گنتی ۳۲

ز۔ رُوبن‏، جد اور منسی کے نصف قبیلے کی وراثت (‏باب ۳۲)‏

۳۲:‏۱۔۱۵ جب بنی روبن‏، بنی جد اور بنی منسی نے دریائے یردن کے مشرق میں زرخیز چراگاہوں کو دیکھا تو اُنہوں نے درخواست کی کہ وہ دائمی طور پر وہاں سکونت اِختیار کر لیں (‏آیات ۱۔۵)‏۔ موسیٰ نے سوچا کہ اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ یردن کو عبور کر کے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کنعان کے غیر قوم باشندوں سے لڑنا نہیں چاہتے (‏آیات ۶۔۱۵)‏۔ اُن کے باپ دادا نے قادِس برنیع کے مقام پر بنی اِسرائیل کی موعودہ ملک میں داخل ہونے کے لئے دِل شکنی کی تھی۔

۳۲:‏۱۶۔۴۲ لیکن جب بنی روبن اور بنی جد دو قبائل نے اُسے تین بار یقین دلایا کہ وہ یردن کے مغرب میں موعودہ سرزمین کے لئے جنگ کریں گے (‏آیات ۱۶۔۳۲)‏ تو موسیٰ نے اِجازت دے دی۔ چنانچہ جد‏، روبن اور منسی بن یوسف کے نصف قبیلے نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کی سلطنت اور بسن کے بادشاہ عوج کی سلطنت کو حاصل کر لیا۔ اُنہوں نے فصیل دار شہر اور بھیڑ سالے بنائے اور چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنی روبن اور بنی جد نے غلط اِنتخاب کیا‏، کیونکہ زمین تو زرخیز تھی‏، لیکن یہ علاقہ دشمن کے حملے کی زد میں تھا۔ اُنہیں دریائے یردن کا تحفظ حاصل نہیں تھا۔ مابعد کے سالوں میں روبن‏، جد اور منسی کے نصف قبیلے کو سب سے پہلے مفتوح کر کے اسیری میں لے جایا گیا۔ دوسری طرف اگر دریائے یردن کے مشرق کی سرزمین میں بنی اِسرائیل کا کوئی قبیلہ سکونت اِختیار نہ کرتا تو اِس کا کیا استعمال ہوتا؟ خدا نے تو یہ زمین اُنہیں دی تھی اور اُنہیں بتایا کہ اِس پر قابض ہو جائیں (‏اِستثنا ۲:‏۲۴‏،۳۱؛ ۳:‏۲)‏۔

