احبار ۵

۵:‏۱۔۱۳ لگتا ہے کہ پانچویں باب کی پہلی تیرہ آیات جرم کی قربانی کو بیان کرتی ہیں (‏دیکھیں آیت ۶)‏‏، لیکن عمومی طور پر اِس بات پر اتفاقِ رائے ہے کہ یہ خطا کی قربانی کے دو اضافی درجے ہیں۔ جرم کی قربانی کے طور پر اِسے تسلیم نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں معاوضے کا ذکر نہیں جو کہ جرم کی قربانی کا ایک اہم حصہ تھا (‏تاہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آیات ۱۔۱۳ کا خطا اور جرم کی قربانی سے گہرا تعلق ہے)‏۔ 

اِن قربانیوں کا تعلق مختلف قسم کے گناہوں سے ہے۔ آیت ایک میں ایسے شخص کا ذکر ہے جسے کسی خطا کا علم ہو تو بھی وہ سردار کاہن یا قاضی کے اُسے قسم دینے کے باوجود گواہی دینے سے اِنکار کرے۔ شریعت کے ماتحت ایک یہودی کی حیثیت سے یسوع نے سردار کاہن کے سامنے قسم کے پیش نظر گواہی دی (‏متی ۲۶:‏۶۳‏،۶۴)‏۔ آیت ۲ میں ناپاکی کے بارے میں بیان ہے کہ جب کوئی یہودی انجانے طور پر لاش سے چھو کر ناپاک ہو جائے۔ آیت ۳ میں بیان ہے کہ جب کوئی شخص کسی کوڑھی‏، یا بہتے ہوئے ناسور کو چھو لینے سے ناپاک ہو جائے۔ آیت ۴ میں اِس بات کا ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص جلد بازی میں قسم کھائے یا وعدہ کرے‏، جسے وہ بعد ازاں پورا نہ کر سکے۔ 

قربانی بذا تہٖ۔ اِن گناہوں کے لئے تین قسم کی قربانیاں تھیں‏، جن کا اِنحصار قربانی دینے والے کی مالی اِستعداد پر تھا:‏ بھیڑ یا بکری (‏آیت ۶)‏‏، دو قمریاں یا دو کبوتر __ ایک خطا کی قربانی کے طور پر اور دوسری سوختنی قربانی کے طور پر (‏آیت ۷)‏۔ ایفہ کے دسویں حصے کے برابر میدہ بغیر تیل اور لبان کے (‏آیت ۱۱)‏۔ یوں غریب سے غریب تر شخص بھی خطا کی قربانی دے سکتا تھا۔ بعینہٖ کوئی شخص بھی مسیح کے ذریعے معافی سے خارج نہیں ہے۔ آیات ۱۱۔۱۳ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے ’’نذر کی قربانی کیسے گناہ کے فدیہ کے لئے گزرانی جا سکتی ہے جب کہ بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی‘‘ (‏عبرانیوں ۹:‏۲۲)‏؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ مذبح پر آتشین قربانی کے اوپر جلائی جاتی تھی (‏جس پر خون موجود ہوتا تھا)‏۔ یوں نذر کی قربانی کو خطا کی قربانی کی اہمیت حاصل ہو جاتی۔ 

قربانی دینے والے کے فرائض۔ وہ پہلے اپنے جرم کا اِقرار کرتا (‏آیت ۵)‏‏، اور پھر کاہن کے پاس اپنی قربانی لاتا (‏آیت ۸)‏۔

