکہ وہ گیا اور کریت کے نالہ کے پاس جو یردن کے سامنے ہے رہنے لگا ۔
۶ اور کوے اُسکے لیے صبح کو روٹی اور گوشت اور شام کو بھی روٹی اور گوشت لاتے تھے اور وہ اُس نال میں سے پیا کرتا تھا ۔
۷ اور کچھ عرصہ کے بعد وہ نالہ سوکھ گیا اِس لیے کہ اُس مُلک میں بارش نہیں ہوئی تھی۔
۸ تب خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا ۔
۹ کہ اُٹھ اور صیدا کے صارپت کو جا اور وہیں رہ ۔ دیکھ میں نے ایک بیوہ کو وہاں حکم دیا ہے کہ تیری پرورش کرے ۔
۱۰ سو وہ اُٹھ کر صارپت کو گیا اور جب وہ شہر کے پھاٹک پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بیوہ وہاں لکڑیاں چُن رہی ہے ۔ سو اُس نے اُسے پُکار کر کہا ذرا مُجھے تھوڑا سا پانی کسی برتن میں لادے کہ میں پیوں۔
۱۱ اور جب وہ لینے چلی تو اُس نے پُکار کر کہا ذرا اپنے ہاتھ میں ایک ٹکڑا روٹی میرے واسطے لیتی آنا ۔
۱۲ اُس نے کہا خُداوند تیرے خُدا کی حیات کی قسم میر ے ہاں روٹی نہیں ۔ صرف مُٹھی بھر آٹا ایک مٹکے میں اور تھوڑا سا تیل ایک کُپی میں ہے اور دیکھ میں دو ایک لکڑیاں چُن رہی ہوں تاکہ گھر جا کر اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے اُسے پُکاوں اور ہم اُسے کھائیں ۔ اور پھر مر جائیں ۔
۱۳ اور ایلیاہ نے اُس سے کہا مت ڈر ۔ جا اور جیسا کہتی ہے کر پر پہلے میرے لیے ایک ٹکیا اُس میں سے بنا کر میرے پاس لے آ۔ اُسکے بعد اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے بنا لینا ۔
۱۴ کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ اُس دن تک جب تک خُداوند زمین پر مینہ نہ برسائ نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہو گا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہو گی ۔
۱۵ سو اُس نے جا کر ایلیاہ کے کہنے کے مطابق کیا اور یہ اور وہ اور اُسکا کنبہ بہت دنوں تک کھاتے رہے ۔
۱۶ اور خُداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے ایلیاہ کی معرفت فرمایا تھا نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہُوا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہوئی ۔
۱۷ اَن باتوں کے بعد اُس عورت کا بیٹا جو اُس گھر کی مالک تھی بیمار پڑا اور اُسکی بیماری ایسی سخت ہو گئی کہ اُس میں دم باقی نہ رہا ۔
۱۸ سو وہ ایلیاہ سے کہنے لگی اے مردِ خُدا مُجھے تُجھ سے کیا کام ؟ تُو میرے بیٹے کو مار دے ! ۔
۱۹ اُس نے اُس سے کہا اپنا بیٹا مجھ کو دے اور وہ اُسے اُسکی گود سے لیکر اُسکو بالا خانہ پر جہاں وہ رہتا تھا لے گیا اور اُسے اپنے پلنگ پر لٹایا ۔
۲۰ اور اُس نے خُداوند سے فریا د کی اور کہا اے خُداوند میرے خُدا کیا تُو نے اِس بیوہ پر بھی جسکے ہاں میں ٹکِا ہوا ہوں اُسکے بیٹے کو مار ڈالنے سے بلا نازل کی ؟
۲۱ اور اُس نے اپنے آپ کو تین بار اُس لڑکے پر پسار کر خُداوند سے فریاد کی اور کہا اے خُداوند میرے خُدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اِس لڑکے کی جان اِس میںپھر آجائے ۔
۲۲ اور خُداوند نے ایلیاہ کی فریاد سُنی اور لڑکے کی جان اُس میں پھر آگئی اور وہ جی اُٹھا ۔
۲۳ تب ایلیاہ اُس لڑکے کو اُٹھا کر بالا خانہ پر ے نیچے گھر کے اندر لے گیا اور اُسے اُسکی ماں کے سپرد کیا اور ایلیاہ نے کہا دیکھ تیرا بیٹا جیتا ہے ۔
۲۴ تب اُس عورت نے ایلیاہ سے کہا اب میں جان گئی کہ تُو مردِ خُدا ہے اور خُداوند کا جو کلام تیرے منہ میں ہے وہ حق ہے ۔