۱سلاطِین ۴

ج۔ سلیمان کے منتظمین (‏۴:‏ ۱۔۱۹)‏

۴:‏ ۱۔۶ اِن آیات میں سلیمان کے اعلیٰ عہدے داروں یا کابینہ کی فہرست دی گئی ہے۔ عزریاہ جو صدوق کا پوتا تھا‏، اُس کی جگہ سردار کاہن بنا۔ الیحورف اور اخیاہ منشی تھے۔ یہوسفط مورِخ تھا۔ بنایاہ فوجوں کا سپہ سالار تھا۔ صدوق اور ابیاتر کاہن تھے۔ عزریاہ منصب داروں کا سردار تھا۔ زبود بادشاہ کا دوست تھا۔ اخیسر محل کا دیوان تھا۔ ادو نرام بیگار کا منصرِم تھا۔ آیت ۴ میں مذکور نام ’’ابیاتر‘‘ سے ایک مشکل پیش آتی ہے کہ اگر یہ وہی شخص ہے جسے سلیمان نے ۲:‏۲۷ میں معزول کر دیا تو ممکن ہے کہ اُسے اِس دَور کے بعد معزول کیا گیا ہو۔ یا شاید ابھی تک کہانت کا خطاب تھا گو وہ کہانتی اُمور اب سرانجام نہیں دے رہا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کوئی اَور ابیاتر ہو (‏دیکھیں ۲۔سموئیل ۸:‏ ۱۵۔۱۸)‏۔ میتھیو پُول (‏Matthew Poole)‏ اِس کی یوں تشریح کرتا ہے:‏

’’بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں سلیمان کے تمام اعلیٰ عہدے داروں کا ذِکر ہے‏، وہ جو اُس وقت موجود تھے‏، وہ جو اُس وقت سے پہلے تھے اور جو بعد میں فائز کئے گئے۔ وہ اِس رائے کو آیت ۱۱ اور ۱۵ سے قائم کرتے ہیں جہاں دو ایسے اشخاص کا ذکر ہے جنہوں نے سلیمان کی دو بیٹیوں سے شادی کی‏، جو اِس وقت کے بہت سال بعد کی گئی۔ ‘‘

۴:‏ ۷۔۱۹ سلیمان نے اِسرائیل کے ملک کو بارہ اضلاع میں تقسیم کیا اور ہر ایک ضلع پر ایک ایک منصب دار مقرر کیا جو لوگوں سے رسد اکٹھی کرتا تھا۔ ہر ایک علاقے کے منصب دار کو سال میں مہینہ بھر رسد پہنچانی پڑتی تھی۔ یہوداہ کا یہاں ذکر نہیں ہے۔ 

د۔ سلیمان کی شان و شوکت (‏۴:‏ ۲۰۔۳۴)‏

۴:‏ ۲۰‏،۲۱ سلیمان کی حکمرانی میں سلطنت دریائے فرات سے فلستیوں کے ملک تک اور مصر کی سرحد تک وسیع ہو گئی (‏آیات ۲۱‏،۲۴)‏۔ اِس علاقے کا بیشتر حصہ اُن مملکتوں پر مشتمل تھا جو سلیمان کے باج گزار تھے‏، لیکن اِسرائیل کا حصہ نہیں تھے۔ چنانچہ سلیمان کی سلطنت فلستینی عہد کی پوری تکمیل نہیں تھی (‏پیدائش ۱۵:‏ ۱۸۔۲۱)‏۔

۴:‏ ۲۲۔۲۸ سلیمان کی شاہانہ حشمت کو بیان کیا گیا ہے:‏ بہت زیادہ رسد‏، اور اُس کے ہزارہا گھوڑے وغیرہ۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِتنے کھلے اخراجات کے لئے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کرنا تھا۔ سلیمان کا اِس قدر گھوڑے اکٹھے کرنا خدا کے حکم کی خلاف ورزی تھی (‏اِستثنا ۱۷:‏۱۶)‏ (‏آیت ۲۶ اور ۲۔سلاطین ۹:‏۵ میں بظاہر تضاد کے لئے اُس باب پر تفسیر ملاحظہ فرمائیے)‏۔

