(۴) یربعام کے بیٹے کی موت (۱۴: ۱۔۲۰)
۱۴: ۱۔۴ جب یربعام کا بیٹا ابیاہ بیمار پڑ گیا تو بادشاہ نے اپنی بیوی کو اخیاہ نبی کے پاس بھیجا، یعنی اُس مردِ خدا کے پاس جس نے اِس سے قبل یربعام کو بتایا تھا کہ وہ شمالی قبائل پر بادشاہی کرے گا۔
مَلِکہ نے شاید کئی وجوہات کی بنا پر بھیس بدل لیا۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ کھلم کھلا مردِ خدا کے پاس جانے سے دان اور بیت ایل کے دیوتاؤں پر ایمان کی کمی کا اِظہار ہوتا۔ دوم، یربعام کو احساس تھا کہ اخیاہ بت پرستی کا دشمن ہے۔ اگر اُس نے اُسے پہچان لیا تو اُس کی حمایت میں کوئی بات نہیں کرے گا۔ سوم، شاید بادشاہ کا یہ خیال تھا کہ نبی کو دھوکا دینے سے وہ خدا کو دھوکا دے لے گا۔
۱۴: ۵۔۱۳ خداوند نے بینائی سے محروم نبی کو ملکہ کے آنے کی پہلے سے اطلاع دے دی تھی۔ جونہی وہ پہنچی نبی نے اُسے بتا دیا کہ وہ بھیس بدل کر آئی ہے اور اُسے واپس یربعام کے پاس بھیج دیا کہ وہ اُسے پیغام دے دے کہ اُس کا کیا انجام ہو گا۔ بادشاہ کی نافرمانی اور بت پرستی کے سبب سے یربعام کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک کو جو اِسرائیل میں بند ہے اور اُس کو جو آزاد چھوٹا ہوا ہے کاٹ ڈالے گا اور اُس کے گھرانے کی صفائی کر دے گا۔ اُس کے خاندان میں سے کسی کو باوقار تدفین نصیب نہیں ہو گی، سوائے بیمار بیٹے ابیاہ کے جو مَلِکہ کے شہر میں داخل ہوتے ہی مر جائے گا۔
۱۴: ۱۴۔۱۶ خدا ایک اَور بادشاہ (بعشا) کو برپا کرے گا جو یربعام کے خاندان کو برباد کر دے گا۔ بالآخر اِسرائیل قوم کو اسیری میں لے جایا جائے گا کیونکہ یربعام نے یسیرتوں کی پرستش کا آغاز کیا تھا۔ یسیرت لکڑی کا کھدا ہوا ایک مجسمہ ہوتا تھا جو اولاد دینے کی علامت تھا۔
۱۴: ۱۷،۱۸ آیت ۱۷ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترضہ اَب اسرائیل کا صدر مقام تھا۔ جونہی ملکہ وہاں پہنچی لڑکا مر گیا۔ جیسا کہ نبی نے پیش گوئی کی تھی، اِسرائیل نے اُسے دفن کر کے ماتم کیا۔
۱۴: ۱۹،۲۰ بیس برس حکومت کرنے کے بعد یربعام مر گیا۔ اُس کی جگہ اُس کا بیٹا ندب بادشاہ بنا۔ اِسرائیل کے ’’بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب‘‘ بائبل کی تواریخ نہیں بلکہ یہ بادشاہوں کا سرکاری ریکارڈ ہوتا تھا جسے قوم کی تاریخ کے طور پر محفوظ کیا جاتا تھا۔
ج۔ یہوداہ کا بادشاہ رحبعام (جاری ہے) (۱۴:۲۱۔۳۱)
۱۴: ۲۱۔۲۴ ہم باب ۱۲ میں رحبعام کی حکومت کے اوّلین حصے کا پہلے ہی مطالعہ کر چکے ہیں۔ اِس حصے میں اُس کے دَورِ حکومت کے اہم خد و خال کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ قابلِ غور بات ہے کہ مادر ملکہ کا دوبار عمونی کہہ کر ذکر کیا گیا ہے (آیات ۲۱،۲۳)۔ شاید قاری کو رحبعام کی حکومت کے ناکام ہونے کی وجہ بتانا مقصود ہو، کیونکہ اُس کے باپ نے غیر قوم عورتوں سے شادیاں کی تھیں جنہوں نے اُسے اور اُس کے خاندان کو بت پرستی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ اب یہوداہ میں بت پرستی غالب تھی اور یسیرتوں کے اڈوں پر لونڈے بازی کی صورت میں مکروہ کام ہوتے تھے۔
۱۴: ۲۵۔۲۸ شاہِ مصر سیسق نے یروشلیم پر حملہ کر کے اُسے لُوٹا۔ ہیکل اور شاہی محل کے خزانوں کو لے گیا۔ اِس پر رحبعام نے حکم دیا کہ لُوٹی گئی سونے کی ڈھالوں کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنائی جائیں۔
