ح۔ موسیٰ کا گناہ (۲۰:۱۔۱۳)
۲۰:۱ جونہی یہ باب کھلتا ہے بنی اِسرائیل کو مصر سے نکلے ہوئے چالیس سال اور موعودہ ملک میں جاسوس بھیجنے تک ۳۸ سال ہو چکے تھے۔ لوگ ۳۸ سال تک آوارہ پھرتے رہے، اور اب قادِس دشتِ صین میں واپس آ گئے تھے، عین، اُسی جگہ پر جہاں سے اُنہوں نے جاسوس بھیجے تھے۔ اَب وہ ملکِ موعود سے اُتنے ہی دُور تھے جتنے ۳۸ سال پہلے۔ یہاں مریم نے وفات پائی اور دفن ہوئی۔ تقریباً چھے لاکھ لوگ ۱۹ اور ۲۰ باب کے درمیان ضائع شدہ سالوں میں مر گئے تھے۔ ایک پوری نسل نے خاموشی میں بے اعتقادی کے کڑوے پھل کو کاٹا۔
۲۰: ۲۔۹ جن لوگوں نے موسیٰ اور ہارون سے پانی کی قلت کے متعلق شکایت کی، وہ ایک نئی نسل تھی، لیکن اُن کا طرزِ عمل بھی اپنے آبا و اجداد جیسا تھا (آیت ۲۔۵)۔ خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ وہ چٹان سے کہے تو اُس سے پانی بہ نکلے گا۔ اُسے اُس لاٹھی کو لینا تھا جو خیمۂ اِجتماع میں رکھی گئی تھی (آیت ۹، بمقابلہ ۱۷:۱۰)، گو یہ آیت ۱۱ میں ’’اُس کی لاٹھی‘‘ تھی۔ ہارون کی لاٹھی کہانت کی لاٹھی تھی، موسیٰ کی لاٹھی عدالت اور اِختیار کی لاٹھی تھی۔
۲۰:۱۰۔۱۳ ایک بار پہلے بھی مسّہ (اور مریبہ) کے مقام پر لوگ پانی کے لئے بُڑبڑائے تھے۔ اُس وقت خدا نے موسیٰ سے کہا تھا کہ وہ چٹان کو مارے (خروج ۱۷:۱۔۷)۔ لیکن اَب موسیٰ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ پہلے تو اُس نے سخت زبان استعمال کی اور لوگوں کو باغی کہا (آیت ۱۰)۔ پھر اُس نے چٹان سے کہنے کے بجائے اُسے دو بار مارا۔ خروج کی کتاب میں جس چٹان کو مارا گیا وہ مسیح کی جسے کوہِ کلوری پر مارا گیا مثیل تھی۔ لیکن مسیح کو ایک بار مارا جانا تھا۔ اُس کی موت کے بعد روح القدس دیا جائے گا، جو آیت ۱۱ میں مذکور پانی کا مثیل تھا۔
اِس سلسلے میں موسیٰ اور ہارون کے گناہ کے سبب خدا نے حکم دیا کہ وہ موعودہ مُلک میں داخل نہ ہونے پائیں گے۔ اُس نے اِس جگہ کا نام مریبہ رکھا، لیکن یہ خروج ۱۷ باب میں مذکور مریبہ سے مختلف مقام ہے۔ بعض اوقات اِسے مریبہ قادِس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جی۔ کیمبل مورگن اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:
’’اِس غصے کے اِظہار سے (جو کہ بالکل فری بات تھی) خدا کے خادم نے لوگوں کے سامنے خدا کی غلط نمائندگی کی۔ اُس کی ناکامی اِس وجہ سے تھی کہ وقتی طور پر اُس کا ایمان عمل کی اعلیٰ ترین سطح تک نہ پہنچ سکا۔ اب بھی اُس کا خدا اور اُس کی قدرت پر ایمان تھا، لیکن خدا پر اُس کا یہ ایمان نہ تھا کہ لوگوں کی نظر میں وہ اُسے مقدس قرار دے۔ اِس سے ایک نہایت اہم سبق حاصل ہوتا ہے۔ صحیح کام بھی اِس قدر غلط انداز میں کئے جا سکتے ہیں کہ اُن سے غلط نتائج پیدا ہوں۔ ‘‘
ط۔ ہارون کا اِنتقال (۲۰: ۱۴۔۲۹)