۴:‏ ۲۹۔۳۴ پھر بادشاہ کی حکمت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ سب آدمیوں سے زیادہ دانش مند تھا۔ آیت ۳۱ میں مذکور دانش ور اشخاص زارح کے بیٹے تھے (‏۱۔تواریخ ۲:‏۶)‏۔ ایتان زبور ۸۹ کا مصنف تھا۔ ہیمان نے زبور ۸۸ لکھا۔ ہمیں دوسرے اشخاص کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ سلیمان نے تین ہزار مثلیں کہیں جن میں سے کچھ حصہ اَمثال کی کتاب میں محفوظ ہے۔ اُس نے ایک ہزار پانچ گیت لکھے۔ غزل الغزلات اِن سب میں سے بہترین ہے۔ آیت ۳۳ کا مطلب ہے کہ اُسے بہت سے علوم کا پتا تھا اور کائنات میں سے تشبیہات کے ساتھ اُس نے اپنی حکمت کو واضح طور پر بیان کیا۔ لوگ اُس کی باتیں سننے کے لئے دُور دُور سے آتے تھے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور سُلیمان بادشاہ تمام اسرائیل کا بادشاہ تھا ۔
۲ اور جو سردار اُس کے پاس تھے سو یہ تھے ۔ صدوق کا بیٹا عزریاہ کاہن ۔
۳ اورسیسہ کے بیٹے الیحورف اور اخیاہ مُنشی تھے اور اخِیلُود کا بیٹا یہوُسفط مُورخ تھا۔
۴ اور یہویدع کا بیٹا بنایاہ لشکر کا سردار اور صدوق اور ابیاتر کاہن تھے ۔
۵ اور ناتن کا بیٹا عزریاہ منصبداروں کا دروغہ تھا اور ناتن کا بیٹا زبور کاہن اور بادشاہ کا دوست تھا ۔
۶ اور اِخیسر محل کا دیوان اور عبدا کا بیٹا ادونرام بیگار کا مۃنصرم تھا
۷ اور سلیمان نے سب اسرائیل پر بارہ منصبدار مُقرر کیے جو بادشاہ اور اُس کے گھرانے کے لیے رسد پہنچاتے تھے ۔ ہر ایک کو سال میں مہینہ بھر رسد پُہنچانی پڑتی تھی۔
۸ اُنکے نام یہ ہیں ۔ افرائیم کے کوہستانی مُلک میں بنِ حُور۔
۹ اور مُقص اور سعلبیم اور بیت شمس اور الیون بیت حنان میں بِن دِقر۔
۱۰ قور اربوت میں بنِ حصد تھا اور شو کہ اور حفر کی ساری سرزمین اُس کے علاقہ میں تھی ۔
۱۱ اور دور کے سارے مُرتفو علاقہ میں بن ابینداب تھا اور سلیمان کی بیٹی طافت اُسکی بیوی تھی۔
۱۲ اور اخیلود کا بیٹا بعنہ تھا جسکے سُپرد تعناک اور مُجدو اور سارا بیت شان تھا جو ضرتان سے مُتصل اور یزرعیل کے نیچے بیت شان سے ابیل محولپ تک یعنی یُقمعام سے اُدھر تک تھا ۔
۱۳ اور بنِ جبررامات جلعاد میں تھا اور منسی کے بیٹے یایرّ کی بستیاں جو جلعاد میں ہیں اُسکے سپرد تھیں اور بسن میں ارجوب کا علاقہ بھی اِسی کے سپرد تھا جس میں ساتھ بڑے شہر تھے جنکی شہر پناہیں اور پیتل کے بینڈے تھے۔
۱۴ اور عِدُو کا بیٹا اخِینداب مُحنایم میں تھا ۔
۱۵ اور اِخیمعض نفتالی میں تھا اُس نے بھی سُلیمان کی بیٹی بسِمت کو بیاہ لیا تھا۔
۱۶ اور حُوسی کا بیٹا بعنہ آژر اور علوت میں تھا
۱۷ اور فُروع کا بیٹا یہوسفط اِشکار میں تھا۔
۱۸ اور ایلہ کا بیٹا سِمعی بِنیمین میں تھا ۔
