۶۔ قربانی سے متعلق قوانین (باب ۱۷)
۱۷:۱۔۹ مفسرین کے آیات ۱۔۹ سے متعلق مختلف نظریات ہیں:
- اِس پیرے میں کسی جانور کو خیمۂ اجتماع کے دروازے پر قربانی کے طور پر چڑھائے بغیر حتیٰ کہ کھانے کے لئے بھی ذبح کرنا ممنوع تھا۔
- خیمۂ اجتماع کے علاوہ قربانی کے جانور کو کسی کھیت یا میدان میں ذبح کرنا ممنوع تھا۔
- جب تک لوگ بیابان میں تھے، اُنہیں قربانی کے جانوروں کو کھانے کے لئے ذبح کرنے سے منع کیا گیا۔
جب لوگ موعودہ ملک میں پہنچے تو یہ قانون تبدیل کر دیا گیا (اِستثنا ۱۲:۱۵)۔ مورگن اِس کی یوں تشریح کرتا ہے:
’’آیت ۷ میں مذکور لفظ ’بکروں‘ کا عبرانی زبان میں مطلب ہے ’بال دار‘۔مصر میں پان (Pan) دیوتا کی پرستش کی جاتی تھی جس کا دھڑ آدھا بکرے کا اور آدھا اِنسان کا تھا۔ اِس لفظ کے استعمال سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ غالباً مصر میں یہ لوگ اِسی طرح کے باطل دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے۔‘‘
۱۷:۱۰۔۱۴ بعینہٖ خون کھانا بھی منع کیا گیا تھا۔ خون کفارے کے لئے تھا نہ کہ غذا کے لئے، کیونکہ ’’جسم کی جان خون میں ہے‘‘ (آیت ۱۱)۔ کفارہ کے پس منظر میں جان کے بدلے جان کا اصول ہے۔ گناہ کی مزدوری موت ہے۔ اِسے خون بہانے سے علامتی طور پر ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ ’’بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی۔‘‘ معافی یوں نہیں ملتی کہ گناہ کی سزا کو یوں ہی معاف کر دیا جاتا ہے، بلکہ اِس طرح کہ یہ سزا قربانی کے جانور یا مسیح پر منتقل کر دی جاتی ہے جس کے جسم سے خون بہایا جاتا ہے۔ آیت ۱۱، احبار کی کتاب کی مرکزی آیت ہے، اِس لئے اِسے زبانی یاد کرنا چاہئے۔ جب کسی جانور کو ذبح کیا جاتا تھا، تو اُس کا خون فوری طور پر نکال دیا جاتا تھا۔ اگر کوئی جانور حادِثے میں مر جاتا، اور اگر اُس کا خون فوری طور پر نہ بہایا جاتا تو وہ ناپاک تھا۔
۱۷:۱۵، ۱۶ اِن آیات میں ایسے شخص کے بارے میں بیان ہے جس نے لاعلمی میں کسی ایسے جانور کا گوشت کھا لیا جس کا خون نہ بہایا گیا ہو۔ اُس کی طہارت کے لئے گنجائش تھی۔ لیکن اگر طہارت کا اِنکار کرتا تو وہ سزا کے لائق ٹھہرتا۔
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ ہارون اور اسکے بیٹوں سے اور سب بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند نے یہ حکم دیا ہے کہ۔
۳ اسرائیل کے گھرانے کا جو کو۴ی شخص بیل یا برہ یا بکرے کو خواہ لشکر گاہ میں یا لشکرگاہ کے باہر ذبح کرکے۔
۴ اسے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے مسکن کے آگے خداوند کے حضور چڑھانے کو نہ لے جائے اس شخص پر خون کا الزام ہوگا کہ اس نے خون کیا ہے اور وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
۵ اس سے مقصود یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی قربانیاں جنکو وہ کھلے میدان میں ذبح کرتے ہیں انہیں خداوند کے حضور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائیں اور انکو خداوند کے حضور سلامتی کے ذبیحوں کے طور پر گذرانیں۔
۶ اور کاہن اس خون کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے مذبح کے اوپر چھڑکے اور چربی کو جلائے تاکہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو ہو۔
۷ اور آیندہ کبھی وہ ان بکروں کے لئے جنکے پیرو ہو کر وہ زنا کار ٹھہرے ہیں اپنی قربانیاں نہ گزرانیں۔انکے لئے نسل درنسل یہ دائمی قانون ہوگا۔
۸ سو تو ان سے کہہ دے کہ اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں جو ان میں بودوباش کرتے ہیں جو کوئی سوختنی قربانی یا کوئی ذبیحہ گذران کر۔
۹ اسے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور چڑھانے کو نہ لائے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
۱۰ اور اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں سے جو ان میں بودوباش کرتے ہیں جو کوئی کسی طرح کا خون کھائے میں اس خون کھانے والے کے خلاف ہونگا اور اسے اسکے لوگوں میں سے کاٹ ڈالونگا۔
۱۱ کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے اور میں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کے لئے اسے تم کو دیا ہے کہ اس سے تمہاری جانوں کے کفارہ ہو کیونکہ جان رکھنے ہی کے سبب سے خون کفارہ دیتا ہے۔
۱۲ اسی لئے میں نے بنی اسرائیل سے کہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص خون کبھی نہ کھائے اور نہ کوئی پردیسی جو تم میں بودوباش کرتا ہو کبھی خون کو کھائے۔
۱۳ اور بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو ان میں بودباش کرتے ہیں جو کوئی شکار میں ایسے جانور یا پرندہ کو پکڑے جسکو کھانا ٹھیک ہے تو وہ اسکے خون کو نکال کر اسے ڈھانک دے۔
۱۴ کیونکہ جسم کی جان جو ہے وہ اسکا خون ہے جو اسکی جان کے ساتھ ایک ہے۔ اسی لئے میں نے بنی اسرائیل کو حکم کیا ہے کہ تم کسی قسم کے جانور کا خون نہ کھانا کیونکہ ہر جانور کی جان اسکا خون ہی ہے۔ جو کوئی اسے کھائے وہ کاٹ ڈلا جایئگا۔
۱۵ اور جو شخص مردار کو یا درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور کو کھائے وہ خواہ دیسی ہو یا پردیسی اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے تب وہ پاک ہوگا۔
۱۶ لیکن اگر وہ انکو نہ دھوئے اور نہ غسل کرے تو اسکا گناہ اسی کے سرلگیگا۔