احبار ۲۳

۸۔ خداوند کی عیدیں (‏باب ۲۳)‏

الف۔ سبت (‏۲۳:‏۱۔۳)‏

اِسرائیل کا مذہبی کیلنڈر اَب خدا کے قوانین کا موضوع بن جاتا ہے۔ خداوند نے موسیٰ کے ذریعے بنی اِسرائیل کو بتایا کہ وہ خداوند کی عیدوں کا اعلان کرے کہ یہ مقدس مجمعے ہیں۔ 

چھے دن کی محنت کے بعد ساتواں دن یا سبت کام سے آرام کا دن ہو۔ یہ ہفتے کا واحد پاک دن تھا۔ 

ب۔ عید فسح (‏۲۳:‏۴‏،۵)‏

خداوند کی فسح پہلے مہینے (‏نیسان یا ابیب)‏ کی چودھویں تاریخ کو منائی جاتی تھی۔ یہ اِسرائیل کی مصر کی غلامی سے رِہائی کی یادگار کے طور پر منائی جاتی تھی۔ فسح کا برّہ خدا کے برّے مسیح کی علامت تھا (‏۱۔کرنتھیوں ۵:‏۷)‏‏، جس کا خون ہمیں گناہ کی غلامی سے مخلصی دلانے کے لئے بہایا گیا۔ وہ وقت پورا ہونے پر موا (‏گلتیوں ۴:‏۴۔۶)‏۔

ج۔ عید فطیر (‏۲۳:‏۶۔۸)‏

عید فطیر کا تعلق فسح سے تھا۔ یہ سات دن تک جاری رہتی۔ اِس کا آغاز فسح کے بعد کے دن یعنی نیسان کی پندرھویں تاریخ سے ہوتا اور بیسویں تاریخ تک جاری رہتا۔ اِن دونوں عیدوں کے ناموں کا ذِکر اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ آتا ہے۔ اِن ایام میں یہودیوں کے لئے حکم تھا کہ تمام خمیر گھر سے نکال دیں۔ کتابِ مقدس میں خمیر گناہ کی علامت ہے۔ یہ عید ایک ایسی زندگی کی تصویر پیش کرتی ہے جس سے بَدی اور شرارت کا خمیر نکال دیا گیا ہے بلکہ اِس زندگی کا ’’صاف دِلی اور سچائی کی بے خمیر روٹی سے‘‘ آغاز ہوا (‏۱۔کرنتھیوں ۵:‏۸)‏۔ فسح (‏ہماری مخلصی)‏ اور عید فطیر (‏پاکیزگی میں چلنے کے لئے ہمارا فرض)‏ میں کوئی وقفہ نہیں … حتیٰ کہ آج کل بھی یہودی اِس عید کے دوران بے خمیری روٹی کھاتے ہیں۔ یہ بے خمیر روٹی ہمیں بے گناہ مسیح کی یاد دلاتی ہے۔

د۔ پہلے پھلوں کی عید (‏۲۳:‏۹۔۱۴)‏

جَو کے پُولے … کے ہلانے کی نذر کو عیدِفطیر کے دوسرے دن پیش کیا جاتا (‏یعنی سبت کے دوسرے دن)‏ __ یعنی ہفتے کے پہلے دن۔ اِسے پہلے پھلوں کی عید کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ جَو کی کٹائی کے آغاز کی علامت تھی‏، یعنی یہ سال کی پہلی فصل تھی۔ جَو کا ایک پُولا فصل کی کٹائی کی شکرگزاری کے طور پر خدا کے حضور ہلایا جاتا۔ سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی بھی پیش کی جاتی۔ پہلی فصل کٹائی کو بڑی فصل کٹائی کے وعدے کے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ مسیح کے جی اُٹھنے کی علامت ہے ’’مسیح … جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہوا‘‘ (‏۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۲۰)‏۔ اُس کا جی اُٹھنا اِس بات کی ضمانت ہے کہ جو لوگ اُس پر ایمان رکھتے ہیں‏، جی اُٹھ کر لافانی حیثیت حاصل کریں گے۔ 

