گنتی ۹

ح۔ فسح‏، بادل اور چاندی کے نرسنگے (‏۹:‏ ۱۔۱۰؛۱۰)‏

۹:‏۱۔۱۴ آیت ۱ میں فسح منانے کے لئے خدا کی ہدایات باب ۱ میں مذکور واقعات سے پہلے دی گئی تھیں۔ گنتی کی کتاب میں تمام واقعات تواریخی ترتیب سے مندرج نہیں ہیں۔ فسح پہلے مہینے کی چودہ تاریخ کو منائی جاتی تھی۔ اُن لوگوں کے لئے خصوصی گنجائش رکھی گئی جو رسوماتی طور پر (‏نادانستہ)‏ کسی اِنسانی لاش سے چھو جانے کے باعث ناپاک ہو گئے‏، یا وہ سفر پر تھے۔ وہ ایک مہینہ بعد بھی فسح منا سکتے تھے __ یعنی دوسرے مہینے کی چودہ تاریخ کو (‏آیات ۶۔۱۲)‏۔ لیکن اِس کے علاوہ اگر کوئی شخص فسح نہ مناتا تو وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جاتا (‏آیت ۱۳)‏۔ ایک اجنبی (‏غیر قوم)‏ اگر چاہتا تو فسح میں شریک ہو سکتا تھا‏، لیکن اُس کے لئے بھی وہی شرائط تھیں جو یہودیوں کے لئے تھیں (‏آیت ۱۴)‏۔ 

۹:‏۱۵۔۲۳ اِن آیات میں اگلے ابواب کی پیش بینی کی گئی ہے۔ اِن میں جلالی ابر کا ذکر ہے جو خیمۂ اجتماع کو ڈھانپے ہوئے تھا اور جو دن کے وقت دھوپ سے سایہ فراہم کرتا اور رات کے وقت آگ کا ستون ہوتا تھا۔ جب اَبر خیمہ اِجتماع سے اُٹھ جاتا تو بنی اِسرائیل اپنی خیمے اُکھاڑ کر کُوچ کرتے۔ جب اَبر ٹھہر جاتا تو لوگ بھی ٹھہر جاتے اور اپنے خیمے لگاتے۔ اَبر اِس بات کی علامت تھا کہ خدا اپنے لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ آج کل یوں دِیدنی طور پر خدا راہنمائی نہیں کرتا۔ ہم دیکھے پر نہیں بلکہ ایمان سے چلتے ہیں‏، تاہم یہ اُصول ابھی تک قائم ہے کہ اُس وقت چلیں جب خداوند چلتا ہے‏، لیکن اُس سے پہلے نہیں کیونکہ ’’جانے کے بارے میں تاریکی ٹھہرنے کے بارے میں روشنی ہے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکلنے کے دوسرے برس کے پہلے مہینے میں خداوند نے دشت سینا میں موسیٰ سے کہا کہ
۲ بنی اسرائیل عید فسح اس کے میعن وقت پر منائیں
۳ اسی مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو تم معین وقت پر عید منانا اور جتنےاس کے آئین اور رسوم ہیں ان سبھو ں کے مطابق اسے منانا
۴ سو موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم کیا کہ عید فسح کریں
۵ اور انہوں نے پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو دشت سینا میں عید فسح کی اور بنی اسرائیل نے سب پر جو خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا عمل کیا
۶ اور کئی آدمی ایسے تھے جو کسی لاش کے سبب سے ناپاک ہو گئے تھے وہ اس روز فسح نہ کر سکے سو وہ اسی دن مو سیٰ اور ہارون کے پاس آئے
۷ اور موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہم ایک لاش کے سبب سے ناپاک ہو رہے ہیں پھر بھی ہم اور اسرائیلیوں کے ساتھ وقتِ معین پر خداوند کی قربانی گذراننے سے کیوں روکے جائیں؟
۸ موسیٰ نے ان سے کہا کہ ٹھہر جاؤ میں ذرا سن لوں کہ خداوند تہارے حق میں کی حکم کرتا ہے اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۹
۱۰ بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی تم میں سے یا تمہاری نسل میں سے کسی لاش کے سبب سے ناپاک ہو جائے یا وہ کہیں دور سفر میں ہو تو بھی خداوند کے لیے عید فسح کرے
۱۱ اور دوسرے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو یہ عید منائیں اور قربانی کے گوشت کو نے خمیری روٹیوں اور کڑوی ترکاریوں کے ساتھ کھایں
۱۲ اور وہ اس میں سے کچھ بھی صبح کے لیے باقی نہ چھوڑیں اور نہ اسکی کوئی ہڈی توڑیں اور فسح کو اس کے سارے آئین کے مطابق مانیں
۱۳ لیکن جو آدمی پاک ہو اور سفر میں بھی نہ ہو اگر وہ فسح کرنے سے باز رہے تو وہ آدمی اپنی قوم سے کاٹ ڈالا جائیگا کیونکہ اس نے معین وقت پر خداوند کی قربانی نہیں گذرانی سو اس آدمی کا گناہ اسی کے سر لگے گا
۱۴ اور اگر کوئی پردیسی تم میں بودوباش کرتاہو اور خداوند کے لیے فسح کرنا چاہے تو وہ فسح کے آئین اور رسوم کے مطابق اسے مانے تم دیسی اور پردیسی دونوں کے لیے ایک ہی آئین رکھنا اور جس دن مسکن یعنی خیمہ شہادت نصب ہوا اسی دن ابر اس پر چھا گیا اور شام کو مسکن پر آگ دکھائی دیتی تھی
۱۵
۱۶
۱۷ اور جب مسکن سے وہ ابر اٹھ جاتا تو بنی اسرائیل کوچ کرتے تھے اور جس جگہ وہ ابر جا کع ٹھہر جاتا وہیں بنی اسرائیل خیمے لگاتے تھے
۱۸ خداوند کے حکم سے بنی اسرائیل کوچ کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے وہ خیمے لگاتے تھے اور جب تک ابر مسکن ٹھہرا رہتا وہ اپنے ڈیرے ڈالے پڑے رہتے تھے
۱۹ اور جب ابر مکسن پر بہت دنوں تک ٹھہرا رہتا تو بنی اسرائیل خداوند کے حکم کو مانتے اور کوچ نہیں کرتے تھے۔
۲۰ اور کبھی کبھی وہ ابر چند دنوں تک مسکن پر رہتا اور تب بھی وہ خداوند کے حکم سے ڈیرے ڈالے رہتے اور خداوند ہی کے حکم سے وہ کوچ کرتے تھے
۲۱ پھر کبھی کبھی وہ ابر صبح سے شام تک ہی رہتا تو جب وہ صبح کو اٹھ جا تا تب وہ کوچ کرتے تھے
۲۲ اور جب تک وہ ابر ٹھہرا رہتا خواہ وہ دو دن یا ایک مہینہ یا ایک برس ہو تب تک بنی اسرائیل اپنے خیموں میں تقسیم رہتے اور کوچ نہیں کرتے تھے پر جب وہ اٹھ جاتا تو وہ کوچ کرتے تھے
۲۳ غرض خداوند کے حکم سے مقام کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے کوچ کرتے تھے اور جو حکم خداوند کی معرفت موسیٰ دیتا وہ خداوند کے اس حکم کو مانا کرتے تھے۔