احبار ۱۱

۴۔ پاک اور ناپاک (‏ابواب۱۱۔۱۵)‏

اگلے پانچ ابواب میں رسمی پاکیزگی اور ناپاکی کے امور کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہودی کے لئے بعض ایک ایسے عمل تھے جو اخلاقی طور پر تو غلط نہ تھے‏، لیکن اِس کے لئے یہودی رسومات میں شرکت کے لئے رکاوٹ کا باعث تھے۔ جب تک اُن کی طہارت نہ کی جاتی وہ رسمی طور پر ناپاک متصور کئے جاتے تھے۔ لازم تھا کہ ایک پاک قوم زندگی کے ہر ایک پہلو میں پاک ہو۔ حتیٰ کہ خدا نے پاک اور ناپاک میں فرق ظاہر کرنے کے لئے کھانے کی چیزوں کو بھی استعمال کیا۔ 

الف۔ پاک اور ناپاک کھانے (‏باب ۱۱)‏

۱۱:‏۱۔۸ ایک پاک جانور وہ تھا جس کے پاؤں چِرے ہوئے ہوں اور وہ جگالی کرتا ہو۔ اِن الفاظ ’’پاؤں الگ اور چِرے ہوئے‘‘ کا ایک ہی مطلب ہے۔ لیکن اِن الفاظ کا یہ مطلب ہے کہ پاؤں مکمل طور پر الگ ہوں۔ پاک جانوروں میں گائے بیل‏، بھیڑ‏، بکری اور ہرن وغیرہ شامل ہیں۔ ناپاک جانوروں میں سُور‏، اُونٹ‏، سافان اور خرگوش وغیرہ شامل ہیں۔ اِس کا روحانی اطلاق یہ ہے کہ مسیحی خداوند کے کلام پر گیان دھیان کریں (‏جُگالی کرنا)‏ اور اُن کی چال دوسرے سے مختلف ہو (‏پاؤں چِرے ہوئے)‏۔

خدا اپنے لوگوں کی صحت کا تحفظ بھی کر رہا تھا۔ اُس نے ایسا گوشت کھانے سے منع کیا جو بیماریوں کا باعث بن سکتا تھا اور جب کہ گوشت کو محفوظ رکھنے کے وسائل موجود نہ تھے‏، اور مویشیوں کے لئے کرم کُش ادویات بھی نہ تھیں۔ 

۱۱:‏۹۔۱۲ پاک مچھلی وہ تھی جس کے پَر اور چھلکے ہوتے۔ چھلکوں سے اکثر مسیحی ہتھیار مراد لیا جاتا ہے جو اُسے ایک دشمن سے دُنیا میں تحفظ فراہم کرتے ہیں‏، جب کہ پَر الٰہی قوت کی علامت ہیں جن سے وہ دُنیا میں آگے بڑھتے ہیں‏، اور دُنیا کو اپنے پر غالب نہیں آنے دیتے۔ 

۱۱:‏۱۳۔۱۹ وہ پرندے جو دوسری مخلوق کا شکار کرتے ہیں ناپاک تھے۔ مثلاً عقاب‏، اُستخوان خوار‏، لگڑ‏، چِیل‏، باز اور چمگادڑ وغیرہ (‏چمگادڑ پرندہ نہیں ہے۔ پرندے کے لئے مستعمل عبرانی لفظ کا مفہوم محض ’’اُڑنے والے پرندوں‘‘ سے وسیع تر ہے)‏۔ 

۱۱:‏۲۰۔۲۳ آیات ۲۰۔۲۳ میں رینگنے والے پردار جانداروں کا بیان ہے۔ صرف وہی جن کے پاؤں کے اُوپر ٹانگیں ہوتی ہیں پاک تھے۔ مثلاً ٹِڈی‏، ہر قسم کا سُلعام‏، ہر قسم کا جھینگر اور ہر قِسم کا ٹِڈا۔

