۱سلاطِین ۱۳

(‏۲)‏ یربعام اور مردِ خدا (‏۱۳:‏ ۱۔۳۲)‏

۱۳:‏ ۱۔۳ جب یربعام‏، بیت ایل میں مذبح پر بخور جلا رہا تھا تو یہوداہ سے ایک مردِ خدا کو بھیجا گیا کہ وہ بت پرستی کے مذبح کے لئے اُسے ملامت کرے۔ اُس نے پیش گوئی کی کہ یہوداہ سے یوسیاہ نامی ایک بادشاہ برپا ہو گا اور وہ بت پرست کاہنوں کو مذبح پر جلا دے گا۔ آیت ۲ کی تکمیل ۲۔سلاطین ۲۳:‏ ۱۵‏،۱۶ میں پائی جاتی ہے۔ نبوت اور اِس کی تکمیل کے درمیان ۳۰۰ سال کا وقفہ ہے۔ اِس نبوت کے یقینی ہونے کا یہ نشان دیا گیا کہ مذبح پھٹ جائے گا اور راکھ بکھر جائے گی۔

۱۳:‏ ۴۔۶ جب یربعام نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے نبی کو پکڑنے کا حکم دیا تو اُس کا ہاتھ سوکھ گیا‏، مذبح پھٹ گیا اور راکھ بھی بکھر گئی۔ یہ یربعام کے مذہب کا بدشگون انجام تھا۔ نبی کی دعا کے جواب میں سوکھا ہوا ہاتھ پہلے جیسا ہو گیا۔ 

۱۳:‏ ۷۔۱۰ جب بادشاہ نبی کو دھمکیوں سے خاموش نہ کر سکا‏، تو اُس نے اُس کی رفاقت کو حاصل کرنے سے کوشش کی۔ خدا نے نبی کو سخت تاکید کی تھی کہ وہ یربعام کی بُری حکومت کی ہلکی سی برداشت کے لئے بھی کسی طرح کا اِظہار نہ کرے۔ لہٰذا نبی نے خداوند کی ہدایات کے مطابق بادشاہ کے ساتھ کھانے پینے سے بالکل اِنکار کر دیا۔ اور اُس نے بیت ایل سے واپس جانے کے لئے ایک دوسرا راستہ اِختیار کیا۔ 

۱۳:‏ ۱۱۔۱۹ راستے میں اُسے بیت ایل کا ایک نبی ملا۔ پہلے تو مردِ خدا نے بُڈھے نبی کی مہمان نوازی کا اِنکار کر دیا تاکہ بیت ایل میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کے لئے ذرا سی ہمدردی بھی ظاہر نہ کرے۔ تب بڈھے نبی نے بتایا کہ ایک فرشتے نے اُسے کہا ہے کہ مردِ خدا کی خاطر تواضح کرے۔ اِس جھوٹ سے بُڈھا نبی کامیاب ہو گیا اور مردِ خدا نے مہمان نوازی کو قبول کر لیا۔ 

۱۳:‏ ۲۰۔۲۵ جب وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے‏، تو خداوند بیت ایل کے بُڈھے نبی سے ہم کلام ہوا اور اُس نے مردِ خدا کو یہ پیغام دیا کہ مردِ خدا اپنی نافرمانی کے باعث مر جائے گا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ دفن نہیں ہو گا۔ اگر یہ سخت سزا ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو خدا کو پیار کرتے ہیں‏، جو اُس کے نمائندے ہیں اور جو اُس کی ذات سے زیادہ مستفید ہوئے ہیں‏، اُن کے ساتھ وہ زیادہ سختی سے پیش آتا ہے۔ گھر واپس آتے ہوئے شیر نے مردِ خدا کو مار ڈالا۔ یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف ہے کہ شیر اور گدھا دونوں لاش کی حفاظت کر رہے تھے۔ 

۱۳:‏ ۲۶۔۳۲ جب بڈھے نبی کو یہ خبر ملی تو اُسے فوراً احساس ہوا کہ یہ خدا کی طرف سے نافرمانی کی سزا ہے۔ وہ اُس مقام پر گیا جہاں یہ اَلم ناک واقعہ ہوا تھا‏، اور لاش کو بیت ایل میں واپس لے آیا اور اُسے اپنی قبر میں دفن کر دیا۔ اُس نے اپنے بیٹوں کو تاکید کی کہ اُسے مردِ خدا کے پہلو میں دفن کیا جائے کیونکہ اُسے معلوم ہو گیا تھا کہ بت پرستی کے جس نظام کا وہ ایک حصہ رہا‏، خدا اُسے بالآخر برباد کر دے گا۔ 

