۱سلاطِین ۷

(‏۳)‏ دیگر عمارتوں کی تعمیر (‏۷:‏۱۔۱۲)‏

۷:‏ ۱ اب سلیمان کے اپنے محل‏، دیگر شاہی عمارات اور شاہی عدالت کی تعمیر کا بیان شروع ہوتا ہے۔ 

سلیمان کا گھر یا شاہی محل ۱۳ سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ یہ ہیکل کے جنوب مشرق اور پاک ترین مقام کی دیوار کے عین باہر تعمیر کیا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سلیمان کے اپنے محل کی تعمیر میں ہیکل کی نسبت چھے سال زیادہ لگے۔ اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کو خدا کے جلال کی نسبت اپنی اَنا کا زیادہ خیال تھا۔ دوسری طرف سے یہ بھی ممکن ہے کہ ہیکل کی تعمیر میں اِس لئے صرف سات سال لگے کہ اُس نے ہزارہا مزدور لگائے تاکہ جلدی کام ختم ہو جائے۔ 

۷:‏ ۲۔۱۲ لبنان کے بَن کی لکڑی کا محل (‏آیات ۲۔۵)‏ عدالتِ عظمیٰ کے برآمدے کے جنوبی حصے میں تھا۔ اِس کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اِس میں دیودار کے متعدد ستون تھے۔ ہمیں حتمی طور پر معلوم نہیں کہ یہ عمارت کس کام میں لائی جاتی تھی‏، لیکن ہم ۱۔سلاطین ۲۰:‏۱۷ سے اخذ کرتے ہیں کہ یہ اسلحہ خانہ تھا۔ لبنان کے بَن کی لکڑی کے محل کے عین ساتھ ہی شمال میں ستونوں کا برآمدہ تھا (‏آیت ۶)‏۔ یہ غالباً عدالت کے برآمدے اور تخت گاہ کا مدخل تھا (‏آیت ۷)‏۔ شاہی محل کے ساتھ ہی فرعون کی بیٹی کا گھر تھا‏، جہاں عین ممکن ہے کہ حرمیں رہتی تھیں (‏آیت ۸)‏۔ تمام عمارت قیمتی پتھروں سے بنائی گئی تھی جو ناپ کے مطابق کاٹے گئے تھے۔ بڑے صحن کے گردا گرد دیوار پتھروں کی تین قطاروں سے بنی تھی اور اِسے دیودار کے شہتیروں سے ڈھانپا گیا تھا۔ 

لبنان کے بَن کی لکڑی کا محل‏، ستونوں کا برآمدہ‏، تخت کا برآمدہ (‏عدالت کا برآمدہ)‏ یہ سب محل کا حصہ تھے۔ فرعون کی بیٹی کے محل کا برآمدہ شاہی رہائش گاہ سے ملحق تھا۔ 

(‏۴)‏ ہیکل کا ساز و سامان (‏۷:‏ ۱۳۔۵۱)‏

۷:‏ ۱۳‏،۱۴ حیرام وہ حیرام نہیں جو صور کا بادشاہ تھا۔ یہ یہودی نژاد ایک بہت اچھا کاری گر تھا جو صور میں رہتا تھا۔ 

۷:‏ ۱۵۔۲۲ اِس کے بعد پیتل کے دو بڑے ستونوں کا ذکر ہے جو ہیکل کے مدخل پر بنائے گئے تھے۔ ایک کا نام یاکن (‏وہ قائم کرے گا)‏ اور دوسرے کا بوعز (‏اُس میں قوت ہے)‏ تھا۔ ہر ایک ستون کے اُوپر کمان نما تاج تھا‏، جو بہت زیادہ مزین تھا۔ گو اِن ستونوں کی ساخت کی تفصیلات دی گئی ہیں‏، لیکن ہمیں اِن کی روحانی اہمیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ کسی نے یہ نہایت ہی خوبصورت خیال پیش کیا ہے کہ دَورِ حاضر میں خدا کی زندہ ہیکل کے ستون پاکیزہ کردار کے ایمان دار ہیں (‏گلتیوں ۲:‏۹)‏۔ مکاشفہ ۳:‏۱۲ میں خدا غالب آنے والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ اُنہیں اپنے آسمانی مقدِس میں ستون بنائے گا جو ابد تک قائم رہیں گے۔ 

