گنتی ۶

ہ۔ نذیر کے بارے میں قانون (‏باب ۶)‏

۶:‏۱۔۸ لفظ نذیر ایک ایسے مصدر سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے ’’علیٰحدہ کرنا۔‘‘ نذیر کی مَنّت رضاکارانہ مَنّت تھی جو ایک مرد یا عورت ایک مخصوص عرصے کے لئے مان سکتا تھا۔ یہودی روایات کے ایک مجموعے مِشنہ میں بیان کیا گیا ہے کہ نذیر کی مَنّت ۱۰۰ دِنوں کے لئے مانی جا سکتی ہے‏، لیکن مَنّت کا عام دورانیہ تیس دن کا ہوتا تھا۔ کئی لوگ پوری زندگی کے لئے نذیر بنتے تھے‏، لیکن ایسی مثالیں بہت کم ہیں‏، مثلاً سموئیل‏، سمسون اور یوحنا بپتسمہ دینے والا۔ مَنّت میں تین باتیں شامل تھیں

  1. کہ وہ نہ تو انگور کھائے گا اور نہ اِس کے پھل سے تیار شدہ مشروب پئے گا۔ اِس میں سِرکہ‏، شراب‏، انگور کا رس‏، انگور اور کشمش بھی شامل ہے (‏آیات ۲۔۴)‏۔
  2. وہ اپنے بال نہیں کٹوائے گا (‏آیت ۵)‏‏،
  3. وہ کسی لاش کے نزدیک نہیں جائے گا (‏آیات ۶۔۸)‏۔

مَے اِنسانی خوشی کو ظاہر کرتی ہے۔ لمبے بال مرد کے لئے شرم کا باعث ہیں لہٰذا یہاں یہ اِنکساری کی علامت ہے۔ لاش ناپاکی پیدا کرتی ہے۔ 

یوں نذیر اِس دُنیا کے فرزندوں کے لئے ایک معما تھا اور اَب بھی ہے۔ شادمانی کے حصول سے وہ گریز کرتا تھا‏، زور آور ہونے کے لئے وہ کمزور بنتا تھا‏، اور اپنے ناتے داروں سے محبت کرنے کی خاطر وہ اُن سے ’’نفرت‘‘ کرتا تھا (‏لوقا ۱۴:‏۲۶)‏۔

۶:‏۹۔۱۲ اِس پارے میں اِس طریقے کا بیان ہے جس پر اُس وقت عمل کیا جاتا جب کوئی شخص نادانستہ طور پر لاش کو چھونے سے اپنی مَنّت کو توڑ دیتا۔ سب سے پہلے وہ سات دِنوں تک طہارت کے عمل سے گزرتا جیسا کہ گنتی ۱۹ باب میں لکھا ہے۔ ساتویں دن وہ اپنا سر منڈاتا اور اِس کے بعد دوسرے دن وہ دو قمریاں یا دو کبوتر خداوند کے حضور پیش کرتا‏، ایک خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرا سوختنی قربانی کے لئے۔ وہ جرم کی قربانی کے لئے ایک نَر برّہ بھی لاتا۔ اِن قربانیوں کے باوجود اُسے پھر سے شروع کرنا پڑتا۔ گو ایک ناپاک نذیر کی ازسرِ نو تقدیس کی جاتی‏، لیکن اُس کی ناپاکی کے دن ضائع ہو جاتے۔ ہمارے لئے اِس کا یہ مطلب ہے کہ ایک برگشتہ ایمان دار کو بحال کیا جا سکتا ہے‏، لیکن خدا کی رفاقت کے بغیر گزارے ہوئے دن ضائع ہو جاتے ہیں۔ 

۶:‏۱۳۔۲۱ جب کوئی شخص اپنی مَنّت کے ایام کے اِختتام تک پہنچتا تو اُسے اِن آیات میں بیان کردہ رسم ادا کرنی پڑتی۔ چار قربانیاں لائی جاتیں۔ سوختنی‏، خطا‏، سلامتی اور نذر کی قربانی (‏آیات ۱۴‏، ۱۵)‏۔ نذیر اپنا سر منڈاتا اور سلامتی کی قربانی کی آگ میں اپنے بال جلا دیتا (‏آیت ۱۸)‏۔ اِس رسم میں کاہن کے حصے کا بیان آیات ۱۶‏،۱۷‏،۱۹ اور ۲۰ میں کیا گیا ہے۔ آیت ۲۱ میں رضا کی قربانی کا ذکر ہے جو نذیر اپنی مَنّت کی تکمیل پر گزران سکتا تھا۔ 

۶:‏۲۲۔۲۷ باب ۶ کی اِختتامی آیات میں بہت خوبصورت اور جانے پہچانے کلماتِ برکت پیش کئے گئے ہیں جن سے ہارون اور اُس کے بیٹے لوگوں کو برکت دیتے۔ عظیم مُبشرڈی۔ ایل۔ مُوڈی نے اِس کی بہت تعریف کی:‏

’’یہاں وہ کلماتِ برکت ہیں جو ساری دُنیا کے لئے ہیں اور یہ ہر وقت دیئے جا سکتے ہیں۔ اِن کی تاثیر کم نہیں ہوتی۔ ہر ایک دل اِسے بیان کر سکتا ہے‏، یہ خدا کی تقریر ہے‏، ہر ایک خط کے اِختتام پر یہ کلماتِ برکت لکھیں‏، ہر ایک دن کا اِس سے آغاز کریں‏، ہر ایک رات کی اِس سے تقدیس کریں۔ یہاں وہ کلماتِ برکت ہیں جن سے آسمان کی فرحت بخش صبح ہماری ناچار زندگی کو تقویت دیتی‏، اِسے منور کرتی اور اِسے محفوظ کرتی ہے۔‘‘

