۱سلاطِین ۱۵

د۔ یہوداہ کا بادشاہ ابیام (‏۱۵:‏ ۱۔۸)‏

رحبعام کا بیٹا ابیام تین سال تک یہوداہ کا بادشاہ رہا (‏۹۱۱۔۹۱۳ ق م‏، ۲۔تواریخ ۱۳:‏ ۱۔۱۴:‏۱ الف)‏۔ 

۱۵:‏ ۱ آیت ۱ میں ایک فارمولا درج ہے جو سلاطین کی کتاب میں اکثر دُہرایا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے تحت کسی بادشاہ کی حکومت کے آغاز کو بیان کرنے کے لئے دوسرے بادشاہ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے جو دوسری سلطنت میں حکومت کر رہا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ اُس نے کتنے عرصے تک حکومت کی۔ یوں یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ابیام یہوداہ پر ‏، یربعام کے اِسرائیل پر حکومت کے اٹھارہویں سال میں حکومت کرنے لگا۔ اُسے ابیاہ بھی کہا گیا ہے (‏۱۔تواریخ ۳:‏۱۰؛ ۲۔تواریخ ۱۲:‏۱۶)‏۔ 

۱۵:‏ ۲ یہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ابیام کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلوم کی بیٹی تھی۔ ۲۔تواریخ ۱۱:‏۲۱ میں یہ ابی سلوم کی بیٹی معکہ ہے اور ۲۔تواریخ ۱۳:‏۲ میں یہ میکایاہ ہے جو اوری ایل کی بیٹی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اُس کی ماں کے دو نام ہوں اور وہ اوری ایل کی بیٹی اور ابی سلوم (‏جیسے ابی شلوم)‏ کی نواسی ہو (‏بائبل میں بہت دفعہ ’’بیٹے‘‘ یا ’’بیٹی‘‘ کو نسل کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے)‏۔ 

۱۵:‏ ۳۔۸ ابیام بت پرستی میں اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلا اور یوں داؤد کی پیروی نہ کی جو اِن معنوں میں وفادار تھا کہ اُس نے کھدی ہوئی مورتوں کی پرستش نہ کی۔ آیات ۴ اور ۵ کا مطلب ہے کہ اگر خدا نے داؤد سے عہد نہ باندھا ہوتا تو وہ ابیام کے گھرانے کو برباد کر دیتا۔ آیت ۵ کے آخر میں ملاحظہ فرمایئے کہ ایک لمحے کی شہوت سے کس طرح ایک مثالی زندگی کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔ رحبعام کے دَور سے اِسرائیل کے ساتھ شروع کی ہوئی جنگ ابیام کے دَورِ حکومت تک جاری رہی۔ آیت ۶ میں رحبعام اور یربعام سے مراد یہوداہ اور اِسرائیل ہے۔ ابیام کی ساری زندگی کے دوران دونوں سلطنتوں کے درمیان جنگ جاری رہی۔ اُس نے اثر و رسوخ اور جنگی ہتھیاروں کے بَل بوتے پر اِسرائیل کو واپس لانے کی کوشش کی یہاں تک کہ اِس کوشش میں پانچ لاکھ اِسرائیلی مار دیئے (‏۲۔تواریخ ۱۳:‏ ۱۔۲۰)‏۔

ہ۔ یہوداہ کا بادشاہ آسا (‏۱۵:‏ ۹۔۲۴)‏

ابیام کے بیٹے آسا نے ۴۱ سال تک یہوداہ پر بادشاہی کی (‏۶۹/ ۸۷۰۔۱۰/ ۹۱۱ ق م بمقابلہ ۲۔تواریخ ۱۴:‏۱ ب ۔۱۶:‏۱۴)‏۔