۱۹ اور اُوری کا بیٹا جبر جلعاد کےعلاقہ میں تھا جو اموریوں کے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج کا مُلک تھا ۔ اُس مُلک کا وہی اکیلا منصبدار تھا ۔
۲۰ اور یہوداہ اور اسرائیل کے لوگ کثرت میں سُمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خُوش رہتے تھے۔
۲۱ اور سلیمان دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک تک اور مصر کی سرحد تک سب مملکتوں پر حُکمران تھا ۔ وہ اُس کے لیے لدئے لاتی تھیں اور سُلیمان کی عمر بھر اُسکی مُطیع رہیں ۔
۲۲ اور سُلیمان کی ایک دن کی رسد یہ تھی تیِس کور میدہ اور ساٹھ کور آٹا ۔
۲۳ اور دس موٹے موٹے بیل اور چرائی پو کے بیس بیل ۔ ایک سو بھیڑیں اور اِنکے علاوہ چکارے اور ہرن اور چھوٹے ہرن اور موٹے تازہ مُرغ۔
۲۴ کیونکہ وہ دریایِ فرات کی اِس طرف کے سب مُلک پر تفسح سے غزہ تک یعنی سب بادشاہوں پر جو دریایِ فرات کی اِس طرف تھے فرمانروا تھا اور اُس کے چوگرد سب اطراف میں سب سے اُسکی صلح تھی ۔
۲۵ اور سلیمان کی عمر بھر یہوُداہ اور اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے دان سے بیر سبع تک امن سے رہتا تھا ۔
۲۶ اور سُلیمان کے ہاں اُسکے رتھوں کے لیے چالیس ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے۔
۲۷ اور اُن منصبداروں میں سے ہر ایک اپنے مہینہ میں سُلیمان بادشاہ کے لیے اور اُن سب کے لیے جو سُلیمان بادشاپ کے دسترخوان پر آتے تھے رسد پُہنچاتا تھا ۔ وہ کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیتے تھے ۔
۲۸ اور لوگ اپنے اپنے فرض کے مُطابق گھوڑوں اور تیز رفتار سمندروں کے لیے جَو اور بھُوسا اُسی جگہ لے آتے تھے جہاں وہ منصبدار ہوتے تھے۔
۲۹ اور خُدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیاد ہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سُمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے ۔
۳۰ اور سُلیمان کی حکمت سب اہلِ مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی ۔
۳۱ اِسلیے کہ وہ سب آدمیوں سے بلکہ ازراخی ایتان اور ہیمان اور کل کُول اور دردع سے جو بنی مُحول تھے زیادہ دانشمند تھا اور چوگرد کی سب قوموں میں اُس کی شہرت تھی ۔
۳۲ اور اُس نے تین ہزار مثِلیں کہیں اور اُسکے ایک ہزار پانچ گیت تھے ۔
۳۳ اور اُس نے درختوں کا یعنی لُبنان کے دیودار سے لیکر زُوفا تک کا جو دیوراروں پراُگتا ہے بیان کیا اور چوپایوں اور پرندوں اور رینگنے والے جانداروں اور مچھلیوں کا بھی بیان کیا ۔
۳۴ اور سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اُسکی حکمت سُنی تھی لوگ سلیمان کی حکمت سُننے کو آتے تھے ۔