(۴) ابرہام کا موعودہ وارث (باب ۱۵)
۱۵:۱ پہلی آیت کا چودھویں باب کے آخری حصے سے گہرا تعلق ہے۔ چونکہ اِس عظیم بزرگ نے سدوم کے بادشاہ کے تحائف قبول کرنے سے اِنکار کر دیا، اِس لئے خداوند نے اُسے کہا ’’اے ابرام تُو مت ڈر۔ مَیں تیری
سِپر اور تیرا بہت بڑا اَجر ہوں۔‘‘ یوں خدا نے ابرام کے تحفظ اور بہت زیادہ امارت کا وعدہ کیا۔
۱۵:۲۔۶ بے اولاد ہونے کی وجہ سے ابرام کو ڈر تھا کہ اُس زمانے کے دستور کے مطابق الیعزر دمشقی اُس کا وارث ہو گا۔ لیکن خدا نے اُس سے وعدہ کیا کہ اُس کے ’’صُلب سے‘‘ بیٹا پیدا ہو گا اور کہ اُس کی اولاد
ستاروں کی مانند اَن گنت ہو گی۔ اِنسانی طور پر یہ ناممکن نظر آتا تھا، کیونکہ سارَی کی عمر گزر چکی تھی جب وہ بچہ جن سکتی تھی۔ لیکن ابرام خدا کے وعدے پر ایمان لایا، اور خدا نے اُسے راست باز ٹھہرایا۔ ایمان سے راست باز ٹھہرائے جانے
کا رومیوں ۴:۳؛ گلتیوں ۳:۶ اور یعقوب ۲:۲۳ میں بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ ۱۳:۱۶ میں خدا نے وعدہ کیا کہ اُس کی اولاد خاک کے ذرّوں کی مانند بے شمار ہو گی، لیکن یہاں ۱۵:۵ میں لکھا ہے کہ یہ ستاروں کی مانند بے شمار ہو گی۔ خاک سے
مراد ابرام کی فطری اولاد ہے، یعنی وہ جو پیدائشی طور پر یہودی ہیں۔ ستاروں سے مراد اُس کی روحانی نسل ہے۔ یعنی وہ جو ایمان سے راست باز ٹھہرائے گئے ہیں (گلتیوں ۳:۷)۔
۱۵:۷۔۲۱ اولاد (آیات ۱۔۶) اور ملک (آیات ۷،۸،۱۸۔۲۱) کے وعدے کی تصدیق کے لئے خدا نے عجیب اور بہت ہی بامعنی علامات و نشانات ظاہر کئے۔ (آیات ۹۔۲۱)
قدیم مشرقی روایت کے مطابق عہد باندھتے وقت دونوں اشخاص ذبح کئے ہوئے جانوروں کے ٹکڑوں میں سے گزرتے اور یوں علامتی طور پر اِس اَمر کی تصدیق کرتے کہ وہ اپنے قائم کردہ عہد کی تکمیل کے لئے اپنی زندگیوں کی ضمانت دیتے ہیں (یرمیاہ
۳۴:۱۸،۱۹)۔ لیکن پیدائش ۱۵ باب میں صرف خدا جس کی حضوری کو تنور کے دھوئیں اور مشعل سے ظاہر کیا گیا ذبح کئے ہوئے جانوروں کے ٹکڑوں میں سے گزرا، جب کہ ابرام خدا کے مفت فضل کے اِس عجیب و غریب اِظہار کا محض خاموش تماشائی تھا۔
اِس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ یہ ایک غیر مشروط عہد تھا اور اِس کی تکمیل کا اِنحصار صرف خدا پر تھا۔
اِس حصۂ کلام کے ایک اَور نظریے کے مطابق قربانی کے یہ ٹکڑے اِسرائیلی قوم کو پیش کرتے ہیں۔ ’’شکاری پرندے‘‘ غیر اقوام کو پیش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مصر اُن کا ملک نہیں ہے۔ بنی اِسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کیا جائے گا اور وہ
’’چوتھی پشت میں‘‘ کنعان میں واپس آئیں گے۔ تنور کا دھواں اور جلتی ہوئی مشعل اِسرائیل کے قومی مقدر، یعنی اُن کی مصیبتوں اور گواہی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اِسرائیل کی مخلصی اُس وقت تک نہیں ہو گی جب تک ’’اموریوں‘‘ کی بدی اپنی اِنتہا تک نہیں پہنچ جاتی۔ کنعان کے بے دین باسیوں کا بالآخر قلع قمع ہونا تھا۔ لیکن خدا اکثر بدی کو پروان چڑھنے دیتا ہے، بعض اوقات اِس حد تک کہ یہ اُس کے لوگوں
