(۹) اخی اَب کی ارام پر پہلی فتح (۲۰: ۱۔۲۲)
۲۰: ۱۔۶ بن ہدد کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ وہ ۱۵: ۱۸،۲۰ میں مذکور بن ہدد کا بیٹا ہے۔ لیکن مابعد تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ یہ وہی بن ہدد ہے۔ اُس نے ۳۲ ارامی بادشاہوں کے ساتھ اِتحاد کر کے رتھوں اور گھوڑوں سے سامریہ پر چڑھائی کی۔ جب شہر کا محاصرہ ہو گیا تو اُس نے اخی اَب کو شرائطِ اطاعت بھیجیں ’’تیری چاندی اور تیرا سونا میرا ہے۔ تیری بیویوں اور تیرے لڑکوں میں جو سب سے خوبصورت ہیں میرے ہیں۔‘‘ اخی اَب بڑی ناچاری اور بے بسی کی حالت میں متفق ہو گیا۔ بن ہدد اخی اَب کے ساتھ پہلی شرطِ اطاعت سے مطمئن نہ ہوا اِس لئے بعد ازاں اُس نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اُس کے خادموں کو داخل ہونے کا حق دے اور وہ جو چاہیں لے لیں۔
۲۰: ۷۔۱۲ اِسرائیل کے بزرگ اِس دوسرے مطالبے سے ناخوش تھے لہٰذا تاکید کی کہ اِسے نامنظور کیا جائے۔ جب بن ہدد کو اِسرائیل کے اِنکار کی اِطلاع ملی تو اُس نے غصے میں بڑے تکبر سے کہا کہ وہ سامریہ کو اِس حد تک کنگال کر دے گا کہ اُس کے سپاہیوں میں سے ہر ایک کے لئے مُٹھی بھر خاک بھی نہیں بچے گی۔ اِس کا اَخی اَب نے یہ جواب دیا کہ جب ایک سپاہی ہتھیار پہن لیتا ہے تو اُسے یہ فخر نہیں کرنا چاہئے کہ جیسے فتح حاصل ہو چکی ہو۔ اِس طعنے نے شرابی ارامیوں اور اُس کے اِتحادیوں کو جنگ کی تحریک دی۔
۲۰: ۱۳۔۱۵ اِس موقعے پر خداوند کے ایک نبی نے اخی اَب کے پاس پہنچ کر اُسے فتح کا یقین دلایا۔ خدا نے دو سو بتیس سرداروں کی زیر قیادت، اِسرائیل کے سات ہزار مردوں کے ساتھ شمال سے آئی ہوئی ایک بہت بڑی فوج کو شکست دے دی۔ ’’سب بنی اِسرائیل‘‘ (۱۵ ب) کا مطلب ہے کہ سامریہ کے سب سپاہی۔ تھوڑے سے نوجوانوں کو چنا گیا کہ وہ جنگ شروع کریں تاکہ واضح ہو کہ فتح اِنسانی زورِ بازو سے نہیں بلکہ خداوند کی طرف سے ہے۔
۲۰: ۱۶۔۲۲ جب بِن ہدد اور اُس کے ساتھی نشے میں دُھت تھے تو اَخی اب نے دوپہر کے وقت حملہ کیا۔ جب بن ہدد نے سنا کہ اِسرائیل کے ۲۳۲ لوگ آگے بڑھ رہے ہیں تو اُس نے حکم دیا کہ اُنہیں زندہ پکڑ لیا جائے۔ جنگی نقطۂ نظر سے اِسرائیلیوں کو اِس کا فائدہ پہنچا اور اُنہوں نے بہت سے اِرامیوں کو ہلاک کر دیا۔ جو بچ گئے وہ اپنے ملک کو بھاگ گئے۔ پھر خداوند کے نبی نے اخی اَب کو آگاہ کیا کہ ارامی موسمِ بہار میں واپس آئیں گے۔
(۱۰) اخی اب کی ارام پر دوسری فتح (۲۰: ۲۳۔۳۴)
۲۰: ۲۳۔۲۵ بِن ہدد کے خادموں نے اپنی شرم ناک شکست کو دو عوامل سے تعبیر کیا:
- اِسرائیلیوں نے پہاڑی ملک میں جنگ جیتی، بلاشبہ اُن کا خدا پہاڑی خدا ہے۔ لیکن میدان میں وہ بے بس ہو جائیں گے۔ چنانچہ ارامیوں کو اُنہیں میدان میں جنگ لڑنے کے لئے مجبور کرنا چاہئے۔
