احبار ۳

ج۔ سلامتی کا ذبیحہ (‏باب۳ )‏

۳:‏۱۔۱۵ سلامتی یا رفاقت کی قربانی خدا کے ساتھ صلح کی بنا پر گزرانی جاتی تھی۔ یہ صلح جو کفارے کے لہو کی بنا پر قائم ہوئی تھی۔ یہ خوشی‏، محبت اور رفاقت کی ضیافت تھی۔ 

قربانی بذا تہٖ۔ اِس قربانی کے تین درجے تھے:‏ گلے میں سے جانور (‏بیل یا گائے)‏ نر یا مادہ (‏آیات ۱۔۵)‏‏، ریوڑ میں سے بھیڑ یا بکری کا نَر یا مادہ برّہ (‏آیات ۶۔۱۱)‏‏، ریوڑ میں سے بکرا یا بکری‏، نَر یا مادہ (‏آیات ۱۲۔۱۷)‏۔

قربانی پیش کرنے والے کے فرائض۔ وہ صحن کے دروازے پر جانور کو خداوند کے حضور پیش کرتا (‏آیات ۱‏،۶‏،۱۲)‏‏، وہ قربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا (‏آیات ۲‏،۸‏،۱۳)‏‏، وہ اُسے خیمۂ اجتماع کے دروازے پر ذبح کرتا (‏آیات ۲‏،۸‏،۱۳)‏‏، وہ جانور کے بعض حصے علیٰحدہ کرتا __ انتڑیوں پر کی چربی‏، گُردے‏، پوری چربی بھری دُم‏، جِگر پر کی جھِلی گُردوں سمیت تاکہ اُنہیں مذبح پر جلایا جائے (‏آیات ۳‏،۴‏،۹‏،۱۰‏، ۱۴‏،۱۵)‏۔

کاہنوں کے فرائض۔ وہ مذبح کے گردا گرد خون چھڑکتے (‏آیات ۲‏،۸‏،۱۳)‏ اور خداوند کے حصے کو سوختنی (‏چربی وغیرہ)‏ قربان گاہ پر جلا دیتے (‏آیت ۵)‏۔

قربانی کی تقسیم۔ خداوند کے حصے کو ’’آتشین قربانی کی غذا‘‘ کہا گیا۔ یہ چربی‏، گُردے‏، جِگر پر کی جھِلی اور پوری چربی بھری دُم تھی۔ احبار ۷:‏۳۲‏،۳۳ میں ہم پڑھتے ہیں کہ قربانی گزراننے والا کاہن دائیں ران کو پہلے ہلانے کی قربانی کے طور پر پیش کرتا اور وہ اُسے لیتا اور دیگر کاہن جانور کا سینہ لیتے (‏۷:‏۳۱)‏۔ اِسے پہلے ہلانے کی قربانی کے طور پر خدا کے حضور پیش کیا جاتا‏، اور قربانی دینے والے کو باقی سب کچھ دے دیا جاتا (‏۷:‏۱۵۔۲۱)‏۔ یہ واحد قربانی ہے جس میں سے قربانی دینے والے کو حصہ دیا جاتا تھا۔ وہ اِس سے غالباً اپنے خاندان اور دوستوں کے لئے رفاقتی کھانے کے طور پر ضیافت کا اہتمام کرتا۔ یوں قربانی عہد میں شامل اِسرائیلیوں کے مابین صلح و سلامتی کا ذریعہ بنتی۔

اِنسان یہوواہ کے ساتھ رفاقت اور صلح سے لطف اندوز ہونے کی شگرگزاری میں یہ قربانی پیش کرتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شخص خداوند کے حضور مانی ہوئی کسی خاص منت یا خداوند کی کسی خاص مہربانی کے لئے شکرگزاری کے طور پر سلامتی کا ذبیحہ گزرانتا تھا۔ 

اِس کے علامتی مفہوم کے لئے پیٹر پیل (‏Pell)‏ اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:‏

’’سلامتی کے ذبیحے میں مسیح کے تکمیل شدہ کام کو ایمان دار کے تعلق کے لحاظ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ خداوند یسوع ہماری صلح ہے (‏اِفسیوں ۲:‏۱۴)‏ کیونکہ صلیب پر بہے ہوئے اُس کے لہو سے یہ صلح قائم ہوئی ہے (‏کلسیوں ۱:‏۲۰)‏۔ اُس نے اُنہیں جو دُور تھے اور اُنہیں جو نزدیک تھے دونوں کو صلح کی خوش خبری دی (‏اِفسیوں ۲:‏۱۷)‏۔ یوں اُس نے یہودی اور یونانی کے درمیان دیوار کو ڈھا دیا۔ مسیح میں صلح کے وسیلے سے خدا اور گنہگار مل گئے ہیں‏، ہماری دشمنی کو مٹایا جا چکا ہے۔ خدا کو فدیہ دیا جا چکا ہے‏، گنہگار کا ملاپ ہو چکا ہے اور دونوں مسیح سے اور جو کچھ اُس نے کیا ہے مطمئن ہیں۔‘‘

