(۱۳) اخی اَب کی آخری جنگ (۲۲: ۱۔۴۰)
۲۲: ۱۔۶ ارام اور اِسرائیل کے درمیان تین سال کے امن کے بعد اخی اب کو خیال آیا کہ یردن کے مشرق میں رامات جلعاد کو بذریعہ جنگ ارامیوں سے واپس چھین لے۔ بِن ہدد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اِسرائیل کے شہر واپس کر دے گا، لیکن جب اخی اب نے اُس پر رحم کیا (۲۰: ۳۴) تو وہ اپنے اِس وعدے کو پورا کرنے سے قاصر رہا۔ اِنہی ایام میں شاہِ یہوداہ یہوسفط اخی اَب کے پاس آیا اور اُس نے جنگی مہم میں تعاون کے لئے رضامندی کا اِظہار کیا۔ لیکن یہوسفط نے یہ مشورہ دیا کہ پہلے انبیا کی معرفت خداوند کی مرضی معلوم کی جائے۔ اخی اب کے دربار میں چار سو انبیا نے اِس منصوبے کی حمایت کی اور بتایا کہ اُنہیں فتح حاصل ہو گی۔ ممکن ہے کہ یہ وہی چار سو انبیا ہوں جو ایلیاہ کے چیلنج پر کوہِ کرمل پر نہیں گئے تھے (۱۸: ۱۹،۲۲)۔
۲۲: ۷۔۱۲ یہوسفط کو غیر یقینی کا احساس ہوا ہو گا کیونکہ اُس نے یہ سوال کیا تھا ’’کیا اِن کے علاوہ خداوند کا کوئی نبی ہے جس سے پوچھا جائے؟‘‘ اِس سوال پر میکاہ کا نام لیا گیا جو ایک نڈر نبی تھا۔ اخی اب اُسے پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ مصالحت آمیز پیغامات نہیں دیتا تھا۔ خیر، میکاہ کو بلایا گیا، جب کہ ۴۰۰ نبی متفقہ طور پر شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہوداہ کو ارام پر چڑھائی کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اُن میں سے صدقیاہ نامی ایک نبی نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ارام کے مقابلے میں اخی اب اور یہوسفط کی قوت ناقابلِ تسخیر ہے لوہے کے دو سینگ بنوائے۔
۲۲: ۱۳۔۱۷ میکاہ کو بتایا گیا کہ اُس کا پیغام دوسرے انبیا کے پیغام سے ہم آہنگ ہونا چاہئے، لیکن اِس نصیحت کا اُس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ جب اخی اب نے پوچھا کہ آیا رامات جلعاد پر چرھائی کی جائے تو میکاہ نے بھی دوسرے نبیوں جیسی بات کہی ’’جا اور کامیاب ہو کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضے میں کر دے گا۔‘‘ لیکن عین ممکن ہے کہ اُس نے یہ مذاق کے طور پر کہا ہو۔ اُس کی آواز سے طنز ٹپک رہا تھا۔
اخی اب کو اِس بات کا احساس ہوا۔ اِس لئے اُس نے میکاہ کو قسم کھلا کر کہا کہ اُسے سچ بتائے (احبار ۵:۱)۔ تب نبی نے ایک رُؤیا بتایا جس میں بنی اِسرائیل ایسی پراگندہ بھیڑوں کی مانند تھے جن کا کوئی چرواہا نہ ہو، جس سے یہ اخذ ہوتا تھا کہ اخی اَب کو قتل کر دیا جائے گا اور اُس کی فوج منتشر ہو جائے گی۔
۲۲: ۱۸۔۲۳ اخی اَب کے نزدیک یہ ایک اَور ثبوت تھا کہ میکاہ اُس کے بارے میں صرف بُری نبوت کرے گا۔ تب دلیر نبی نے ایک اَور رُؤیا بتایا، جس میں جھوٹ بولنے والی روح خداوند کے حضور حاضر ہوئی کہ وہ اخی اَب کو فریب دے گی کہ وہ رامات جلعاد پر چڑھائی کرے اور قتل کیا جائے۔ جھوٹ بولنے والی روح بادشاہ کے سارے نبیوں کے منہ میں یہ صلاح ڈالے گی۔ یہ بات اِس کا اظہار ہے کہ خدا جو بدی کا بانی نہیں ہے، اُسے حتمی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ اُس نے جھوٹ بولنے والی روح بھیجی، اِس کا محض یہ مطلب ہے کہ اُس نے اُسے آنے کی اِجازت دی۔