(‏۳)‏ یربعام کی باطل کہانت (‏۱۳:‏۳۳‏،۳۴)‏

یربعام بدی سے باز نہ آیا۔ اُس نے عوام میں سے کاہن بنائے اور خود بھی کاہن بن بیٹھا۔ اُس کا یہ گناہ اُسے اور اُس کے گھرانے کو نیست و نابود کرنے کا سبب بن گیا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور دیکھو خُداوند کے حُکم سے ایک مردِ خُدا یہوداہ سے بیت ایل میں آیا اور یُربعام بخور جلانے کو مذبح کے پاس کھڑا تھا ۔
۲ اور وہ خُداوند کے حُکم سے مذبح کے خلاف چلا کر کہنے لگا اے مذبح ! اے مذبح ! خُداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ داود کے گھرانے سے ایک لڑکا بنام یوسیاہ پیدا ہو گا ۔ سو وہ اوُنچے مقاموں کے کاہنوں کی جو تُجھ پر بخور جلاتے ہیں تُجھ پر قُربانی کریگا اور وہ آدمیوں کی ہڈیاں تُجھ پر جلائیں گے۔
۳ اور اُس نے اُسی دن ایک نشان دیا اور کہا وہ نشان جو خُداوند نے بتایا ہے یہ ہے کہ دیکھو مذبح پھٹ جائے گا اور وہ راکھ جو اُس پر ہے گِر جائے گی۔
۴ اور ایسا ہُوا کہ جب بادشاہ نے اُس مردِ خُدا کا کلام جو اُس نے بیت ایل میں مذبح کے خلاف چِلا کر کہا تھا سُنا تو یُربعام نے مذبح پر سے اپنا ہاتھ لمبا کیا اور کہا کہ اُسے پکڑ لو اور اُسکا وہ ہاتھ جو اُس نے اُسکی طرف بڑھایا تھا خپشک ہو گیا ایسا کہ وہ اُسے پھر اپنی طرف کھینچ نہ سکا۔
۵ اور اُس نشان کے مُطابق جو اُس مردِ خُدا نے خُداوند کے حکم سے دیا تھا وہ مذبح بھی پھٹ گیا اور راکھ مذبح پر سے گِر گئی۔
۶ تب بادشاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا کہ اب خُداند اپنے خُدا سے التجا کر اور میرے لیے دعا کر تاکہ میرا ہاتھ میرے لیے پھر بحال ہو جائے ۔ تب اُس مردِ خُدا نے خُداوند سے التجا کی اور بادشاہ کا ہاتھ اُس کے لیے بحا ل ہوا جیسا پہلے تھا ویسا ہی ہو گیا ۔
۷ اور بادشاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا کہ میرے ساتھ گھر چل اور تازہ دم ہو اور میں تُجھے انعام دونگا ۔
۸ اُس مردِ خُدا نے بادشاہ کو جواب دیا کہ اگر تُو اپنا آدھا گھر بھی مُجھے دے تو بھی میں تیرے ساتھ جانے کا نہیں اور نہ مَیں اِس جگہ کی روٹی کھاوں اور نہ پانی پیوں ۔
۹ کیونکہ خُداوند کا حکم مجھے تاکید کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ تُو نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا نہ اُس راہ سے لَوٹنا جس سے تُو جائے ۔
۱۰ سو وہ دوسرے راستہ سے گیا اور جس راہ سے بیت ایل میں آیا تھا اُس نے نہ لوٹا۔
۱۱ اور بیت ایل میں ایک بُڈھا نبی رہتا تھا ۔ سو اُسکے بیٹوں میں سے ایک نے آکر وہ سب کام جو اُس مردِ خُدا نے اُس روز بیت ایل میں کیے اُسے بتائے اور جو باتیں اُس نے بادشاہ سے کہی تھیں اُنکو بھی اپنے باپ ے بیان کیا ۔
۱۲ اور اُنکے باپ نے اُن سے کہا وہ کس راہ سے گیا ؟ اُس کے بیٹوں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ مردِ خُدا جو یہوداہ سے آیا تھا کس راہ سے گیا ہے ۔
۱۳ سو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے لیے گدھے پر زین کس دو ۔ پس اُنہوں نے اُس کے لیے گدھے پر زین کد دیا او وہ اُس پر سوار ہُوا۔
۱۴ اور اُس مردِ خُدا کے پیچھے چلا اور اُسے بلوط کے ایک درخت کے نیچے بیٹھے پایا ۔ تب اُس نے اُس سے کہا کیا تُو وہی مردِ خُدا ہے جو یہوداہ سے آیا تھا ؟ اُس نے کہا ہاں ۔
۱۵ تب اُس نے اُس سے کہا میرے ساتھ گھر چل اور روٹی کھا ۔
۱۶ اُس نے کہا میں تیر ے ساتھ لَوٹ نہیں سکتا اور نہ تیرے گھر جا سکتا ہوں اور میں تیرے ساتھ اِس جگہ نہ روٹی کھاوں نہ پانی پیوں ۔