۱۵:‏ ۹۔۱۵ آسا یہوداہ کے چند ایک اچھے بادشاہوں میں سے تھا۔ اُس نے لوطیوں (‏بت پرست لونڈے باز)‏ کو ملک سے نکال دیا اور اُن تمام بتوں کو برباد کر دیا جو اُس کے آبا و اجداد نے بنائے تھے (‏آیت ۱۲؛ بمقابلہ ۲۔تواریخ ۱۴:‏ ۳۔۵)‏۔ اُس نے اپنی دادی معکہ کو معزول کر دیا اور اُس کی بنائی ہوئی یسیرتوں کو برباد کر دیا‏، لیکن اُن اُونچے مقاموں کو نہ ڈھایا جن کا اِن بتوں سے تعلق تھا۔ اُس نے اپنے باپ اور اپنی طرف سے ہیکل میں نذروں کو داخل کیا۔ 

۱۵:‏ ۱۶۔۲۲ جب شاہِ اِسرائیل نے یروشلیم سے چندکلومیٹر دُور رامہ کو قلعہ بند کرنا شروع کر دیا تو آسا نے محسوس کیا کہ اُس کے صدر مقام کو خطرہ درپیش ہے۔ تاہم اُس نے خداوند کی طرف رجوع کرنے کے بجائے شاہِ ارام بن ہدد سے مدد مانگی۔ اِس غیر قوم بادشاہ کو بڑی رقم دے کر اُسے ترغیب دی کہ وہ گلیل کے علاقے میں اِسرائیل پر شمال کی طرف سے حملہ کرے۔ اِس سے بعشا کی فوجیں شمال کی طرف جانے پر مجبور ہو گئیں اور اُسے رامہ کی تعمیر کو چھوڑنا پڑا۔ پھر آسا نے رامہ میں جو کچھ تعمیر ہوا تھا اُسے مسمار کر دیا اور جبع اور مصفاہ کے قلعہ بند شہر بنائے۔ آسا جو سونا اور چاندی ہیکل میں لایا وہ خداوند کو دیا گیا تھا ۔ جب بعشا اُس کی سلطنت کے لئے خطرہ بن گیا تو اُس نے یہ سب کچھ ایک غیر قوم بادشاہ کو دے کر خدا کے خزانے کو لوٹتے ہوئے ارام کو دولت مند بنا دیا۔ مسیحیوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ جو خدا کا ہے اُسے ہاتھ نہ لگائیں (‏یعنی خدا کا وقت‏، روپیہ وسائل وغیرہ وغیرہ کسی اَور کو نہ دیں)‏۔

۱۵:‏ ۲۳‏،۲۴ آسا کے پاؤں کے روگ کا ذکر کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اِس حقیقت کو ظاہر کیا جائے کہ خدا اُس سے ناراض تھا کیونکہ اُس نے مخلصی کے لئے ارام کے بادشاہ پر بھروسا کیا تھا۔ اُس کی بادشاہت کے آخری تین یا چار سالوں کے دوران غالباً آسا کا بیٹا اُس کے ساتھ حکومت کرنے لگا۔ 

و۔ اِسرائیل کا بادشاہ ندب (‏۱۵:‏ ۲۵۔۲۷)‏

افرائیم کے قبیلے کے ندب بن یربعام نے اِسرائیل پر صرف دو سال حکومت کی (‏۰۸/ ۹۰۹۔۰۹/ ۹۱۰ ق م)‏۔

ندب نے اپنے باپ کی پیروی کرتے ہوئے بت پرستی کو جاری رکھا۔ اُس کی رعایا کے ایک شخص بعشا نے اُس کے خلاف سازِش کر کے اُسے قتل کر دیا۔ اِس کے ساتھ بعشا نے یربعام کے گھرانے کے باقی افراد کو بھی ہلاک کر دیا اور یوں اخیاہ کی پیش گوئی کی تکمیل ہوئی۔ 

ز۔ اِسرائیل کا بادشاہ بعشا (‏۱۵:‏ ۲۸۔۱۶:‏۷)‏

اشکار کے قبیلے کا اخیاہ بن بعشا ۲۴ سال تک اِسرائیل کا بادشاہ رہا۔(‏۸۵/ ۸۸۶۔۰۸/ ۹۰۹ ق م)‏