۷:‏ ۲۳۔۲۶ ڈھالے ہوئے پیتل کا حوض اندرونی صحن میں ایک بہت بڑا حوض تھا جسے پیتل کے بارہ بیل اُٹھائے ہوئے تھے۔ یہ حوض ہیکل اور مذبح کے درمیان میں جنوب کی طرف تھا (‏۲۔تواریخ ۴:‏۱۰)‏۔ اِس میں کاہنوں کے لئے ہاتھ پاؤں دھونے کے لئے پانی رکھا جاتا تھا۔ 

۷:‏ ۲۷۔۳۹ بڑے حوض کے علاوہ وہاں دس چھوٹے حوض بھی تھے جن میں سے ہر ایک چار پہیوں والے سٹینڈ پر رکھا تھا۔ ۸:‏۶۴ تک پیتل کے مذبح کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ یہ بھی اندرونی صحن میں تھا۔

۷:‏ ۴۰۔۴۷ حیرام نے ہیکل سے متعلق ڈھالے ہوئے پیتل کے سارے کام کی نگرانی کی‏، جس میں دیگیں‏، بیلچے اور ہیکل کے برتن شامل تھے۔ پیتل کی چیزیں مٹی میں ڈھالی جاتی تھیں (‏آیت ۴۶)‏۔

۷:‏ ۴۸۔۵۰ پاک مقام کے سامان میں بخور کی سونے کی قربان گاہ‏، سونے کی میز‏، نذر کی روٹی کے لئے سونے کی دس میزیں (‏۲۔تواریخ ۴:‏۸)‏‏، خالص سونے کے دس سنہری شمع دان اور سونے کے برتن شامل ہیں۔ 

۷:‏ ۵۱ داؤد نے ہیکل کے لئے بہت زیادہ تیاری کی تھی‏، لیکن اُسے اُس کو تعمیر کرنے کی اِجازت نہ دی گئی۔ سلیمان نے اِن خزانوں کو ہیکل میں لا کر اِنہیں محفوظ کیا۔ 