ہ۔ ہفتوں کی عید (‏۲۳:‏۱۵۔۲۲)‏

ہفتوں کی عید یا پنتکست (‏یونانی‏، پچاس)‏ فسح کے سبت کے پچاس دن بعد منائی جاتی۔ یہ فصل کٹائی کا تہوار تھا جس میں گندم کی کٹائی کے آغاز کے لئے خداوند کی شکر گزاری کی جاتی تھی۔ اِس موقعے پر گیہوں کی کٹائی کے پہلے پھل پیش کئے جاتے تھے۔ اِس کے ساتھ سوختنی قربانی‏، نذر کیقربانی اور سلامتی کا ذبیحہ بھی پیش کیا جاتا۔ یہودی روایت کے مطابق موسیٰ کو سال کے اِس دن پر شریعت ملی۔ یہ عید پنتکست کے دن پاک روح کے نزول کی علامت ہے اور یہ دن کلیسیا کا جنم دن ہے۔ ہلانے کی قربانی فصل کے تازہ میدے کی دو روٹیوں پر مشتمل تھی (‏صرف یہی قربانی تھی جس میں خمیر استعمال ہوتا تھا)‏۔ یہ روٹیاں یہودیوں اور غیر قوموں کی علامت ہیں ’’جو (‏مسیح میں)‏ ایک نیا اِنسان‘‘ ہیں (‏اِفسیوں ۲:‏۱۵)‏۔ 

پنتکست کے بعد چار ماہ کا ایک طویل وقفہ تھا۔ وقت کا یہ دورانیہ کلیسیا کے دورِ حاضر کی تصویر ہے جس میں ہم مسیح کی دوسری آمد کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں۔ 

و۔ نرسنگوں کی عید (‏۲۳:‏۲۳۔۲۵)‏

نرسنگوں کی عید ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو ہوتی۔ نرسنگا پھونکنے سے بنی اِسرائیل کا مقدس مجمع فراہم کیا جاتا۔ یہ شخصی جائزے اور توبہ کے لئے دس دن کا عرصہ ہوتا تھا۔ اِس کے بعد یومِ کفارہ ہوتا۔ یہ آخری زمانے کے اُس وقت کی علامت ہے جب بنی اِسرائیل قومی سطح پر توبہ کریں گے اور بعد ازاں اُنہیں ملکِ کنعان کی سرزمین میں جمع کیا جائے گا۔ یہ سول (‏غیر مذہبی سال کا پہلا دن ہوتا تھا‏، آج کل اُسے روشن ہاشانہ (‏عبرانی۔ سال کا آغاز)‏ کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عید ایک اَور مجمع کی تصویر بھی ہے __ یعنی جب خداوند کی آمد پر مقدسین ہوا میں اُس کا اِستقبال کریں گے۔ 

ز۔ یومِ کفارہ (‏۲۳:‏۲۶۔ ۳۲)‏

یومِ کفارہ (‏عبرانی یومِ کپُور)‏ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا۔ اِس کا باب ۱۶ میں تفصیلی طور پر ذکر ہے۔ یہ اِسرائیل کی قومی سطح پر توبہ کی تصویر کو پیش کرتا ہے۔ جب ایمان دار بقیہ مسیح پر ایمان لا کر معافی حاصل کرے گا (‏زکریاہ ۱۲:‏۱۰‏،۱۳:‏۱)‏۔ یومِ کفارہ سے متعلق تقریباً ہر ایک آیت میں‏، خدا کام نہ کرنے کے حکم دُہراتا ہے۔ اُس دن صرف ایک شخص کو کام کرنے کی اِجازت تھی اور وہ سردار کاہن تھا۔ خداوند نے اِس حکم پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لئے خبردار کیا کہ جو شخص اِس حکم کی خلاف ورزی کرے‏، اُسے مار دیا جائے۔ یہ اِس لئے تھا کہ وہ نجات جو ہمارے سردار کاہن نے ہمارے لئے حاصل کی وہ ’’راست بازی کے کاموں کے سبب سے نہیں جو ہم نے خود کئے‘‘ (‏ططُس ۳:‏۵)‏۔ ہمارے گناہوں کو دُور کرنے میں کسی اِنسانی کام کا کوئی دخل نہیں ہے۔ صرف اور صرف مسیح کا کام ابدی نجات کا منبع ہے۔ ’’اپنی جانوں کو دُکھ‘‘ دینے کا مطلب روزہ رکھنا (‏آیات ۲۷‏،۲۹)‏ ہے۔ حتیٰ کہ آج کل بھی مذہبی یہودی اِس دن کو دعا کرتے اور روزہ رکھتے ہوئے مناتے ہیں۔ گو یومِ کفارہ کو یہوواہ کی عیدوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے‏، لیکن حقیقت میں یہ عید کی بجائے روزے کا وقت تھا۔ البتہ جب گناہ کا معاملہ طے ہو چکتا تو خیموں کی عید کے دوران خوشی کا وقت آتا۔ 