۱۱:‏۲۴۔۲۸ مذکورۂ بالا ناپاک مخلوق کی لاش کو چھو لینے سے کوئی شخص شام تک ناپاک رہتا تھا۔ پنجوں کے بَل چلنے والے جانوروں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے مثلاً بلی‏، شیر‏، چیتا اور ریچھ وغیرہ۔

۱۱:‏۲۹۔۳۸ اِن آیات میں دیگر رینگنے والے جانوروں کا ذکر ہے‏، یعنی نیولا‏، چوہا‏، ہر قسم کی بڑی چھپکلی‏، حِرذُون‏، گوہ‏، چھپکلی‏، سانڈا اور گرگٹ۔ جو شخص اِن کی لاش کو چھو لیتا وہ شام تک ناپاک رہتا۔ اگر اِن میں سے مرا ہوا کوئی جانور کسی برتن پر گر جاتا تو برتن کو پانی سے دھونا لازم تھا اور یہ شام تک ناپاک رہتا اور اگر مٹی کا برتن ہوتا تو اُسے توڑ دیا جاتا۔ اگر مٹی کے برتن میں کھانے کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بھی ناپاک ہو جاتی اور اُسے کھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ لیکن اِن میں سے مرا جانور اگر بہتے پانی میں گر جاتا تو وہ ناپاک نہ ہوتا۔ اور اِن کی لاش کا کچھ حصہ اگر بونے کے ایسے بیج میں پڑتا جسے بھگویا نہ گیا ہو تو وہ ناپاک نہ ہوتا۔ 

۱۱:‏۳۹‏، ۴۰ اگر کوئی شخص پاک جانور کی لاش سے چھو جاتا (‏یعنی جو مرا ہوتا‏، نہ کہ جسے ذبح کیا جاتا)‏ یا اُس کے گوشت کو غیر ارادی طور پر کھا لیتا تو وہ شام تک ناپاک رہتا۔ اُسے اپنے کپڑے دھونا پڑتے تھے۔ 

۱۱:‏۴۱۔۴۷ آیات ۴۱۔۴۳ میں کیڑوں‏، سانپوں‏، چوہوں وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں کھاتا تو وہ ناپاک ہو جاتا۔ اِن پاک اور ناپاک جانوروں کے بارے میں قوانین دیتے ہوئے خدا اپنی پاکیزگی کے بارے میں درس دے رہا تھا‏، اور اِس ضرورت کے بارے میں سکھا رہا تھا کہ اُس کے لوگ بھی پاک ہوں (‏آیات ۴۔۴۷)‏۔