اِس باب اور ۲۔تواریخ ۲۔۴ ابواب میں بظاہر اِختلافات پر ۲۔تواریخ کی تفسیر میں بحث کی گئی ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ ۔ اور سُلیمان تیرہ برس اپنے محل کی تعمیرمیں لگا رہا اور اپنے محل کو ختم کیا ۔
۲ کیونکہ اُس نے اپنا محل لُبنان کے بن کی لکڑی کا بنایا ۔ اُسکی لمبائی سَو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ اور اُونچائی تیس ہاتھ تھی اور وہ دیودار کے سُتونوں کی چار قطاروں پر بنا تھا اور سُتونوں پر دیوار کے شہتیر تھے۔
۳ اور وہ پینتالیس شہتیروں کے اوپر جو سُتونوں پر ٹِکے تھے پاٹ دیا گیا تھا ۔ ہر قطار میں پندرہ شہتیر تھے۔
۴ اور کِھڑکیوں کی تین قطاریں تھیں اور تینوں قطاروں میں ہر ایک روزن دُوسرے روزن کے مقابل تھا ۔
۵ اور سب دروازے اور چوکھٹیں مُربع شکل کی تھیں اور تینوں قطاروں میں ہر ایک روزن دُوسرے کے مقابل تھا ۔
۶ اور اُس نے سُتونوں کا برآمدہ بنایا ۔ اُسکی لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی تیس ہاتھ اوراِنکے سامنے ایک ڈیوڑھی تھی اور اِنکے آگے سُتون اور موٹے موٹے شہتیر تھے۔
۷ اور اُس نے تخت کے لیے ایک برآمدہ یعنی عدالت کا برآمدہ بنایا جہاں وہ عدالت کر سکے اور فرش سے فرش تک اُسے دیودار سے پاٹ دیا ۔
۸ اور اُسکے رہنے کا محل جو اُسی برآمدہ کے اندر دوسرے صحن میں تھا ایسے ہی کام کا بنا ہُوا تھا اور سُلیمان نے فرعون کی بیٹی کے لیے جسے اُس نے بیاہا تھا اُسی برآمدہ کے ڈھب کا ایک محل بنایا ۔
۹ یہ سب اندر اور باہر بُنیاد سے مُنڈیر تک بیش قیمت پتھروں یعنی تراشے ہوئے پتھروں کے بنے وئے تھے جو ناپ کے مطابق اروں سے چیرے گئے تھے اور ایسا ہی باہر باہر بڑے صحن تک تھا ۔
۱۰ اور بُنیاد بیش قیمت پتھروں یعنی بڑے بڑے پتھروں کی تھی ۔ یہ پتھر دس دس ہاتھ اور آٹھ آٹھ ہاتھ کے تھے ۔
۱۱ اور اوپر ناپ کے مطابق بیش قیمت پتھر یعنی گھڑے ہوئے پتھر اور دیودار کی لکڑی لگی ہوئی تھی ۔
۱۲ اور بڑے صحن میں گِردا گِرد گھڑے ہوئے پتھروں کی تین قطاریں اور دیودار کے شہتیروں کی ایک قطار ویسی ہی تھی جیسی خُداوند کے گھر کے اندرونی صحن اور اُس گھر کے برآمدہ میں تھی۔
۱۳ پھر سُلیمان بادشاہ نے صور سے حیران کو بُلوا لیا۔
۱۴ وہ نفتالی کے قبیلہ کی ایک بیوہ کا بیٹا تھا اور اُس کا باپ صور کا باشندہ تھا اور ٹھٹھیرا تھا اور وہ پیتل کے سب کام کی کاریگری میں حکمت اور سمجھ اور مہارت رکھتا تھا ۔ سو اُس نے سُلیمان بادشاہ کے پاس آکر اُسکا سب کام بنایا۔
۱۵ کیونکہ اُس نے اٹھارہ اٹھارہ ہاتھ اونچے پیتل کے دو سُتون بنائے اور ایک ایک کا گھیر بارہ ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا ۔
۱۶ اور اُس نے سُتونوں کی چوٹیوں پر رکھنے کے لیے پیتل ڈھال کر دو تاج بنائے۔ ایک تاج کی اُونچائی پانچ ہاتھ اور دوسرے تاج کی اُونچائی بھی پانچ ہاتھ تھی ۔
