۲۔ موسیٰ کی پیدائش، اُس کا بچ جانا اور اُس کی تربیت (باب ۲)
۲:۱، ۲ آیت ایک میں مذکور لاوی کے گھرانے کا ایک شخص عمرام اور لاوی نسل کی ایک عورت یوکبد (۶:۲۰) تھی۔ یوں موسیٰ کے والدین کا تعلق لاوی کے کہانتی قبیلے سے تھا۔ ایمان سے موسیٰ کے والدین نے موسیٰ کو تین مہینے تک چھپائے رکھا (عبرانیوں ۱۱:۲۳)۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُنہیں ضرور کوئی مکاشفہ ہوا ہو گا کہ وہ خوش نصیب بچہ ہو گا، کیونکہ ایمان کی بنیاد خدا کے مکاشفاتی کلام پر ہے۔
۲:۳۔۸ یوکبد کا ٹوکرا نوح کی کشتی کی طرح مسیح کی تصویر کو پیش کرتا ہے۔ موسیٰ کی بہن کا نام مریم تھا (گنتی ۲۶:۵۹)۔ بظاہر یہ باب اِتفاقات سے بھرپور ہے۔ مثلاً فرعون کی بیٹی نہانے کے لئے کیوں عین اُسی جگہ آئی جہاں بچہ پڑا ہوا تھا؟ بچہ کیوں رونے لگا اور اُسے ترس کھانے کے لئے اپنی طرف متوجہ کیا؟ کیوں فرعون کی بیٹی نے موسیٰ کی ماں کو اُسے دودھ پلانے کے لئے قبول کر لیا؟
۲:۹، ۱۰ مسیحی والدین کو آیت ۹ کے الفاظ کو ایک مقدس فریضہ اور قابلِ اعتماد وعدہ سمجھنا چاہئے۔ مصری زُبان میں ’موسیٰ‘ نام کا مطلب ’’بچہ‘‘ یا ’’بیٹا‘‘ ہے اور عبرانی زبان میں اِسی نام کا مطلب ہے ’’نکالا ہوا‘‘ یعنی پانی سے نکالا ہوا۔ میکن ٹاش درج ذیل تاثرات دیتا ہے:
’’ابلیس اپنے ہی ہتھیار سے ناکام ہو گیا، یعنی فرعون کو وہ خدا کے مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُسی کو خدا نے موسیٰ کی پرورش کے لئے استعمال کیا جو شیطان کی قوت کو ختم کرنے کے لئے آلۂ کار تھا۔‘‘
۲:۱۱، ۱۲ ہمیں اعمال ۷:۲۳ سے پتا چلتا ہے کہ موسیٰ چالیس برس کا تھا جب وہ اپنے لوگوں کا حال معلوم کرنے کے لئے گیا۔ اُس کا مصری کو مار ڈالنا درست قدم نہ تھا، اُس کا جوش اُس کے ہوش اور عقل پر غالب آ گیا۔ ایک دن آئے گا جب خدا اپنے لوگوں کو مصریوں سے مخلصی دلانے کے لئے موسیٰ کو استعمال کرے گا، لیکن ابھی وقت نہیں تھا۔ پہلے اُسے چالیس سال بیابان میں خدا کے مکتب سے تربیت حاصل کرنا تھی۔ خدا نے پیش گوئی کی تھی کہ اُس کے لوگ مصر میں ۴۰۰ سال تک غلامی میں رہیں گے (پیدائش ۱۵:۱۳)، چنانچہ موسیٰ کا یہ عمل چالیس سال قبل از وقت تھا۔ اُسے بیابان کی تنہائی میں مزید تربیت کی ضرورت تھی۔ اور قوم کو اینٹیں بنانے کے لئے مزید تربیت کی ضرورت تھی۔ خدا اپنی لامحدود حکمت کے تحت تمام حالات کو ترتیب دیتا ہے۔ اُسے کسی طرح کی جلدی نہیں اور نہ ہی وہ اپنے لوگوں کو ایک لمحے کے لئے بھی ضرورت سے زیادہ مصیبت میں رہنے دے گا۔