- ۳۲ بادشاہ جنہوں نے اَخی اَب کے خلاف جنگ لڑی، اُنہوں نے دورانِ جنگ اپنی جنگی مہارت کو ثابت نہیں کیا۔ بن ہدد کے خادموں نے مشورہ دیا کہ اُن کی جگہ پیشہ ور اور ماہر سردار مقرر کئے جائیں۔
۲۰: ۲۶۔۳۰ الف موسمِ بہار میں بِن ہدد نے پھر اِسرائیل پر چڑھائی کی۔ ارامیوں کے لشکر کے مقابلے میں اِسرائیل کی فوج حلوانوں کے دو چھوٹے ریوڑوں کی طرح دِکھائی دیتی تھی۔ ایک مردِ خدا نے اَخی اب کو بتایا کہ خدا بن ہدد پر ظاہر کر دے گا کہ وہ نہ صرف پہاڑی خدا ہے بلکہ میدانی خدا بھی ہے۔ جنگ میں اِسرائیل نے ارامیوں کے ایک لاکھ پیادے ہلاک کر دیئے۔ لیکن جو ارامی بچ نکلے اُنہوں نے افیق کے شہر کی دیواروں پر پوزیشنیں سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن دیواریں گر گئیں اور بائیس ہزار لوگ مارے گئے۔
۲۰: ۳۰ ب۔۳۴ بن ہدد افیق کی ایک کوٹھری میں چھپ گیا۔ اُس کے خادموں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ اُنہیں اخی اَب کے پاس اطاعت اور ماتم کا لباس پہنے ہوئے جانے دے تاکہ وہ اُس سے رحم کی بھیک مانگیں۔ دورانِ گفتگو اَخی اب نے حماقت سے بن ہدد بادشاہ کو ’’بھائی‘‘ کہہ دیا اور ارامیوں نے فوری طور پر اِس لفظ کو پکڑا ’’ہاں! تیرا بھائی بن ہدد۔‘‘ پھر اخی اب نے حکم دیا کہ ارام کے بادشاہ کو اُس کے پاس لایا جائے۔ بن ہدد نے وعدہ کیا کہ وہ اُن شہروں کو واپس کر دے گا جو اخی اَب کے پیش رَو سے چھین لئے گئے تھے (۱۵:۲۰) اور اِسرائیل کو دمشق میں ’’سڑکیں‘‘ بنانے کی اِجازت دے گا یعنی بازار بنانے دے گا (آیت ۳۴)۔ اخی اب نے اِن شرائط پر بن ہدد کو چھوڑ دیا حالانکہ اُسے ہلاک کر دینا چاہئے تھا۔
(۱۱) اخی اَب کی نافرمانی (۲۰: ۳۵۔۴۳)
۲۰: ۳۵،۳۶ اخی اب چاہتا تھا کہ اِسرائیل اور اسور کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر ارام ایک مضبوط رکاوٹ بنے۔ اِس کے بعد کا واقعہ ایک ایسا سبق تھا جس سے نبی نے اپنے عمل سے سکھایا کہ اخی اَب نے احمقانہ حرکت کا اِرتکاب کیا۔
انبیا کے بیٹوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ اُسے ’’خداوند کے حکم سے‘‘ مارے۔ اُس شخص نے اُس کی نافرمانی کرتے ہوئے خداوند کی نافرمانی کی۔ چونکہ اُس نے خداوند کے کلام کی نافرمانی کی اِس لئے ایک شیر نے اُسے مار ڈالا۔
اگر ایک نیک نبی کو جس نے خدا کے کہنے کے برخلاف اپنے دوست کو بچانا چاہا ایسی سزا ملی تو ایک شریر بادشاہ کتنی سخت سزا کا مستحق ہو گا جس نے اپنے اور خدا کے دشمن کو چھوڑ دیا۔
