۱۲۔ منتیں اور دہ یکی (باب ۲۷)
احبار کے آخری باب میں خداوند کے حضور اپنی مرضی سے مانی ہوئی منتوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی برکت کے لئے کوئی شخص خداوند سے کسی اِنسان (اپنے یا اپنے گھرانے کے کسی فرد کے لئے)، کسی جانور، گھر یا کھیت کی منّت مان سکتا تھا۔ جن چیزوں کی مَنّت مانی جاتی وہ کاہنوں کو دی جاتیں (گنتی ۱۸:۱۴)۔ چونکہ یہ چیزیں بعض اوقات کے لئے قابلِ استعمال نہیں ہوتی تھیں، اِس لئے مَنّت ماننے والا منّت کی قیمت کے برابر کاہن کو نقدی دے دیتا تھا۔
۲۷:۱، ۲ تقدیس کی مَنّت کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔
۲۷:۳۔۷ اگر کسی شخص کی خداوند کے حضور مَنّت مانی گئی تو اُس کی مخلصی کی قیمت کاہنوں کو درج ذیل صورت میں ادا کی جاتی تھی:
| ایک مرد ۲۰ سے ۶۰ سال کی عمر تک | ۵۰ مثقال |
| ایک عورت ۲۰۔۶۰ سال کی عمر تک | ۳۰ مثقال |
| ایک مرد ۵ سے ۲۰ سال کی عمر تک | ۲۰ مثقال |
| ایک عورت ۵ سے۲۰ سال کی عمر تک | ۱۰ مثقال |
| ایک لڑکا ایک مہینے سے۵سال کی عمر تک | ۵مثقال |
| ایک لڑکی ایک مہینے سے ۵ سال کی عمر تک | ۳ مثقال |
| ایک مرد ۶۰ سال سے اوپر | ۱۵ مثقال |
| ایک عورت ۶۰ سال سے اوپر | ۱۰ مثقال |
۲۷:۸ اگر کوئی شخص اِتنا غریب ہوتا کہ وہ چارٹ کے مطابق مَنّت کی رقم ادا نہ کر سکتا، تو کاہن خود اُس کی حیثیت کے مطابق قیمت مقرر کرتا۔
۲۷:۹۔۱۳ اگر مَنّت کسی جانور کی ہوتی تو درج ذیل اصولوں کا اِطلاق ہوتا: ایک قربانی کے لائق پاک جانور چھڑایا نہیں جا سکتا تھا (آیت ۹)۔ اُسے خداوند کے حضور مذبح پر قربانی کے طور پر چڑھانا ہوتا تھا (گنتی ۱۸:۱۷)، ایک جانور کو دوسرے جانور سے بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا، کیونکہ یوں دونوں خداوند کی ملکیت ٹھہرتے (آیات ۱۰،۳۳)۔ ایک ناپاک جانور کو کاہن کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی قیمت اور اِس سے مزید پانچویں حصے کا اضافہ کر کے چھڑایا جا سکتا تھا (آیات ۱۱،۱۳)۔
۲۷:۱۴، ۱۵ اگر کوئی شخص اپنا گھر خداوند کے لئے مخصوص کر دیتا اور بعد میں اپنا ارادہ بدل لیتا تو وہ کاہن کی طرف سے اُس کی مقرر کردہ قیمت ادا کر کے اُسے چھڑا سکتا تھا۔
۲۷:۱۶۔۱۸ کسی کھیت کی قیمت کا تعین کرنا اِس حقیقت کے پیش نظر پیچیدہ تھا کیونکہ ایسے اُس کے اصل مالک کو سالِ یوبلی پر واپس کرنا پڑتا تھا۔
اگر اِسے اِس کا اصل مالک مخصوص کرتا، یعنی اگر یہ اُس کی میراث ہوتا تو آیات ۱۶۔۲۱ میں مذکور اصولوں کا اِس پر اطلاق ہوتا تھا۔ اِس میں بوئے ہوئے بیج کے مطابق اِس کی قیمت کا تعین کیا جاتا۔ مثلاً اگر اِس میں ایک اومر جَو بوئے گئے تھے تو اُس کی قیمت چاندی کی ۵۰ مثقال کے برابر ہوتی۔
اگر کھیت کی سالِ یوبلی کے نزدیک یا سالِ یوبلی پر مَنّت مانی جاتی تو مندرجہ بالا تخمینے پر عمل کرنا ہوتا تھا۔ لیکن اگر یہ سالِ یوبلی کے چند سال بعد خداوند کے لئے مخصوص کیا جاتا، تو اِس سے کھیت کی قیمت میں کمی واقع ہو جاتی۔ اگر سالِ یوبلی کے بیس سال بعد اُس کی منّت مانی جاتی تو کھیت کی قیمت صرف ۳۰ مثقال ہوتی۔
۲۷:۱۹۔۲۱اگر کھیت کو چھڑایا جاتا تو قیمت کے مزید پانچویں حصے کا اضافہ کیا جاتا۔