۲۰:۱۴۔۲۱ موعودہ ملک میں داخل ہونے کا یہ منصوبہ نہ تھا کہ بیابان میں سے براہِ راست شمال کی طرف سفر شروع کیا جائے بلکہ ادومیوں کی سرزمین میں سے مشرق کی طرف سفر کیا جائے اور پھر شمال میں بحیرۂ مردار کے مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ جائیں۔ تب لوگ یردن کو عبور کریں گے۔ لیکن ادوم کے بادشاہ نے بنی اِسرائیل کی یقین دہانی کے باوجود کہ وہ ادومیوں کا نہ پانی پئیں گے، نہ کچھ کھائیں گے اور نہ اُن کی کسی چیز کا نقصان ہی کریں گے اُنہیں اپنے علاقے سے گزرنے کی اِجازت نہ دی۔ بعد ازاں ساؤل بادشاہ نے ادومیوں سے جنگ کر کے اُنہیں شکست دی۔ ادومی یعقوب کے بھائی عیسو کی نسل سے تھے۔
۲۰:۲۲۔۲۹ جب لوگوں نے قادِس سے کوہِ ہور، ادوم کی سرحد کی طرف سفر کیا تو ہارون اِنتقال کر گیا اور الیعزر اُس کا جانشین مقرر ہوا (آیات ۲۲۔۲۹)۔ میتھیو ہنری لکھتا ہے:
’’ہارون گو اپنے گناہ کے باعث موأ، لیکن اُسے ایک بدکار کی طرح کسی وبا یا آسمانی آگ سے ہلاک نہیں کیا گیا، بلکہ عزت اور سکون سے اُسے موت آئی۔ جیسا کہ بعض اوقات الٰہی غضب کے ہاتھوں افراد کو اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جاتا ہے، اُسے اِس طرح نہیں کاٹ ڈالا گیا، بلکہ وہ الٰہی فضل کے ہاتھ میں جان دینے والے شخص کی حیثیت سے موأ۔ موسیٰ جس کے ہاتھوں نے ہارون کو کہانتی لباس پہنایا تھا، اب وہ ہاتھ اُس لباس کو اُتارتے ہیں، کیونکہ کہانت کی تعظیم کے تحت یہ واجب نہ تھا کہ وہ اُس میں جان دیتا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور لوگ قادس میں رہنے لگے اور مریم نے وہاں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئی
۲ اور جماعت ک ے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا سو وہ موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھےہوئے
۳ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑے اور کہنے لگےہائے کاش ہم بھی اسی وقت مر جاتے جب ہمارے بھائی خداوند کےحضور مرے
۴ تم خداوند کی جماعت کو یہا ں دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہا ں مریں؟
۵ اور تم نے ہم کو کیوں مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پینے کےلیے پانی تک میسر نہیں ہے
۶ اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خٰیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے تب خداوند کا جلال ان پر ظاہر ہوا
۷ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۸ اس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون دونوں جماعت کو اکٹھا کرواور ان کی آنکھوں کے سامنے اس چٹان سے کہو کہ وہ پانی دے اور ان کے لیے چٹان ہی سے پانی نکلنا یوں جماعت کو اور انکے چوپایوں کو پلانا
۹ چنانچہ موسیٰ نے خداوند کےحضور سے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی
۱۰ اور موسیٰ اور ہارون نے اس جماعت کو چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اس نے ان سے کہا کہ سنو اے باغیو ! کیا ہم تمہارے لیے اس چٹان سے پانی نکالیں؟
۱۱ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور چٹان پر دوبارہ لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور انکے چوپایوں نے پیا