۲۰: ۳۷۔۴۳ تب نبی کو ایک اَور آدمی ملا جس نے اُس کی بات مان کر اُسے مار کر زخمی کر دیا۔ پھر نبی نے اپنی آنکھوں پر پگڑی لپیٹ لی اور اپنا بھیس بدل کر اخی اب بادشاہ کا اِنتظار کرنے لگا۔ جب بادشاہ پاس سے گزر رہا تھا تو نبی نے بتایا کہ وہ جنگ میں گیا تھا، اور ایک قیدی کو اُس کے سپرد کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی اُسے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر قیدی فرار ہو گیا، تو یا تو اُسے اِس کی بجائے اپنی جان یا ایک قنطار چاندی دینی پڑے گی۔ بھیس بدلے ہوئے نبی نے بتایا کہ جب وہ اَور کاموں میں مصروف ہو گیا تو قیدی فرار ہو گیا۔ بادشاہ نے کسی طرح کی نرمی کا اِظہار نہ کیا بلکہ اِصرار کیا کہ سزا کی شرائط پر عمل کیا جائے۔ اُس نے اپنی پگڑی ہٹا لی اور اخی اب کو معلوم ہوا کہ وہ تو نبی ہے۔ اخی اب کے قبضے میں ایک دشمن قیدی بن ہدد تھا۔ خداوند سے فرماں برداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ارامی بادشاہ کو ہلاک کر دیا جاتا۔ اخی اَب کو اُس کی نافرمانی کی وجہ سے قتل کر دینا چاہئے۔ کیمبل مورگن (Campbell Morgan) یوں وضاحت کرتا ہے:
’’اِس تمثیل کا یہ مطلب تھا: اخی اب کو خدا کے حکم کے مطابق ایک کام کرنا تھا، اور جب کہ اُس نے دیگر بہت سے کام کئے، اُس نے ایک کام کو نظر انداز کر دیا۔ ہمیں خدا نے کوئی ایک ذمہ داری دی ہے، کوئی حتمی اور مرکزی کام کرنے کے لئے دیا ہے۔ ہم اچھی نیت سے اِسے شروع کرتے ہیں، اور پھر دوسرے کام شروع کر دیتے ہیں جو بذاتہٖ بُرے نہیں لیکن ہماری راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ہم ’’اِدھر اُدھر مصروف‘‘ ہو جاتے ہیں۔ ہم دیگر بہت سے کام کرتے ہیں، لیکن اپنے خاص کام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘‘
داؤد کی طرح اَخی اَب نے اپنی باتوں سے اپنے آپ کو مجرم ٹھہرا دیا۔ داؤد نے توبہ کر لی لیکن اخی اَب اُداس اور ناخوش ہو کر اپنے گھر کو چلا گیا۔ خداوند سے رحم کی التجا کرنے کے بجائے وہ مسلسل خدا کے غضب کو بھڑکاتا رہا۔ یہ کیفیت ۱۔سلاطین کے باقی ماندہ ابواب سے ظاہر ہوتی ہے۔
مقدس کتاب
۱ ۱۔ اور ارام کے بادشاہ بن ہدد نے اپنے سارے لشکر کو اکٹھا کیا اور اُسکے ساتھ بقیس بادشاہ اور گھوڑے اور رتھ تھے اور اُس نے سامریہ پر چڑھائی کر کے اُسکا محاصرہ کیا اور اُس سے لڑا۔
۲ اور اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کے پاس شہر میں قاصد روانہ کیے اور اُسے کہلا بھیجا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ ۔
۳ تیری چاندی اور تیرا سونا میرا ہے ۔ تیری بیویوں اور تیرے لڑکوں میں جو سب سے خوبصورت ہیں وہ میرے ہیں ۔
۴ اسرائیل کے بادشاہ نے جواب دیا اے میرے مالک بادشاہ ! تیرے کہنے کے مطابق میں اور جو کچھ میرے پاس ہے سب تیرا ہی ہے ۔