مقدس کتاب

۱ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی مرد یا عورت نذیر کی منت یعنی اپنے آپ کو خداوند کے لیے الگ رکنھنے کی خاص منت مانے
۳ تو وہ مے اور شراب سے پر ہیز کرے اور مے کا یا شراب کا سرکہ نہ پئے اور نہ انگور کا رس پئے اور نہ تازہ یا خشک انگو ر کھائے
۴ اوراپنی نذرات کے تما م ایام میں بیج سے لے کر چھلکے تک جو کچھ انگور کے درخت میں پیدا ہو اسے نہ کھائے
۵ اور اسکی نذرات کی منت کےدنوں میں اس کے سر پر استرا نہ پھیرا جائے جب تک وہ مدت جس کے لیے وہ خداوند کا نذیر بنا ہے پوری نہ ہو تب تک وہ مقدس رہے اور اپنے سر کی بالوں کو بڑھنے دے
۶ ان تمام ایام میں جب وہ خداوند کا نذیر ہو وہ کسی لاش کے پاس نہ جائے
۷ وہ اپنے ماں یا باپ یا بھائی یا بہن کی خاطر بھی جب وہ مریں اپنے آپ کو نجس نہ کرے کیونکہ اس کی نذرات جوخدا کے لیے اسکے سر پر ہے
۸ وہ اپنی نذرات کی مدت تک خداوند کے لیے مقدس ہے
۹ اور اگر کوئی آدمی ناگہان اسے پاس ہی مر جائے اور اسکی نذرات کے سر کو ناپاک کردے تو وہ اپنے پاک ہونے کے د ن اپنا سر منڈوائے یعنی ساتوں دن سر منڈوائے
۱۰ اور آٹھویں روز دو قمریا ں یا کبوتر کے دو بچے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے
۱۱ اور کاہن ایک خطا کی قربانی کے لیے اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لیے گذرانے اور اسکے لیے کفارہ دے کیونکہ وہ مردہ کے سبب سے گنہگار ٹھہرا ہے اور اس کے سر کو اسی دن مقدس کرے
۱۲ پھر وہ اپنی نذرات کی مدت کو خداوند کے لیے مقدس کرے اور ایک یکسالہ نر برہ جرم کی قربانی کے لیے لائے لیکن جو دن گذر گئے وہ گنے نہیں جائیں گے کیونکہ اس کی نذرات ناپاک ہوگئی
۱۳ اور نزیر کے لیے شرع یہ ہے کہ جب اسکی نذرات کے د ن پورے ہو جائیں تو وہ خیمہ اجتماع کے دروازہ پر حاضر کیا جا ئے
۱۴ اور خداوند کے حضور اپنا چڑھاوا چڑھائے یعنی سوختنی قربانی کے لیے ایک بے عیب یکسالہ نر برہ اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بے عیب ماد ہ برہ اور سلامتی کی قربانی کے لیے ایک بے عیب مینڈھا
۱۵ اور بے خمیری روٹیوں کی ایک ٹوکری اور تیل ملے ہوئے میدے کے کلچے اور تیل چپڑی ہوئی بے خمیری روٹیاں اور انکی نذر کی قربانیاں اور تپاون لائے
۱۶ اور کاہن ان کو خداوند کے حضور لا کر اس کی طرف سے خطا کی قربانی اور سوختنی قربانی گذرانے
۱۷ اور اس مینڈھ کو بے خمیری روٹیوں کی ٹوکری کے ساتھ خداوند کے حضور سلامتی کی قربانی کے طور پر گذرانے اور کاہن اسکی نذرکی قربانی اور تپاون بھی چڑھائے ۔
۱۸ پھر وہ نذیر خیمہ اجتماع کے دروازہ پر اپنی نذرات کے بال منڈوائے اور نذرات کے بالوں کواس آگ میں ڈال دے جو سلامتی کی قربانی کے نیچے ہو
۱۹ اور جب نذیر اپنی نذرات کے بال منڈوا چکے تو کاہن اس کے مینڈھے کا ابالا ہوا شانہ اورا یک بے خمیری روٹی میں سے اور ایک بے خمیری کلچہ لے کر اس نذیرکے ہاتھوں پر ان کو دھرے
۲۰ پھر خداوند ان کو ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلائے۔ ہلانے کی قربانی کے سینہ اور اٹھانے کی قربانی کے شانہ کے ساتھ یہ بھی کاہن کے لیے مقدس ہیں اس کے بعد نذیر مے پی سکے گا
۲۱ نذیر جو منت مانے اور جو چڑھاوا اپنی نذرات کے لیے خداوند کے حضور لائے علاوہ اس کے جسکا اسے مقدور ہو ان سبھوں کے بارے میں شرع یہ ہے جیسی منت اس نے مانی ہو ویسا ہی اسکو نذرات کی شرع کے مطابق عمل کرنا پڑیگا
۲۲ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲۳ ہارو ن اور اس کے بیٹوں سے کہہ کہ وہ بنی اسرائیل کو اس طرح دعا دیا کرنا۔ تم ان سے کہنا
۲۴ خداوند تجھے برکت دے اور محفوظ رکھے
۲۵ خداوند اپنا چہرہ تجھ پر جلوہ گر فرمائے اور تجھ پر مہربان رہے
۲۶ خداوند اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کرے اور تجھے سلامتی بخشے
۲۷ اس طرح وہ میرے نام کو بنی اسرائیل پر رکھیں گے اور میں انکو برکت بخشوں گا۔