۲۲: ۲۴،۲۵ اِس تمثیل کے نقطۂ اِطلاق کو صدقیاہ نے نظر انداز نہ کیا۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اُسے اَور دیگر نبیوں پر جھوٹ بولنے کا الزام ہے، اُس نے میکاہ کے گال پر تھپڑ مارا اور اُس سے پوچھا، ’’خداوند کی روح تجھ سے بات کرنے کو کس راہ سے ہو کر مجھ میں سے گئی؟‘‘ دوسرے لفظوں میں صدقیاہ کہہ رہا تھا:
’’جب مَیں نے اخی اب کو رامات جلعاد پر چڑھائی کے لئے مشورہ دیا تو مَیں نے خدا کی روح سے تحریک پا کر یہ کیا۔ اب تم بھی دعویٰ کرتے ہو کہ تم روح کی ہدایت سے بول رہے ہو، لیکن تمہاری صلاح میری صلاح کے بالکل اُلٹ ہے۔ روح مجھ میں سے تیرے پاس کیسے گئی؟‘‘
میکاہ نے بڑے اِطمینان سے جواب دیا کہ صدقیاہ کو حقیقت کا اُس وقت علم ہو گا جب وہ خوف کی حالت میں کوٹھڑی میں چھپ جائے گا۔ یعنی جب اخی اب مارا جائے گا تو ظاہر ہو جائے گا کہ صدقیاہ جھوٹا نبی ہے۔
۲۲: ۲۶۔۳۰ غصے میں بپھرے ہوئے اِسرائیل کے بادشاہ نے حکم دیا کہ میکاہ کو قید خانے میں ڈال کر اُسے روٹی اور پانی دیا جائے جب تک وہ (اخی اب) رامات جلعاد سے سلامتی کے ساتھ واپس نہ آ جائے۔ میکاہ نے اُس سے جدا ہوتے ہوئے کہا ’’اگر تُو سلامت واپس آ جائے تو خداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کیا۔‘‘ اخی اب نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگ پر جانے سے پہلے بھیس بدل لے۔ اُسے یہ اُمید تھی کہ یوں وہ میکاہ کی ہولناک پیش گوئی کے انجام سے بچ جائے گا۔ لیکن دوسری طرف یہوسفط اپنا شاہانہ لباس پہنے گا جس کے سبب سے اُسے وہ خطرہ لاحق ہو گا جس سے اخی اب بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اخی اب نے خداوند اور شاہِ ارام کو فریب دینے کی کوشش کی۔ لیکن ’’خدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا‘‘ (گلتیوں ۶:۷)۔ اخی اب کو قتل کر دیا گیا، لیکن یہوسفط بچ گیا۔
۲۲: ۳۱۔۳۶ ارامیوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ شاہِ اِسرائیل کو قتل کریں۔ یہی اُن کا بڑا مقصد تھا۔ پہلے تو اُنہوں نے یہوسفط کو اخی اب تصور کیا۔ خوف کے مارے شاہِ یہوداہ چلّایا۔ شاید یوں وہ اپنی صحیح شناخت کرنا چاہتا تھا۔ تب اخی اب کو جوشن کے بندوں کے درمیان کسی کا چلایا ہوا تِیر لگا جس کے نتیجے میں وہ لڑنے کے قابل نہ رہا۔ اُسے اُس کے رتھ میں ہی سنبھالے رکھا گیا تاکہ اُس کی فوج ہمت نہ ہار جائے۔ جب غروبِ آفتاب کے وقت وہ مر گیا، اور اِس بات کا پتا چل گیا تو اُس کے سپاہی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
۲۲: ۳۷۔۴۰ اخی اب کی لاش کو سامریہ لے جا کر دفن کر دیا گیا۔ اُس کے خون سے آلودہ رتھ کو سامریہ کے اُس تالاب میں دھویا گیا جہاں کسبیاں غسل کرتی تھیں۔ یہ ایلیاہ کی پیش گوئی کی جزوی تکمیل تھی (۲۱:۱۹)۔ یہ یزرعیل کے بجائے سامریہ میں پوری ہوئی (۲۱:۲۹)۔ خدا نے اپنے رحم سے اُس کی پوری تکمیل کو بادشاہ کے بیٹے یورام تکالتوا میں ڈال دیا (۲۔سلاطین ۹: ۲۵،۲۶)۔
