۳۰:۱۔۵ باب ۳۰ میں مَنّتوں کے بارے میں خصوصی ہدایات ہیں۔ جو شخص خداوند کے حضور مَنّت مانے، لازم ہے کہ وہ اُسے پورا کرے۔ اگر کوئی جوان عورت اپنے باپ کے گھر میں مَنّت مانے اور اُس کا باپ اِس منت کے بارے میں سن لے، وہ اِس منت کے خلاف بول سکتا تھا، یعنی پہلے دن ہی اُسے منع کر سکتا تھا تو یہ منت منسوخ تصور کی جاتی تھی۔ اگر وہ پہلے دن کے بعد تک اِنتظار کرتا اور اگر وہ کوئی بات نہ کرتا تو منت قائم ٹھہرتی اور اِسے پورا کرنا لازم تھا۔
۳۰:۶۔۱۶ آیات ۶۔۸ میں اُس منت کا بیان کیا گیا ہے جو کسی عورت نے شادی سے قبل مانی تھی۔ گو اُس کے خاوند نے منت ماننے کے وقت اُسے نہیں سنا تھا، لیکن جب وہ پہلے دن اِسے سنے تو اِسے منسوخ کر سکتا تھا۔ بیوہ اور مُطلقہ کی مَنّتیں قائم رہیں گی (آیت ۹)۔ اگر کوئی شادی شدہ عورت منت مانتی تو پہلے دن ہی اُس کا خاوند اُسے منسوخ کر سکتا تھا (آیات ۱۰۔۱۵)۔ اِس سے خاوند کی سربراہی قائم رہتی۔ اگر کوئی خاوند پہلے دن کے بعد منت کو منسوخ کرتا تو وہ قصور وار ٹھہرتا __ یعنی اُسے قربانی گزراننا پڑتی تھی ورنہ خداوند اُسے سزا دیتا (آیت ۱۵)۔
مقدس کتاب
۱ اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سرداروں سے کہا کہ جس بات کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ
۲ جب کوئی مرد خداوند کی منت مانے یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی خاص فرض ٹھہرائے تو وہ اپنے عہد کو نہ توڑے بلکہ جو کچھ اس کے منہ سے نکلا ہے اسے پورا کرے
۳ اور اگر کوئی عورت خداوند کی منت مانے اور اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے باپ کے گھر ہوتے ہوئے اپنے اوپر کوئی فرض ٹھہرائے
۴ اور اسکا باپ اسکی منت اور اسکے فرض کا حال جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرایا ہے سن کر چپ ہو رہے تو وہ سب منتیں اور سب فرض جو اس عورت نے اپنے اوپر ٹھہرائے ہیں قائم رہیں گے
۵ لیکن اگر اس کا باپ جس دن یہ سنے اسی دن اسے منع کرے تو اس کی منت یا کوئی فرض جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرایا قائم نہیں رہےگا اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا کیونکہ اسکے باپ نے اسے اجازت نہیں دی
۶ اور اگر کسی آدمی سے اس کی نسبت ہوجائے حالانکہ اس کی منیتیں یا منہ کی نکلی ہوئی بات جو اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی ہے اب تک پوری نہ ہوئی ہو
۷ اور اس کا آدمی یہ حال سن کر اس دن اس سے کچھ نہ کہے تو اس کی منیتں قائم رہیں گی اور جو باتیں اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی ہیں وہ بھی قائم رہیں گی
۸ لیکن اگر اسکا آدمی جس دن یہ سب سنے اور اسی دن اسے منع کرے تو اس نے گویا اس عورت کی منت کو اور اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو جو اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی توڑ دیا اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا
۹ پر بیوہ اور مطقہ کی منیتیں اور فرض ٹھہرائی ہوئی باتیں قائم رہیں گی
۱۰ اور اگر اس نے اپنے شوہر کے گھر ہوتے ہوئے کوئی منت مانی یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی فرض ٹھہرایا ہو ۔
۱۱ اور اس کا شوہر یہ حال سن کر خاموش رہا اور اس نے اسے منع نہ کیا ہو تو اس کی منیتیں اور اس کے سب فرض جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرائے قائم رہیں گے
۱۲ پر اگر اس کے شوہر نے جس دن یہ حال سنا اسی دن اسے باطل ٹھہرا یا ہو تو جو کچھ اس عورت کے منہ سے اسکی منتوں اور اسکے ٹھہرائے ہوئے فرض کے بارے نکلا ہے وہ قائم نہیں رہے گا اسکے شوہر نے اس کو توڑ ڈالا اور ہے اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا
۱۳ اسکی ہر منت کو اور پنی جان کو دکھ دینے کی ہر قسم کو اسکا شوہر چاہے تو قائم رکھے یا اگر چاہے تو باطل ٹھہرائے
۱۴ پر اگر اسکا شوہر روز بروز خاموش ہی رہے تو وہ گویا اس کی سب منتوں اور ٹھہرائے ہوئے فرضوں کو قائم کردیتا ہے اس نے انکو قائم یوں کیا کہ جس دن سے سب سنا وہ خاموش ہی رہا
۱۵ پر اگر وہ ان کو سن کر بعد میں ان کو باطل ٹھہرائے تو وہ اس عورت کا گناہ اٹھائے گا
۱۶ شوہر اور بیوی کے درمیان اور باپ اور بیٹی کے درمیان جب بیٹی نوجوانی کے ایام میں باپ کے گھر ہو ان ہی آئین کا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا۔