۵ پھراُن قاصدوں نے دوبارہ آکر کہا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ میں نے تُجھے کہلا بھیجا تھا کہ تُو اپنی چاندی اور سونا اور اپنی بیویاں اور اپنے لڑکے میرے حوالے کر دے ۔
۶ لیکن اب میں کل اِسی وقت اپنے خادموں کو تیرے پاس بھیجوں گا ۔ سو وہ تیرے گھر اور تیرے خادموں کے گھروں کی تلاشی لیں گے اور جو کچھ تیری نگاہ میں نفیس ہو گا وہ اُسے اپنے قبضہ میں کر لے آئیں گے ۔
۷ تب اسرائیل کے بادشاہ نے مُلک کے سب بزرگوں کو بُلا کر کہا ذرا غور کرو اور دیکھو کہ یہ شخص کس طرح شرارت کے در پے ہے کیونکہ اُس نے میری بیویاں اور میرے لڑکے اور میری چاندی اور میرا سونا مجھ سے منگا بھیجا اور میںنے اُس سے انکار نہیں کیا ۔
۸ تب سب بزرگوں اور سب لوگوں نے اُس سے کہا تُو مت سُن اور مت مان ۔
۹ پس اُس نے بن ہدد کے قاصدوں سے کہا میرے مالک بادشاہ سے کہنا ھو کچھ تُو نے اپنے خادم سے پہلے طلب کیا وہ تو میں کرونگا پر یہ بات مُجھ سے نہیں ہو سکتی ۔ سو قاصد روانہ ہوئے اور اُسے یہ جواب سُنا دیا ۔
۱۰ تب بن ہدد نے اُسکو کہلا بھیجا کہ اگر سامریہ کی مٹی اُن سب لوگوں کے لیے جو میرے پیرو ہیں مُٹھیاں بھرنے کو بھی کافی ہو تو دیوتا مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کریں !۔
۱۱ شاہِ اسرائیل نے جواب دیا تُم اُس سے کہناکہ جو ہتھیار باندھتا ہے وہ اُسکی مانند فخر نہ کرے جو اُسے اُتارتا ہے ۔
۱۲ جب بن ہدد نے جو بادشاہوں کے ساتھ سایبانوں میں مَے نوشی کر رہا تھا یہ پیغام سُنا تو اپنے مُلازموں کو حکم کیا کہ صف باندھ لو۔ سو اُنہوں نے شہر پر چڑھائی کرنے کے لیے صف آرائی کی ۔
۱۳ اور دیکھو ایک نبی نے شاہِ اسرائیل اخی اب کے پاس آکر کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے اِس بڑے ہجوم کو دیکھ لیا ؟ میں آج ہی اُسے تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُو جان لے گا کہ خُداوند میں ہی ہوں ۔
۱۴ اُس نے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کے وسیلہ سے ۔ پھر اُس نے پوچھا کہ لڑائی کون شروع کرے ؟ اُس نے جواب دیا کہ تُو ۔
۱۵ تب اُس نے صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کوشمار کیا اور وہ دو سو بتیس نکلے ۔ اُنکے بعد اُس نے سب لوگوں یعنی سب بنی اسرائیل کی موجودات لی اور وہ سات ہزار تھے۔
۱۶ یہ سب دوپہر کو نکلے اور بن ہدد اور بتیس باداہ جو اُسکے مددگار تھے سایبانوں میں پی پی کر مست ہوتے جاتے تھے ۔
۱۷ سو صوبوں کے سرداروں کے جوا ن پہلے نکلے اور بن ہدد نے آدمی بھیجے اور اُنہوں نے اُسے خبر دی کہ سامریہ سے لوگ نکلے ہیں۔