مرقس ۷:‏۱۸‏،۱۹ میں خداوند یسوع مسیح نے ہر طرح کے کھانے کو رسمی طور پر پاک قرار دیا۔ اور پولس نے سکھایا کہ کسی طرح کے کھانے کے لئے اِنکار نہ کیا جائے اگر اُسے شکر گزاری سے قبول کیا جائے (‏۱۔تیمتھیس۴:‏۱۔۵)‏۔ تاہم نجس‏، تہذیبی طور پر ناقابلِ قبول‏، یا اگر کسی شخص کے ہاضمے کے لئے درست نہ ہو‏، ایسے جانور کو کھانا پولس رسول کی بات میں شامل نہیں ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ پھر خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا۔
۲ تم بنی اسرائیل سے کہو کہ زمین کے سب حیواناتمیں سے جن جانوروں کو تم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں۔
۳ جانوروں میں جنکے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی کرتے ہیں تم انکو کھاؤ۔
۴ مگر جو جگالی کرتے ہیں یا جنکے پاؤں الگ ہیں ان میں سے تم ان جانوروں کو نہ کھانا یعنی اونٹ کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہے پر اسکے پاؤںالگ نہیں۔سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔
۵ اور سافان کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہےپر اسکے پاؤں الگ نہیں وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔
۶ اور خروگوش کو کیونکہ وہ جگالی تو کرتا ہے پر اسکے پاؤں نہیں۔وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے
۷ اور سوار کو کیونکہ اسکے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا۔وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔
۸ تم انکا گوشت نہ کھانا اور انکی لاشوں کو نہ چھونا۔وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔
۹ جوجانور پانی میں رہتے ہیں ان میں سے تم انکو کھانا یعنی سمندروں اور دریاؤں وغیرہ کے جانوروں میں جنکے پر اور جھلکے ہوں تم انہیں کھاؤ۔
۱۰ لیکن وہ سب جاندار جو پانی میں یعنی سمندروں اور دریاؤں وغیرہ میں چلتے پھرتے اور رہتے ہیں لیکن انکے پر اور چھلکے نہیں ہوتے وہ تمہارے لئے مکروہ ہیں۔
۱۱ اور وہ تمہارے لئے مکروہ ہی رہیں۔تم انکا گوشت نہ کھانا اور انکی لاشوں سے کراہیت کرنا۔
۱۲ پانی کے جس کسی جاندار کے نہ پرہوں اور نہ چھلکے وہ تمہارے لئے مکروہ ہے۔
۱۳ اور پرندوں میں جو مکروہ ہونے کے سبب سے کبھی کھائےنہ جائیں اور جن سے تمہیں کراہیت کرنا ہے سو یہ ہیں۔عقاب اور استخوان خوار اور لگڑ۔
۱۴ اور چیل اور ہر قسم کا باز۔
۱۵ اور ہر قسم کے کوئے۔
۱۶ اور شترمرغ اور چغد اور کوکل اور ہر قسم کے شاہین۔
۱۷ اور بوم اور ہڑگیلا اور الو۔
۱۸ اور قاز اور حواصل اور گدھ۔
۱۹ اور لقلق اور سب قسم کے بگلے اور ہدہد اور چمگادڑ۔
۲۰ اور سب پرداررینگنے والے جاندار جیتنے چار پاؤں کے بل چلتے ہیں وہ تمہارے لئے مکروہ ہیں۔
۲۱ مگر پردار رینگنے والے جاندروں میں سے جو چار پاؤں کے بل چلتے ہیں تم ان جاندروں کو کھا سکتے ہو جنکے زمین کے اوپر کودنے بھاندنے کو پاؤں کے اوپر ٹانگین ہوتی ہیں۔
۲۲ وہ جنہیں تم کھاسکتے ہویہ ہیں۔ہر قسم کی ٹڈی اور ہر قسم کا سلعام اور ہر قسم کا جھینگر اور ہر قسم کا ٹڈا۔
۲۳ پر سب پردار رینگنے والے جاندار جنکے چار پاؤں ہیں وہتمہارے لئے مکروہ ہیں۔
۲۴ اور ان سے تم ناپاک ٹھہرو گے۔جو کوئی ان میں سے کسی کی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۲۵ اورجوکوئی انکی لاش میں سے کچھ بھی اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۲۶ اور سب چار پائے جنکے پاؤں الگ ہیں پر وہ چرے ہوئے نہیں اور نہ وہ جگالی کرتے ہیں وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔جو کوئی انکو چھوئے وہ ناپاک ٹھہریگا۔
