۱۶: ۱۔۷ یاہو نامی ایک نبی نے بعشا پر واضح کر دیا کہ چونکہ اُس نے یربعام کی بت پرستی کی پیروی کی، اِس لئے اُس کی اولاد کا یربعام کی اولاد جیسا حشر ہو گا۔ اُن کے دستور کے مطابق تجہیز و تکفین نہ ہو گی بلکہ اُن کی لاشوں کو کتے اور پرندے کھائیں گے۔ آیت ۷ کے آخر میں بعشا کے انجام کی ایک اَور وجہ بھی دی گئی ہے کہ اُس نے یربعام کے گھرانے کو قتل کیا۔ یا تو خدا کا اِرادہ نہیں تھا کہ اُس کے ہاتھ سے یہ کام کروائے یا پھر اُس نے خدا کی مرضی کے خلاف ظلم اور اِنتقام کے طور پر یہ کام کیا۔
ح۔ اِسرائیل کا بادشاہ اَیلہ (۱۶: ۸۔۱۴)
اشکار کے قبیلے کا بعشا بن ایلہ اِسرائیل کا دو سال تک بادشاہ رہا۔(۸۴/ ۸۸۵۔۸۵/ ۸۸۶ ق م)
اَیلہ ایک بدکار بادشاہ تھا۔ وہ بت پرست اور شرابی تھا۔ اُس کی دو سال کی حکومت کے بعد اُس کے آدھے رتھوں کے داروغہ زمری نے اُسے قتل کر دیا اور یاہو کی پیش گوئی کی تکمیل میں بعشا کے گھرانے کے باقی لوگوں کو بھی قتل کر دیا گیا (۱۶:۳)۔ اَیلہ کی موت سے اِسرائیل میں دوسرے شاہی سلسلے کا اِختتام ہوا۔
ط۔ اِسرائیل کا بادشاہ زِمری (۱۶: ۱۵۔۲۰)
زِمری سات دن تک اِسرائیل کا بادشاہ رہا (۸۴/ ۸۸۵ ق م)۔
زِمری کی بدکار حکومت کا عرصہ سب بادشاہوں کی نسبت مختصر ترین تھا، جو صرف سات دن تک تھا۔ جب اُس نے تخت پر غاصبانہ قبضہ کیا تو اِسرائیل کی فوجیں فلستیوں سے جِبتُّون کا شہر فتح کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ فوج نے اعلان کیا کہ اُس کا سپہ سالار عمری بادشاہ ہو گا۔ اُس نے فوراً صدر مقام تِرضہ کی طرف کوچ کیا تاکہ عنانِ حکومت سنبھالے۔ زِمری شاہی محل کے محکم حصے میں چلا گیا۔ جب محل کو آگ لگا دی گئی تو وہ شعلوں میں بھسم ہو گیا۔
ی۔ اِسرائیل کا بادشاہ تِبنی (۱۶: ۲۱،۲۲)
جِینت کا بیٹا تِبنی چار سال تک اِسرائیل کا بادشاہ رہا (۸۰/ ۸۸۱۔۸۴/ ۸۸۵ ق م)۔
گو اِسرائیل نے فوج کے سپہ سالار عمری کو بادشاہ بنایا تھا (آیت ۱۶) لیکن اُس کے مخالف تبنی بھی بادشاہ تھا۔ اِس سبب سے چار یا پانچ سالوں تک خانہ جنگی رہی (مقابلہ کریں آیت ۱۵ سے آیت ۲۳ کا)۔ شمالی سلطنت کے آدھے لوگوں نے تبنی کی موت تک اُس کی پیروی کی۔
ک۔ اِسرائیل کا بادشاہ عمری (۱۶: ۲۳۔۲۸)
عمری اِسرائیل کا بارہ سال تک بادشاہ رہا (۷۳/ ۸۷۴۔۸۴/ ۸۸۵ ق م)۔
عمری کی حکومت سے شمالی سلطنت میں چوتھے شاہی خاندان کا دَور شروع ہوا۔ تبنی کو ۸۸۰ ق م میں شکست ہوئی تو عمری غیر متنازعہ بادشاہ بن گیا۔ پہلے اُس نے چھے سال تک ترضہ میں حکومت کی۔ تب اُس نے سامریہ کا پہاڑ دو قنطار چاندی میں خریدا اور اپنا صدر مقام وہاں منتقل کر لیا۔ اُس کی حکومت کے بُرے کردار کو آیات ۲۵ اور ۲۶ میں بیان کیا گیا ہے۔