کیسی سِتم ظریفی ہے کہ سلیمان نے اپنے تحفظ کے لئے مصر سے فرعون کی بیٹی سے شادی کی، لیکن اُس کی موت کے تھوڑے عرصے بعد مصر کا سیسق سلیمان کے سنہری شہر کی چمک دمک کو اپنے ساتھ لے گیا
۱۴: ۲۹۔۳۱ یہ یہوداہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا دَور تھا۔ یہ جنگ یہوداہ میں آسا اور اِسرائیل میں عمری کی حکومتوں کے دوران ۴۷ سال تک جاری رہی۔ خداوند نے یہوداہ اور اِسرائیل کے درمیان جنگ سے منع کیا تھا، لیکن اِس کے باوجود اِن دونوں بادشاہتوں میں مسلسل جھگڑے ہوتے رہے۔ رحبعام نے ۵۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اُس کی جگہ اُس کا بیٹا ابیام بادشاہ بنا۔
مقدس کتاب
۱ اُس وقت یُربعام کا بیٹا ابیاہ بیمار پڑا ۔
۲ اور یُربعام نے اپنی بیوی سے کہا ذرا اُٹھ کر اپنا بھیس بدل ڈال تاکہ پہچان نہ ہو سکے کہ تُو یُربعام کی بیوی ہے اور سیلا کو چلی جا ۔ دیکھ اخیاہ نبی وہاں ہے جس نے میری بات کہا تھا کہ مَیں اِس قوم کا بادشاہ ہو نگا ۔
۳ اور دس روٹیاں اور پیڑیاں اور شہد کا ایک مرتبان اپنے ساتھ لے اور اُس کے پاس جا ۔ وہ تُجھے بتائے گا کہ لڑکے کا کیا حال ہو گا ۔
۴ سو یر ُبعام ک بیوی نے ایسا ہی کیا اور اُٹھ کر سیلا کو گئی اور اخیاہ کے گھر پہنچی پر اخیاہ کو کچھ نظر نہیں آتا تھا کیونکہ بُڑھاپے کے سبب سے اُسکی آنکھیں رہ گئی تھیں ۔
۵ اور خُداوند نے اخیاہ سے کہا دیکھ یُربعام کی بیوی تُجھ سے اپنے بیٹے کی بابت پوچھنے آ رہی ہے کیونکہ وہ بیمار ہے ۔ سو تُو اُس سے یوں یوں کہنا کیونکہ جب وہ اندر آئے گی تو اپنے آپ کو دوسری عورت بائے گی ۔
۶ اور جیسے ہی وہ دروازہ سے اندر آئی اور اخیاہ نے اُس کے پاوں کی آہٹ سُنی تو اُس نے اُس سے کہا اے یُربعام کی بیوی اندر آ! تُو کیوں اپنے کو دوسری بناتی ہے ؟ کیونکہ میں تو تیرے ہی پاس سخت پیغام کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔
۷ سو جا کر یُربعام سے کہہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے حالانکہ میں نے تُجھے لوگوں میں سے لیکر سرفراز کیا اور اپنی قوم اسرائیل پر تُجھے بادشاہ بنایا ۔
۸ اور داود کے گھرانے سے سلطنت چھین لی اور تُجھے دی تو بھی تُو میرے بند ہ داود کی مانند نہ ہو ا جس نے میرے حکم مانے اور اپنے سارے دل سے میری پیروی کی تاکہ قفط وہی کرے جو میری نظر میں ٹھیک تھا۔
۹ پر تُو نے اُن سبھوں سے جو تُجھ سے پہلے ہوئے زیادہ بدی کی اور جا کر اپنے لیے اور اور معبود اور ڈھالے ہوئے بُت بنائے تاکہ مجھے غصہ دلائے بلکہ تُو نے مُجھے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینکا ۔
۱۰ اِس لیے دیکھ یُربعام کے گھرانے پر بلا نازل کرونگا اور یُربعام کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک کو جو اسرائیل میں بند ہے اور اُسکو جو آزاد چھُوٹا ہوا ہے کاٹ ڈالونگا اور یُربعام کے گھرانے کی صفائی کردونگا جیسے کوئی گوبر کی صفائی کرتا ہو جب تک وہ سب دور نہ ہو جائے ۔
۱۱ یُربعام کا جو کوئی شہر میں مرے گا اُسے کُتے کھائیں گے اور جو میدان میں مرے گا اُسے ہوا کے پرندے چٹ کر جائیں گے کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے ۔
۱۲ سو تُو اُٹھ اور اپنے گھر جا اور جیسے ہی تیرا قدم شہر میں پڑےگا وہ لڑکا مر جائے گا ۔
۱۳ اور سارا اسرائیل اُسکے لیے روئے گا اور اُسے دفن کریگا کیونکہ یُربعام کی اولاد میں سے فقط اُسی کو قبر نصیب ہو گی اِس لیے کہ یُربعام کے گھرانے میں سے اِسی میں کچھ پایا گیا جو خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نزدیک بھلا ہے ۔