اخی اب کو اُس کی موت کے بارے میں علیٰحدہ علیٰحدہ تین پیش گوئیاں ملی تھیں۔ ایک تو اُس بے نام نبی نے کی، جب اخی اب نے بن ہدد کو چھوڑ دیا (۲۰:۴۲)۔ ایک پیش گوئی ایلیاہ نے کی، جب اخی اب نے نبوت کا تاکستان لیا تھا (۲۱:۱۹) اور تیسری پیش گوئی میکاہ نے آخری جنگ سے ایک شام پہلے کی تھی (آیات ۱۷۔۲۳)۔
م۔ یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط (۲۲: ۴۱۔۵۰)
آسا کے بیٹے یہوسفط نے یہوداہ پر ۲۵ سال تک سلطنت کی (۸۴۸۔۷۲/ ۸۷۳ ق م)۔
پہلے تین یا چار سال تک یہوسفط نے اپنے باپ آسا کے ساتھ مل کر حکومت کی۔ ہمیں آیات ۲۔۴ میں پہلے ہی سے یہوسفط سے متعارف کرایا گیا ہے جہاں اُس نے اِسرائیل کے ایک شریر بادشاہ کے ساتھ شرم ناک اتحاد کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ موت کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔ مجموعی طور سے اُس کا دَورِ حکومت اچھا تھا۔ یہوسفط کے اِنتظام کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
- بت پرستی کو دُور کرنے کے لئے وہ اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلا لیکن وہ اِسےپوری طرح ختم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا (آیت ۴۳)۔
- اُس نے اپنے باپ آسا کے ساتھ مل کر حکومت کی۔
- اُس نے شاہِ اسرائیل سے صلح کی (آیات ۴۴)۔
- اُس نے لوطیوں کو ملک سے نکال دیا۔ یہ مرد مذہبی رسم و دستور کے لبادے میںبدکاری کرتے تھے۔
- اُس کی سلطنت میں ادُوم کو شامل کر لیا گیا (۲۔سموئیل ۸:۱۴) جہاں اُس نےایک نائب کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ بعد ازاں ایک انقلاب کے دوران اُس کے بیٹے یہورام سے ادوم چھن گیا (۲۔سلاطین ۸:۲۰)۔
- اُس نے اخی اَب کے بیٹے اخزیاہ کے ساتھ جہاز سازی کے منصوبے میں اِتحادکیا (۲۔تواریخ ۲۰: ۳۵،۳۶)۔ اُن کا منصوبہ تھا کہ وہ سونا لانے کے لئے اوفیر کو جہاز بھیجیں۔ لیکن آندھی سے جہاز بندرگاہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی ٹوٹ گئے (آیت ۴۸)۔ الیعزر نبی نے یہوسفط کو بتایا کہ یہ اِس لئے ہوا کہ خداوند نے اخزیاہ کے ساتھ ناپاک اتحاد کو پسند نہیں کیا تھا (۲۔تواریخ ۲۰:۳۷)۔ جب اخزیاہ نے منصوبے کی تجدید کی تجویز دی تو یہوسفط نے اِنکار کر دیا (آیت ۴۹)۔
ن۔ اِسرائیل کا بادشاہ اخزیاہ (۲۲: ۵۱۔۵۳)
اخی اَب کے بیٹے اخزیاہ نے دو برس تک اِسرائیل پر سلطنت کی (۸۵۲۔۸۵۳ ق م؛ بمقابلہ ۲۔سلاطین ۱: ۱۔۱۸)۔
اخزیاہ کے دَورِ حکومت میں بت پرستی اور بدی حد سے بڑھ گئی۔ اُس کی ماں ایزبل نے اُسے بے دینی پر مجبور کیا جیسے وہ اُس کے باپ کو مجبور کرتی رہی۔ اُس نے بعل کی پرستش کی اور اِسرائیل کے خداوند خدا کو غصہ دلایا۔ بیٹا باپ کی مانند تھا۔ ۱۔سلاطین کا کوئی رسمی اِختتام نہیں کیونکہ ۱۔اور ۲۔سلاطین شروع میں ایک ہی کتاب تھی، محض قاری کی سہولت کے لئے اِسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ۲۔سلاطین میں اِس مقام سے آگے بیان کو جاری رکھا گیا ہے۔
مقدس کتاب
