احبار ۱۹

ب۔ روزمرہ زندگی کے قوانین (‏باب ۱۹)‏

۱۹:‏۱۔۲۵ ہر طرح کی پاکیزگی کی بنیاد اِن الفاظ میں ہے ’’ مَیں خداوند تمہارا خدا پاک ہوں‘‘ (‏آیت ۱)‏۔ دوسروں کے ساتھ برتاؤ کے مختلف قوانین درج ذیل ہیں:‏

ماں اور باپ کی عزت کرنا لازم تھا (‏آیت ۳)‏۔ یہ پانچواں حکم تھا۔ 

خدا کے سبت کی پابندی کرنا تھی (‏آیت ۳)‏۔ چوتھا حکم۔

بت پرستی ممنوع تھی (‏آیت ۴)‏۔ دوسرا حکم۔

سلامتی کے ذبیحے کو تیسرے دن کھانا ممنوع تھا (‏آیات ۵۔۸)‏۔

فصل کی کٹائی کے موقعے پر مالک کھیت کے کونوں میں غریبوں اور مسافروں کے لئے کچھ فصل چھوڑ دیتا (‏آیات ۹‏،۱۰)‏‏، مثال کے طور پر کھیت کی فصلوں اور انگوروں کا بیان کیا گیا ہے‏، یہاں کوئی مکمل فہرست پیش نہیں کی گئی۔ 

چوری‏، دغا دینا اور جھوٹ بولنا ممنوع تھا (‏آیت ۱۱)‏۔ یہ آٹھواں حکم تھا۔ 

کسی جھوٹی بات کو خدا کی قسم کھا کر سچ ثابت کرنا ممنوع تھا (‏آیت ۲)‏۔

یہ تیسرا حکم ظلم کرنا‏، لُوٹنا اور مزدوری رکھ چھوڑنا ممنوع تھا (‏آیت ۱۳)‏۔

بہرے کو کوسنا اور اَندھے کو ٹھوکر کھلانا منع تھا (‏آیت ۱۴)‏۔ اُنہیں ایک دوسرے کی عزت کرنے سے یہوواہ کی تعظیم کا اِظہار کرنا تھا (‏۲۵:‏۱۷)‏۔ خداوند سے ڈرنے والے معذوروں (‏آیت ۱۴)‏‏، عمر رسیدہ (‏آیت ۳۲)‏ اور غریبوں (‏۲۵:‏۲۶‏،۴۳)‏ سے حُسنِ سلوک سے پیش آئیں۔

اِنصاف میں طرف داری ممنوع قرار دی گئی تھی (‏آیت ۱۵)‏۔

ہمسائے کے خلاف لُترا پن کرنے اور اُس کی جان لینے سے منع کیا گیا تھا (‏آیت ۱۶)‏۔ 

اپنے بھائی سے نفرت کرنا منع تھا۔ ’’تُو اپنے دل میں اپنے بھائی سے بغض نہ رکھنا اور اپنے ہمسایہ کو ضرور ڈانٹتے بھی رہنا‘‘ (‏آیت ۱۷)‏۔ معاملات کو کھلے بندوں اور آزادی سے نپٹانے کے لئے کہا گیا تاکہ دل میں بغض رکھنے سے گناہ تک انجام نہ پہنچے۔

اِنتقام لینے اور کینہ رکھنے سے منع کیا گیا (‏آیت ۱۸)‏۔ آیت ۱۸ کا دوسرا حصہ ’’اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت رکھنا‘‘ ساری شریعت کا خلاصہ ہے (‏گلتیوں ۵:‏۱۴)‏۔ یسوع نے کہا کہ یہ دوسرا بڑا حکم ہے (‏مرقس ۱۲:‏۳۱)‏۔ سب سے بڑا حکم اِستثنا ۶:‏۴‏،۵ میں درج ہے۔ 

آیت ۱۹ کے عموماً یہ معانی اخذ کئے گئے ہیں کہ مختلف جنسوں کے جانوروں کا جنسی ملاپ نہ کرایا جائے مثلاً جیسے گدھے اور گھوڑی کے ملاپ سے خچر پیدا کیا جاتا ہے۔ اِس طرح کے عمل کی ممانعت تھی۔ 

کسی کھیت میں مختلف قسم کے بیج بونے اور کتان اور اُون کے ملے جلے تاروں سے تیار شدہ لباس کو پہننا منع تھا۔ خدا علیٰحدگی کا خدا ہے اور وہ اِن جسمانی مثالوں سے اپنے لوگوں کو سکھا رہا تھا کہ وہ گناہ اور ناپاکی سے علیٰحدہ رہیں۔ 