ح۔ خیموں کی عید (‏۲۳:‏۳۳۔۴۴)‏

خیموں کی عید کے ساتویں مہینے کے دسویں دن کو آغاز ہوتا تھا۔ سات دن تک بنی اِسرائیل خیموں میں رہتے (‏آیت ۴۲)‏۔ یہ آخری آرام اور آخری فصل کی کٹائی کی علامت ہے جب بنی اِسرائیل ہزار سالہ دَور میں نہایت محفوظ طریقے سے اپنے مُلک میں سکونت کریں گے۔ اِسے فصل کاٹنے کی عید بھی کہا گیا ہے (‏خروج ۲۳:‏۱۶)‏۔ اِس کا فصل کی کٹائی سے تعلق تھا۔ درحقیقت اِس باب میں مذکور کئی عیدوں کا تعلق فصل کی کٹائی سے ہے۔ موشے اور سیل روزن اِس روایت کا اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں:‏

یہودی کھوکھوں کے سے ڈھانچے کھڑے کر کے اِس عید کے دوران اُن میں رہتے۔ یہ اِس بات کی علامت تھے جب بنی اِسرائیل بیابان میں رہتے تھے۔ حتیٰ کہ آج کل بھی کئی یہودی اِس عید کے لئے ایسی عارضی قیام گاہ بناتے ہیں جن میں جھونپڑی کی تین اطراف بند ہوتی ہیں اور اُس کی چھت کھلی ہوتی ہے۔ وہ اُسے ٹہنیوں اور موسمِ خزاں کے پھلوں سے سجاتے ہیں جو اُنہیں فصل کی کٹائی کی یاد دلاتے ہیں۔ 

ہر سال جو لوگ اِس فصل کی کٹائی کے تہوار پر یروشلیم آ سکتے آتے تھے۔ اِس چھٹی کے دن ہیکل کی پرستش کی رسومات میں یہ باتیں شامل تھیں:‏ شیلوخ کے حوض کے پانی کو رسم کے طور پر اُنڈیلا جاتا اور یہ سرما کی بارش کے لئے دعا کی علامت تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب یسوع نے پکار کر کہا ’’اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پئے‘‘ (‏یوحنا ۷:‏۳۷‏،۳۸)‏۔

اِسرائیل کے آخری یومِ کفارہ کے بعد خیموں کی عید پھر یروشلیم میں منائی جائے گی (‏زکریاہ ۱۴:‏۱۶)‏۔ 

خداوند عیدوں کے ذریعے اپنے لوگوں کو زندگی کے روحانی اور جسمانی پہلوؤں کے قریبی تعلق کے بارے میں سکھانا چاہتا تھا۔ فراوانی اور برکت کے ایام خداوند کے حضور خوشی منانے کے ایام تھے۔ اُن پر ظاہر کیا گیا کہ خداوند کثرت سے اُن کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ مِن حیث القوم خداوند کی بھلائی کا جواب فصل کی کٹائی کی عیدوں کے اِظہار میں پایا جاتا ہے۔ 

ملاحظہ فرمائیے کہ بار بار یہ حکم دیا گیا کہ بنی اِسرائیل اِن موقعوں پر کوئی کام نہ کریں (‏آیات ۳‏،۷‏،۸‏، ۲۱‏، ۲۵‏،۲۸‏،۳۰‏،۳۱‏، ۳۵‏،۳۶)‏۔