۲۷ اور چارپاؤں پر چلنے والے جانوروں میں سے جتنے اپنے پنجوں کے بل چلتے ہیںوہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہیں۔جو کوئی انکی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۲۸ اور جو کوئی انکی لاش کو اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا یہ سب تمہارے لئے ناپاک ہیں۔
۲۹ اور زمین پر کے رینگنے والے جانورون میں سے جو تمہارے لئے ناپاک ہیں وہ یہ ہیں یعنی نیولا چوہا اور ہر قسم کی بڑی چھپکلی۔ٍ
۳۰ اور حرذون اور گوہ اور چھپکلی اور سانڈ اور گرگٹ۔
۳۱ سب رینگنے والے جانداروں میں سے یہ تمہارے لئے ناپاک ہیں جو کوئیانکے مرے پیچھے انکو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۳۲ اور جس چیز پر وہ مرے پیچھے گریں وہ چیز ناپاک ہوگی خواہ وہ لکڑی کا برتن ہو یا کپڑا یا چمڑا یا بورا ہو۔ خواہ کسی کا کیسا ہی برتن ہو ضرور ہے کہ وہ پانی میں ڈالا جائے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔ اسکے بعد وہ پاک ٹھہریگا۔
۳۳ اور اگر ان میں سے کوئی کسی مٹی کے برتن میں گر جائے تو جو کچھ اس میں ہے وہ ناپاک ہو گا اور برتن کو تم توڑڈالنا۔
۳۴ اسکے اندر اگر کھانے کی کوئی چیز ہو جس میں پانی پڑا ہوا ہو تو وہ بھی ناپاک ٹھہریگی اور اگر ایسے برتن میں پینے کے لئے کچھ ہو تو وہ ناپاک ہوگا۔
۳۵ اور جس چیز پر انکی لاش کا کوئی حصہ گرے خواہ وہ تنورہو یا چولھا وہ ناپاک ہوگی اور توڑ ڈالی جائے۔ایسی چیزیں ناپاک ہوتی ہیں اور وہ تمہارے لئے بھی ناپاک ہوں
۳۶ مگر چشمہ یا تالاب جس میں بہت پانی ہو وہ پاک رہیگا پرجو کچھ انکی لاش سے چھو جائے وہ ناپاک ہوگا۔
۳۷ اور اگر انکی لاش کا چھ حصہ کسی بونے کے بیج پر گرے تو وہ بیج پاک رہیگا۔
۳۸ پر اگر بیج پر پانی ڈالا گیا ہو اور اسکے بعد انکی لاش میں سےکچھ اس پر گرا ہو تو وہ تمہارے لئے ناپاک ہوگا۔
۳۹ اور جن جانوروں کو تم کھا سکتے ہہو اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو جو کوئی اسکی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۴۰ اور جو کوئی انکی لاش میں سے کچھ کھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا اور جو کوئی انکی لاش کو اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
۴۱ اور اب رینگنے والے جاندار جو زمین پر رینگتے ہیں مکروہ ہیں اور کبھی کھائےنہ جائیں۔
۴۲ اور زمین پر کے سب رینگنے والے جانداروں میں سے جتنے پیٹ یا چار پاؤں کے بل چلتے ہیں یا جنگے بہت سے پاؤں ہوتےہیں انکو تم نہ کھانا کیونکہ وہ مکروہ ہیں۔
۴۳ اور تم کسی رینگنے والے جاندار کے سبب سے جو زمین پر رینگتا ہے اپنے آپ کو مکروہ نہ بنا لینا اور ان سے اپنے آپ کو ناپاک کرنا نجس ہو جاؤ۔
۴۴ کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔اسلئے اپنے آپ کو مقدس کرنا اور پاک ہونا کیونکہ میں قدوس ہوں۔سو تم کسی طرح کے رینگنے والے جاندار سے جو زمین پر چلتا ہے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا۔
۴۵ کیونکہ میں خداوند ہوں اور تمکو ملکمصر اسی لئے نکال کر لایا ہوں کہ میں تمہارا خدا ٹھہرؤں۔اسلئے تم مقدس ہونا کیونکہ میں قدوس ہوں۔
۴۶ حیونات اور پرندوں اور آبی جانوروں اور زمین پر کےسب رینگنے والے جانداروں کے بارے میں شرح یہی ہے۔
۴۷ تاکہ پاک اور ناپاک میں اور جو جانور کھائے جا سکتے ہیں اور جو نہیں کھائے جا سکتے انکے درمیان امتیاز کیا جائے۔