۱۷ کیونکہ خُداوند کا مُجھ کو یوں حُکم ہُوا ہے کہ تُو وہاں نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا اور نہ اُس راستہ سے ہو کر لَوٹنا جس سے تُو جائے۔
۱۸ تب اُس نے اُس سے کہا مَیں بھی تیری طرح نبی ہوں اور خُداوند کے حکم سے ایک فرشتہ نے مُجھ سے کہا کہ اُسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لَوٹا کر لے آ تاکہ وہ روٹی کھائے اور پانی پیے لیکن اُس نے اُس سے جھوٹ کہا ۔
۱۹ سو وہ اُسکے ساتھ لَوٹ گیا اور ُس کے گھر میں روٹی کھائی اور پانی پیا ۔
۲۰ اور جب وہ دسترخوان پر بیٹھے تھے تو خُداوند کا کلام اُس نبی پر جو اُسے لَوٹا لایا تھا نازل ہوا ۔
۲۱ اور اُس نے اُس مردِ خُدا سے جو یہوداہ سے آیا تھا چلا کر کہا خُداوند یوں فرماتا ہے اِس لیے کہ تُو نے خُداوند کے کلام سے نافرمانی کی اور اُس حکم کو نہیں مانا جو خُداوند تیرے خُدا نے تُجھے دیا تھا ۔
۲۲ بلکہ تُو لَوٹ آیا اور تُو نے اُسی جگہ جسکی بابت خُداوند نے تُجھے فرمایا تھا کہ نہ روٹی کھانا ن پانی پینا روٹی بھی کھائی اور پانی بھی پیا سو تیری لاش تیرے باپ دادا کی قبر تک نہیں پہنچے گی ۔
۲۳ اور جب وہ روٹی کھا چُکا اور پانی پی چُکا تو اُس نے اُس کے لیے یعنی اُس نبی کے لیے جسے وہ لَوٹا لایا تھا گدھے پر زین کس دیا ۔
۲۴ اور جب وہ روانہ ہُوا تو راہ میں اُسے ایک شیر مِلا جس نے اُسے مار ڈالا سو اُس کی لاش راہ میں پڑی رہی اور گدھا اُس کے پس کھڑا رہا اور شیر بھی اُس کی لاش کے پاس کھڑا رہا ۔
۲۵ اور لوگ اُدھر سے گذرے اور دیکھا کہ لاش راہ میں پڑی ہے تو شیر لاش کے پاس کھڑا ہے ۔ سو اُنہوں نے اُس شہر میں جہاں وہ بُڈھا نبی رہتا تھا یہ بتایا ۔
۲۶ اور جب اُس نبی نے جو اُسے راہ سے لَوٹا لایا تھا یہ سُنا تو کہا یہ وہی مردِ خُدا ہے جس نے خداوند کے کلام کی نافرمانی کی اِسی لیے خُداوند نے اُسکو شیر کے حوالہ کر دیا اور اُس نے خُداوند کے اُس سُخن کے مطابق جو اُس نے اُس سے کہا تھا اُسے پھاڑا اور مار ڈالا ۔
۲۷ پھر اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے گدھے پر زین کس دو ۔ سو اُنہوں نے زین کس دیا ۔
۲۸ تب وہ گیا اور اُس نے اُس کی لاش راہ میں پڑی ہوئی اور گدھے اور شیر کو لاچ کے پاس کھڑے پایا کیونکہ شیر نہ لاش کو کھایا اور نہ گدھے کو پھاڑا تھا ۔
۲۹ سو اُس نبی نے اُس مدرِ خُدا کی لاش اُٹھا کر اُسے گدھے پر رکھا اور لے آیا اور وہ بُڈھا نبی اُس پر ماتم کرنے اور اُسے دفن کرنے کو اپنے شہر میں آیا ۔
۳۰ اور اُس نے اُسکی لاش کو اپنی قبر میں رکھا اور اُنہوں نے اُس پر ماتم کیا اور کہا ہائے میرے بھائی !۔
۳۱ اور جب وہ اُسے دفن کر چُکا تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جب میں مر جاوں تو مُجھ کو اُسی قبر میں دفن کرنا جس میں یہ مردِ خُدا دفن ہوا ہے ۔ میری ہڈیاں اُسکی ہڈیوں کے برابر رکھنا ۔
۳۲ اِس لیے کہ وہ بات جو اُس نے خُداوند کے حکم سے بیت ایل کے مذبح کے خلاف اور اُن سب اونچے مقاموں کے گھروں کے خلاف جو سامریہ کے قصبوں میں ہیں کہی ہے ضرور پوری ہو گی ۔
۳۳ اِس ماجرا کے بعد یُربعام اپنی بُری راہ سے باز نہ آیا بلکہ اُس نے عوام میں سے اونچے مقاموں کے کاہن ٹھہرائے ۔ جس کسی نے چاہا اُسے اُس نے مخصوص کیا تاکہ اونچے مقاموں کے لیے کاہن ہوں ۔
۳۴ اور یہ فعل یُربعام کے گھرانے کے لیے اُسے کاٹ ڈالنے اور اُسے روی زمین پر سے نیست و نابود کرنے کے لیے گناہ ٹھہرا۔