کاہن کے فرائض۔ بھیڑ یا بکری کی صورت میں وہ اِسے باب ۴ میں مذکور خطا کی قربانی کی ہدایات کے تحت گزرانتا تھا۔ اگر قربانی میں دو پرندے پیش کئے جاتے‏، وہ پہلے ایک پرندے کو خطا کی قربانی کے طور پر گزرانتا‏، اُس کی گردن کو مروڑتا‏، اُس کے کچھ خون کو مذبح کے پہلو پر چھڑکتا اور باقی خون کو مذبح کے پائے پر بہا دیتا (‏آیات۸‏،۹)‏۔ اِس کے بعد دوسرے پرندے کو سوختنی قربانی کے طور پر مکمل طور پر پیتل کے مذبح پر جلا دیتا (‏آیت ۱۰)‏۔ اگر قربانی میدے پر مشتمل ہوتی تو کاہن اِس میں سے مُٹھی بھر لے کر سوختنی قربانی کے مذبح پر جلا دیتا۔ وہ اِسے دوسری قربانیوں پر جلاتا جن میں خون بہایا جاتا تھا‏، یوں اِسے خطا کی قربانی کی حیثیت حاصل ہو جاتی (‏آیت ۱۲)‏۔

قربانی کی تقسیم۔ خداوند کا حصہ وہ تھا جو مذبح پر جلایا جاتا تھا اور باقی جو کچھ بچتا تھا کاہن لے سکتا تھا (‏آیت ۱۳)‏۔

ہ۔ جرم کی قربانی (‏۵:‏۱۴۔۶:‏۷)‏

جرم کی قربانی کا ۵:‏۱۴۔۶:‏۷ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اِس قربانی کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ گناہ کی قربانی پیش کرنے سے پہلے نقصان کا معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا (‏۵:‏۱۶)‏۔کئی قسم کے گناہ تھے جن کے لئے قربانی دینا لازم تھا۔

خدا کے خلاف تقصیر:‏ خداوند کو اُس کا حصہ ادا نہ کرنا مثلاً دہ یکی اور نذریں اور پہلے پھلوں اور پہلوٹھوں کی مخصوصیت وغیرہ (‏۵:‏۱۵)‏۔ نادانستہ طور پر وہ کام کرنا جن سے خداوند نے منع کیا تھا (‏۵:‏۱۷)‏۔ اور غالباً وہ عمل جس کے لئے معاوضے کی ضرورت تھی۔ ’’ایسے معاملات میں جہاں یہ جاننا ممکن نہیں تھا کہ کسی دوسرے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‏، اِس کے باوجود ایک دین دار یہودی اپنی تقصیر کے لئے قربانی دیتا۔‘‘

کسی شخص کے خلاف تقصیر:‏ اپنے پڑوسی کو امانت‏، لین دین لُوٹ کے مال میں فریب دینا اُس پر ظلم کرنا (‏۶:‏۲)‏‏، کسی کھوئی ہوئی چیز کو پا کر فریب دینا‏، اور قَسم کھا کر اِس کے بارے میں جھوٹ بولنا (‏۶:‏۳)‏۔ کسی کنواری سے صحبت کرنے (‏۱۹:‏۲۰۔۲۲)‏‏، کسی کوڑھی کو پاک صاف کرنے (‏۱۴:‏۱۰۔۱۴)‏ اور نذیر کے نجس ہو جانے کے لئے (‏گنتی ۶:‏۶۔۱۲)‏ بھی خطا کی قربانی گزراننے کی ضرورت تھی۔ 

قربانی بذا تہٖ۔ ایک بے عیب مینڈھا (‏۵:‏۱۵‏،۱۸؛ ۶:‏۶)‏ یا کوڑھی (‏۱۴:‏۱۲)‏ یا نذیر (‏گنتی ۶:‏۱۲)‏ کے لئے ایک بکرا۔