کے لئے ضرر رساں ثابت ہوتی ہے اور وہ پھر اُس کی سزا دیتا ہے۔ وہ تحمل کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو، حتیٰ کہ بگڑے ہوئے اموریوں کے لئے بھی تحمل کرتا ہے (۲۔پطرس ۳:۹)۔ وہ بدی کو اُس کی اِنتہا تک پہنچنے دیتا ہے تاکہ
اُس کے ہولناک نتائج سب پر واضح ہو جائیں تاکہ یہ ثابت ہو کہ اُس کا غضب بالکل دُرست ہے۔
آیت ۱۳ اور ۱۴ میں تواریخی اُلجھن ہے۔ اِن میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ ابرام کی نسل کے لوگ ’’۴۰۰ برس تک‘‘ پردیس میں سخت غلامی میں رہیں گے اور وہ اِس وقت کے آخر میں واپس آئیں گے، اور وہاں سے اپنے ساتھ ’’بہت بڑی دولت‘‘ لے کر آئیں
گے۔ اعمال ۷:۶ میں ۴۰۰ سال کا یہی عدد دُہرایا گیا ہے۔
لیکن خروج۱۲:۴۰،۴۱میں ہم پڑھتے ہیں کہ بنی اِسرائیل کو مصر میں بودوباش کرتے ہوئے ٹھیک اُس روز تک ۴۳۰ سال گزر گئے۔
گلتیوں ۳:۱۷ میں پولس بیان کرتا ہے کہ ابرہام کے عہد کی تصدیق سے شریعت دیئے جانے تک کا عرصہ ۴۳۰ برس تھا۔
اِن مختلف عددوں میں کیسے ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے؟
پیدائش ۱۵:۱۳ اور اعمال ۷:۶ میں مذکور چار سو سال کا عرصہ بنی اِسرائیل کی مصر میں سخت غلامی سے تعلق رکھتا ہے۔ یعقوب اور اُس کا خاندان جب مصر میں آئے تو وہ اُس وقت غلامی میں نہیں تھے، بلکہ اِس کے برعکس اُن سے شاہانہ سلوک کیا
گیا۔
خروج ۱۲:۴۰،۴۱ میں ۴۳۰ سالوں کا تعلق اُس کل عرصے سے ہے جو بنی اِسرائیل نے مصر میں اُس روز تک گزارا۔ یہ صحیح عدد ہے۔
گلتیوں ۳:۱۷ میں ۴۳۰ سال کا تقریباً وہی دَور ہے جس کا ذکر خروج ۱۲:۴۰ میں ہے۔ اُن کا اُس وقت سے شمار کیا گیا ہے جب خدا نے ابراہیمی عہد کی یعقوب سے تصدیق کی یعنی عین اُس وقت سے لے کر جب وہ مصر میں جانے کی تیاری کر رہا تھا
(پیدائش ۴۶:۱۔۴)۔ اُس وقت سے خروج کے تین ماہ بعد شریعت دیئے جانے تک تقریباً ۴۳۰ سال ہی گزرے۔
پیدائش ۱۵:۱۶ میں مذکور چار پشتوں کو خروج ۶:۱۶۔۲۰ میں دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی لاوی، قہات، عمرام اور موسیٰ۔ بنی اِسرائیل نے ۱۸۔۲۱ آیات میں موعودہ مُلک پر ابھی تک قبضہ نہیں کیا تھا۔ سلیمان اِن ریاستوں پر فرماں روا تھا (۱۔سلاطین
۴:۲۱، ۲۴) یعنی یہ ممالک اُس کے زیرنگین تھے، لیکن اُس کے لوگوں کا اِن ممالک پر قبضہ نہیں تھا۔ جب مسیح بادشاہی کرنے کے لئے واپس آئے گا تو اِس عہد کی اُس وقت تکمیل ہو گی۔ کوئی شخص اِس تکمیل کو نہیں روک سکتا۔ جس بات کا خدا نے
وعدہ کیا ہے، یہ بالکل ایسے ہی یقینی ہے جیسا کہ یہ پہلے سے وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