یہوواہ کی عیدوں میں ایک تواریخی ترقی نظر آتی ہے۔ سبت اُس وقت کی یاد دلاتا ہے جب خدا نے تخلیق کے بعد آرام کیا۔ فسح اور عید فطیر ہمیں کلوری کے بارے میں یاد دلاتی ہیں۔ اِس کے بعد پہلے پھلوں کی عید کا ذکر ہے جو مسیح کے جی اُٹھنے کو ظاہر کرتی ہے۔ عید پنتکست روح القدس کے نزول کی علامت ہے۔ نرسنگوں کی عید بنی اِسرائیل کو دوبارہ جمع کرنے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ یومِ کفارہ آنے والے اُس وقت کو ظاہر کرتا ہے جب اِسرائیل کا بقیہ مسیح کو قبول کرے گا۔ خیموں کی عید (‏عید خیام)‏ اِس اَمر کی علامت ہے جب بنی اِسرائیل مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت سے لطف اندوز ہوں گے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند کی عیدیں جنکا تمکو مقدس مجعوں کے لئے اعلان دینا ہوگا میری وہ عیدیں یہ ہیں۔
۳ چھ دن کام کاج کیا جائے پر ساتویں دن خاص آرام کا اور مقدس مجمع کا سبت ہے۔اس روز کسی طرح کا کام نہ کرنا۔وہ تمہاری سب سکونت گاہوں میںخداوند کا سبت ہے۔
۴ خداوند کی عیدیں جنکا اعلان تمکو مقدس مجمعوں کے لئے وقت معین پر کرنا ہوگا سو یہ ہیں۔
۵ پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو شام کے وقت خداوند کی فسح ہوا کرے۔
۶ اور اسی مہینے کی پندرھویں تاریخ کو خداوند کے لئے عید فطر ہو۔اس میں تم سات دن تک بے خمیری روٹی کھانا۔
۷ پہلے دن تمہارا مقدس مجمع ہو۔اس میں تم کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
۸ اور ساتویں دن تم خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا اور ساتویں دن پھر مقدس مجمع ہو۔اس روز تم کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
۹ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۱۰ بنی اسرائیل سے کہہ کہجب تم اس ملک میں جو میں تمکو دیتا ہوں داخل ہو جاؤ اور اسکی فصل کاٹو تو تم اپنی فصل کے پہلے پھلوں کا ایک پولا کاہن کے پاس لانا۔
۱۱ اور وہ اسے خداوند کے حضور ہلائے تاکہ وہ تمہاری طرف سے قبول ہو اور کاہن اسے سبت کے دوسرے دن صبح کو ہلائے۔
۱۲ اور جس دن تم پولے کو ہلواؤاسی دن ایک نر بے عیب یکسالہ برہ سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذراننا۔
۱۳ اور اسکے ساتھ نذرکی قربانی کے لئے تیل ملا ہوا میدہ ایفہ کے دو دہائے حصہ کے برابر ہو تاکہ وہ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کے لئے جلائیجائے اور اسکے ساتھ کا تپاون ہیں کے چوتھے حصہ کے برابر مے لیکر کرنا۔
۱۴ اور جب تک تم اپنے خدا کے لئے یہ چڑھاوا نہ لے آؤ اس دن تک نئی فصل کی روٹی یا بھنا ہوا اناج یا ہری بالیں ہرگز نہ کھانا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت ہمیشہ یہی آئین رہیگا۔
۱۵ اور تم سبت کے دوسرے دن سے جس دن ہلانے کی قربانی کے لئے بولا لاؤ گے گننا شروع کرنا جب تک سات سبت پورے نہ ہوجائیں۔
۱۶ اور ساتویں سبت کے دوسرے دن تک پچاس دن لینا۔تب تم خداوند کے لئے نذرکی نئی قربانی گراننا۔
۱۷ تم اپنے گھروں میں سے ایفہ کے دو دہائی حصہ کے وزن کے میدہ کے دو گردے ہلانے کی قربانی کے لئے آنا۔وہ خمیر کے ساتھ پکائے جائیں تاکہ خداوند کے لئے پہلے پھل ٹھہریں۔
۱۸ اور ان گردوں کے ساتھ ہی تم سات یکسالہ بے عیب برے اور ایک بچھڑا اور دو مینڈھے لونا تاکہ وہ اپنی اپنی نذر کی قربانی اور تپاون کے ساتھ خداوند کے حضور سوختنی قربانی کے طور پر گذرانے جائیں اور خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ٹھہریں
۱۹ اور تم خطا کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور سلامتی کے ذبیحہ کے لئے دو یکسالہ نر برے چڑھانا۔
۲۰ اور کاہن انکو پہلے پھل کے دونوں گردوں کے ساتھ لیکر ان دونوں بروں سمیت ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلائے۔وہ خداوند کے لئے مقدس اور کاہن کا حصہ ٹھہریں۔