۲: ۱۳۔۱۵الف جب موسیٰ دوسرے دن باہر گیا اور دو عبرانی شخصوں کی لڑائی مٹانے کی کوشش کی تو اُنہوں نے اُس کی قیادت کو ردّ کر دیا، جیسا کہ عبرانیوں نے اُس کے بعد اُسے بھی ردّ کر دیا جو موسیٰ سے بڑا تھا۔ جب اُسے پتا چلا کہ اُنہیں اِس بات کا علم ہے کہ اُس نے مصری کو مار ڈالا ہے تو وہ ڈر گیا۔ جب فرعون نے اس قتل کے بارے میں سنا تو وہ موسیٰ کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔ چنانچہ موسیٰ مدیان کی سرزمین یعنی عرب یا سینا کے علاقے میں بھاگ گیا۔
۲:۱۵ ب ۔۲۲ مدیان کے ایک کنوئیں پر موسیٰ نے چند اکھڑ اور بدمزاج چرواہوں کے خلاف مدیان کے کاہن کی سات بیٹیوں کی مدد کر کے اُن کے ریوڑوں کو پانی پلایا۔ مدیان کے کاہن کو دو نام دیئے گئے ہیں یعنی یترو (۳:۱) اور رعوایل (آیت ۱۸)۔ مدیانیوں کا عبرانیوں سے دُور کا رشتہ تھا (پیدائش ۲۵:۲)۔ یترو نے اپنی بیٹی صفورہ کی موسیٰ سے شادی کر دی۔ اِس سے اُس کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا اُس نے جیرسوم نام رکھا (اِس کا مطلب ہے وہاں اجنبی)۔
۲:۲۳۔۲۵ خدا اپنے لوگوں کی بُری حالت سے بے خبر نہ تھا۔ جب ایک نیا بادشاہ تخت نشین ہوا تو خدا نے اپنے لوگوں کا کراہنا سنا اور اپنے عہد کو یاد کیا اور بنی اِسرائیل پر نظر کی اور اُن کے حال کو معلوم کیا۔ اُس کا جوابی قدم یہ تھا کہ اپنے خادم کو مصر (باب ۳) میں واپس لائے تاکہ وہ اپنے لوگوں کو اس ملک سے نکالنے کے لئے قدرت اور قوت کا زور دار مظاہرہ کرے … ایسا مظاہرہ کہ تخلیقِ کائنات کے وقت سے کبھی نہ ہوا ہو۔
مقدس کتاب
۱ اور لادی کے گھرانے کے ایک شخص نے جا کر لاوی کی نسل کی ایک عورت سے بیاہ کیا ۔
۲ وہ عورت حاملہ ہو ئی اور اُسکے بیٹا ہوا اُس نے یہ دیکھ کر کہ بچہ خُوبصورت ہے تین مہینے تک اُسے چھپا کر رکھا ۔
۳ اور جب اُسے اور زیادہ چھپا نہ سکی تو اُس نے سر کنڈوں کا ایک ٹوکرا لیا اور اُس پر چکنی مٹی اور رال لگا کر لڑکے کو اُس میں رکھا اور اُسے دریا کے کنارے جھاو میں چھوڑ آئی ۔
۴ اور اُسکی بہن دُور کھٹری رہی تاکہ دیکھے کہ اُسکے ساتھ کیا ہو تا ہے ۔
۵ اور فرعون کی بیٹی دریا پر غُسل کر نے آئی اور اُسکی سہیلیاں دریا کے کنا رے کنا رے ٹہلنے لگیں ۔تب اُس نے جھاو میں وہ ٹوکرا دیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اُسے اُٹھا لائے ۔
۶ جب اُس نے اُسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا تو وہ بچہ رو رہا تھا ۔ اُسے اُس پر رحم آیا اور کہنے لگی یہ کیسی عبرانی کا بچہ ہے ۔
۷ تب اُسکی بہن نے فرعون کی بیٹی سے کہا کیا میں جا کر عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تیرے پاس بُلا لاوں جو تیر ے لئے اس بچے کع دُودھ پلا یا کرے ؟۔
۸ فِرعون کی بیٹی نے اُسے کہا جا ۔وہ لڑکی جا کر اُس کی ماں کو بُلا لائی ۔
