احبار ۲

ب۔ نذر کی قربانی (‏باب ۲)‏

‏میدہ یا اناج‏

قربانی بذا تہٖ۔ نذر کی مختلف قربانیاں تھیں۔ مثلاً میدے میں تیل ڈالا جاتا اور اِس کے اوپر لبان رکھا جاتا (‏آیت ۱)‏ یہ پکایا نہیں جاتا تھا‏، بلکہ اِس میں سے مُٹھی بھر قربان گاہ پر جلایا جاتا (‏آیت ۲)‏۔ تین قسم کی روٹیاں تھیں:‏

  1. تنُور میں پکائی ہوئی (‏آیت ۴)‏‏،
  2. توے پر پکائی ہوئی (‏آیت ۵)‏ اور
  3. کڑاہی میں تلی ہوئی (‏آیت ۷)‏۔ اناج کی بھنی ہوئی بالیں‏، فصل کے پہلے پھلوں کو ظاہر کرتی تھیں (‏آیت ۱۴)‏۔

آیت ۱۲ میں ایک خاص قسم کی نذر کی قربانی کا ذکر ہے (‏۲۳:‏۱۵۔۲۱)‏ جسے قربان گاہ پر نہ چڑھایا جاتا کیونکہ اِس میں خمیر ہوتا تھا۔ 

نذر کی اِن قربانیوں میں شہد یا خمیر کے استعمال کی اِجازت نہ تھی (‏آیت ۱۱)‏۔ اِس سے مراد ہیجان یا قدرتی مٹھاس ہے‏، بلکہ اِس میں نمک ملانا تھا جو خدا اور اِسرائیل کے درمیان عہد کا نشان تھا (‏آیت ۱۳)‏ اور یہ اِس بات کی علامت تھا کہ عہد نہ ٹوٹنے والا تھا۔ نمک کے عہد کے لئے مزید دیکھیں گنتی ۱۸:‏۱۹؛ ۲۔تواریخ ۱۳:‏۵؛ حزقی ایل ۴۳:‏۲۴۔

قربانی چڑھانے والے کے فرائض۔ وہ اِس قربانی کو گھر میں تیار کرتا اور کاہنوں کے پاس لاتا (‏آیات ۲‏،۸)‏۔

کاہن کے فرائض۔ کاہن مذبح پر قربانی چڑھاتا (‏۶:‏۱۴)‏۔ وہ اِس قربانی میں سے مُٹھی بھر لے کر مذبح پر یادگاری کے طور پر جلا دیتا (‏آیات ۲‏،۹)‏۔

قربانی کی تقسیم۔ ’’یاد گاری کے طور پر مُٹھی بھر‘‘ لبان کے ساتھ مذبح پر جلایا ہوا خداوند کا حصہ تھا۔ قربانی کے باقی سارے حصے کو کھانے کے طور پر کاہن لے سکتا تھا (‏آیات ۳‏،۱۰)‏۔ تنور‏، توے یا کڑاہی میں تلا یا پکایا ہوا قربانی گزارننے والا کاہن لے سکتا تھا (‏۷:‏۹)‏۔ تیل میں ملی ہوئی ہر ایک شے اور خشک اشیا باقی کاہنوں کی ہوتی تھیں (‏۷:‏۱۰)‏۔ قربانی گزراننے والے فرد کو قربانی کا کوئی بھی حصہ نہ دیا جاتا۔ 

جو شخص نذر کی قربانی لاتا‏، وہ اِس بات کا اِظہار کرتا کہ خدائے پروردگار نے اُسے زندگی کی اچھی چیزیں دی ہیں جن کی علامت میدہ‏، لوبان‏، تیل (‏اور مَے تپاون کی صورت میں)‏ ہے۔ 