۱۲ پر موسیٰ اور ہارون نے خداوند سے کہا کہ چونکہ تم نے میرا یقین نہیں کیا کہ بنی اسرائیل کے سامنے میری تقدیس کرتےاس لیے تم اس جماعت کو اس ملک میں جو میں نے انکو دیا ہے نہیں پہنچانے پاؤ گے
۱۳ مریبہ کا چشمہ یہی ہے کیونکہ بنی اسرائیل نے خداوند سے جھگڑا کیا اور وہ ان کے درمیان قدوس ثابت ہو ا
۱۴ اور موسیٰ نے قادس سے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تیرا بھائی اسرائیل یہ عرض کرتا ہے کہ تو ہماری سب مصیبتوں سے جو ہم پر آئیں واقف ہے ۔
۱۵ ہمارے باپ دادا مصر میں گئے اور ہم بہت مدت تک مصر میں رہے اور مصریوں نے ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے برا برتاؤ کیا
۱۶ اور جب ہم نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے ہماری سنی اور ایک فرشتہ بھیج کر ہم کو مصر سے نکال لے آیا اور ہم قادس شہر میں ہیں جو تیری سرحد کے آخر میں واقع ہے
۱۷ سو ہم کو اپنے ملک میں سے ہو کر جانے کی اجازت دے ہم کھیتوں اور تاکستانو ںمیں سے ہو کر نہیں گذریں گے اور نہ کوؤں کا پانی پیئیں گے ہم شاہراہ پر چلیں گے اور دہنے یا بائیں نہیں مڑیں گے جب تک تیری سرحد سے باہر نہ نکل جائیں
۱۸ پر شاہ ادوم نے کہلا بھیجا کہ تو میرے ملک سے ہو کر جانے نہیں پائے گا اور نہ میں تلوار لے کر تیرا مقابلی کروں گا
۱۹ بنی اسرائیل نے اسے پھر کہلا بھیجا کہ ہم سڑک سڑک ہی جائیں گے اور اگر ہم یا ہمارے چوپائے تیرا پانی بھی پیئیں تو اس کا دام دیں گے ہم کو کچھ نہیں چاہیےسوائے اس کے کہ تو ہمکو پاؤں پاؤں چل کر جانے دے
۲۰ پر اس نے کہا کہ تو ہرگز نکلنے نہیں پائے گا اور ادوم اسکےمقابلہ کے لیے بہت سے آدمی اور ہتھیار لے کر نکل آیا
۲۱ یوں ادوم نے اسرائیل کو اپنی حدود سے گذرنے کا راستہ دینے سے انکار کیا اس لیے اسرائیل اسکی طرف سے مڑ گیا
۲۲ اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت قادس سے روانہ ہو کر کوہ ہور پہنچی
۲۳ اور خداوند نے کوہ ہور پر جو ادوم کی سرحد سے ملا ہوا تھا موسیٰ اور ہارون سے کہا
۲۴ ہارون اپنے لوگوں میں جا ملے گا کیونکہ وہ اس ملک میں جو میں نے اسرائیل کو دیا ہے جانے نہیں پائے گا اس لیے کہ مریبیہ کے چشمہ پر تم نے میرے کلام کے خلاف عمل کیا
۲۵ سو تو ہارون اور اس کے بیٹے الیعزر کو اپنے ساتھ لے کر کوہ ہور کے اوپر آ جا
۲۶ اور ہارون کے لباس کو اتار کر اس کے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا کیونکہ ہارون وہیں وفات پا کر اپنے لوگوں میں جا ملا
۲۷ اور موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق عمل کیا اور وہ ساری جماعت کی آنکھوں کے سامنے کوہ ہور پر چڑھ گئے
۲۸ اور موسیٰ نے ہارون کے لباس کو اتار کر اسکے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا اور ہارون نے وہیں پہاڑ کی چوٹی پر رحلت کی ۔تب موسیٰ اور الیعزر پہاڑ پر سے اتر آئے
۲۹ جب جماعت نے دیکھا کہ ہارون نے وفات پائی تو اسرائیل کے سارے گھرانے کے لوگ ہارون پر تیس دن تک ماتم کرتے رہے۔