اگر کوئی مرد کسی ایسی عورت سے صحبت کرتا جو لونڈی اور کسی شخص کی منگیتر ہوتی‏، تو دونوں کو کوڑے لگائے جاتے اور وہ مرد جرم کی قربانی لاتا (‏آیات ۲۰۔۲۲)‏۔

کنعان میں بسنے پر اِسرائیلیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ تین سال تک درختوں کا پھل نہ کھائیں۔ چوتھے سال کا پھل خداوند کے حضور پیش کیا گیا اور پانچویں سال کا پھل کھانے کی اِجازت تھی (‏آیات ۲۳۔۲۵)‏۔ شاید چوتھے سال کا پھل لاویوں کو دیا گیا۔ ایک مفسر کا کہنا ہے کہ یہ خداوند کے حضور دوسری دہ یکی کے حصے کے طور پر کھایا گیا۔ 

۱۹:‏۲۶۔۳۷ دیگر ممنوعہ عمل یہ تھے:‏ ایسا گوشت کھانا جس سے خون نہ نکالا گیا ہو (‏آیت ۲۶ الف)‏‏، جادو گری کرنا (‏آیت ۲۶ ب)‏‏، بت پرستوں کے انداز میں بالوں کو کٹوانا (‏آیت ۲۷)‏‏، کسی مُردے پر ماتم کرنے کے لئے اپنے بدن کو زخمی کرنا (‏آیت ۲۸ الف)‏۔ غیر قوموں کی طرح اپنے بدن پر نشان بنوانا (‏آیت ۲۸ ب)‏۔ اپنی بیٹی کو کسبی بنانا جیسا کہ بے دینوں کی عبادت میں دستور تھا (‏آیت ۲۹)‏‏، سبت کو توڑنا (‏آیت ۳۰)‏‏، جنات کے ذریعے حالات معلوم کرنا (‏آیت ۳۱)‏۔ نیز بزرگوں کی تعظیم کرنا لازم تھا (‏آیت۳۲)‏۔ مسافروں سے مہربانی سے پیش آنا اور اُن کی مہمان نوازی کرنا (‏آیات۳۳‏، ۳۴)‏۔ کاروبار میں دیانت داری کا اِظہار کرنا (‏آیات ۳۵۔۳۷)‏۔

