۱۹:۱۔۱۰ باب ۱۹ میں عہد عتیق کی طہارت کے لئے ایک زبردست نشان یعنی سرخ بچھیا کی راکھ کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قربانی خصوصی طور پر مُردے کو چھو لینے سے ناپاکی کو دُور کرنے کے لئے تھی۔ بنی اِسرائیل نے حال ہی میں قادِس میں خداوند سے بغاوت کی تھی۔ اَب اُنہیں بیابان میں اپنی بے اعتقادی کی وجہ سے مرنا تھا۔ چھے لاکھ سے زائد لوگ ۳۸ سالوں میں یعنی چالیس لوگ یومیہ کے حساب سے مر جائیں گے۔ سرخ بچھیا کی راکھ کی ضرورت واضح ہے کیونکہ ایسے سفر میں کسی مُردے سے واسطہ پڑنے سے گریز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
بچھیا کو لشکرگاہ سے باہر لے جا کر ذبح کیا جاتا تھا (آیت ۳)۔ الیعزر کاہن خیمۂ اجتماع کے سامنے اِس کے خون کو سات بار چھڑکتا، تب پوری بچھیا کو (چمڑے سمیت) دیودار کی لکڑی، زوفے اور سرخ کپڑے کے ساتھ جلا دیا جاتا۔ حاصل شدہ راکھ کو کوڑھی کو پاک صاف کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ کاہن اور بچھیا کو جلانے والا آدمی شام تک ناپاک رہتے۔ پاک شخص بڑی احتیاط سے راکھ کو مستقبل میں استعمال کے لئے لشکرگاہ کے باہر جمع کرتا (آیت ۹)، اور وہ شام تک ناپاک رہتا۔
۱۹:۱۱۔۱۹ اِس پارے میں بیان کیا گیا ہے کہ راکھ کو کیسے استعمال کیا جائے۔ اگر کوئی شخص لاش کو چھونے یا اُس خیمے میں جانے سے جہاں وہ شخص مرا تھا ناپاک ہو جاتا تو پاک شخص کچھ راکھ لیتا اور اُسے بہتے پانی میں ملاتا۔ پاک آدمی یا ناپاک آدمی یا ناپاک چیز پر تیسرے اور ساتویں دن اِس پانی کو چھڑکتا۔ ساتویں دن ناپاک آدمی اپنے کپڑے دھوتا، غسل کرتا تو اُس شام کو پاک ہوتا (آیت ۱۹)۔
ولیمز کا خیال ہے کہ سرخ بچھیا مسیح کی علامت ہے، جو بیرونی اور اندرونی طور پر بے داغ، گناہ کی غلامی سے آزاد اور اِنسانیت کی سرخ مٹی سے ملبوس تھا۔ لیکن ہم اِس علامت پر مزید زور دینے سے محتاط رہیں۔
بچھیا کی راکھ کے استعمال کا ایک تواریخی بیان گنتی ۳۱ باب میں ہے۔ مینٹل (Mantle)کہتا ہے:
’’راکھ میں خطا کی قربانی کی ضروری خصوصیات تھیں اور اُسے مقابلتاً کسی تکلیف اور وقت کے ضیاع کے بغیر حاصل کیا جا سکتا تھا۔ ایک سرخ بچھیا کی راکھ کو صدیوں تک استعمال کیا جا سکتا تھا۔ پوری یہودی تاریخ میں صرف چھے بچھیوں کی ضرورت پڑی، کیونکہ راکھ کی تھوڑی سی مقدار میں چشمے کے خالص اور صاف پانی کی سی تاثیر تھی۔‘‘
عبرانیوں کے خط کا مصنف یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ گائے کی راکھ ناپاکوں پر چھڑکے جانے سے ظاہری پاکیزگی حاصل ہوتی تھی، لیکن مسیح کے خون میں مُردہ دلوں کو مُردہ کاموں سے پاک کرنے کے لئے لامحدود قدرت ہے (عبرانیوں ۹:۱۳،۱۴)۔
۱۹:۲۰،۲۲ ناپاک شخص ناپاکی دُور کرنے کے پانی کو استعمال نہ کرنے سے قابلِ سزا تھا۔ خدا نے یہ بھی حکم دیا کہ جس کسی نے اِس پانی کو چھوا اور چھڑکا وہ شام تک ناپاک رہے گا اور جس کسی چیز کو اُس ناپاک آدمی نے چھوا وہ بھی باقی ماندہ دن کے لئے ناپاک رہے گا۔
مقدس کتاب
۱ اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ
۲ شرع کے جس آئین کا حکم خداوند نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ تیرے پاس ایک بے داغ اور بے عیب سرخ رنگ کی بچھیا لائیں جس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو
۳ اور تم اسے لے کر الیعزر کاہن کو دینا اور وہ اسے لے کر لشکر گاہ کےباہر لے جائے اور کوئی اسے اس کے سامنے ذبح کردے
