گنتی ۱۰

۱۰:‏۱۔۱۰ موسیٰ کو بتایا گیا کہ وہ چاندی کے دو نرسنگے بنائے۔ اِنہیں

  1. جماعت کو خیمۂ اجتماع کے دروازے پر جمع کرنے کے لئے (‏آیات ۳‏،۷)‏‏،
  2. کوچ کرنے کے لئے‏،
  3. سرداروں کو اکٹھا کرنے کے لئے (‏اِس کے لئے صرف ایک نرسنگا پھونکا جاتا)‏ (‏آیت ۴)‏‏،
  4. جنگ کے الارم کے طور پر (‏آیت ۹)‏ اور
  5. خاص دِنوں یعنی عیدوں کے اعلان (‏آیت ۱۰)‏ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ 

مختلف مقاصد کے لئے نرسنگا پھونکنے کے مختلف انداز ہوتے تھے۔ آیت ۵ میں نرسنگا پھونکنے کا انداز کوچ کرنے کے لئے تھا۔ مشرق کی سمت کے قبائل پہلے کوچ کرتے۔ کوچ کے لئے دوسری بار نرسنگے کی آواز اُن کے لئے سگنل تھا جو جنوب کی طرف تھے کہ وہ کوچ کریں۔ غالباً وہ جو مغرب اور شمال میں تھے ترتیب وار اُن کے پیچھے چلتے۔ یہ نرسنگے بیابان میں صرف کوچ کرنے کے لئے ہی نہیں تھے بلکہ ’’موعودہ ملک‘‘ میں بھی اِستعمال کے لئے (‏آیت ۹)‏۔ یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:‏ ’’اپنے ملک میں‘‘۔ خدا نے ابرہام سے کِیا ہوا وعدہ پورا کیا۔ اُس کی نسل کو ایک ملک دیا گیا‏، لیکن اُن کی نافرمانی اور بے وفائی سے اُس ملک میں داخلہ چالیس سال تک ملتوی ہو گیا۔ 

۲۔ کوہِ سینا سے موآب کے میدانوں تک (‏۱۰:‏۱۱۔۲۲:‏۱)‏

الف۔ دشتِ سینا سے روانگی (‏۱۰:‏۱۱۔۳۶)‏

۱۰:‏۱۱ آیت ۱۱ کتاب میں ایک واضح تقسیم کی نشان دہی کرتی ہے۔ اَب تک لوگ کوہِ سینا میں قیام پذیر رہے۔ آیت ۱۱ تا ۲۲:‏۱ میں کوہِ سینا سے ملکِ موعود کے بالمقابل موآب کے میدانوں تک سفر کا حال درج ہے۔ یہ سفر تقریباً چالیس سال پر محیط ہے۔ اُنہوں نے دوسری فسح کے باعث بیس تاریخ تک کوچ نہ کیا (‏گنتی ۹:‏۱۰‏،۱۱)‏۔

۱۰:‏۱۲‏،۱۳ سفر کا پہلا حصہ کوہِ سینا سے دشتِ فاران تک تھا۔ تاہم دشتِ فاران تک پہنچنے سے پہلے اُن کے تین پڑاؤ تھے۔ یعنی تبعیرہ ‏، قبروت ہتاوہ اور حصیرات۔ وہ درحقیقت دشتِ فاران میں گنتی ۱۲:‏۱۶ میں پہنچے۔ 

۱۰:‏۱۴۔۲۸ اِس کے بعد بیان کیا گیا ہے کہ قبیلوں نے کس ترتیب سے کوچ کیا۔ ہر ایک قبیلے کا سردار اُن کا قائد تھا۔ سوائے ایک بات کے ترتیب وہی ہے جس کا باب ۲ میں ذکر کیا گیا۔ ۲:‏۱۷ سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ لاوی جد کے بعد اور افرائیم سے پہلے کوچ کرتے۔ ۱۰:‏۱۷ میں جیرسونیوں اور مراریوں کو زبولون کے بعد اور قہاتیوں کو جد کے بعد فہرست میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ظاہراً جیروسونی اور مراری اپنے سامان کے ساتھ پہلے کوچ کرتے تاکہ پڑاؤ کے مقام پر مسکن کو کھڑا کر لیں‏، جب کہ قہاتی مقدس ظروف کے ساتھ پہنچتے۔

