۱۷:۱۔۹ اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ کہانت صرف ہارون کے خاندان کو دی گئی ہے، خدا نے حکم دیا کہ ہر ایک قبیلے کی طرف سے ایک ایک لاٹھی خیمۂ اِجتماع میں رکھ دی جائے۔ لاوی کے قبیلے کی لاٹھی پر ہارون کا نام تھا۔ کہانت کا حق صرف اُسی کو دیا جائے گا جس کی لاٹھی سے کلیاں پھوٹ نکلیں گی۔ صبح کے وقت جب لاٹھیوں کا جائزہ لیا گیا تو ہارون کی لاٹھی سے کلیاں پھوٹی ہوئی اور شگوفے نکلے ہوئے اور پکے بادام لگے ہوئے تھے۔ ہارون کی لاٹھی مردوں میں سے جی اُٹھے ہوئے مسیح کی تصویر پیش کرتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے چنا ہوا کاہن ہے، چنانچہ مسیح مردوں میں سے جی اُٹھے ہوؤں میں پہلا پھل ہے (۱۔کرنتھیوں ۱۵:۲۰،۲۳)۔ پاک مقام میں سونے کے ’’شمع دان میں بادام کے پھول کی صورت کی چار پیالیاں اور اپنے اپنے لٹو اور پھول سمیت‘‘ تھیں (خروج ۲۵:۳۳،۳۴)۔ یہ کاہنوں کا کام تھا کہ وہ ہر روز شمع دان کی دیکھ بھال کریں۔ ہارون کی لاٹھی شمع دان کے ڈیزائن اور پھل سے مشابہ تھی اور یہ اِس بات کی علامت تھی کہ ہارون کا خاندان خدا کی طرف سے کہانت کی خدمت سرانجام دینے کے لئے چنا گیا تھا۔
۱۷:۱۰۔۱۳ بعد ازاں ہارون کی لاٹھی عہد کے صندوق میں رکھی گئی اور یہ باغیوں کے خلاف ایک نشان تھا۔ اِس کے بعد لوگ مسکن کی طرف جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔
مقدس کتاب
۱ باب نمبر ۱۷ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
۲ بنی اسرائیل سے گفتگو کرکے انکے سب سرداروں سے ان کے آبائی خاندانوں کے مطابق فی خاندان کے حساب سے بارہ لاٹھیا ں لے اور ہر سردار کا نام اسی لاٹھی پر لکھ
۳ اور لاوی کی لاٹھی پر ہارون کا نام لکھنا کیونکہ ان کے آبائی خاندانوں کے ہر سردار کے لیے ایک لاٹھی ہوگی
۴ اور انکو لے کر خیمہ اجتماع میں شہادت کے صندوق کے سامنے جہاں میں تم سے ملاقات کرتا ہوں رکھ دینا
۵ اور جس شخص کو میں چنوں گا اس کی لاٹھی سے کلیاں پھوٹ نکلیں گی اور بنی اسرائیل جو تم پر کڑکڑاتے رہتےہیں وہ کڑکڑانامیں اپنے پاس سے دفع کرونگا
۶ سو موسیٰ نے بنی اسرائیل سے گفتگو کی اور ان کے ہر سردار نے اپنے آبائی خاندانوں کے مطابق فی سردار کے حساب سے بارہ لاٹھیاں اسکو دیں اور ہارون کی لاٹھی بھی ان کی لاٹھیوں میں تھی
۷ اور موسیٰ نے ان لاٹھیوں کو شہادت کے خیمہ میں خداوند کے حضور رکھ دیا
۸ اور دوسرے دن جب موسی ٰ شہادت کے خیمہ میں گیا تو دیکھا کہ ہارون کی لاٹھی میںجو لاوی خاندان کے نام تھی کلیاں پھوٹی ہوئی اور شگوفے کھلے ہو ئے اور پکے بادام لگے تھے
۹ اور موسیٰ ان سب لاٹھیوں کو خداوند کے حضور سے نکالکر سب بنی اسرائیل کے پاس لے گیا اور انہوں نے دیکھا اور پر شخص نے اپنی لاٹھی لے لی
۱۰ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ہارون کی لاٹھی شہادت کے صندوق کے آگے دھر دے تاکہ وہ فتنہ انگیزوں کے لیے ایک نشان کے طور پر رکھی رہے اور اس طرح تو انکی شکایتیں جو میرے خلاف ہوتی ہیں بند کر دے تاکہ وہ ہلاک نہ ہو ں
۱۱ اور موسیٰ نے جیسا خداوند نے اسے حکم دیا تھا ویسا ہی کیا۔
۱۲ بنی اسرائیلیوں نے موسیٰ سے کہا ،” ہم جانتے ہیں کہ ہم مریں گے ہمیں تباہ ہونا ہی ہے ۔
۱۳ نزدیک جاتا ہے ضرور مر جاتا ہے ۔ کیا ہم سب لوگ فنا ہوجائیں گے ۔”