عمری کی تواریخی جدول کچھ پیچیدہ سی ہے۔ آسا کے ستائیسویں برس میں زِمری کی موت کے بعد اُس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کیا گیا (صرف آدھے لوگوں نے اُسے بادشاہ تسلیم کیا آیت ۱۵)۔ چار سال کی خانہ جنگی کے بعد، وہ آسا کے اکتیسویں سال میں شمالی بادشاہت کا غیر متنازعہ بادشاہ بن گیا (آیت ۲۳)۔ یوں چار سال تک داخلی کش مکش رہی اور آٹھ سال تک کسی حد تک امن و امان رہا۔
عمری ایک ترقی پسند بادشاہ تھا۔ اُس کے تحت اسرائیل کی سلطنت قدرے ترقی کرتی رہی اور ملک میں امن و امان رہا۔ کچھ مواخذ میں اِس بات کا ذکر ہے کہ عمری نے موآب کو فتح کیا۔ وہ اسوریوں کی نظر میں اِس قدر ممتاز تھا کہ وہ اِسرائیل کو ’’عمری کا گھر‘‘ یا ’’عمری کا ملک‘‘ کہتے تھے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک محل دریافت کیا ہے جو اُن کے خیال کے مطابق عمری کا محل تھا۔
ل۔ اِسرائیل کا بادشاہ اخی اَب اور ایلیاہ نبی (۱۶: ۲۹۔۲۲:۴۰)
عمری کا بیٹا اخی اب بائیس سال تک اسرائیل کا بادشاہ رہا (۸۵۳۔۷۳/ ۸۷۴ ق م)۔
(۱) اخی اَب کے گناہ (۱۶: ۲۹۔۳۴)
اخی اب ایک نہایت بے دین بادشاہ تھا۔ صرف اِس وجہ سے ہی نہیں کہ اُس نے بت پرستی میں یربعام کی پیروی کی بلکہ صیدانیوں کے بادشاہ کی اِیزبل نامی بیٹی سے شادی کر لی۔ یہ بُری عورت بعل کی پرستش کرنے والی تھی بلکہ اُس نے اخی اَب کو بھی اِس کے لئے قائل کر لیا، اور اِسرائیل میں بعل کی پرستش کے لئے ایک مندر، مذبح اور یسیرت بنوائی۔ اِس دَور میں بے دینی اِس حد تک بڑھ چکی تھی کہ بیت ایل کے حی ایل نے خدا کی لعنت کی پروا کئے بغیر یریحو کو دوبارہ بنانے کی گستاخانہ کوشش کی (یشوع ۶:۲۶)۔ جب اُس نے بنیاد ڈالی تو اُس کا سب سے بڑا بیٹا ابرام مر گیا۔ اور جب پھاٹک لگائے گئے، تو اُس کا چھوٹا بیٹا سجوب مر گیا۔
مقدس کتاب
۱ اور حنانی کے بیٹے یا ہو پر خُداوند کا یہ کلام بعشا کے خلاف نازل ہوا۔
۲ اِس لیے کہ میں نے تُجھے خاک پر سے اُٹھایا اور اپنی قوم اسرائیل کا پیشیوا بنایا اور تُو یُربعام کی راہ پر چلا اور تُو نے میری قوم اسرائیل سے گناہ کرا کے اُنکے گناہوں سے مجھے غصہ دلایا ۔
۳ سو دیکھ میں بعشا اور اُس کے گھرانے کی پوری صفائی کر دونگا اور تیرے گھرانے کو نباط کے بیٹے یُربعام کے گھرانے کی مانند بنادونگا ۔
۴ بعشا کا جو کوئی شہر میں مریگا اُسے کُتے کھائیں گے اور جو میدان میں مریگا اُسے ہوا کے پرندے چٹ کر جائیں ۔
۵ اور بعشا کا باقی حال اور جو کچھ اُس نے کِیا اور اُسکی قوت سو کیا وہ اسرائیل کے باہدانوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے؟
۶ اور بعشا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور ترضہ میں دفن ہوا اور اُسکا بیٹا ایلہ اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