۱۰:‏۲۹۔۳۲ حوباب موسیٰ کا سالا تھا۔ رعوایل (‏یعنی یترو)‏ حوباب کا باپ اور موسیٰ کا خسر تھا۔ مِدیانی ہونے کے باعث حوباب بیابان سے غالباً خوب واقف تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ موسیٰ نے اُسے اِسرائیلیوں کے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ ’’سو تُو ہمارے لئے آنکھوں کا کام دے گا‘‘ (‏آیت ۳۱)‏۔ بائبل کے اکثر مفسرین کا یہ خیال ہے کہ حوباب کو یوں دعوت دینا موسیٰ میں ایمان کی کمی کو ظاہر کرتا ہے‏، کیونکہ خدا نے پہلے سے ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ اُن کی راہنمائی کرے گا۔ 

کرٹز (‏Kurtz)‏ ایک اَور نظریہ پیش کرتا ہے:‏

’’راستہ‏، پڑاؤ ڈالنے کی جگہ‏، اور ہر ایک مقام پر پڑاؤ ڈالنے کا دورانیہ بادل کا ستون طے کرتا۔ لیکن اِنسانی عقل معطل نہیں کی گئی۔ پڑاؤ کے ساتھ پانی‏، چراگاہ‏، سایہ‏، ایندھن کے بارے میں معلومات اِن تمام تفصیلات کے لئے حوباب کا بیابان کے بارے میں تجربہ اور علم بادل کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک سودمند معاونت تھا۔‘‘ 

۱۰:‏۳۳‏، ۳۴ عہد کا صندوق اُس پردے میں لپیٹا جاتا تھا جو پاک ترین مقام کو پاک مقام سے الگ کرتا تھا (‏گنتی ۴:‏۵)‏‏، اور قہاتی اُسے اُٹھا کر لشکر کے آگے آگے چلتے۔ سینا سے قادِس برنیع تک کا سفر تین دن کا تھا۔ جب خداوند اُن کے آرام کی جگہ تلاش کرتا تو جلالی بادل اُن پر سایہ کئے رہتا۔ 

