۱سلاطِین ۱۹

(‏۷)‏ ایلیاہ کا حورب کو بھاگ جانا (‏۱۹:‏۱۔۱۸)‏

۱۹:‏۱۔۴ جب اخی اَب نے اِیزبل کو کوہِ کرمل پر بعل کے نبیوں کی شکست اور موت کے بارے میں بتایا تو اُس نے قسم کھائی کہ وہ ایلیاہ کو ایک دن کے اندر اندر قتل کر دے گی۔ تب نبی جس نے گذشتہ روز اپنے ایمان سے اِتنی بڑی فتح حاصل کی تھی بے دل ہو گیا اور وہ یزرعیل سے اپنی جان بچانے کے لئے یہوداہ کی جنوبی سرحد پر ۱۶۱ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ملک کے جنوب میں بیرسبع کو بھاگ گیا۔ اپنے خادِم کو بیرسبع میں چھوڑ کر ایلیاہ نے جنوب کی طرف دشت میں ایک دن کا سفر جاری رکھا۔ بالآخر اُس نے جھاؤ کے درخت کے نیچے آرام کیا۔ افسردگی کی حالت میں وہ محسوس کر رہا تھا کہ وہ شکست خوردہ ہے۔ 

۱۹:‏۵۔۸ ملاحظہ فرمائیے کہ خدا نے اِس سخت افسردگی اور بے دلی کا کیا علاج کیا:‏ آرام‏، خوراک اور پانی‏، مزید آرام‏، مزید خوراک اور پانی۔ یوں طاقت پا کر وہ کوہِ حورب (‏سینا)‏ تک جہاں خدا نے موسیٰ کو شریعت دی تھی‏، چالیس دن رات میں ۳۲۳ کلومیٹر کا سفر کر کے پہنچا۔ 

۱۹:‏۹۔۱۴ خداوند اُسے ایک غار میں ملا۔ اپنی راست بازی جتاتے ہوئے ایلیاہ نے خود کو وفادار اور بنی اِسرائیل کو مجرم ٹھہراتے ہوئے احتجاج کیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ صرف مَیں ہی ہوں جو خدا کا وفادار ہوں۔ تب خداوند نے اُسے حکم دیا کہ وہ شریعت کے پہاڑ پر کھڑا ہو‏، لیکن ایلیاہ نے اِس حکم کی تعمیل نہ کی۔ ہم یہ اِس لئے جانتے ہیں کہ بعد ازاں (‏آیت ۱۳)‏ وہ باہر نکل کر غار کے منہ پر کھڑا ہوا۔ بڑی تیزی سے اِس پہاڑ پر آندھی‏، زلزلہ اور آگ آئی۔ اِن شدید طوفانوں نے ضرور اُسے اُس کی سخت اور عیب جوئی کی روح کے بارے میں یاد دلایا ہو گا۔ اِن میں سے کوئی بھی اُسے غار سے باہر نہ لا سکا۔ بالآخر آگ کے بعد نبی نے دبی ہوئی ہلکی سی آواز سنی۔ یہ خدا کی پُرفضل آواز تھی جو اُسے غار کے منہ پر لے آئی۔ وہاں اُس نے پھر اپنے آپ کو خدا کا وہی واحد گواہ ظاہر کیا۔ جارج وِلیمز یوں تشریح کرتا ہے:‏

’’اگر اُس کے دل پر خودی براجمان نہ ہوتی‏، تو وہ اِس حقیقت کو سیکھ لیتا کہ جو آندھی‏، زلزلہ اور آگ حاصل نہیں کر سکتے وہ محبت دھیمی آواز حاصل کر لیتی ہے۔ اُسے تسلیم کر لینا چاہئے تھا کہ میرے اور قوم کے دل میں کوئی فرق نہیں۔ اور جیسے جبر اُسے غار کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہا ویسے ہی وہ اِس بات میں ناکام رہا کہ لوگوں کو گناہ چھوڑنے پر مجبور کرے۔ اور ایسی کوشش ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھے گی۔‘‘ 

۱۹:‏۱۵۔۱۸ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جب ایلیاہ نے اپنی شخصی اہمیت کا خیال کیا تو خدا کے اِس خادم کی افادیت متاثر ہوئی۔ خدا نے اُسے بتایا کہ شمال میں دمشق کے بیابان کو بھاگ جائے جہاں اُسے تین لوگوں کو مسح کرنا ہو گا:‏