۱ اور تین برس وہ ایسے ہی رہے اور اسرائیل اور ارام کے درمیان لڑائی نہ ہوئی ۔
۲ اور تیسرے سال یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط شاہِ اسرائیل کے ہاں آیا ۔
۳ اور شاہِ اسرائیل نے اپنے مُلازموں سے کہا کیا تُم کو معلوم ہے کہ رامات جلعاد ہمارا ہے پر ہم خاموش ہیں ۔ اور شاہِ ارام کے ہاتھ سے اُسے چھین نہیں لیتے ۔
۴ پھر اُس نے یہوسفط سے کہا ، کیا تُو میرے ساتھ رامات جلعاد سے لڑنے چلے گا ؟ یہوسفط نے شاہِ اسرائیل کو جواب دیا میں ایسا ہوں جیسا تُو ۔ میرے لوگ ایسے ہیں جیسے تیرے لوگ اور میرے گھوڑے ایسے ہیں جیسے تیرے گھوڑے ۔
۵ اور یہوسفط نے شاہِ اسرائیل سے کہا ذرا آج خداوند کی مرضی بھی تو دریافت کر لے ۔
۶ تب شاہِ اسرائیل نے نبیوں کو جو قریب چار سو آدمی تھے اکٹھا کیا اور اُن سے پوچھا میں رامات جلعاد سے لڑنے جاوں یا باز رہوں ۔ اُنہوں نے کہا جا کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا ۔
۷ لیکن یہوسفط نے کہا کیا اِن کو چھوڑ کر یہاں خداوند کا کوئی نبی نہیں ہے تاکہ ہم اُس سے پوچھیں ۔
۸ شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کہ ایک شخص املہ کا بیٹا میکایا ہ ہے تو صیح جس کے ذریعہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن مجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشن گوئی کرتا ہے ، یہوسفط نے کہا بادشاہ ایسا نہ کہے۔
۹ تب شاہِ اسرائیل نے ایک سردار کو بُلا کر کہا کہ اِملہ کے بیٹے میکایاہ کو جلد لے آ ۔
۱۰ اُس وقت شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہواہ یہوسفط سامریہ کے پھاٹک کے سامنے ایک کھُلی جگہ میں اپنے تخت پر شاہانہ لباس پہنے ہوئے بیٹے تھے اور سب نبی اُن کے حضور پیشن گوئی کر رہیے تھے ۔
۱۱ اور کنعانہ کے بیٹے صدقیاہ نے اپنے لیے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ تُو اِن سے ارامیوں کو مارے گا جب تک وہ نابود نہ ہو جائیں ۔
۱۲ اور سب نبیوں نے یہی پیشن گوئی کی اور کہا کہ رامات جلعاد پر چڑھائی کر اور کامیاب ہو کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔
۱۳ اور اُس قاصد نے جو میکایاہ کو بُلانے گیا تھا اُس سے کہا دیکھ ! سب نبی ایک زبان ہو کر بادشاہ کو خوشخبری دے رے ہیں ، سو ذرا تیری بات بھی اُن کی بات کی طرح ہو اور تُو خوشخبری ہی دینا ۔
۱۴ میکایاہ نے کہا خداوند کی حیات کی قسم جو کچھ خداوند مجھے فرمائے میں وہی کہوں گا ۔
۱۵ سو جب وہ بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے اُس سے کہا میکایاہ ہم رامات جلعاد سے لڑنے جائیں یا رہنے دیں ؟ اُس نے جواب دیا جا اور کامیاب ہو کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا ۔
۱۶ بادشاہ نے اُسے کہا میں کتنہ مرتبہ تُجھے قسم دے کر کہوں کے تُو خداوند کے نام سے حق کے سوا اور کچھ مجھ کو نہ بتائے ۔
۱۷ تب اُس نے کہا میں نے سارے اسرائیل کو اُن بھیڑوں کی مانند جن کا چوپان نہ ہو پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا اور خداوند نے فرمایا کہ اِن کا کوئی مالک نہیں سو وہ اپنے اپنے گھر سلامت لوٹ جائے۔