۷ اور حنانی کے بیٹے ہایو کی معرفت خُداوند کا کلام بعشا اور اُسکے گھرانے کے خلاف اُس ساری بدی کے سبب سے بھی نازل ہُوا جو اُس نے خُداوند کی نظر میں کی اور اپنے ہاتھوں کے کام سے اُسے غصہ دلایا اور یُربعام کے گھرانے کی مانند بنا اور اِس سبب سے بھی کہ اُس نے اُسے قتل کیا ۔
۸ اور شاہِ یہوداہ آسا کے چھبیسویں سال سے بعشا کا بیٹا ایلہ ترضہ میں بنی اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس ے دو برس سلطنت کی ۔
۹ اور اُسکے خادم زمری نے جو اُسکے آدھے رتھوں کا داروغہ تھا اُسکے خلاف سازش ک ۔ اُس وقت وہ ترضہ میں تھا اور ارضہ کے گھر میں جو ترضہ میں اُسکے گھر کا دیوان تھا شراب پی پی کر متوالا ہوتا جاتا تھا ۔
۱۰ سو زمری نے آسا شاہِ یہوداہ کے ستائسویں سال اندر جا کر اُس پر وار کیا اور اُسے قتل کر دیا اور اُسکی جگہ سلطنت کرنے لگا ۔ اور جب وہ بادشاہی کرنے لگا تو تخت پر بیٹھے ہی اُس نے بعشا کے سارے گھرانے کو قتل کیا او ر نہ تو اُسکے رشتہ داروں کا اور نہ اُس کے دوستوں کا کوئی لڑکا باقی چھوڑا ۔
۱۱
۱۲ یوں زمری نے خُداوند کے اُس سخن کے مطابق جو اُس نے بعشا کے خلاف یا ہو نبی کی معرفت فرمایا تھا بعشا کے سارے گھرانے کو نابود کیا ۔
۱۳ بعشا کے سب گناہوں اور اُسکے بیٹے ایلہ کے گناہوں کے سبب سے جو اُنہوں نے کئے اور جن سے اُنہوں نے اسرائیل سے گناہ کرایا تاکہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کو اپنے باطل کاموں سے غصہ دلائیں ۔
۱۴ اور ایلہ کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کِیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟۔
۱۵ اور شاہِ یہوداہ آسا کے ستائیسویں برس میں زمری نے ترضہ میں سات دن بادشاہی کی ۔ اُس وقت لوگ جبتون کے مقابل جو فلستیوں کا تھا خیمہ زن تھے ۔
۱۶ اور اُن لوگوں نے جو خیمہ زن تھے یہ چرچا سُنا کہ زمری نے سازش کی اور بادشاہ کو مار بھی ڈالا ہے اِسلیے سارے اسرائیل نے عمری کو جو لشکر کا سردار تھا اُس دن لشکر گاہ میں اسرائیل کا بادشاہ بنایا ۔
۱۷ تب عمری اور اُسکے ساتھ اسرائیل جبتون سے روانہ ہوا اور اُنہوں نے ترضہ کا محاصرہ کر لیا ۔
۱۸ اور ایسا ہُوا کہ جب زمری نے دیکھا کہ شہر سر پر ہو گیا تو شاہی محل کے محکم حصہ میں جا کر شاہی محل میں آگ لگا دی اور جل مرا ۔
۱۹ اپنے اُن گناہوں کے سبب سے جو اُس نے کئے کہ خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یُربعام کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جو اُس نے کیا تاکہ اسرائیل سے گناہ کرائے ۔
۲۰ اور زمری کا باقی حال اور جو بغاوت اُس نے کی سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