۲۱ اور تم عین اسی دن اعلان کردینا۔۔ اس روز تمہارا مقدس مجمع ہو۔ تم اس دن کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت سدا یہی آئین رہیگا۔
۲۲ اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو تو اپنے کھیت کو کونے کونے تک پورا نہ کاٹنا اور نہ اپنی فصل کی گری پڑی بالوں کو جمع کرنا بلکہ انکو غربیوں اور مسافروں کے لئے چھوڑ دینا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۲۳ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۲۴ بنی اسرائیل سے کہہ کہ ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ تمہارے لئے خاص آرام کا دن ہو۔اس میں یادگاری کے لئے نرسنگے پھونکے جائیں۔اور مقدس مجمع ہو۔
۲۵ تم اس روز کوئی خادمانہ کام نہ کرنا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔
۲۶ اور خداند نے موسی سے کہا۔
۲۷ اسی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو کفارہ کا دن ہے۔اس روز تمہارا مقدس مجمع ہو اور تم اپنی جانوں کو دکھ دینا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔
۲۸ تم اس دن کسی طرح کاکام نہ کرنا کیونکہ وہ کفارہ کا دن ہے جس میں خداوند تمہارے خدا کے حضور تمہارے لئے کفارہ فیا جایئگا۔
۲۹ جو شخص اس دن اپنی جان کو دکھ نہ دے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جایئگا۔
۳۰ اور جو شخص اس دن کسی طرح کاکام کرے اسے میں اسکے لوگوں میں سے فنا کردونگا۔
۳۱ تم کسی طرح کا کام مت کرنا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت سدا یہی آئین رہیگا۔
۳۲ یہ تمہارے لئے خاص آرام کا سب ہو۔اس میں تم اپنی جانوں کو دکھ دینا۔تم اس مہینے کی نویں تاریخ کی شام سے دوسری شام تک اپنا سبت ماننا۔
۳۳ اور خداوند نے موسی سے کہا۔
۳۴ بنی اسرائیل سے کہہ کہ اسی ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے لیکر سات دن تک خداوند کے لئے عید خیام ہوگی۔
۳۵ پہلے دن مقدس مجمع ہو۔ تم اس دن کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
۳۶ تم ساتویں دن برابر خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔آٹھویں دن تمہارا مقدس مجمع ہو اور پھر خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔ وہ خاص مجمع ہے۔اس میں کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
۳۷ یہ خداوند کی مقرر عیدیں ہیں جن میں تم مقدس مجمعوں کا اعلان کرنا تاکہ خداوند کے حضور آتشین قربانی اور سوختنی قربانی خداوند کی قربانی اور ذبیحہ اور تپاون ہر ایک اپنے اپنے معین دن میں گذرانا جائے۔
۳۸ ماسوا انکے خداوند کے سبتوں کو ماننا اور اپنے ہدیوں اور منتوں اور رضا کی قربانیوں کو جو تم خداوند کے حضور لاتے ہو گذراننا۔
۳۹ اور ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے جب تم زمین کی پیداوار جمع کر چکو تو سات دن تک خداوند کی عید ماننا۔پہلا دن خاص آرام کا ہو اور آتھویں دن بھی خاص آرام ہی کا ہو۔
۴۰ سو تم پہلے دن خوشنما درختوں کے پھل اور کھجور کی ڈالیاں اور گھنے درختوں کی شاخیں اور ندیوں کی بیدمجنوں لینا اور تم خداوند اپنے خدا کے آگے سات دن تک خوشی منانا۔
۴۱ اور تم ہر سال خداوند کے لئے سات روز تک یہ عید مانا کرنا،تمہاری نسل در نسل سدا یہی آئین رہیگا کہ تم ساتویں مہینے اس عید کو مانو۔
۴۲ سات روز تک برابر تم سایبانوں میں رہنا۔جتنے اسرائیل کی نسل کے ہیں سب کے سب سایبانوں میں رہیں۔
۴۳ تا کہ تمہاری نسل کو معلوم ہو کہ جب میں بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالکر لارہا تھا تو میں نے انکو سایبانوں میں ٹکایا تھا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۴۴ سو موسی نے بن اسرائیل کو خداوند کی مقرر عیدیں بتادیں۔