۱۸ تب شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کیا میں نے تُجھ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشن گوئی کرے گا ۔
۱۹ تب اُس سے نے کہا اچھا تُو خداوند کے سُخن کو سُن لے میں نے دیکھا کہ خداوند اپنے تخت پر بیٹھا ہے اور سارا آسمانی لشکر اُس کے دہنے اور بائیں کھڑا ہے ۔
۲۰ اور خداوند نے فرمایا کہ کون اخی اب کو بہکائے گا تاکہ وہ چڑھائی کرے اور رامات جلعاد میں کھیت آئے ؟ تب کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ ۔
۲۱ لیکن ایک روح نکل کر خداوند کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہا میں اُسے بہکاوں گی ۔
۲۲ خداوند نے اُس سے پوچھا کس طرح؟ اُس نے کہا میں جا کر اُس کے سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح بن جاوں گی ۔ اُس نے کہا تُو اُسے بہکا دے گی اور غالب بھی ہو گی ، روانہ ہو جا اور ایسا ہی کر۔
۲۳ سو دیکھ خداوند نے تیرے اِن سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح ڈالی ہے اور خداوند نے تیرے حق میں بدی کا حکم دیا ہے ۔
۲۴ تب کعنانہ کا بیٹا صدقیاہ نزدیک آیا اور اُس نے میکایاہ کے گال پر مار کر کہا خداوند کی روح تُجھ سے بات کرنے کو کس راہ سے ہو کر مجھ میں سے گئی ؟
۲۵ میکایاہ نے کہا یہ تو اُسی دن دیکھ لے گا جب تُو اندر کی ایک کوٹھری میں گھُسے گا تاکہ چھپ جائے ۔
۲۶ اور شاہِ اسرائیل نے کہا میکایاہ کو لے کر اُسے شہر کے نازک عمون اور یوآس شہزاہ کے پاس لوٹا لے جاو۔
۲۷ اور کہنا بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ اِس شخص کو قید خانہ میں ڈال دو اور اِسے مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا جب تک میں سلامت نہ آوں ۔
۲۸ تب میکایاہ نے کہا اگر تُو سلامت واپس آ جائے تو خداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کیا ۔ پھر اُس نے کہا اے لوگو ں تم سب کے سب سُن لو ۔
۲۹ سو شاہِ اسرائیل اور شاہ یہوداہ یہوسفط نے رامات جلعاد پر چڑھائی کی۔
۳۰ اور شاہ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا میں اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں جاوں گا پھر تُو اپنا لباس پہنے رہ سو شاہِ اسرائیل نے اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں گیا ۔
۳۱ اُدھر شاہِ ارام نے اپنے رتھوں کے بتیسیوں کو سرداروں کو حکم دیا تھا کہ کسی چھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا سِوا شاہِ اسرائیل کے ۔
۳۲ سو جب رتھوں کے سرداروں نے یہوسفط کو دیکھا تو کہا کہ ضرور شاہِ اسرائیل یہی ہے اور وہ اُس سے لڑنے کو مُڑے ، تب یہوسفط چِلا اُٹھا ۔
۳۳ جب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اسرائیل نہیں تو وہ اُس کا پیچھا کرنے سے لوٹ گئے
۳۴ اور کسی شخص نے یوں ہی اپنی کمان کھیچنی اور شاہ اسرائیل کو جوشن کے بندوں کے درمیان مارا ۔ تب اُس نے اپنے سارتھی سے کہا کہ باگ پھیر کر مجھے لشکر سے باہر نکال لے چل کیونکہ میں زخمی ہو گیا ہوں ۔