۱۰:‏۳۵‏، ۳۶ یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا حوباب بنی اِسرائیل کے ساتھ گیا یا نہیں۔ لیکن قضاۃ ۱:‏۱۶ اور ۴:‏۱۱ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اُن کے ساتھ گیا کیونکہ اُس کی نسل کا اِسرائیلیوں کے نسب نامے میں ذکر موجود ہے۔ صبح کو عہد کے صندوق کے کوچ کے وقت موسیٰ خدا سے فتح کی اِلتجا کرتا اور جب شام کے وقت یہ ٹھہر جاتا تو وہ دعا کرتا کہ خداوند بنی اِسرائیل میں لوٹ آئے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲ اپنے لیے دو نرسنگے بنوا وہ دونوں گھڑ کر بنائے جائیں تو انکو جماعت کے بلانے اور لشکروں کے کوچ کے لیے کام میں لانا
۳ اور جب وہ دونوں نرسنگے پھونکیں تو ساری جماعت خیمہ اجتماع کے دروازہ کے پاس تیرے پاس اکٹھی ہو جائے
۴ اور اگر ایک ہی پھونکیں تو وہ رئیس جو ہزاروں اسرائیلیوں کے سردار ہیں تیرے پاس جمع ہوں
۵ اور جب تم سانس باندھ کر زور سے پھونکو تو وہ لشکر جو مشرق کی طرف ہیں کوچ کریں
۶ اور جب تم دوبارہ سانس باندھ کر زور سے پھونکو تو ان لشکروں کا جا جنوب کی طرف ہیں کوچ ہو سو کوچ کے لیے سانس باندھ کر زور سے نرسنگا پھونکا کریں
۷ لیکن جب جماعت کو جمع کرنا ہو تب بھی پھونکنا پر سانس باندھ کر زور سے نہ پھونکنا
۸ اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں وہ نرسنگے پھونکا کریں یہی آئین سدا تمہاری نسل نسل رہے
۹ اور جب تم اپنے ملک میں ایسے دشمن سے جو تمہیں ستاتا ہو لڑنےکو نکلو تو تم نرسنگوں کو سانس باندھ کر زور سے پھونکنا اس حال میں خداوند نمہارے خدا کے حضور تمہاری یاد ہوگی اور تم اپنے دشمنوں سے نجات پاؤ گے
۱۰ اور تم اپنی خوشی کے دن اور اپنی مقرر عیدو ں کے د ن اور اپنے مہینوں کے شروع میں اپنی سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے وقت نرسنگے پھونکنا تاکہ ان سے تمہارے خدا کے حضور تمہاری یادگاری ہو میں خداوند تمہارا خدا ہوں
۱۱ اور دوسرے سال کے دوسرے مہینے کی بیسویں تاریخ کو وہ ابر شہادت کے مسکن پر سے اٹھ گیا
۱۲ تب بنی اسرائیل دشت سینا سے کوچ کر کے نکلے اور وہ ابر دشت فاران میں ٹھہر گیا
۱۳ سو خداوند کے اس حکم کے مطابق جو اس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا انکا پہلا کوچ ہوا
۱۴ اور سب سے پہلے بنی یہوداہ کے لشکر کا جھنڈ روانہ ہوا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمینداب کا بیٹا نحسون تھا
۱۵ اور اشکار کے قبیلہ کا سردار ضغر کا بیٹا نتنی ایل تھا
۱۶ اور زبولون کے قبیلہ کے لشکر کا سردار حیلون کا بیٹا الیاب تھا
۱۷ پھر مسکن اتارا گیا اور بنی جیرسون اور بنی مراری جو مسکن اٹھاتے تھے روانہ ہوئے
۱۸ پھر روبن کے لشکر کا جھنڈ آگے بڑھا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے شدیور کا بیٹا الیصور انکے لشکر کا سردار تھا
۱۹ اور شمعون کے قبیلہ کا لشکر کا سردار صوری شدی کا بیٹا سلومی ایل تھا
۲۰ اور جد کے قبیلہ کا لشکر کا سردار دعوایل کا بیٹا الیاسف تھا
۲۱ پھر قہاتیوں نے جو مقدس کو اٹھائے تھے کوچ کیا اور انکے پہنچنے تک مسکن کھڑا کر دیا جاتا تھا
۲۲ پھر بنی افرائیم کا لشکر کا جھنڈ نکلا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمیہود کا بیٹا الیسع تھا
۲۳ اور منسی کے قبیلہ کے لشکر کا سردار فدا ہصور کا بیٹا جملی ایل تھا
۲۴ اور بنیمین کے قبیلہ کے لشکر کا سردار جدعونی کا بیٹا ابدان تھا
۲۵ اور بنی دا ن کے لشکر کا جھنڈ انکے اور سب لشکروں کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا اور اپنے اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمیشدی کا بیٹا اخیغرر تھا۔
۲۶ اور آشر کے قبیلہ کے لشکر کا سردار عکران کا بیٹا فجعی ایل تھا۔
۲۷ اور نفتالی کے قبیلہ کے لشکر کا سردارعینان کا بیٹا اخیرع تھا
۲۸ سو بنی اسرائیل اسی طرح اپنے دَلوں کے مطابق کوچ کرتے اور آگے روانہ ہوتے رہے۔
۲۹ سو موسیٰ نے اپنے خسر رعوایل مدیانی کے بیٹے حوباب سے کہا کہ ہم اس جگہ جا رہے ہیں جس کی بابت خداوند نے کہا ہے کہ میں اسے تم کو دونگا سو تو بھی سا تھ چل اور ہم تیرے ساتھ نیکی کریں گے کیونکہ خداوند نے بنی اسرائیل سے نیکی کا وعدہ کیا ہے
۳۰ اس نے جواب دیا کہ میں نہیں چلتا بلکہ میں اپنے وطن اور رشتہ داروں میں لوٹ کر جاؤں گا۔
۳۱ تب موسیٰ نے کہا کہ ہم کو چھوڑ مت کیونکہ یہ تجھ کو معلوم ہے کہ ہم کو بیابان میں کس طرح خیمہ زن ہو نا چاہیے سو تو ہمارے آنکھوں کا کام دے گا
۳۲ اور اگر تو ہمارے ساتھ چلے تو اتنی بات ضرور ہوگی کہ جو نیکی خداوند ہم سے کرے وہی ہم تجھ سے کریں گے
۳۳ پھر وہ خداوند کے پہاڑ سے سفر کرکے تین دن کی راہ چلے اور تینوں دن خداوند کے عہد کا صندوق ان کے لیے آرامگاہ تلاش کرتا ہوا ان کے آگے آگے چلتا رہا
۳۴ اور جب وہ لشکر گاہ سے کوچ کرتے تو خداوند کا ابر دن بھران پر چھایا رہتا تھا
۳۵ اور صندوق کے کوچ کے وقت موسیٰ یہ کہا کرتا تھا اٹھ اے خداوند تیرے دشمن پراگندہ ہو جائیں اور جو تجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ تیرے آگے سے بھاگیں۔
۳۶ اور جب وہ ٹھہر جاتا تو وہ یہ کہتا کہ اے خداوند ہزاروں ہزار اسرائیلیوں میں لوٹ کر جا۔