احبار ۱۸

۷۔ شخصی برتاؤ سے متعلق قوانین (‏ابواب ۱۸۔۲۲)‏

الف۔ جنسی پاکیزگی کے قوانین (‏باب ۸ا)‏

باب ۱۸ میں مختلف قسم کی غیر آئینی شادیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن سے بنی اِسرائیل مصر میں واقف تھے‏، لیکن اُنہیں ملکِ کنعان میں کُلی طور پر ترک کرنا تھا۔

۱۸:‏۶۔۱۸ اِن الفاظ ’’بدن کو بے پردہ کرنا‘‘ کا مطلب ہے مباشرت کرنا۔ آیت ۶ میں عام اُصول بیان کیا گیا ہے۔ قریبی رشتے داروں یعنی ماں (‏آیت ۷)‏‏، سوتیلی ماں (‏آیت ۸)‏‏، بہن یا سوتیلی بہن (‏آیت ۹)‏‏، پوتی یا نواسی (‏آیت ۱۰)‏‏، سوتیلی ماں کی بیٹی (‏آیت ۱۱)‏‏، خالہ‏، پھوپھی (‏آیات ۱۲‏،۱۳)‏‏، چچی (‏آیت ۱۴)‏۔ جدید طبی سائنس اِس اَمر کی تصدیق کرتی ہے کہ خونی رشتہ داروں کے مابین شادیوں میں بعض اوقات والدین کی ذہنی یا جسمانی کمزوریاں بچوں میں زیادہ زور سے رُونما ہو جاتی ہیں۔ لیکن سسرال اور شادی کی معرفت کے دوسرے رشتہ داروں میں بھی یہ ممانعت تھی (‏آیت ۱۴ ب۔ ۱۶)‏۔ کوئی شخص اپنی بہو اور سوتیلی پوتی یا نواسی سے شادی نہ کرے (‏آیت ۱۷)‏ یا سالی کو اپنی بیوی کی سوکن نہ بنائے (‏آیت ۱۸)‏۔ آیت ۱۶ کی بعد ازاں اِستثنا ۲۵:‏۵ میں ترمیم پیش کی گئی۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مر جاتا تو اُس کے بھائی کا فرض تھا کہ وہ بیوہ سے شادی کرے۔ 

۱۸:‏۱۹۔۲۱ حیض کے دوران کسی عورت سے مباشرت ممنوع تھی۔ پڑوسی کی بیوی سے زِنا کاری منع تھی۔ یہ خوف ناک رسم بھی ممنوع قرار دی گئی جس کا تعلق مولک دیوتا کی پرستش سے تھا‏، جس میں نومولود بچے کو آگ میں سے گزارا جاتا تھا (‏۲۔سلاطین ۲۳:‏۱۰؛ یرمیاہ ۳۲:‏۳۵)‏۔ اُس کے بت کی شبیہیں وادیِ حنوم میں تھیں۔فرانسس شیفر اِس رسم کو اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے:‏

’’ایک روایت کے مطابق پیتل کے بت کی کمر میں خلا تھا‏، اور جب اِس کے اندر آگ جلائی جاتی تو والدین اپنے ہاتھوں سے مولک کے آگے سے تپتے ہوئے ہاتھوں میں اپنے پہلوٹھوں کو تھما دیتے۔ اِس روایت کے مطابق والدین کو کسی طرح کے جذبات کے اِظہار کی اِجازت نہیں تھی‏، اور ڈھول بجایا جاتا تاکہ جب بچہ چِلّاتے ہوئے مولک کے ہاتھوں میں مر جاتا تو اُس کے چِلّانے کی آواز سنائی نہ دے۔‘‘

۱۸:‏۲۲‏،۲۳ مرد کی کسی مرد کے ساتھ صحبت اور کسی جانور کے ساتھ صحبت ممنوع تھی۔ لونڈے بازی کے خلاف قانون سے شاید خدا اپنے لوگوں کو ایڈز کے متعدی مرض سے بچانا چاہتا تھا۔ 

۱۸:‏۲۴۔۳۰ آیات ۱۔۲۳ میں لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ کیا کچھ نہ کریں‏، آیات ۲۴۔۳۰ میں اُنہیں بتایا گیا کہ وہ ایسے کام کیوں نہ کریں۔ یہ کوئی اتفاقیہ بات نہیں ہے کہ جنسی بے راہ روی اور بت پرستی دونوں کا ایک ہی باب میں بیان کیا گیا ہے (‏دیکھیں باب ۲۰)‏۔ کسی شخص کی اخلاقیات اُس کے تصورِ خدا کا پھل ہے۔ کنعانی بت پرستی سے ہونے والے زوال کی جیتی جاگتی مثال تھے (‏آیات۲۴۔۲۷)‏۔ جب بنی اِسرائیل نے اس ملک پر قبضہ کیا‏، اُنہوں نے یہوواہ کے حکم پر اس مُلک کے لاکھوں لوگوں کو قتل کیا۔ جب ہم کنعانیوں کے آیات ۲۴۔۳۰ میں مذکور اخلاقی زوال پر غور کرتے ہیں‏، تو ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ خدا نے اِن سے کیوں اِس قدر سخت سلوک کیا۔ 