’’دریائے مصر‘‘ (آیت ۱۸)۔ عام خیال ہے کہ یہ چھوٹی سی ندی غزہ کے جنوب میں ہے اور آج کل اِسے وادی العرش کہا جاتا ہے۔ دریائے مصر سے دریائے نیل مراد نہیں ہے۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔اِن باتوں کے بعد خُداوند کا کلام رویا میں ابرامؔ پر نازِل ہُؤا اور اُس نے فرمایا اَے ابرامؔ تُو مت ڈر۔ مَیں تیری سِپر اور تیرا بُہت بڑا اجر ہُوں۔
۲۔ابرامؔ نے کہا اَے خُداوند خُدا تُو مُجھے کیا دے گا؟ کیونکہ مَیں تو بے اَولاد جاتا ہُوں اور میرے گھر کا مُختار دمِشقی الِیعزرؔ ہے۔
۳۔پِھر ابرامؔ نے کہا دیکھ تُو نے مُجھے کوئی اَولاد نہیں دی اور دیکھ میرا خانہ زاد میرا وارِث ہو گا۔
۴۔تب خُداوند کا کلام اُس پر نازِل ہُؤا اور اُس نے فرمایا یہ تیرا وارِث نہ ہو گا بلکہ وہ جو تیرے صُلب سے پَیدا ہو گا وُہی تیرا وارِث ہو گا۔
۵۔اور وہ اُس کو باہر لے گیا اور کہا کہ اب آسمان کی طرف نِگاہ کر اور اگر تُو ستاروں کو گِن سکتا ہے تو گِن اور اُس سے کہا کہ تیری اَولاد اَیسی ہی ہو گی۔
۶۔اور وہ خُداوند پر اِیمان لایا اور اِسے اُس نے اُس کے حق میں راست بازی شُمار کِیا۔
۷۔اور اُس نے اُس سے کہا کہ مَیں خُداوند ہُوں جو تُجھے کسدیوں کے اُور سے نِکال لایا کہ تُجھ کو یہ مُلک مِیراث میں دُوں۔
۸۔اور اُس نے کہا اَے خُداوند خُدا! مَیں کیوں کر جانُوں کہ مَیں اُس کا وارِث ہُوں گا؟
۹۔اُس نے اُس سے کہا کہ میرے لِئے تِین برس کی ایک بچھِیا اور تِین برس کی ایک بکری اور تِین برس کا ایک مینڈھا اور ایک قُمری اور ایک کبُوتر کا بچہّ لے۔
۱۰۔اُس نے اُن سبھوں کو لِیا اور اُن کو بیِچ سے دو ٹُکڑے کِیا اور ہر ٹُکڑے کو اُس کے ساتھ کے دُوسرے ٹُکڑے کے مُقابِل رکھّا مگر پرِندوں کے ٹُکڑے نہ کِئے۔
۱۱۔تب شِکاری پرِندے اُن ٹُکڑوں پر جھپٹنے لگے پر ابرام ؔاُن کو ہنکاتا رہا۔
۱۲۔سُورج ڈُوبتے وقت ابرامؔ پر گہری نِیند غالِب ہُوئی اور دیکھو ایک بڑی ہَولناک تارِیکی اُس پر چھا گئی۔
۱۳۔اور اُس نے ابرامؔ سے کہا یقِین جان کہ تیری نسل کے لوگ اَیسے مُلک میں جو اُن کا نہیں پردیسی ہوں گے اور وہاں کے لوگوں کی غُلامی کریں گے اور وہ چار سَو برس تک اُن کو دُکھ دیں گے۔
۱۴۔لیکن مَیں اُس قَوم کی عدالت کرُوں گا جِس کی وہ غُلامی کریں گے اور بعد میں وہ بڑی دَولت لے کر وہاں سے نِکل آئیں گے۔
۱۵۔اور تُو صحیح سلامت اپنے باپ دادا سے جا مِلے گا اور نِہایت پِیری میں دفن ہو گا۔
۱۶۔اور وہ چَوتھی پُشت میں یہاں لَوٹ آئیں گے کیونکہ امورِیوں کے گُناہ اب تک پُورے نہیں ہُوئے۔
۱۷۔اور جب سُورج ڈُوبا اور اندھیرا چھا گیا تو ایک تنُور جِس میں سے دُھواں اُٹھتا تھا دِکھائی دِیا اور ایک جلتی مشعل اُن ٹُکڑوں کے بیِچ میں سے ہو کر گُذری۔
۱۸۔اُسی روز خُداوند نے ابرامؔ سے عہد کِیا اور فرمایا کہ یہ مُلک دریائے مِصرؔ سے لے کر اُس بڑے دریا یعنی دریائے فراتؔ تک۔
۱۹۔قینیوں اور قنیزیوں اور قدمُونیوں۔
۲۰۔اور حتِّیوں اور فرِزّیوں اور رفائیم۔
۲۱۔اور اموریوں اور کنعانیوں اور جِرجاسیوں اور یبوسیوں سمیت میں نے تیری اَولاد کو دِیا ہے۔