۳:‏۱۶‏، ۱۷ بنی اِسرائیل کو چربی اور خون کھانے سے منع کیا گیا تھا‏، کیونکہ یہ دونوں خداوند کے لئے تھے۔ اِس کے علامتی معنوں کے علاوہ طبی نقطۂ نظر سے بھی اِسے کھانے سے منع کیا گیا اور یہ احتیاطی قسم کی دوا بھی تھی۔ آج کل ڈاکٹر بھی بلڈ پریشر‏، دل کے اَمراض‏، غشی‏، ذیابیطس اور پھیپھڑوں کے اَمراض میں مبتلا مریضوں کو چکنائی کھانے سے منع کرتے ہیں۔ 

اِن تینوں __ یعنی سوختنی‏، نذر اور سلامتی کی قربانیوں کا قوم کی اِجتماعی پرستش میں ایک اہم مقام تھا‏، لیکن کوئی فرد اپنی خوشی سے کسی وقت بھی خداوند کے حضور یہ قربانیاں لا سکتا تھا۔ دوسری دو قربانیوں کے بارے میں یہ حکم تھا کہ جب کوئی شخص خطا یا جرم کرے‏، یہ اُس وقت لائی جائیں۔ یوں قربانیوں میں خوشی و رضاکارانہ پرستش اور لازمی کفارے کے تصورات پائے جاتے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اور اگر اُس کا چڑھائے تو خواہ وہ نر ہو اور وہ گائے بیل میں سے کسی کو چڑھائے تو خواہ وہ نر ہو یا مادہ پر جو بے عیب ہو اسی کو وہ خداوند کے حضور چڑھائے۔
۲ اور وہ اپنا ہاتھ اپنے چڑھاوے کے جانور کے سر پر رکھے اور خمیہ اجتماع کے دروازہ پر اسے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے و کاہن ہیں اُس کے خون کو مذبح پر گرداگرد چھڑکیں ۔ اور وہ سلامتی کے ذبیحہ میں سے خداوند کے لیےآتشین قُربانی گذرانے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں
۳
۴ اور وہ ساری چربی جو کمر کے پاس رہتی ہےاور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ جدا کرے ۔
۵ اور ہارون کے بیٹے انہیں مذبح پر سوختنی قُربانی کے اوپر جلائیں جو ان لکڑیوں پر ہوگی جو آگ کے اوپر ہیں ۔ یہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہے ۔
۶ اور اگر اس کا سلامتی کے ذبیحے کا چڑھاوا خداوند کے لئے بھیڑ بکری میں سے ہو تو خواہ نر ہو یا مادہ پر جو بے عیب ہو اسی کو وہ چڑھائے۔
۷ اگر وہ برہ چڑھاتا ہو تو اسے خداوند کے حضور چڑھائے۔
۸ اور اپنا ہاتھ اپنے چڑھاوے کے جانور کے سر پر رکھے اور اسے خیمہ اجتماع کے سامنے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے اس کے خون کو مذبح پر گرداگرد چھڑکیں
۹ ۔ اور وہ سلامتی کے ذبیحہ میں سے خداوند کے لئے آتشین قربانی گزرانے ینعنی اس کی پوری چربی بھری دم کو وہ ریڑھ کے پاس سے الگ کرے اور جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی تہتی ہیں اور وہ ساری چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
۱۰ اور دونوں گردے اور انکے اوپر کی چربی جو کمرے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت سبھوں کو وہ الگ کرے۔
۱۱ اور کاہن انہیں مذبح پر جلائے، یہ اس آتشین قربانی کی غذا ہے جو خداوند کو گذرانی جاتی ہے۔
۱۲ اور اگر وہ بکرایا بکری چڑھاتا ہو تو اسے خداوند کے حضور چڑھائے۔
۱۳ اور وہ اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھے اور اسے خیمہ اجتماع کے سامنے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے اس کے خون کو ذبح پر گرداگرد چھڑکیں۔
۱۴ اور وہ اس میں سے اپنا چڑھاوا آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
۱۵ اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرے کے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ الگ کرے۔
۱۶ اور کاہن ان کو مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشین قربانی کی غذا ہے جو راست انگیز خوشبو کے لئے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔
۱۷ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل درنسل ایک دائمی قانون رہگا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ۔