۱۸ اُس نے کہااگر وہ صلح کے لیے نکلے ہوں تو اُن کو جیتا پکڑ لو اور اگر وہ جنگ کو نکلے ہوں تو بھی اُنکو جیتا پکڑو ۔
۱۹ تب صوبوں کے سرداروں کے جوان اور وہ لشکر جو اُنکے پیچھے ہو لیا تھا شہر سے باہر نکلے ۔
۲۰ اور اُن میں سے ایک ایک نے اپنے مُخالف کو قتل کیا ۔ سو ارامی بھاگے اور اسرائیل نے اُنکا پیچھا کیا اور شاہِ اِرام بن ہدد ایک گھوڑے پر سوار ہو کر سواروں کے ساتھ بھاگ کر بچ گیا ۔
۲۱ اور شاہِ اسرائیل نے نکل کر گھوڑوں اور رتھوں کو مارا اور ارامیوں کو بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا ۔
۲۲ اور وہ نبی شاہِ اسرائیل کے پاس آیا اور اُس سے کہا جا اپنے کو مضبوط کر اور جو کچھ تو کرے اُسے غورسے دیکھ لینا کیونکہ اگلے سال شاہِ ارام پھر تُجھ پر چڑھائی کرے گا۔
۲۳ اور شاہِ ارا م کے خادموں نے اُس سے کہا اُنکا خُدا پہاڑی خُدا ہے اِس لیے وہ ہم پر غالب آئے لیکن ہم کو اُنکے ساتھ میدان میں لڑنے دے تو ضرور ہم اُن پر غالب ہونگے ۔
۲۴ اور ایک کام یہ کر کہ بادشاہوں کو ہٹا دے یعنی ہر ایک کو اُسکے عہدہ سے معزول کر دے اور اُنکی جگہ سرداروں کو مقرر کر ۔
۲۵ اور اپنے لیے ایک لشکر اپنی اُس فوج کی طرح جو تباہ ہو گئی گھوڑے کی جگہ گھوڑا اور رتھ کی جگہ رتھ گِن گِن کر تیار کر لے اور ہم میدان میں اُن سے لڑیںگے اور ضرور اُن پر غالب ہونگے۔ سو اُس نے اُنکا کہا مانا اور ایسا ہی کیا ۔
۲۶ اور اگلے سال بن ہدد نے ارامیوں کی موجودات لی اور اسرائیل سے لڑنے کے لیے افیق کو گیا ۔
۲۷ اور بنی اسرائیل کی موجودات بھی لی گئی اور اُنکی رسد کا انتظام کیا گیا اور یہ اُن سے لڑنے کو گئے اور بنی اسرائیل اُنکے برابر خیمہ زن ہو کر ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے حلوانوں کے دو چھوٹے دیوڑ پر ارامیوں سے وہ مُلک بھر گیا تھا ۔
۲۸ تب ایک مردِ خدا اسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ چونکہ ارامیوں نے یوں کہا ہے کہ خداوند پہاڑی خُدا ہے اور وادیوں کا خُدا نہیں اِس لیے میں اِس سارے بڑے ہجوم کو تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُم جان لو گے کہ میں خداوند ہوں ۔
۲۹ اور وہ ایک دوسرے کے مقابل سات دن تک خیمہ زن رہے اور ساتویں دن جنگ چھڑ گئی اور بنی اسرائیل نے ایک دن میں ارامیوں کے ایک لاکھ پیادے قتل کر دیے ۔
۳۰ اور باقی افیق کو شہر کے اندر بھاگ گئے اور وہاں ایک دیوار ستائیس ہزار پر جو باقی رہے تھے گِری اور بن ہدد بھاگ کر شہر کے اندر ایک اندرونی کوٹھری میں گھُس گیا ۔
۳۱ اور اُسکے خادموں نے اُس سے کہا دیکھ ہم نے سُنا ہے کہ اسرائیل ے گھرانے کے بادشاہ رحیم ہوتے ہیں ۔ سو ہم کو ذرا اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھ کر شاہِ اسرائیل کے حضور جانے دے ۔ شاید وہ تیری جان بخشی کرے۔