۲۱ اُس وقت اسرائیلی دو فریق ہو گئے آدھے آدمی جینیت کے بیٹے تبنی کے پیرو ہو گئے تاکہ اُسے بادشاہ بنائیں اورآدھے عمری کے پیرو تھے ۔
۲۲ پر جو عمری کے پیرو تھے اُن پر جو جینت کے بیٹے تبنی کے پیرو تھے غالب آئے ۔ سو تبنی مر گیا اور عمری بادشاہ ہوا۔
۲۳ شاہِ یہوداہ آسا کے اکتیسویں سال سے عمری اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا ۔ اُس نے بارہ برس سلطنت کی۔ ترضہ میں چھ برس اُسکی سلطنت رہی ۔
۲۴ اور اُس نے سامریہ کا پہاڑ سمر سے دو قنطار چاندی میں خریدا اور اُس پہاڑ پر ایک شہر بنایا اور اُس شہر کا نام جو اُس نے بنایا تھا پہاڑ کے مالک سمر کے نام پر سامریہ رکھا ۔
۲۵ اور عمری نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اُن سب سے جو اُس سے پہلے ہوئے بد تر کام کیے ۔
۲۶ کیونکہ اُس نے نباط کے بیٹے یُربعام کی سب راہیں اور اُسکے گناہوں کی روش اختیار کی جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا تاکہ وہ خداوند اسرائیل کے خُدا کو اپنے باطل کاموں سے غصہ دلائیں ۔
۲۷ اور عمری کے باقی کام جو اُس نے کئے اور اُسکا زور جو اُس نے دکھایا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
۲۸ سو عمری اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور سامریہ میں دفن ہوا اور اُسکا بیٹا اخی اب اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
۲۹ اور شاہِ یہوداہ آسا کے اڑتیسویں سال سے عمری کا بیٹا اخی اب اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور عمری کے بیٹے اخی اب نے سامریہ میں اسرائیل پر بائیس برس سلطنت کی ۔
۳۰ اور عمری کے بیٹے اخی اب نے جتنے اُس سے پہلے ہوئے تھے اُن سبھوں سے زیادہ خُداوند کی نظر میں بدی کی ۔
۳۱ اور گویا نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں کی روش اختیار کرنا اُس کے لیے ایک ہلکی سی بات تھی ۔ سو اُس نے صدانیوں کے بادشاہ اتبعل کی بیٹی ایزبل سے بیاہ کیا اور جا کر بعل کی پرستش کرنے اور اُسے سجدہ کرنے لگا ۔
۳۲ اور بعل کے مندر میں جسے اُس نے سامریہ میں بنایا تھا بعل کے لیے ایک مذبح تیار کیا ۔
۳۳ اور اخی اب نے یسیرت بنائی اور اخی اب نے اسرائیل کے سب بادشاہوں سے زیادہ جو اُس سے پہلے ہوئے تھے خُداوند اسرائیل کے خُدا کو غصہ دلانے کے کام کیے ۔
۳۴ اُسکے ایام میں بیت ایلی نے یریحو کو تعمیر کیا ۔جب اُس نے اُسکی بنیاد ڈالی تو اُسکا پہلوٹھا بیٹا ابراہام مرا اور جب اُسکے پھاٹک لگائے تو اُسکا سب سے چھوٹا بیٹا سُجوب مر گیا ۔ یہ خُداوند کے کلام کے مطابق ہُوا جو اُس نے نون کے بیٹے یشوع کی معرفت فرمایا تھا ۔