مقدس کتاب

۱پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۲بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہہ کہ تم پاک رہو کیونکہ میں جو خداوند تمہارا خدا ہوں پاک ہوں۔
۳تم میں سے ہر ایک اپنی ماں اور اپنے باپ سے ڈرتا رہے اور تم میرے سبتوں کو ماننا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۴تم بتوں کی طرف رجوع نہ ہونا اور نہ اپنے لئے ڈھالے ہوئے دیوتا بنانا۔میں خداوند تمہارا خفدا ہوں۔
۵اور جب تم خداوند کے حضور سلامتی کے ذبیحے گذرانو تو انکو اس طرح گذراننا کہ تم مقبول ہو۔
۶اور جس دن اسے گذرانو اس دن اور دوسے دن وہ کھایا جائے اور اگر تیسرے دن تک کچھ بچا رہ جائے تو وہ آگ میں جلا دیا جائے۔
۷اور اگر وہ ذرا بھی تیسرے دن کھایا جائے تو مکروہ ٹھہریگا اور مقبول نہ ہوگا۔
۸بلکہ جو کوئی اسے کھائے اسکا گناہ اسی کے سرلگیا کیونکہ اس نے خداوند کی پاک چیز کو نجس کیا۔سو وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جایئگا۔
۹اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو اپنے کھیت کے کونے کونے تک پورا پورا نہ کاٹنا اور نہ کٹائی کی گری پڑی بالوں کو چن لینا۔
۱۰اور تو اپنے انگورستان کا دانہ دانہ نہ توڑلینا اور نہ اپنے انگورستان کے گرے ہوئے دانوں کو جمع کرنا۔انکو غریبوں اور مسافروں کے لئے چھوڑ دینا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۱۱تم چوری نہ کرنا اور نہ دغا دینا اور نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولنا۔
۱۲اور تم میرا ناملیکر جھوٹی قسم نہ کھانا جس سے تو اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرائے۔میں خداوند ہوں۔
۱۳تو اپنے پڑوسی پر ظلم نہ کرنا نہ اسے لوٹنا۔مزدور کی مزدوری تیرے پاس ساری رات صبح تک رہنے نہ پائے۔
۱۴تو بہرے کو نہ کوسنا اور نہ اندھے کے آگے ٹھوکر کھلانے کی چیز کو دھرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرنا۔میں خداوند ہوں۔
۱۵تم فیصلہ میں ناراستی نہ کرنا۔نہ تو غریب کی رعایت کرنا اور نہ بڑے آدمی کا لحاظ بلکہ راستی کے ساتھ اپنے ہمسایہ کا انصاف کرنا۔
۱۶تو اپنی قوم میں ادھر ادھر لتراپن نہ کرتے پھرنا اور نہ اپنے ہمسایہ کا خون کرنے پر آمادہ ہونا۔میں خداوند ہو۔
۱۷تو اپنے دل میں اپنے بھائی سے بغض نہ رکھنا اور اپنے ہمسایہ کو ضرور ڈانٹتے بھی رہنا تاکہ اسکے سبب سے تیرے سر گناہ نہ لگے۔
۱۸تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔میں خداوند ہوں۔
۱۹تم میری شریعتوں کو ماننا تو اپنے چوپایوں کو غیر جنس سے بھروانے نہ دینا اور اپنے کھیت میں دو قسم کے بیج ایک ساتھ نہ بونا اور نہ تجھ پر دو قسم کے ملے جلے تار کا کپڑا ہو۔
۲۰اگر کوئی ایسی عورت سے صحبت کرے جو لونڈی اور کسی شخص کی منگیتر ہو اور نہ اسکا فدیہ ہی دیا گیا ہو اور نہ وہ آزاد کی گئی ہو تو ان دونوں کو سزا ملے لیکن وہ جان سے مارے نہ جائیں۔اسلئے کہ وہ عورت آزاد نہ تھی۔
۲۱ اور وہ آدمی اپنے جرم کی قربانی کے لئے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور ایک مینڈھا لائے کہ وی اسکے جرم کی قربانی ہو۔
۲۲اور کاہن اسکے جرم کی قربانی کے مینڈھے سے اسکے لئے خداوند کے حضور کفارہ دے۔تب جو خطا اس نے کی ہے وہ اسے معاف کی جایئگی۔
۲۳اور جب تم اس ملک میں پہنچکر قسم قسم کے پھل کے درخت لگاؤ تو تم انکے پھل کو گویا نامختون سمجھنا۔وہ تمہارے لئے تین برس تک نا مختون کے برابر ہوں اور کھائے نہ جائیں۔
۲۴اور چوتھے سال انکا سارا پھل خداوند کی تمجید کرنے کے لئے مقدس ہوگا۔
۲۵تب پانچویں سارل سے انکا پھل کھانا تاکہ وہ تمہارے لئے افراط کے ساتھ پیدا ہو۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۲۶تم کسی چیز کو خون سمیت نہ کھانا اور نہ جادو منتر کرنا نہ شگون نکالنا۔
۲۷تم اپنے اپنے سر کے گوشوں کو بال کاٹ کر گول نہ بنانا اور نہ تو اپنی داڑھی کے کونوں کو بگاڑنا۔
۲۸تم مردوں کے سبب سے اپنے جسم کو زخمی نہ کرنا اور نہ اپنے اوپر کچھ گذانا۔میں خداوند ہوں۔
۲۹تو اپنی بیٹی کو کسبی بنا کر ناپاک نہ ہونے دینا تا ایسا نہ ہو کہ ملک میں رنڈی بازیپھیل جائے اور سارا مللک بدگاری سے بھر جائے۔
۳۰تم میرے سبتوں کو ماننا اور میرے مقدس کی تعظیم کرنا۔میں خداوند ہوں۔
۳۱جو جنات کے یار ہیں اور جو جادو گر نجس بنادیں۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۳۲جنکے سر کے بال سفید ہیں تو انکے سامنے اٹھ کھڑے ہونا اور بڑے بوڑھے کا ادب کرنا اور اپنے خدا سے ڈرنا۔ میں خداوندہوں۔
۳۳اور اگر کوئی پردیسی تیرے ساتھ تمہارے ملک میں بودوباش کرتا ہو تو تم اسے آزار نہ پہنچانا
۳۴بلکہ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اسے دیسی کی مانند سمجھنا بلکہ تو اس سے اپنی مانند محبت کرنا اسلئے کہ تم ملک مصر میں پردیسی تھے۔میں تمہارا خدا ہوں۔
۳۵تم انصاف اور پیمائش اور وزن اور پیمانہ میں ناراستی نہ کرنا۔
۳۶ٹھیک ترازو۔ٹھیک باٹ۔پورا ایفہ اور پورا رہین رکھنا۔جو تمکو ملک مصر سے نکالکر لایا میں ہی ہوں خداوند تمہارا خدا۔
۳۷سو تم میرے سب آئین اور سب احکام ماننا اور ان پر عمل کرنا۔میں خداوند ہوں۔