  1. حزائیل کو مسح کرے کہ وہ ارام کا بادشاہ ہو۔ نافرمان قوم کو یہ بادشاہ سزا دے گا۔
  2. وہ یاہو کو اِسرائیل پر بادشاہ ہونے کے لئے مسح کرے۔ یاہو‏، خدا کی طرف سے اَخی اب کے گھرانے کو سزا دے گا۔
  3. وہ الیشع کو اپنے جانشین کے طور پر مسح کرے۔ اِس سے وہ یہ سیکھے گا کہ وہ خدا کی خدمت کے لئے ناگزیر نہیں ہے۔ یہ تینوں شخص اِسرائیل میں بت پرستوں پر خدا کی طرف سے سزا کا باعث بنیں گے (‏آیت ۱۷)‏ لیکن خدا اُن سات ہزار کو محفوظ رکھے گا جن کے گھٹنے بعل کے آگے نہیں جھکے اور جنہوں نے اُسے نہیں چوما۔ 
(‏۸)‏ ایلیاہ کا الیشع کو مقرر کرنا (‏۱۹:‏ ۱۹۔۲۱)‏

۱۹:‏۱۹ ایلیاہ سفر کر کے ابیل محولہ پہنچا‏، جو بیت شان کے قریب یردن کی وادی میں ہے۔ وہاں اُسے الیشع نامی ایک کسان ملا جو اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ الیشع کے پاس بارہ جوڑی بیل تھے اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غریب آدمی نہیں تھا۔ غالبا ایک جوڑی بیل کے ساتھ وہ خود ہل چلا رہا تھا اور باقی گیارہ جوڑیوں کے ساتھ اُس کے نوکر ہل چلا رہے تھے۔ ایلیاہ نے اپنی چادر اُس پر ڈال دی جو اِس بات کا نشان تھا کہ وہ اُس کا جانشین ہو گا۔ 

۱۹:‏۲۰‏،۲۱ الیشع نے گھر جانے کی اِجازت مانگی تاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھالوداعی کھانا کھا سکے۔ ایلیاہ رضامند ہو گیا‏، لیکن اُسے خبردار کیا کہ جو کچھ ابھی اُس کے ساتھ ہوا ہے یعنی ایلیاہ نے اُسے مسح کیا ہے‏، اُسے نہ بھولے۔ پُرتکلف ضیافت کے بعد الیشع اُٹھا اور ایلیاہ کا ذاتی خادم بن گیا۔ 