۱۵:‏ ۲۸۔۳۴ بعشا کے دورِ حکومت سے اِسرائیل کی سلطنت میں ایک دوسرے خاندان کے شاہی سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔ بعشا کے دَورِ حکومت میں یہوداہ اور اِسرائیل کے درمیان کش مکش جاری رہی۔ ترضہ اُس کا صدر مقام تھا اور اُس نے یربعام کی مقرر کردہ بت پرستی کو جاری رکھا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور نباط کے بیٹے یُربعام کی سلطنت کے اٹھارویں سال سے ابیام یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
۲ اُس نے یروشلیم میں تین سال بادشاہی کی ۔ اُس کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلوم کی بیٹی تھی ۔
۳ اُس نے اپنے باپ کے سب گناہوں میں جو اُس نے اُس سے پہلے کیے تھے اُس کی روش اختیار کی اور اُس کا دل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامل نہ تھا جیسا اُس کے باپ داود کا دل تھا ۔
۴ باوجود اِسکے خُداوند اُس کے خُدا نے داود کی خاطر یروشیم میں اُسے ایک چراغ دیا یعنی اُسکے بیٹے کو اُس کے بعد ٹھہرایا اور یروشلیم کو برقرار رکھا ۔
۵ اِس لیے کہ داود نے وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک تھا اور اپنی ساری عمر خُداوند کے کسی حکم سے باہر نہ ہوا سِوا حتی اوریاہ کے معاملہ کے ۔
۶ اور رحبعام اور یُربعام کے درمیان اُسکی ساری عمر جنگ رہی ۔
۷ اور ابیام کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے ؟ اور ابیام اور یُربعام میں جنگ ہوتی رہی ۔
۸ اور ابیام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داو د کے شہر میں دفن کیا اور اُسکا بیٹا آسا اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔
۹ اور شاہِ اسرائیل یُربعام کے بیسویں سال سے آسا یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
۱۰ اُس نے اکتالیس برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلوم کی بیٹی تھی ۔
۱۱ اور آساّ نے اپنے باپ داود کی طرح وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک تھا ۔
۱۲ اُس نے لُوطیوں کو مُلک سے نکال دیا اور اُن سب بُتوں کو جنکو اُسکے باپ دادا نے بنیا تھا دُور کر دیا ۔
۱۳ اور اُس نے اپنی ماں معکہ کو بھی ملکہ کے رُتبہ سے اُتار دیا کیونکہ اُس نے ایک یسیرت کے لیے ایک نفرت انگی بُت بنایا تھا ۔ سو آسا نے اُس کے بُت کو کاٹ ڈالا اور وادیِ قدرون میں اُسے جلا دیا ۔
۱۴ لیکن اونچے مقام ڈھائے نہ گئے تو بھی آسا کا دل عمر بھر خُداوند کے ساتھ کامل رہا ۔
۱۵ اور اُس نے وہ چیزیں جو اُسکے باپ نے نذر کی تھیں اور وہ چیزیں جو اُس نے آپ نذر کی تھیں یعنی چاندی اور سونا اور ظُروف سب کو خُداوند کے گھر میں داخل کیا ۔
۱۶ اور آسا اور شاہِ اسرائیل بعشا میں اُنکی عمر بھر جنگ رہی ۔
۱۷ اور شاہِ اسرائی بعشا نے یہوداہ پر چڑھائی کی اور رامہ کو بنایا تاکہ شاہِ یہوداہ آسا کے پاس کسی کی آمد و رفت نہ ہو سکے ۔
۱۸ تب آسا نے سب چاندی اور سونے کو جو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں باقی رہا تھا اور شاہی محل کے خزانوں کو لیکر اُنکو اپنے خادموں کے سپرد کیا اور آسا بادشاہ نے اُنکو اپنے خادموں کے سپرد کیا اور آسا بادشاہ نے اُنکو شاہِ ارام بن ہدد کے پاس جو حزیون کے بیٹے طا برمون کا بیٹا تھا اور دمشق میں رہتا تھا روانہ کیا اور کہلا بھیجا ۔