۹ فِرعون کی بیٹی نے اُسے کہا تو اِس بچے کو لے جا کر میرےلیے دُودھ پلا ۔ میں تُجھے تیری اُجرت دیا کرونگی ۔وہ عورت اُس بچے کو لے جا کر دُودھ پلانے لگی ۔
۱۰ جب بچہ کُچھ بڑا ہوا تو وہ اُسے فِرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی اور وہ اُسکا بیٹا ٹھہرا اور اُس نے اُس کا نام موسیٰ یہ کہہ کر رکھا کہ میں نے اُسے پانی سے نکالا ۔
۱۱ اِتنے میں جب موسیٰ بڑا ہو تو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور اُنکی مشقتوں پر اُسکی نظر پڑی اور اُس نے دیکھا کی ایک مصری اُسکے ایک عبر انی بھائی کو مار رہا ہے۔
۱۲ پھر اُس نے اِدھر اُدھر نگا ہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کو ئی دُوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اُسے ریت میں چھپا دیا ۔
۱۳ پھر دُوسرے دن وہ باہر گیا اور دیکھا کہ وہ عبرانی آپس مین مار پیٹ کر رہے ہیں ۔ تب اُس نے اُسے جسکا قصور تھا کہا کہ تُو اپنے ساتھی کو کیوں مارتا ہے ۔
۱۴ اُس نے کہا تجھے کس نے ہم پر حکم یا منصف مقرر کیا ؟کیا جس طرح تُو نے اُس مصر ی کو مار ڈالا مجھے بھی ما ڈالنا چاہتا ہے ؟تب موسیٰیہ سوچ کر ڈرا کہ بلاشک یہ بھید فاش ہو گیا ۔
۱۵ جب فِرعون نے یہ سُنا تو چاہا کہ موسیٰ کو قتل کرے پر موسیٰ فِرعون کے حغور سے بھاگ کر مُلکِ مدیان مین جا بسا ۔ وہاں وہ ایک کُوئیں کے نزدیک بیٹھا تھا ۔
۱۶ اور مدیان کے کا ہن کی سات بیٹیاں تھیں ۔وہ آئیں اور پانی بھر بھر کر کھٹروں میں دالنے لگیں تاکہ اپنے باپ کی بھیڑبکریوں کو لائیں ۔
۱۷ اور گڈرئے آکر اُنکو بھگانے لگے لیکن موسیٰ کھڑا ہوگیااور اُس نے اُ ن کی مدد کی اور اُن کی بھیڑ بکریوں کو پانی پلایا۔
۱۸ اور جب وہ اپنے باپ رعوایل کے پاس لوٹیں تو اُس نے پوچھا کہ آج تم اس قدر جلد کیسے آگئیں؟۔
۱۹ اُنہوں نے کہا ایک مصری نے ہم کو گڈریوں کے ہاتھ سے بچایااور ہمارے بدلے پانی بھر بھر کر بھیڑ بکریوں کو پلایا۔
۲۰ اُس نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ وہ آدمی کہاںہے؟تم اُسے کیوں چھوڑ آئیں؟اُسے بُلا لائوکہ روٹی کھائے۔
۲۱ اور موسیٰ اُس شخص کے ساتھ رہنے کو راضی ہو گیا۔تب اُس نے اپنی بیٹی صضورہ موسیٰ کو بیاہ دی۔
۲۲ اور اُس کے ایک بیٹا ہوا اور موسیٰ نے اُس کا نام جیرسوم یہ کہہ کر رکھا کہ میں اجنبی ملک میں مسافر ہوں۔
۲۳ اور ایک مُدت کے بعد یوں ہو کہ مصر کا بادشاہ مر گیا اور بنی اسرائیل اپنی غلامی کے سبب سے آہ بھرنے لگے اور روئے اور اُنکا رونا جو اُنکی غلامی کے باعث تھا خدا تک پہنچا ۔
۲۴ اور خدا نے اُن کا کراہنا سُنا اور خدا نے اپنے عہد کو جو ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کے ساتھ تھا یاد کیا ۔
۲۵ اور خدا نے بنی اسرائیل پر نظر کی اور اُنکے حال کو معلوم کیا ۔