۴
۵ اورا لیعزر کاہن اپنی انگلی سے اس کا کچھ خون لے کر اسے خیمہ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلا دے یعنی اس چمڑا اور گوشت اور خون اور گوبر اس سب کو جلا ئے
۶ پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑا لے کر اس آگ میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے
۷ تب کاہن اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اس کے بعد وہ لشکر گاہ کے اندر آئے پھر بھی کاہن شام تک ناپاک رہےگا
۸ اور جو اس گائے کو جلائے وہ بھی اپنے کپڑے پانی سے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا
۹ اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اسے لشکر گاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں دھر دے یہ بنی اسرائیل کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی ہے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے
۱۰ اور جو اس گائے کی راکھ کو بٹورے وہ شخص بھی اپنے کپڑے دھوئے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا اور یہ بنی اسرائیل کے لیے اور ان پردیسیوں کے جو ان میں بودوباش کرتے ہیں ایک دائمی آئین ہوگا
۱۱ جو کو ئی کسی آدمی کی لاش کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا
۱۲ ایسا آدمی تیسرے دن اپنے آپ کو اس راکھ سے پاک کرے تو وہ ساتویں دن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تیسرے دن اپنے آپ کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دن پاک نہیں ٹھہرے گا
۱۳ جو کو ئی آدمی لاش کو چھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے وہ شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے اسکی ناپاکی اب تک اس پر ہے
۱۴ اگر کوئی آدمی کسی ڈیرے میں مر جائے تو اس کے بارے میں شرع یہ ہے کہ جتنے اس ڈیرے میں آئیں اور جنتے اس ڈیرے میں رہتے ہوں وہ سات دن تک ناپاک رہیں گے
۱۵ اور ہر ایک برتن جسکا ڈھکنا اس پر بندھا نہ وہ ناپاک ٹھہرے گا ۔
۱۶ اور جو کو ئی میدان میں تلوار کے مقتول کو یا مردہ کو یا آدمی کی ہڈی کو یا کسی قبر کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا۔
۱۷ اور ناپاک آدمی کے لیے اس جلی ہوئی خطا کی قربانی کی راکھ کو برتن میں لے کر اس پر بہتا پانی ڈالیں
۱۸ پھر کو ئی پاک آدمی زوفا لے کر اور اسے پانی میں ڈبو ڈبو کر اس ڈیرے پر اور جتنے برتن اور آدمی وہاں ہو ں ان پر اور جس شخص نے ہڈی کو یا مقتول کو یا مردہ کو یا قبر کو چھوا ہے اس پر چھڑکے
۱۹ وہ پاک آدمی تیسرے دن اور ساتویں دس اس ناپاک آدمی پر پانی کو چھڑکے اور ساتویں دن اسے صاف کرے پھر اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے تو وہ شام کو پاک ہوگا
۲۰ لیکن جو ناپاک ہو اور اپنی صفائی نہ کرے وہ شخص جماعت میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اس نے خداوند کے مقدس کو ناپاک کیا ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے
۲۱ اور یہ ان کے لیے ایک دائمی آئین ہو جو ناپاکی دور کرنے کے پانی کو لے کر چھڑکے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور جو کوئی ناپاکی دور کرنے کے پانی کو چھوئے وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا
۲۲ اور جس کسی چیز کو وہ ناپاک آدمی چھوئے وہ ناپاک ٹھہرے گی اور جو کوئی اس چیز کو چھو لے وہ بھی شام تک ناپاک ہے گا۔