اگر خداوند کو زمین دینے کے بعد مالک اِسے سالِ یوبلی سے پہلے نہ چھڑاتا، یا وہ خفیہ طور پر کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دیتا، تو اِسے اَب چھڑانے کی ضرورت باقی نہ رہتی، بلکہ سالِ یوبلی پر یہ کاہن کی ملکیت بن جاتا کیونکہ یہ زمین خداوند کے لئے مخصوص اور مقدس تھی۔
۲۷:۲۲۔۲۵ اگر کوئی ایسا شخص کھیت کو خداوند کے لئے مقدس قرار دیتا جو اُس کا اصل مالک نہ تھا، بلکہ جس نے اِسے خریدا تھا، تب آیات ۲۲۔۲۵ کا اِس پر اِطلاق ہوتا۔ کاہن اِس جائیداد کی قیمت مقرر کرتا، لیکن اِس قیمت کا اِس بات پر اِنحصار تھا کہ سالِ یوبلی سے پہلے اِس پر کتنی فصلیں ہوں گی۔ سالِ یوبلی پر کھیت اِس کے اصل مالک کو واپس دے دیا جاتا۔
۲۷:۲۶، ۲۷ قربانی کے جانور کے پہلوٹھے کو مقدس قرار نہ دیا جاتا کیونکہ یہ پہلے سے خداوند کے لئے مقدس تھا۔ کسی ناپاک جانور کے پہلوٹھے کو کاہن کی ٹھہرائی ہوئی قیمت سے چھڑایا جا سکتا تھا اور اِس کے ساتھ پانچواں حصہ اضافی قیمت کے طور پر ادا کیا جاتا، ورنہ کاہن اُسے بیچ سکتا تھا۔
۲۷:۲۸، ۲۹ سزائے موت کے مجرم کو کسی صورت میں بھی نہیں چھڑایا جا سکتا تھا۔ اگر بیٹا اپنے والدین پر لعنت کرتا تو اُسے چھڑایا نہ جا سکتا تھا بلکہ وہ سزائے موت کے لائق تھا۔
ایک بات یہاں قابلِ غور ہے کہ مقدس اور مخصوص کی ہوئی شے میں فرق ہے۔ وہ چیزیں جو مَنّت کے ذریعے مقدس ٹھہرائی جائیں __ یعنی الٰہی استعمال کے لئے علیٰحدہ کی جائیں اُنہیں چھڑایا جا سکتا تھا۔ مخصوص کی ہوئی چیزیں کُلی طور پر خداوند کے لئے تھیں اور اُنہیں چھڑایا نہیں جا سکتا تھا۔
۲۷:۳۰، ۳۱ فصل اور پھلوں کا دسواں حصہ خدا کا تھا۔ اگر دینے والا اِسے رکھنا چاہتا تو وہ اس کی قیمت اور اضافی پانچواں حصہ ادا کر کے رکھ سکتا تھا۔
۲۷:۳۲،۳۳ ’’لاٹھی کے نیچے سے گزارنا‘‘ کا مطلب ہے کہ بھیڑوں اور بکریوں کو گننے کے لئے لاٹھی کے نیچے سے گزارا جاتا تھا۔ لیز لی فلِن یوں تشریح کرتا ہے:
’’چرواہا اپنی لاٹھی سے ہر ایک دسویں بھیڑ یا بکری کو چھوتا۔ اُسے یہ اِجازت نہیں تھی کہ وہ کسی طور پر ترتیب کو بدل دے تاکہ اچھا اور صحت مند جانور دسویں مقام پر نہ آئے۔ لیکن اگر وہ ترتیب کو بدلنے کی کوشش کرتا، تو اصلی دسواں اور بدلی ہوئی ترتیب کا جانور دونوں خداوند کی ملکیت ہوتے۔‘‘
پہلی دَہ یکی لاویوں کی دہ یکی کہلاتی تھی، کیونکہ یہ لاویوں کو ادا کی جاتی تھی (گنتی ۱۸:۲۱۔۲۴)۔ دوسری دہ یکی جو مختلف تھی، اِس کا ذکر اِستثنا ۱۴:۲۲۔۲۹ میں کیا گیا ہے۔
۲۷:۳۴ احبار کی کتاب کی آخری آیت میں جو احکام خداوند نے موسیٰ کو دیئے، غالباً اِن کا اشارہ ساری کتاب کی طرف ہے۔ بے شمار رسومات اور خون کی قربانیوں کی تفصیلات کے مطالعہ کے بعد ہم میتھیو ہنری کے ساتھ درج ذیل الفاظ میں خوشی کا اِظہار کر سکتے ہیں:
’’ہم شریعت کے تاریک سایوں کے نیچے نہیں ہیں بلکہ خوش خبری کی واضح روشنی سے محظوظ ہوتے ہیں … یعنی ہم شریعت کے بھاری جوئے اور اُس کے جسمانی ضابطوں کے نیچے نہیں بلکہ انجیل کی خوش خبری کے شیریں اور آسان دستوروں کے تحت ہیں جو باپ کی روح اور سچائی سے پرستش کرنے والوں کو حقیقی پرستار قرار دیتی ہے۔ اور یہ کام صرف مسیح کر سکتا ہے اور اُسی کے نام سے سرانجام دیا جا سکتا ہے جو ہمارا کاہن، مقدِس، مذبحِ قربانی، پاکیزگی اور سب کچھ ہے۔ لیکن ہم یہ خیال نہ کریں کہ چونکہ ہمارا تعلق رسوماتی طہارت، عیدوں اور قربانیوں سے نہیں، تو تھوڑے وقت اور اخراجات سے خداوند کی عزت کا کام چل سکتا ہے۔ نہیں، بلکہ رضا کی قربانیوں سے ہمارا دل اُس کی حمد کے لئے وسیع ہو، اور پاک محبت اور خوشی اور نیت اور ارادے کے خلوص سے منور ہو۔ یسوع کے خون کے پاک ترین مقام میں داخل ہونے کی دلیری سے آیئے ہم سچے دل اور ایمان کے کامل یقین سے اُس کے پاس آئیں، اور خوشی اور عاجزانہ اعتماد سے خدا کی پرستش کریں اور یہ کہیں، خداوند یسوع مسیح کے لئے خدا کا شکر ہو۔‘‘
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی شخص اپنی منت پوری کرنے لگے تو منت کے آدمی تیرے قیمت ٹھہرانے کے موافق خداوند کے ہونگے۔
۳ سو بیس برس کی عمر سے لیکر ساٹھ برس کی عمر تک کے مرد کے لئے تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مقدس کی مثقال کے حساب سے چاندی کی پچاس مثقال ہوں۔
۴ اور اگر وہ عورت ہو تو تیری ٹھہرائی قیمت تیس مثقال ہوں۔
۵ اور اگر پانچ برس سے لیکر بیس مثقال کی عمر ہو تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مرد کے لئے بیس مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال ہوں۔
۶ پر اگر عمر ایک مہینے سے لیکر پانچ برس تک کی ہو تو لڑکے کے لئے چاندی کی پانچ مثقال اور لڑکی کے لئے چاندی کی تین مثقال ٹھہرائی جائیں۔
۷ اور اگر ساٹھ برس سے لیکر اوپر اوپر کی عمر ہو تو مرد کے لئے پندرہ مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال مقرر ہوں۔
۸ پر اگر کوئی تیرے اندازہ کی نسبت کم مقدار رکھتا ہو تو وہ کاہن کے سامنے حاضر کیا جائے اور کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے یعنی جس شخص نے منت مانی ہے اسکی جیسی حیثت ہو ویسی ہی قیمت کاہن اسکے لئے ٹھہرائے۔
۹ اور اگر وہ منت کسی ایسے جانور کی ہے جسکی قربانی لوگ خداوند کے حضور چڑھایا کرتے ہیں تو جو جانور کوئی خداوند کی نذر کرے وہ پاک ٹھہریگا۔
۱۰ وہ اسے پھر کسی طرح نہ بدلے۔نہ تو اچھے کے عوض برادے اور نہ برے کے عوض اچھا دے اور اگر کسی حال میں ایک جانور کے بدلے دوسرا جانور دے تو وہ اور اسکا بدل دونوں پاک ٹھہرینگے۔
۱۱ اور اگر وہ کوئی ناپاک جانور ہو جسکی قربانی خداوند کت حضور نہیں گذرانتے تو وہ اسے کاہن کے سامنے کھڑا کرے۔
۱۲ اور کخواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرئے۔اور اے کاہن !جو کچھ تو اسکا دام ٹھہرائیگا وہی رہیگا۔
۱۳ اور اگر وہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو جو قیمت تو نے ٹھہرائی ہے اس میںاسکا پانچواں حصہ وہ اور ملا کر دے۔
۱۴ اور اگر کوئی اپنے گھر مقدس قرار دے تاکہ وہ خداوند کے لئے پاک ہو تو خواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے اور جو کچھ وہ ٹھہرائے وہی اسکی قیمت رہیگی۔
۱۵ اور جس نے اس گھر کو مقدس قرار دیا ہے اگر وہ چاہے کہ گھر کا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت میں اسکا پانچواں حصہ اور ملا کر تب وہ گھر اسی کا رہیگا۔
۱۶ اور اگر کوئی شخص اپنے موروثی کھیت کا کوئی حصہ خداوند کے لئے مقدس قرار دے تو تو قیمت کا اندازہ کرتے وقت یہدیکھنا کہ اس میں کتنا بیج بویا جائیگا۔