علامتی طور پر یہ قربانی ہمارے نجات دہندہ کی زندگی کی اخلاقی کاملیت کو ظاہر کرتی ہے (‏میدہ)‏‏، بدی سے پاک (‏اِس میں خمیر نہیں)‏‏، خدا کے حضور خوشبو (‏لبان)‏ اور روح القدس سے معمور (‏تیل)‏۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اگر کوئی خُداوند کے لئے نذرکی قُربانی کا چڑھاوا لائے تو اپنے چڑھاوے کے لئے میدہ لے اور اُس میں تیل ڈال کر اُس کے اوپر لبان رکھے ۔
۲ اور وہ اُ سے ہارون کے بیٹوں کے پاس جو کاہن ہیں لائے اور تیل ملے ہوئے میدہ میں سے اس طرح اپنی مٹھی بھر کر نکالے کہ سب لبان اُس میں آجائے تب کاہن اُسے نذر کی کی قُربانی کی یاد گاری کے طور پر مذبح کے اوپر جلائے ۔ یہ خُداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہو گی ۔
۳ اور جو کچھ اس نذر کی قُربانی میں سے باقی رہ جائے وہ ہارون اور اس کے بیٹوں کاہو گا ۔یہ خُداوند کی آتشین قُربانیوں میں پاکترین چیز ہے۔
۴ اور جب تو تنور کا پکا ہوا نذر کی قربانی کا چڑھاوا لائے تو وہ تیل ملے ہوئے میدہ کے بے خمیری گردے یا تیل چپڑی ہوئی بے خمیری چپاتیاں ہوں ۔
۵ اور اگر تیری نذر کی قُربانی کا چڑھاوا توے کا پکا ہوا ہو تو تیل ملے ہوئے بے خمیری میدہ کا ہو ۔
۶ اُس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس پر تیل ڈالنا تو وہ نذر کی قُربانی ہو گی ۔
۷ اور اگر تیری نذر کی قُربانی کا چڑھاوا کڑاہی کا تلا ہوا ہو تو وہ میدہ سے تیل میں بنایا جائے ۔
۸ تو ان چیزوں کی نذر کی قربانی کا چڑھاوا خداوند کے پاس لانا ۔ وہ کاہن کو دیا جائے اور وہ اسے مذبح کے پاس لائے ۔
۹ اور کاہن اُس نذر کی قُربانی میں سے اس کی یاد گاری کا حصہ اٹھا کر مذبح پر جلائے ۔ یہ خداوند کے لئے راحت انگیزخوشبوکی آتشین قُربانی ہوگی ۔
۱۰ اور جو کچھ اُس نذر کی قربانی میں سے بچ رہے وہ ہارُون اور اُس کے بیٹوں کا ہو گا ۔ یہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں پاکترین چیز ہے ۔
۱۱ کوئی نذر کی قُربانی جو تم خداوند کے حضور چڑھاؤ وہ خمیر ملا کر نہ بنائی جائے تم کبھی آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور خمیر یا شہد نہ جلانا ۔
۱۲ تم ان کو پہلے پھلوں کے چڑھاوے کے طور پر خداوند کے حضور لانا ۔ پر راحت انگیز خوشبو کے لیے وہ مذبح پر نہ چڑھائے جائیں ۔
۱۳ اور تو اپنی نذر کی قُربانی کے ہر چڑھاوے کو نمکین بنانا اور اپنی کسی نذر کی قُربانی کو اپنے خدا کے عہد کے نمک بغیر نہ رہنے دینا ۔ اپنے سب چڑھاووں کے ساتھ نمک بھی چڑھانا ۔
۱۴ اور اگر تُو پہلے پھلوں کی نذر کا چڑھاوا خداوند کے حضور چڑھائے تو اپنے پہلے پھلوں کی نذر کے چڑھاوے کے لئے اناج کی بھنی ہوئی بالیں یعنی ہری ہری بالوں مین سے ہاتھ سے ملکر نکالے ہوئے اناج کو چڑھانا ۔
۱۵ اور اس میں تیل ڈالنا اور اس کے اوپر لبان رکھنا تو وہ نذر کی قُربانی ہوگی ۔ اور کاہن اس کی یاد گاری کے حصہ کو یعنی تھوڑے سے ملکر نکالے ہوئے دانوں کو ارو تھوڑے سے تیل کو اور سارے لبان کو جلادے یہ خُداوند کے لئے آتشین قربانی ہوگی۔
۱۶