۱۷ اور اُن تاجوں کے لیے جو سُتونوں کی چوٹیوں پر تھے چار خانے کی جالیاں اور زنجیر نُما ہار تھے ۔ سات ایک تاج کے لیے اور سات دوسرے تاج کے لیے ۔
۱۸ سو اُس نے وہ سُتون بنائے اور سُتونوں کی چوٹی کے اوپر کے تاجوں کو ڈھانکنے کے لیے ایک جالی کے کام پر گِردا گِرد دو قطاریں تھیں اور دوسرے تاج کے لیے بھی اُس نے ایسا ہی کیا ۔
۱۹ اور اُن چار چار ہاتھ کے تاجوں پر جو برآمدہ کے سُتونوں کی چوٹی پر تھے سوسن کا کام تھا ۔
۲۰ اور اُن دونوں سُتونوں پر اوپر کی طرف بھی جالی کے برابر کی گولائی کے پاس تاج بنے تھے اور اُس دوسرے تاج پر قطار در قطار گِردا گِرد دو سو انار تھے ۔
۲۱ اور اُس نے ہیکل کے برآمدہ میں وہ سُتون کھڑے کئے اور اُس نے دہنے سُتون کو کھڑا کر کے اُُسکا نام یاکن رکھا اور بائیں سُتون کو کھڑا کر کے اُسکا نام بوعز رکھا۔
۲۲ اور سُتونوں کی چوٹی پر سوسن کا کام تھا ۔ یون سُتونوں کا کام ختم ہُوا۔
۲۳ پھر اُس نے ڈھالا ہُوا ایک بڑا حوض بنایا ۔ وہ ایک کنارے سے دُوسرے کنارے تک دس ہاتھ تھا ۔ وہ گول تھا اور بُلندی اُسکی پانچ ہاتھ تھی اور اُسکا گھیر گِردا گِرد تیس ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا ۔
۲۴ اور اُس کے کنارے کے نیچے گِردا گِرد دسوں ہاتھ لُٹو تھے جو اُسے یعنی بڑے حوض کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ لٹو دو قطاروں میں تھے اور جب وہ ڈھالا گیا تب ہی یہ بھی ڈھالے گئے تھے۔
۲۵ اور وہ بارہ بیلوں پر رکھا گیا ۔ تین کے منہ شمال کی طرف اور تین کے منہ مغرب کی طرف اور تین کے مُنہ جنوب کی طرف اور تین کے منہ مشرق کی طرف تھے اور وہ بڑا حوض اُن ہی پر اوپر کی طرف تھا اور اُن سبھوں کا پچھلا دھڑ اندر کے رُخ تھا۔
۲۶ اور دل اُسکا چار اُنگل تھااور اُسکا کنارہ پیالہ کے کنارہ کی طرح گُل سوسن کی مانند تھا اور اُس میں دو ہزا ر بُت کی سمائی تھی ۔
۲۷ اور اُس نے پیتل کی دس کُرسیاں بنائیں ۔ ایک ایک کُرسی کی لمبائی چار ہاتھ اور چوڑائی چار ہاتھ اور اونچائی تین ہاتھ تھی۔
۲۸ اور اُن کرسیوں کی کاریگری اِس طرح کی تھی۔ اِنکے حاشئے تھے اور پڑوں کے درمیان بھی حاشئے تھے۔
۲۹ اور اُن حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے اور اُن پڑوں پر بھی ایک کُرسی اوپر کی طرف تھی اور شیروں اور بیلوں کے نیچے لٹکتے کا م کے ہار تھے۔
۳۰ اور ہر کُرسی کے لیے چار چار پیتل کے پہئے اور پیتل ہی کے دُھرے تھے اور اُسکے چارو ں پایوں میں ٹیکیں لگی تھیں ۔ یہ ڈھلی ہوئی ٹیکیں حوض کے نیچے تھیں اور ہر ایک کے پہلو میں ہار بنے تھے۔
۳۱ اور اُسکا مُنہ تاج کے اندر اور باہر ایک ہاتھ تھا اور وہ مُنہ ڈیڑھ ہاتھ تھا اور اُسکا کام کُرسی کے کام کی طرح گول تھا اور اُسی مُنہ پر نقاشی کا کام تھا اور اُنکے حاشئے گول نہیں بلکہ چوکور تھے۔
۳۲ اور وہ چاروں پہیے حاشیوں کے نیچے تھے اور پہیوں کے دُھرے کُرسی میں لگے تھے اور ہر پہیے کی اونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی۔