الیشع کی اپنے والدین کو خدا حافظ کہنے کی درخواست اُس شخص کی درخواست کی مانند معلوم ہوتی ہے جو یسوع کا شاگرد بننا چاہتا تھا اور جس کے لئے اُس نے کہا کہ وہ بادشاہی کے لائق نہیں ہے (‏لوقا ۹:‏ ۶۱‏،۶۲)‏۔ لیکن الیشع کے معاملے میں یہ فرق ہے کہ اُس نے فوری طور پر اپنے تعلقات کو ختم کر دینے کا فیصلہ کیا جب کہ دوسرا شخص معاملے کو التوا میں ڈال کر بہانہ بازی کر رہا تھا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اخی اب نے سب کچھ جو ایلیاہ نے کیا تھا اور یہ بھی کہ اُس نے سب نبوں کو تلوار سے قتل کر دیا ایزبل کو بتایا۔
۲ سو ایزبل نے ایلیاہ کے پاس ایک قاصد روانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ اگر میں کل اِس وقت تک تیری جان اُنکی جان کی طرح نہ بنا ڈالوں تو دیوتا مُجھ سے ایسا ہی بلکہ اِ سے زیادہ کریں ۔
۳ جب اُس نے یہ دیکھا تو اُٹھ کر اپنی جان بچانے کو بھاگا اور بیر سبع میں جو یہوداہ کا ہے آیا اور اپنے خادم کو وہیں چھوڑا ۔
۴ اور خُود ایک دن کی منزل دشت میں نکل گیا اور جھاو کے ایک پیڑ کے نیچے آکر بیٹھا اور اپنے لیے موت مانگی اور کہا بس ہے ۔ اب تو اے خُداوند میری جان کو لے لے کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بہتر نہیں ہوں ۔
۵ اور وہ جھاو کے ایک پیڑ کے نیچے لیٹا اور سو گیا اورد یکھو ! ایک فرشتہ نے اُسے چھوا اور اُس سے کہا اُٹھ اور کھا ۔
۶ اُس نے جو نگاہ کی تو کیا دیکھا کہ اُس کے سرہانے انگاروں پر پکی ہوئی ایک روٹی اور پانی کی ایک صراحی دھری ہے ۔ سو وہ کھا پی کر پھر لیٹ گیا ۔
۷ اور خُداوند کے فرشتہ دوبارل پھر آیا اور اُسے چھوا اور کہا اُٹھ اور کھا کہ یہ سفر تیرے لیے بہت بڑا ہے ۔
۸ سو اُس نے اُتھ کر کھایا پیا اور اُس کھانے کی قوت سے چالیس دن اور چالیس رات چل کر خُدا کے پہاڑ حورب تک گیا ۔
۹ اور وہاں ایک غار میں جا کر ٹک گیا اور دیکھو خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا کہ اے ایلیاہ ! تُو یہاں کیا کرتا ہے ؟
۱۰ اُس نے کہا خُداوند لشکروں کے خُدا کے لیے مجھے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو کرت کیا اور تیرت مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں ۔ سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں ۔
۱۱ اُس نے کہا باہر نکل اور پہاڑ پر خُداوند کے حضور کھڑا ہو اور دیکھو خُداوند گذرا اور ایک بڑی تُند آندھی نے خُداوند کے آگے پہاڑوں کو چیر ڈالا اور چٹانوں کے ٹکڑے کر دیے پر خُداوند آندھی میں نہیں تھا اور آندھی کے بعد زلزلہ آیا پر خداوند زلزلہ میں نہیں تھا ۔
۱۲ اور زلزلہ کے بعد آ گ آئی پر خُداوند آگ میں بھی نہیں تھا اور آگ کے بعد ایک دبی ہوئی ہلکی آواز آئی۔
۱۳ اُسکو سُن کر سیلیاہ نے اپنا منہ اپنی چادر سے لپیٹ لیا اور باہر نکل کر اُس غار کے منہ پر کھڑا ہوا اور دیکھو اُسے یہ آواز آئی کہ اے ایلیاہ تُو یہاں کیا کرتا ہے ؟
۱۴ اُس نے کہا مُجھے خُداوند لشکروں کے خُدا کے لیے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا ۔ ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں ۔ سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں ۔
۱۵ خُداوند نے اُسے فرمایا تُو اپنے راستہ لَوٹ کر دمشق کے بیابان کو جا اور جب تُو وہاں پہنچے تو تُو حزائیل کو مسح کر کہ ارام کا بادشاہ ہو ۔
۱۶ اور نمسی کے بیٹے یا ہو کو مسح کر کہ اسرائیل کا بادشاہ ہو اور ابیل محولہ کے الیشع قتل کر ڈالے گا ۔
۱۷
۱۸ تو بھی میں اسرائیل میں سات ہزار اپنے لیے رکھ چھوڑونگا یعنی وہ سب گھُٹنے جو بعل کے آگے نہیں جھُکے اور ہر ایک منہ جس نے اُسے نہیں چُوما۔
۱۹ سو وہ وہاں سے روانہ ہوا اور سافط کا بیٹا الیشع اُسے مِلا جو بارہ جوڑی بیل اپنے آگے لیے ہوئے رہا تھا اور وہ خود بارھویں کے ساتھ تھا اور ایلیاہ اُسکے برابر سے گذرا اور اپنی چادر اُس پر ڈال دی ۔
۲۰ سو وہ بیلوں کو چھوڑ کر ایلیاہ کے پیچھے دوڑا اور کہنے لگا مُجھے اپنے باپ اور اپنی ماں کو چوم لینے دے پھر میں تیرے پیچھے ہو لونگا ۔ اُس نے اُس سے کہا کہ لوٹ جا ۔ میں نے تُجھ سے کیاکِیا ہے ؟
۲۱ تب وہ اُسکے پیچھے سے لوٹ گیا اور اُس نے اُس جوڑی بیل کو لیکر ذبح کیا اور اُن ہی بیلوں کے سامان سے اُنکا گوشت اُبالا اور لوگوں کو دیا اور اُنہوں نے کھایا ۔ تب وہ اُٹھا اور ایلیاہ کے پیچھے روانہ ہوا اور اُسکی خدمت کرنے لگا ۔