۱۷ اگر کوئی سال یوبلی سے اپنا کھیت مقدس قرار دے تو اسکی قیمت جو تو ٹھہرائے وہی رہیگی۔
۱۸ پر اگر وہ سال یوبلی کے بعد اپنے کھیت کو مودس قرار دے تو جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں ان ہی کے مطابق کاہن اسکے لئے روپے کا حساب کرے اور جتنا حساب میں آئے اتنا تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت سے کم کیا جائے۔
۱۹ اور اگر وہ جس نے اس کھیت کو مقدس قرار دیا ہے یہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حصہ اسکے ساتھ اور ملا کر دے تو وہ کھیت اسی کا رہیگا۔
۲۰ اور اگر وہ اس کھیت کا فدیہ دیکر اسے نہ چھڑائے یا کسی دوسرے شخص کے ہاتھ اسے بیچ دے تو پھر وہ کھیت کبھی نہ چھڑایا جائے۔
۲۱ بلکہ وہ کھیت جب سال یوبلی میں چھوٹے تو وقف کئے ہوئے کھیت کی طرح وہ خداوند کے لئے مقدس ہوگا اور کاہن کی ملکیت ٹھہریگا۔
۲۲ اور اگر کوئی شخص کسی خریدے ہوئے کھیت کو جو اسکا موروثی نہیں خداوند کے لئے مقدس قرار دے۔
۲۳ تو کاہن جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں۔ انکے مطابق تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا حساب اسکے لئے کرے اور وہ اسی دن تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کو خداوند کے لئے مقدس جانکر دے دے۔
۲۴ اور سال یوبلی میں وہ کھیت اسی کو واپس ہو جائے جس سے وہ خریدا گیا تھا اور جسکی وہ ملکیت ہے۔
۲۵ اور تیرے سارے قیممت کے اندازے مقدس کی مثقال کے حساب سے ہوں اور ایک مثقال بیس جیراہ کا ہو۔
۲۶ پر فقط چوپایوں کے پہلوٹھوں کو جو پہلوٹھے ہونے کی وجہ سے خداوند کے ٹھہرچکے ہیں کوئی شخص مقدس قرار نہ دے خوار وہ بیل ہو یا بھیڑ بکری۔وہ خداوند ہی کا ہے۔
۲۷ پر اگر وہ کسی ناپاک جانور کا پہلوٹھا ہو تو وہ شخص تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حسہ قیمت میں اور ملا کر اسکا فدیہ دے اور اسے چھڑائے اور اگر اسکا فدیہ نہ دیا جائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت پر بیچا جائے۔
۲۸ تو بھی کوئی مخصوص کی ہوئی چیز جسے کوئی شخص اپنے سارے مال میں سے خداوند کے لئے مخصوص کرے خواہ وہ اسکا آدمی یا جانور یا موروثی زمین ہو بیچی نہ جائے اور نہ اسکا فدیہ دیا جائے،ہر ایک مخصوص کی ہوئی چیز خداوند کے لئے نہایت پاک ہے۔
۲۹ اگر آدمیوں میں سے کوئی مخصوص کیا جائے تو اسکا فدیہ نہ دیا جائے۔وہ ضرور جان سے مارا جائے۔
۳۰ اور زمین کی پیداوار کی ساری دہ یکی خواہ وہ زمین کے بیج کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لئے پاک ہے۔
۳۱ اور اگر کوئی اپنی دہ یکی میں سے کچھ چھڑانا چاہے تو وہ اسکا پانچواں حصہ اس میں اور ملاکر اسے چھڑائے۔
۳۲ اور گائے بیل اور بھیڑ بکری یا جو جانور چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گذرتا ہو انکی دہیکی یعنی دس پیچھے ایک ایک جانور خداوند کے لئے پاک ٹھہرے۔
۳۳ کوئی اسکی دیکھ بھال نہ کرے کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے اور نہ اسے بدلے اور اگر کہیں کوئی اسے بدلے تو وہ اصل اور بدل دونوں کے دونوں مقدس ٹھہریں اور اسکا فدیہ بھی نہ دیا جائے۔
۳۴ جو احکام خداوند نے کوہ سینا پر بنی اسرائیل کے لئے موسی کو دئے وہ یہی ہیں