مقدس کتاب

۱ اور بنی روبن اور بنی جد کے پاس چوپایوں کے بہت بڑے غول تھے ۔ سو جب انہوں نے یعزیر اور جلعاد کے ملکوں کو دیکھا کہ یہ مقام چوپایوں کے لیے نہایت اچھے ہیں
۲ تو انہوں نے موسیٰ اور الیعزر کاہن اور جماعت کے سرداروان سے کہا کہ
۳ عطارات اور دیبون اور یعزیر اور نمرہ اور حسبون اور الیعالی اور شبام اور نبو اور بعون
۴ یعنی وہ ملک جس پر خداوند نے اسرائیل کی جماعت کو فتح دلائی ہے چوپایوں کے لیے بہت اچھا ہے اور تیرے خادموں کے پاس چاپائے ہیں ۔
۵ سو اگر ہم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو اسی ملک کو اپنے خادموں کی میراث کردے اورہم یردن پار نہ لے جا
۶ موسیٰ نے بنی روبن اور بنی جد دے کہا کہ کیا تمہارے بھائی لڑائی میں جائیں اور تم یہیں بیٹھے رہو؟
۷ تم کیوں بنی اسرائیل کو پار اتر کر اس ملک میں جانے سے جو خداوند نے انکو دیا ہے بے دل کرتے ہو؟
۸ تمہارے باپ دادا نے بھی جب میں نے ان کو قادس برنیع سے بھیجا کہ ملک کا حال دریافت کریں تو ایسا ہی کیا تھا
۹ کیونکہ اور وادی اسکا ل میں پہنچے اور اس ملک کو دیکھا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو بے دل کر دیا تاکہ وہ اس ملک میں جو خداوند نے انکو عنایت کیا نہ جائیں
۱۰ اور اسی دن خداوند کا غضب بھڑکا اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ
۱۱ ان لوگوں میں سے جو مصر سے نکل کر آئے بیس برس اور اس کی اوپر اوپر کی عمر کا کوئی شخص اس ملک کو نہیں دیکنھے پائے گا جسے دینے کی قسم میں نے ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے کھائی کیونکہ انہوں نے میری پوری پیروی نہیں کی
۱۲ مگر یفنہ قنزی کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اسے دیکھیں گے کیونکہ انہوں نے خداوند کی پوری پیروی کی ہے
۱۳ سو خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اورا س نے ان کو چالیس برس تک آوارہ پھرایا جب تک کہ اس پشت کے سب لوگ جنہوں نے خداوند کے روبرو گناہ کیا نابود نہ ہو گئے
۱۴ اور دیکھو تم جو گناہ گاروں کی نسل ہو اب اپنے باپ دادا کی جگہ اٹھے ہو تاکہ خداوند کے قہر شدید کو اسرائیل پر زیادہ کراؤ
۱۵ کیونکہ اگر تم اس کی پیروی سے پھر جاؤ تو وہ انکو بیانان میں چھوڑ دے گا اور تم ان لوگوں کو ہلاک کراؤ گے
۱۶ تب وہ اس کے نزدیک آ کر کہنے لگے کہ ہم اپنے چوپایوں کےلیے یہا ں بھیڑ سالےا ور اپنے بال بچوں کے لیے شہر بنایں گے
۱۷ پر ہم خود ہتھیار باندھے ہوئے تیار رہیں گے کہ بنی اسرائیل کے آگے آگے چلیں جب تک انکو انکی جگہ نہ پینچا دیں اور ہمارے بال بچے اس ملک کے باشندوں کے سبب سے فصیل دار شہروں میں رہیں گے
۱۸ اور ہم اپنے گھروں کو تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی میراث کا مالک نہ ہو جائے
۱۹ اور ہم ان میں شامل ہو کر یردن کے اس پار یا اس سے آگے میراث نہ لیں گے کیونکہ ہماری میراث یردن کے اس پار مشرق کی طرف ہم کو مل گئی
۲۰ موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم یہ کام کرو اور خداوند کے حضور مسلح ہوکر لڑنے جاؤ
۲۱ اورتمہارے ہتھیار بند جوان یردن پار جائیں جب تک کہ خداوند اپنے دشمنوں کو اپنے سامنے سے دفع نہ کرے
۲۲ اور وہ ملک خداوند کے حضور قبضہ میں نہ آ جائے تو اس کے بعد تم واپس آؤ ۔ پھر تم خداوند کے حضور اور اسرائیل کے آگے بے گناہ ٹھہرو گے اوریہ ملک خداوند کے حضور تہماری ملکیت ہو جائے گا۔
۲۳ لیکن اگر تم ایسا نہ کرو تو تم خداوند کے گناہ گا ٹھہرو گے اور یہ جان لو کہ تمہارا گناہ تم کو پکڑے گا
۲۴ سو تم اپنے بال بچوں کے لیے شہر اور اپنی بھیڑ بکریوں کے لیے بھیڑ سالے بناؤ ۔ جو تمہارے منہ سے نکلا ہے وہی کرو
۲۵ تب بنی جد اور بنی روبن نے موسیٰ سے کہا کہ تیرے خادم جیسا ہمارے مالک کا حکم ہے ویسا ہی کریں گے
۲۶ ہمارے بال بچے ہماری بیویاں ہماری بھیڑ بکریاں اور ہمارے سب چوپائے جلعاد کے شہروں میں رہیں گے
۲۷ پر ہم جو تیرے خادم ہیں ہمارا یک ایک مسلح جوان خداوند کے حضور لڑنے کو پار جائے گا جیسا ہمارا مالک کہتا ہے
۲۸ تب موسیٰ نے ان کے بار ے الیعزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور اسرائیلی قبائل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو وصیت کی
۲۹ اور ان سے یہ کہا کہ اگر بنی جد اور بنی روبن کا ایک ایک مرد خداوند کے حضور مسلح ہو کر لڑائی میں تہمارے ساتھ جائے اور اس ملک پر تہمارا قبضہ ہو جائے تو تم جلعاد کا ملک ان کی میراث کر دینا
۳۰ پر اگر وہ ہتھیا ر باندھ کر رتمہارے ساتھ پار نہ جائیں تو ان کو بھی ملک کنعان ہی میں تمہارے بیچ میراث ملے
۳۱ تب بنی جد اور بنی روبن نے جواب دیا جیسا خداوند نے تیرے خادموں کو حکم کیا ہے ہم ویسا ہی کریں گے ۔
۳۲ ہم ہتھیار باندھ کر اس پار ملک کنعان کو جائیں گے پر یردن کے اس پار ہماری میراث رہے
۳۳ تب موسیٰ نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کی مملکت اور بسن کے بادشاہ عوج کی مملکت کو یعنی انکے ملکوں اور شہروںکو جو ان کے اطراف میں تھے اور اس ساری نواحی شہروں کو بنی جد اور بنی روبن اور منسی بن یوسف کے آدھے قبیلہ کو دے دیا
۳۴ تب بنی جد نے دیبون اور عطارات اور عروعیر
۳۵ اور عطرات شوفان اور یعزیر اور یگبہا
۳۶ اور بیت نمرہ اور بیت ہارن فصیلدار شہر اور بھیڑ سالے بنائے
۳۷ اور بنی روبن نے حسبون اور الیعالی اور قریتائم
۳۸ اور نبو اور بعل اور معون کے نام بدلکر انکو اور شماہ کو بنایا اور انہوں نے اپنے ہوئے شہروں کے دوسرے نام رکھے
۳۹ اور منسی کے بیٹے مکیر کی نسل کے لوگوں نے جا جلعاد کو دے دیا اور اموریو ں کو جو وہاں بسے ہوئے تھے نکال دیا
۴۰ تب موسیٰ نے جلعاد بن منسی کو دے دیا سو اسکی نسل کے لو گ وہاں سکونت کرنےلگے
۴۱ اور منسی کے بیٹے یائیر نے اس نواحی کی بستیوں کو جا کر لے لیا اور انکا نام حووت یائیر رکھا
۴۲ اور نوبح نے قنات اور اسکے دیہات کو اپنے تصرف میں کر لیا اور پنے ہی نام پر اسکا بھی نام نوبح رکھا۔