ہ۔ متعدد قوانین (باب ۱۵)
۱۵:۱، ۲ ہم یہ نہیں جانتے کہ باب ۱۴ اور ۱۵ کے درمیان کتنا عرصہ گزرا، لیکن ’’وہ اُس ملک کو دیکھنے بھی نہ پائیں گے‘‘ (۱۴:۲۳) اور ’’جب تم اپنے رہنے کے مُلک میں پہنچو‘‘ (۱۵:۲) میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ خدا کے مقاصد میں گو بعض اوقات گناہ کی وجہ سے رُکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، لیکن وہ اِس کے باوجود پورے ہو کر رہتے ہیں۔ اُس نے ملکِ کنعان کا ابرہام سے وعدہ کیا، اور جب اُس کی نسل کی ایک پشت اِس قدر بے وفا نکلی کہ اُسے حاصل نہ کر سکی تو اُس نے اُسے اگلی پشت کو دیا۔
۱۵:۳۔۲۹ اِس باب کی پہلی ۲۹ آیات میں اُن قربانیوں کا ذکر ہے جو بنی اِسرائیل ملک میں بس جانے کے بعد گزراننے کو تھے۔ اِن میں سے بیشتر قربانیوں کا تفصیلاً ذکر ہو چکا ہے۔ یہاں پر جماعت کی طرف سے نادانستہ طور پر ہو جانے والے گناہوں پر زور دیا گیا ہے (آیات ۲۲۔۲۶)، یا وہ گناہ جو دانستہ طور پر کسی فردِ واحد سے سرزد ہوا ہو (آیات ۲۷۔۲۹)۔ آیت ۲۴ میں جماعت کی دو قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی ایک بچھڑے اور ایک بکرے کی قر بانی کا۔ لیکن احبار ۴ باب میں بیان کیا گیا ہے کہ جماعت صرف ایک بچھڑا لائے۔ لیکن احبار ۴ باب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب کوئی سردار گناہ کرے تو وہ ایک بکرا لائے۔ غالباً یہاں اِن دو قربانیوں کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ احبار کی کتاب میں علیٰحدہ علیٰحدہ ذکر ہوا ہے۔ آیات ۲۰ اور ۲۱ میں ایسا حکم ہے جسے کلامِ مقدس میں بار بار دُہرایا گیا ہے یعنی ’’پہلے ہی، اپنے پہلے … کو خداوند کے حضور۔‘‘ خواہ یہ پہلوٹھے یا پہلے پھل ہوں، خداوند کو ہر شے میں سے بہتر حصہ دیں۔ یہ اِس بات کی یاد دہانی تھی کہ جو کچھ اِن کے پاس ہے وہ خداوند کی طرف سے ہے لہٰذا وہ یہوواہ ہی کا ہے۔
۱۵:۳۰۔۳۶ بے باک ہو کر گناہ کرنے اور خدا کے کلام سے قصداً بغاوت کرنے کے لئے کوئی قربانی نہیں تھی۔ جو ایسے گناہ کے مرتکب ہوتے اُنہیں جماعت میں سے کاٹ ڈالا جاتا (آیات ۳۰،۳۱)۔ بے باکی کے گناہ کی آیات ۳۲۔۳۶ میں ایک مثال موجود ہے۔ ایک شخص سبت کے دن لکڑیاں چن رہا تھا، اور یہ شریعت کی واضح نافرمانی تھی۔ یہ بتایا گیا کہ اُسے جان سے مارا جائے (خروج ۳۱:۱۵)، اور سزائے موت کا طریقہ کار نہیں بتایا گیا تھا۔ اَب خدا نے بتایا کہ اُسے لشکرگاہ سے باہر لے جا کر سنگسار کیا جائے۔
۱۵:۳۷۔۴۱ یہودیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے پیراہنوں کے کناروں پر جھالریں لگائیں اور ہر کنارے کی جھالر کے اُوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیں۔ نیلا رنگ آسمانی رنگ ہے اور اِس کا یہ مقصد تھا کہ وہ اُنہیں پاکیزگی اور فرماں برداری کی یاد دلائے جو خدا کے فرزندوں کا فرض ہے۔
مقدس کتاب
۱ باب نمبر ۱۵ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اپنے رہنے کے ملک میں جو میں تم کو دیتا ہوں پہنچو
۳ اور خداوند کے حضور آتشیں قربانی یعنی سوختنی قربانی یا خاص منت کا ذبیحہ یا رضا کی قربانی گذرانو یا اپنی میعن عیدوں میں راحت انگیز خوشبو کے طور پر خداوند کے حضور گائے بیل یا بھیڑ بکری چڑھاؤ
۴ تو جو شخص اپنا چڑھاوا لائے وہ خداوند کے حضور نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں چوتھائی ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو
۵ اور تپاون کے طور پر چوتھائی ہین کے برابر مے بھی لائے تو اپنی سوختنی قربانی یا ذبیحہ کے ہر برہ کے ساتھ اتنا ہی تیا ر کیا کرنا
۶ اور ہر مینڈھے کے ساتھ ایفہ کے پانچویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تہائی ہین کے برابر تیل ملا ہو نذر کی قربانی کے طور پر لانا
۷ اور تپاون کے طور پر تہائی ہین کے برابر مے دینا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے
۸ اور جب تو خداوند کے حضور سوختنی قربانی یا خاص منت کے ذبیحہ یا سلامتی کے ذبیحہ کت طور پر بچھڑا گذرانے
۹ تو وہ اس بچھڑے کے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے تین تہائی حصہ کے برابر میدہ جس میں نصف ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو چڑھائے
۱۰ اور تو تپاون کے طور پر نصف ہین کے برابر ہین گذراننا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشیں قربانی ٹھہرے۔
۱۱ ہر بچھڑے اور ہر مینڈھے اور ہر نر برہ یا بکری کے بچہ کے لیے ایسا ہی کیا جائے ۔
۱۲ تم جتنے جانور لاؤ انکے شمار کے مطابق ایک ایک کے ساتھ ایسا ہی کرنا
۱۳ جتنے دیسی خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی گذرانیں وہ اس وقت یہ سب کا م اسی طریقہ سے کریں