۳۲ سو اُنہوں نے اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھیں اور شاہِ اسرائیل کے حضور آکر کہا کہ تیرا خادم بن ہدد یوں عرض کرتا ہے کہ مہربانی کر کے مجھے جینے دے ۔ اُس نے کہا کیا وہ اب تک جیتا ہے ؟ وہ میرا بھائی ہے ۔
۳۳ وہ لوگ بڑی توجہ سے سُن رہے تھے ۔ سو اُنہوں نے اُسکا دلی منشا دریافت کرنے کے لیے جھٹ اُس سے کہا کہ تبھائی بن ہدد ۔ تب اُس نے فرمایا کہ جاو اُسے لے آو ۔ تب بن ہدد اُس سے ملنے کو نکلا اور اُس نے اُسے اپنے رتھ پر چڑھا لیا ۔
۳۴ اور بن ہدد نے اُس سے کہا جن شہروں کو میرے باپ نے تیرے باپ سے لے لیا تھا میں اُنکو پھیر دونگا اور تُو اپنے لیے دمشق میں سڑکیں بنوا لینا جیسے میرے باپ نے سامریہ میں بنوائیں ۔ اخی اب نے کہا میں اِسی عہد پر تُجھے چھوڑ دونگا ۔ سو اُس نے اُس سے عہد باندھا اور اُسے چھوڑ دیا ۔
۳۵ سو انبیا زادوں میں سے ایک نے خُداوند کے حکم سے اپنے ساتھی سے کہا مُجھے مار پر اُس نے اُسے مارنے سے انکار کیا ۔
۳۶ تب اُس نے اُس سے کہا اِس لیے کہ تُو نے خداوند کی بات نہیں مانی سو دیکھ جیسے ہی تو میرے پاس سے روانہ ہو گا ایک شیر تُجھے مار ڈالے گا ۔ سو جیسے ہی وہ اُس کے پاس سے روانہ ہوا اُسے ایک شیر مِلا اور اُسے مار ڈالا ۔
۳۷ پھر اُسے ایک اور شخص مِلا ۔ اُس نے اُس سے کہا مجھے مار ۔ اُس نے اُسے مارا اور مار کر زخمی کر دیا ۔
۳۸ تب وہ نبی چلا گیا اور بادشاہ کے انتظار میں راستہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی آنکھوں پر اپنی پگڑی لپیٹ لی اور اپنا بھیس بدل ڈالا۔
۳۹ جیسے ہی بادشاہ اُدھر سے گُذرا اُس نے بادشاہ سے دُہائی دی اور کہا کہ تیرا خادم جنگ ہوتے میں وہاں چلا گیا تھا اور دیکھ ایک شخص اُدھر مُڑ کر ایک آدمی کو میرے پاس لے آیا اور کہا کہ اِ س آدمی کی حفاظت کر ۔ اگر یہ کسی طرح غائب ہو جائے تو اُسکی جان کے بدلے تیری جان جائے گی اور نہیں تو تُجھے ایک قنطا ر چاندی دینی پڑے گی۔
۴۰ جب تیرا خادم اِدھر اُدھر مصروف تھا وہ چلتا بنا شاہِ اسرائیل نے اُس سے کہا تُجھ پر ویسا ہی فتویٰ ہو گا تُو نے آپ اِس کا فیصلہ کیا ۔
۴۱ تب اُس نے جھٹ اپنی آنکھوں پر سے پگڑی ہٹا دی اور شاہِ اسرائیل نے اُسے پہچانا کہ وہ نبیوں میں سے ہے۔
۴۲ اور اُس نے اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے اِس لیے کہ تُو نے اپنے ہاتھ سے ایک ایسے شخص کو نکل جانے دیا جسے میں نے واجب القتل ٹھہرایا تھا ، سو تُجھے اُس کی جان کے بدلے اپنی جان اور اُس کے لوگوں کے بدلے اپنے لوگ دینے پڑیں گے ۔
۴۳ سو شاہِ اسرائیل اُداس اور نا خوش ہو کر اپنے گھر کو چلا اور سامریہ میں آٰیا ۔