۳۵ اور اُس دن بڑے گھمسان کا رن پڑا اور اُنہوں نے بادشاہ کو اُس کے رتھ ہی میں ارامیوں کے مقابل سنبھالے رکھا ۔ اور وہ شام کو مر گیا اور خون اُس کے زخم سے بہہ کر رتھ کے پایدان میں بھر گیا ۔
۳۶ اور آفتاب غروب ہوتے ہوئے لشکر میں یہ پکار ہو گئی کہ ہر ایک آدمی اپنے شہر اور ہر ایک آدمی اپنے مُلک کو جائے ۔
۳۷ سو بادشاہ مر گیا اور وہ سامریہ میں پہنچایا گیا اور اُنہوں نے بادشاہ کو سامریہ میں دفن کیا ۔
۳۸ اور اُس رتھ کو سارمریہ کے تالاب میں دھویا ۔ ( کسبیاں یہیں غُسل کرتی تھیں ) اور خداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے فرمایا تھا کتوں نے اُس کا خون چاٹا ۔
۳۹ اور اخی اب کی باقی باتیں اور سب کچھ جو اُس نے کیا تھا اور ہاتھی دانت کا گھر جو اُس نے بنایا تھا اور اُن سب شہروں کا حال جو اُس نے تعمیر کیے سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
۴۰ اور اخی اب اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا اخزیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔
۴۱ اور آسا کا بیٹا یہوسفط شاہِ اسرائیل اخی اب کے چوتھے سال سے یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
۴۲ اور یہوسفط سلطنت کرنے لگا تو پینتس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں پچس برس سلطنت کی اُس کی ماں کا نام عزوبہ تھا جو سلحی کی بیٹی تھی ۔
۴۳ وہ اپن باپ آسا کے نقشِ قدم پر چلا اُس سے مُڑا نہیں اور جو خداوند کی نگاہ میں ٹھیک تھا اُسے کرتا رہا تو بھی اونچے مقام ڈھائے نہ گئے لوگ اُن اونچے مقاموں پر ہنوز قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔
۴۴ اور یہوسفط نے شاہِ اسرائیل سے صلح کی ۔
۴۵ اور یہوسفط کی باقی باتیں اور اُس کی قوت جو اُس نے دکھائی اور اُس کے جنگ کرنے کی کیفیت سو کیا وہ یہودا ہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتا ب میں قلمبند نہیں ؟
۴۶ اور اُس نے باقی لوطیوں کو جو اُس کے باپ آسا کے عہد میں رہ گئے تھے مُلک سے خارج کر دیا۔
۴۷ اور ادوم میں کوئی بادشا ہ نہ تھا بلکہ ایک نائب حکومت کرتا تھا ۔
۴۸ اور یہوسفط نے ترسیس کے جہاز بنائے تاکہ اوفیر کو سونے کے لیے جائیں پر وہ گئے نہیں کیونکہ وہ عصیون جابر ہی میں ٹوٹ گئے ۔
۴۹ تب اخی اب کے بیٹے اخزیاہ نے یہوسفط سے کہا اپنے خادموں کے ساتھ میرے خادموں کو بھی جہازوں میں جانے دے پر یہوسفط راضی نہ ہوا ۔
۵۰ اور یہوسفط اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہوا اور اُس کا بیٹا یہورام اُس کی جگہ بادشاہ ہوا ۔
۵۱ اور اخی اب کا بیٹا اخزیاہ شاہِ یہوداہ یہوسفط کے سترویں سال سے سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اسرائیل پر دو برس سلطنت کی ۔
۵۲ اور اُس نے خداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اپنی ماں کی راہ اور نباط کے بیٹے یُربعام کی راہ پر چلا جس سے اُس نے بنی اسرائیل سے گناہ کرایا ۔
۵۳ اور اپنے باپ کے سب کاموں کے موافق بعل کی پرستش کرتا اور اُس کو سجدہ کرتا رہا اور خداوند اسرائیل کے خدا کو غصہ دلایا۔