۱۴ اور اگر کوئی پردیسی تمہارے ساتھ بودو باش کرتاہو یا جو کوئی پشتوں سے تمہارے ساتھ رہتا آیا ہو اور وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خشبو کی آتشین قربانی گذراننا چاہے تو جیسا تم کرتے ہو وہ بھی ویسا ہی کرے
۱۵ مجع کے لیے یعنی تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہو رنسل در نسل دا ایک ہی آئین رہے گا ۔ خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہو ں جیسے تم ہو
۱۶ تمہارے لیے پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو
۱۷ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۱۸ بنی اسرائیل سے کہہ جب تم اس ملک میں پہنچو جہاں میں تم کو لیے جاتا ہوں
۱۹ اور اس ملک میں روٹی کھاؤ تو خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی گذراننا
۲۰ تم اپنے پہلے گوندھے ہوئے آٹے کا ایک گردہ اٹھانے کی قربانی کے طور پر چڑھانا جیسے کھلیہان کی اٹھانے کی قربانی کو لےکر اٹھاتے ہو ویسے ہی اسے بھی اٹھانا
۲۱ تم اپنی پشت در پشت اپنے پہلے ہی گوندھے ہو ئے آٹے میں سےکچھ لے کر اسے خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذراننا۔
۲۲ اور اگر تم سے بھول ہو جائےاور تم نے ان سب حکموں پر جو خداوند نے موسیٰ کو دیے عمل نہ کیا ہو
۲۳ یعنی جس دن دے خداوند نے حکم دینا شروع کیا اس دن سے لے کر آگے آگے جو کچھ حکم خداوند نے تمہاری نسل در نسل موسیٰ کی معرفت تم کو دیا ہے
۲۴ اس میں اگر سہواً کوئی خطا ہوگئی ہو اور جماعت اس سے واقف نہ ہو تو ساری جماعت ایک بچھڑا سوختنی قربانی کے لیے گذرانے تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ہو اور اس کے ساتھ شرع کے مطابق اس کی نذر کی قربانی اور اسکا تپاون بھی چڑھائے اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا گذرانے
۲۵ یوں کاہن بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے لیے کفارہ دے تو انکو معافی ملے گی کیونکہ یہ محض بھول تھی اور انہوں نے اس بھول کے بدلے وہ قربانی بھی چڑھائی جو خداوند نے حضور آتشین قربانی ٹھہرتی ہے اور خطا کی قربانی بھی خداوند کے حضور گذرانی
۲۶ تب بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو ان پردیسیو ں کو بھی جو ان میں رہتےہیں معافی ملیگی کیونکہ جماعت کو اعتبار سے یہ سہواً ہوا
۲۷ اور اگر ایک ہی شخص سہواً خطا کرے تو وہ یکسالہ بکری خطا کی قربانی کے لیے چڑھائے
۲۸ یوں کاہن اس کی طرف سے جس نے سہواً خطا کی اسکی خطا کے لیے خداوند کے حضور کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی
۲۹ جس شخص نے سہواً ز خطا کی ہو تم اس کے لیے ایک ہی شرع رکھنا خواہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہو یا پردیسی جو ان میں رہتا ہے
۳۰ لیکن جو شخص بے باک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خدواند کی اہانت کرتا ہے وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا
۳۱ کیونکہ اس نے خداوند کے کلام کی حقارت کی اور اس کے حکم کو توڑ ڈالا وہ شخص بالکل کاٹ ڈالا جائے گا اس کا گناہ اسی کے سر لگیگا
۳۲ اور جب بنی اسرائیل بیابا ن میں رہتے تھے تو ان دنوں ایک آدمی سبت کے دن ان کو لکڑیاں اکٹھی کرتاہوا ملا
۳۳ اور جن کو وہ لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوا ملا وہ اسے موسیٰ اور ہارون اور ساری جماعت کے پاس لے گئے
۳۴ انہوں نے اسے حوالات میں رکھا کیونکہ ان کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے
۳۵ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ شخص ضرور جان سے مارا جا ئے ساری جماعت لشکر گاہ کے باہر اسے سنگسار کرے
۳۶ چنانچہ جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اسکے مطابق ساری جماعت نے اسے لشکر گاہ سے باہر لے جا کر سنگسار کیا اور وہ مر گیا
۳۷ اور خدواند نے موسیٰ سے کہا
۳۸ بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ وہ نسل در نسل اپنے پیراہنوں کے کنارے پر جھالر لگائیں اور ہر جھالر کے کنارے کر اوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیں۔
۳۹ یہ جھالر تمہارے لیے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموںکو یاد کرکے ان پر عمل کرو اور اپنی آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں زنا کاری نہ کرتے پھرو جیسا کرتے آئے ہو
۴۰ بلکہ میرے سب حکموںکو یاد کرکے انکو عمل میں لاؤ اور پنے خدا کے لیے مقدس ہو
۴۱ میں خداوند رتمہارا خدا ہو ں جو تم کو ملک مصر سے نکا ل کر لایا تاکہ تمہارا خدا ٹھہروں میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