۱۴ علاوہ اِس کے خُداوند اپنی طرف سے اسرائیل کے لیے ایک ایسا بادشاہ برپا کرے گا جو اُسی دن یُربعام کے گھرانے کو کاٹ ڈالے گا ۔ لیکن کب ؟ یہ ابھی ہو گا ۔
۱۵ کیونکہ خُداوند اسرائیل کو ایسا مارےگا جیسے سرکنڈا پانی میں ہلایا جاتا ہے اور وہ اسرائیل کو اِس اچھے مُلک سے جو اُس نے اُنکے باپ دادا کو دیا تھا اُکھاڑ پھینکے گا اور اُنکو دریای ِ فرات کے پار پراگندہ کریگا کیونکہ اُنہوں نے اپنے لیے یسیرتیں بنائیں اور خُداوند کو غصہ دلایا ہے ۔
۱۶ اور وہ اسرائیل کو یُربعام کے اُن گناہوں کے سبب سے چھوڑ دے گا جو اُس نے خود کیے اور جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا ۔
۱۷ اور یُربعام کی بیوی اُٹھ کر روانہ ہوئی اور ترضہ میں آئی اور جیسے ہی وہ گھر کے آستانہ پر پہنچی وہ لڑکا مر گیا ۔
۱۸ اور سارے اسرائیل نے جیسا خُداوند نے اپنے بندہ اخیاہ نبی کی معرفت فرمایا تھا اُسے دفن کر کے اُس پر نوحہ کیا۔
۱۹ اور یُربعام کا باقی حال کہ وہ کس کس طرح لڑا اور اس نے کیونکر سطنت کی و ہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتا ب میں لکھا ہے ۔
۲۰ اور جتنی مُدت تک یُربعام نے سلطنت کی وہ بائیس برس کی تھی اور وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا ندب اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
۲۱ اور سُلیمان کا بیٹا رحبعام یہوداہ میں بادشاہ تھا ۔ رحبعام اکتالیس برس کا تھا جب وہ بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے یوشلیم یعنی اُس شہر میں جسے خُداوند نے بنی اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے چُنا تھا تاکہ اپنا نام وہاں رکھے سترہ برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جو عمونی عورت تھی ۔
۲۲ اور یہوداہ نے خُداوند کے حضور بدی کی اور جو گناہ اُنکے باپ دادا نے کیے تھے اُن سے بھی زیادہ اُنہوں نے اپنے گناہوں سے جو اُن سے سرزد ہوئے اُسکی غیرت کو بر انگخیتہ کیا۔
۲۳ کیونکہ اُنہوں نے اپنے لیے ہر ایک اونچے ٹیلے پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اونچے مقام او ر سُتون اور یسیرتیں بنائیں ۔
۲۴ اور اُس مُلک میں لوطی بھی تھے ۔ وہ اُن قوموں کے سب مکروہ کام کرتے تھے جنو خُداوند نے بنی اسرائیل کے سامنے سے نکال دیا تھا ۔
۲۵ اور رحبعام بادشاہ کے پانچویں برس میں شاہِ مصر سیسق نے یروشلیم پر چڑھائی کی ۔
۲۶ اور اُس نے خُداوند کے گھر کے خزانوں اور شاہی محل کے خزانوں کو لے لیا بلکہ اُس نے سب کچھ لے لیا اور سونے کی وہ سب ڈھالیں بھی لے گیا جو سُلیمان نے بنائی تھیں ۔
۲۷ اور رحبعام بادشاہ نے اُنکے بدلے پیتل کی ڈھالیں بنائیں اور اُنکو محافظ سپاہیوں کے سرداروں کے سپرد کیا جو شاہی محل کے دروازہ پر پہرہ دیتے تھے ۔
۲۸ اور جب بادشاہ خُداوند کے گھر میں جاتا تو وہ سپاہی اُنکو لیکر چلتے اور پھر اُنکو واپس لا کر سپاہیوں کی کوٹھری میں رکھ دیتے تھے ۔
۲۹ اور رحبعام کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے ؟
۳۰ اور رحبعام اور یُربعام میں برابر جنگ رہی ۔
۳۱ اور رحبعام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہو ا ۔ اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جو عمونی عورت تھی اور اُس کا بیٹا ابیام اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