۳۳ اور پہیوں کا کام رتھ کے پہئے کا سا تھا اور اُنکے دُھرے اور اُنکی پُٹھیاں اور اُنکے آرے اور اُنکی نابھیں سب کے سب ڈھالے ہوئے تھے۔
۳۴ اور ہر کُرسی کے چاروں کونوں پر چار ٹیکیں تھیں اور ٹیکیں اور کُرسی ایک ہی ٹکڑے کی تھیں ۔
۳۵ اور ہر کُرسی کے سِرے پر آدھ ہاتھ اونچی چاروں طرف گولائی تھی اور کُرسی کے سِرے کی کنگیاں اور حاشئے اُسی کے ٹکڑے کے تھے۔
۳۶ اور اُسکی کنگیوں کے پاٹوں پر اور اُسکے حاشیوں پر اُس نے کروبیوں اور شیروں اور کھجور کے درختوں کو ہر ایک کی جگہ کے مطابق کندہ کیا اور گِردا گِرد ہار تھے۔
۳۷ دسوں کُرسیوں کو اُس نے اِس طرح بنایا اور اُن سب کا ایک ہی سانچا اور ایک ہی ناپ اور ایک ہی صور تھی ۔
۳۸ اور اُس نے پیتل کے دس حوض بنائے ۔ ہر ایک حوض میں چالیس بت کی سمائی تھی اور ہر ایک حوض چار ہاتھ کا تھا اور اُن دسوں کپرسیوں میں سے ایک پر ایک حوض تھا ۔
۳۹ اُس نے پانچ کُرسیاں گھر کی دہنی طرف اور پانچ گھر کی بائیں طرف رکھیں اور بڑے حوض کو گھر کے دہنے مشرق کی طرف جنوب کے رُخ پر رکھا۔
۴۰ اور حیرام نے حوضوں اور بیلچوں اور کٹوروں کو بھی بنایا ۔ پس حیرام نے وہ سب کام جسے وہ سُلیمان بادشاہ کی خاطر خُداوند کے گھر میں بنا رہا تھا تمام کیا ۔
۴۱ یعنی دونوں سُتون اور سُتونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پیالے اور سُتونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پیالوں کو ڈھانکنے کی دونوں جالیاں۔
۴۲ اور دونوں جالیوں کے لیے چار سَو انار یعنی سُتونوں پر کے تاجوں کے دونوں پیالوں کے ڈھانکنے کی ہر جالی کے لیے اناروں کی دو دو قطاریں ۔
۴۳ اور دسوں کُرسیاں اور دسوں کُرسیوں پر کے دسوں حوض۔
۴۴ اور وہ بڑا حوض اور بڑے حوض کے نیچے کے بارہ بیل ۔
۴۵ اور وہ دیگیں اور بیلچے اور کٹورے ۔ یہ سب ظروف جو حیرام نے سُلیمان بادشاہ کی خاطر خُداوند کے گھر میں بنائے جھلکتے ہوئے پیتل کے تھے۔
۴۶ بادشاہ نے اُن سب کو یردن کے میدان میں سُکات اور ضرتان کے بیچ کی چکنی مٹی والی زمین میں ڈھالا۔
۴۷ اور سُلیمان نے اُن سب ظروف کو بغیر تولے چھوڑ دیا کیونکہ وہ بہت سے تھے۔ سو اُس پیتل کا وزن معلوم نہ ہو سکا ۔
۴۸ اور سُلیمان نے وہ سب ضروف بنائے جو خُداوند کے گھر میں تھے یعنی وہ سونے کا مذبح اور سونے کی میز جس پر نذر کی روٹی رہتی تھی ۔
۴۹ اور خالص سونے کے وہ شعمدان جو اِلہام گاہ ک آگے پانچ دہنے اور پانچ بائیں تھے اور سونے کے پھُول اور چراغ اور چِمٹے ۔
۵۰ اور خالص سونے کے پیالے اور گُل تراش اور کٹورے اور چمچے اور عود سوز اور اندرونی گھر یعنی ہیکل کے دروازہ کے لیے سونے کے قبضے۔
۵۱ یوں وہ سب کام جو سُلیمان اپنے باپ داود کی مخصوص کی ہوئی چیزوں یعنی سونے اور چاندی اور ظروف کو اندر لایا اور اُنکو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں رکھا۔