قربانی دینے والے کے فرائض۔ خدا کے خلاف تقصیر کی صورت میں پہلے وہ بیس فیصد اضافے کے ساتھ کاہن کو معاوضہ ادا کرتا۔ پھر وہ خیمہ اِجتماع کے احاطے کے دروازے پر کاہن کے پاس جانور لاتا‏، اُسے خداوند کے حضور پیش کرتا‏، اپنا ہاتھ اُس کے سر پر رکھتا اور اُسے ذبح کرتا۔ وہ اُس کی چربی‏، موٹی دُم‏، گُردوں‏، اور جگر کی جھلی کو علیٰحدہ کرتا۔ اِس کا طریقِ کار وہی تھا جو پڑوسی کے خلاف تقصیر کی صورت میں تھا۔ اِن دونوں صورتوں میں قربانی دینے والے کو بیس فیصد جرمانہ ادا کرنا ہوتا تھا۔ اِس کا مقصد اُسے یاد دلانا تھا کہ گناہ اِس قدر سود مند نہیں بلکہ مہنگا پڑتا ہے۔ 

کاہن کے فرائض۔ وہ پتیل کے مذبح کے گردا گرد خون چھڑکتا (‏۷:‏۲)‏‏، اور پھر چربی‏، موٹی دُم‏، گُردوں اور جگر پر کی جھلی کو مذبح پر جلاتا (‏۷:‏۳‏،۴)‏۔

قربانی کی تقسیم۔ خدا کا حصہ وہ تھا جو مذبح پر جلایا جاتا تھا (‏۷:‏۵)‏۔ قربانی گزراننے والے کاہن کو مینڈھے کی کھال ملتی تھی (‏۷:‏۸)‏۔ تمام کاہن جانور کے گوشت کو کھانے کے طور پر استعمال کرتے (‏۷:‏۶)‏۔ خطا یا جرم کی قربانی دینے والے کو قربانی کا کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔

علامتی طور پر جرم کی قربانی مسیح کے کام کے اُس پہلو کو بیان کرتی ہے کہ جو کچھ اُس نے چھینا نہیں اُسے دینا پڑا (‏زبور ۶۹:‏۴ ب)‏۔ اِنسان کے گناہ سے خدا کو اُس کی خدمت‏، پرستش‏، فرماں برداری اور عزت سے لُوٹا گیا۔ اور اِنسان بذاتِ خود زندگی‏، اِطمینان‏، خوشی اور خدا سے رفاقت سے لُٹ گیا۔ ہماری خطا کی قربانی کے طور پر خداوند یسوع نے نہ صرف وہ کچھ بحال کیا جو اِنسان کے گناہ کے باعث لُٹ گیا تھا بلکہ اُس نے اِس کے ساتھ اضافہ کیا۔ اگر گناہ دُنیا میں داخل نہ ہوتا اِس کی نسبت مسیح کے تکمیل شدہ کام کے ذریعے خدا کو زیادہ جلال ملا۔ گناہ میں نہ گرے ہوئے آدم میں ہونے کے بجائے ہم مسیح میں زیادہ خوش ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اگر کوئی اس طرح خطا کرے کہ وہ گواہ ہو اور اسے قسم دی جائے کہ آیا اس نے کچھ دیکھا یا اسے کچھ معلوم ہے اور وہ نہ بتائے تو اسکا گناہ اسی کے سر لگیگا۔
۲ یا اگ کوئی شخص کسی ناپاک چیز کو چھولے خواہ وہ ناپاک جانور یا ناپاک چوپائے یا ناپاک رینگنے والے جاندار کی لاش ہو تو چاہے اسے معلوم بھی نہ ہو کہ وہ ناپاک ہو گیا ہے تو بھی وہ مجرم ٹھہریگا۔
۳ یا اگر وہ انسان کی ان نجاستوں میں سے جن سے وی نجس ہو جاتا ہے کسی نجاست کو چھولے اور اسے معلوم نہ ہو تو وہ اس وقت مجرم ٹھہیگا جب اسے معلوم ہو جایئگا۔
۴ یا اگر کوئی بغیرسوچے اپنی زبان سے برائی یا بھلائی کرنے کی قسم کھالے تو قسم کھا کر وہآدمی چاہے کیسی ہی بات بغیر سوچے کہدے بشرطیکہ اسے معلوم ہوجائیگا۔
۵ اور جب وہ ان باتوں میں سے کسی میں مجرم ہو تو جس امر میں اس سے خطا ہوئی ہے وہ اس کا اقرار کرے۔
۶ اور خداوند کے حضور اپنے مجرم کی قربانی لائے یعنی جو خطا اس سے ہوئی ہےاس کے کئے ریوڑ میں سے ایک مادہ یعنی ایک بھیڑیا بکری خطا کی قربانی کے طور پر گزرانے اور کاہن اس کی خطا کا کفارہ دے۔
۷ اور اگر اسے بھیڑ دینے کا مقدور نہ ہو تو وہ اپنی خطا کے لئے جرم کی قربانی کے طور پر دو قمریاں یا بوتر کے دو بچے خداوند گزرانے۔ ایک خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرا سوختنی قربانی کے لئے ۔
۸ وہ انہیں کاہن کے پاس لے آئے جو پہلے اسے جو خطا کی قربانی کے لئے ہے گزرانے اور اس کا سر گردن کے پاس سے مروڑ ڈالے پر اسے الگ نہ کرے۔
۹ اور خطا کی قربانی کا کچھ خون مذبھ کے پہلو پر چھڑکے اور باقی خون کو مذبح کے پایہ پر گر جانے دے۔ یہ خطا کی قربانی ہے۔
۱۰ اوردوسرے پرندے کو حکم کے موافق سوختنی قربانی کے طور پر چڑھائے۔یوں کاہن اس کی خطا کا جو اس نے کی ہے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
۱۱ اور اگر اسے دوقمریاں یا کبوتر کے دو بچے لانے کا بھی مقدور نہ ہو ہو تو اپنی خطا کے واسطے اپنے چڑھاوے کے طور پر ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ خطا کی قربانی کے لئے لا۴ے۔ اس پر نہ تو وہ تیل ڈالے نہ لبان رکھے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے۔
۱۲ وہ اسے کاہن کے پاس لائے اور کاہن اس میں سے اپنی مٹھی بھر کر اس کی یاد گاری کا حصہ مذبح پر خداوند کی آتشین قربانی کے اوپر جلائے۔یہ خطا کی قربانی ہے۔
۱۳ یوں کاہن اس کے لئے ان باتوں میں سے جس کسی میں سے خطا ہوئی ہے اس خطا کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی اور جو کچھ باقی رہ جائے گا وہ نذر کی قربانی کی طرح کاہن کا ہو گا۔
۱۴ اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
۱۵ اگر خداوند کی پاک چیزوں میں کسی سے تقصیر ہو اور وہ نادانستہ خطا کرے تو وہ اپنے جرم کی قربانی کے طور پر ریوڑ میں سے بے عیب مینڈھا خداوند کےحضور چڑھائے۔جرم کی قربانی کے لئے اس کی قیمت مقدس کی مثقال کے حساب سے چاندی کی اتنی ہی مثقالیں ہوں جیتنی تو مقرر کردے۔
۱۶ اور جس پاک چیز میں اس سے تقصیر ہوئی ہے وہ اس کا معاوضہ دے اور اس میں پانچواں حصہ اور بڑھا کر اسے کاہن کے حوالہ کرے۔یوں کاہن جرم کی قربانی کا مینڈھا چڑھا کر اس کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
۱۷ اور اگر کوئی خطا کرے اور ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے تو چاہے وہ یہ بات جانتا بھی نہ ہو تو بھی مجرم ٹھہریگا اور اس کا گناہ اسی کے سر لگے گا۔
۱۸ پس وہ ریوڑ میں سے ایک بے عیب مینڈھا اتنے ہی دام کا جو تو مقرر کردے جرم کی قربانی کے طوور پر کاہن کے پاس لائے۔یوںٍکاہن اس کی اس بات کا جس میں اس سے نادانستہ چوک ہو گئی کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
۱۹ یہ جرم کی قربانی ہے کیونکہ وہ یقینأ خداوند کے آگے جمرم ہے۔