۱۹ کہ میرے او ر تیرے درمیان اور میرے باپ اور تیرے باپ کے درمیان عہد و پیمان ہے ۔ دیکھ میں نے تیرے لیے چاندی اور سونے کا ہدیہ بھیجا ہے سو تُو آکر شاہِ اسرائیل بعشا سے عہد شکنی کر تاکہ وہ میرے پاس سے چلا جائے ۔
۲۰ اور بن ہدد نے آسا بادشاہ کی بات مانی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو اسرائیلی شہروں پر چڑھائی کرنےکو بھیجا اور عیون اور دان اور ابیل بیت معکہ اور سارے کنرت اور نفتالی کے سارے مُلک کو مارا ۔
۲۱ جب بعشا نے یہ سُنا تو رامہ کے بنانے سے ہاتھ کھینچا اور ترضہ میں رہنے لگا
۲۲ تب آسا بادشاہ نے سارے یہوداہ میں منادی کرائی او ر کوئی معذور نہ رکھا گیا ۔ سو وہ رامی کے پتھر کو اور اُسکی کڑیوں کو جن سے بعشا اُسے تعمیر کر رہا تھا اُٹھا لے گئے اور آسا بادشاہ نے اُن سے بنیمین کے جبع اور مصافہ کو بنایا ۔
۲۳ اور آسا کا باقی سب حال اور اُسکی ساری قوت اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور جو شہر اُس نے بنائے سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ ک کتاب میں قلمبند نہیں ہیں ؟ لیکن اُس کے بڑھاپے کے وقت میں اُسے پاوں کا روگ لگ گیا ۔
۲۴ اور آسا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ دادا کے ساتھ اپنے باپ داود کے شہر میںدفن ہوا اور اُس کا بیٹا یہوسفط اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
۲۵ اور یہوداہ آسا کی سلطنت کے دوسرے سال سے یُربعام کا بیٹا ندب اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اسرائیل پ دو برس سلطنت کی ۔
۲۶ اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جس سے اُس ے اسرائیل سے گناہ کرایا تھا ۔
۲۷ اور اخیاہ کے بیٹے بعشا نے جو اِشکار کے گھرانے کا تھا اُسکے خلاف سازش کی اور بعشا نے جبون میں جو فلستیوں کا تھا اُسے قتل کیا کیونکہ ندب اور سارے اسرائیل نے جبون کا محاصہ کر رکھا تھا ۔
۲۸ شاہِ یہوداہ آسا کے تیسرے ہی سال بعشا نے اسے قتل کیا اور اُسکی جگہ سلطنت کرنے لگا ۔
۲۹ اور جوں ہی وہ بادشاہ ہوا اُس نے یُربعام کے سارے گھرانے کو قتل کیا اور جیسا خُداوند نے اپنے خادم اخیاہ سیلانی کی معرفت فرمایا تھا اُس نے یُربعام کے لیے کسی سانس لینے والے کو بھی جب تک اُسے ہلاک نہ کر ڈالا نہ چھوڑا ۔
۳۰ یُربعام کے اُن گناہوں کے سبب سے جو اُس نے آپ کیے اور جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا اور اُسکے اُس غصہ دلانے کے سبب سے جس سے اُس نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کے غضب کو بھڑکایا ۔
۳۱ اورندب کا باقی حال اور سب چھ جو اُس نے کیا س کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
۳۲ اور آسا اور شاہِ اسرائیل بعشا کے درمیان اُنکی عمر بھر جنگ رہی ۔
۳۳ اور شاہِ یہوداہ آسا کے تیسرے سال سے اخیاہ کا بیٹا بعشا ترضہ میں سارے اسرائیل پر بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے چوبیس برس سلطنت کی ۔
۳۴ اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یُربعام کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جس سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا ۔