مقدس کتاب

۱ پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
۳ تم ملک مصر کے سے کام جس میں تم رہتے تھے نہ کرنا اور ملک کنعان کے سے کام بھی جہاں میں تمہیں لئے جاتا ہوں نہ کرنا اور نہ انکی رسموں پر چلنا۔
۴ تم میرے حکموں پر عمل کرنا اور میرے آئین کو مانکر ان پر چلنا میں خداوندتمہارا خدا ہوں
۵ سو تم میرے آئین اور احکام ماننا جن پر اگر کوئی عمل کرے تو وہ ان ہی کی بدولت جیتا رہیگا۔ میں خداوند ہوں۔
۶ تم میں سے کوئی اپنیکسی قریبی رشتہ دار کے پاس اسکے بدن کو بے پردہ کرنے کے لئے نہ جائے۔میں خداوند ہوں۔
۷ تو اپنی ماں کے بدن کو جو تیرے باپ کا بدن ہے بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں ہے۔تو اسکے بدن کو نے پردہ نہ کرنا۔
۸ تو اپنے باپ کی بیوی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کا بدن ہے۔تو اپنی بہن کے بدن کو چاہے وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو چاہے تیری ماں کی خواہ وہ گھر میں پیدا ہوئی ہو خواہ اور کہیں بے پردہ نہ کرنا۔
۹
۱۰ تو اپنی پوتی یا نواسی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ انکا بدن تو تیرا ہی بدن ہے۔
۱۱ باپ کی بیوی کی بیٹی جو تیرے باپ سے پیدا ہوئی ہے تیری بہن ہے۔تو اسکے بدن کو بے پردہ نہ کرنا۔
۱۲ تو اپنی پھوپھی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کی قریبی رشتہ دار ہے۔
۱۳ تو اپنی خالہ کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں کی قریبی رشتہ دار ہے۔
۱۴ تو اپنے باپ کے بھائی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا یعنی اسکی بیوی کے پاس نہ جانا۔وہ تیری چچی ہے۔
۱۵ تو اپنی بہو کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بیٹے کی بیوی ہے۔سو تو اسکے بدن کو بے پردہ نہ کرنا۔
۱۶ تو اپنی بھاوج کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بھائی کا بدن ہے۔
۱۷ تو کسی عورت اور اسکی بیٹی دونوں کے بدن کے بے پردہ نہ کرنا اور نہ تو اس عورت کی پوتی یا نواسی سے بیاہ کرکے ان میں سے کسی کے بدن کو بے پردہ کرنا کیونکہ وہ دونوں اس عورت کی قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ بڑی خباثت ہے۔
۱۸ تو اپنی سالی سےبیاہ کر کے اسے اپنی بیوی کی سوکن نہ بنانا کہ دوسری کے جیتے جی اسکے بدن کو بھی بے پردہ کرے۔
۱۹ اور تو عورت کے پاس جب تک وہ حیض کے سبب سے ناپاک ہے اسکے بدن کو بے پردہ کرنے کے لئے نہ جانا۔
۲۰ اور تو اپنے کو نجس کرنے کے لئے اپنے ہمسایہ کی بیوی سے صحبت نہ کرنا۔
۲۱ تو اپنی اولاد میںسے کسی کو مولک کی خاطر آگ میں سے گزرانے کے لئے نہ دینا نہ اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرانا۔میں خداوند ہو۔
۲۲ تو مرد کے ساتھ صحبت نہ کرنا جیسے عورت سے کرتا ہے۔یہ نہایت مکروہ کام ہے۔
۲۳ تو اپنے کو نجس کرنے کے لئے کسی جانور سے صحبت نہ کرنا اور نہ کوئی عورت کسی جانور سے ہم صحبت ہونے کے لئے اسکے آگے کھڑی ہو کیونکہ یہ اوندھی بات ہے۔
۲۴ تم ان کلاموں میں سے کسی میں پھنسکر آلودہ نہ ہو جانا کیونکہ جن قوموں کو میں تمہارے آگے سے نکالتا ہوں وہ ان سب کاموں کے سبب سے آلودہ ہیں۔
۲۵ اور انکا ملک بھی آلودہ ہو گیا ہے۔ اس لئے میں اسکی بدکاری کی سزا اسے دیتا ہوں ایساکہ وہ اپنے باشندوں کو اگلے دیتا ہے۔
۲۶ لہذا تم میرے آئین اور احکام کو ماننا اور تم میں سے کوئی خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تم میں بودوباش رکھتا ہو ان مکروہات میں سے کسی کام کو نہ کرے۔
۲۷ کیونکہ اس ملک کے باشندوں نے جو تم سے پہلے تھے یہ سب مکروہ کام کئے ہیںاور ملک آلودہ ہو گیا ہے۔
۲۸ سو ایسا نہ ہو کہ جس طرح اس ملک نے اس قوم کو جو تم سے پہلے وہاں تھی اگل دیا اسی طرح تم کو بھی جب تم اسے آلودہ کرو تو اگل دے۔
۲۹ کیونکہ جو ان مکروہ کاموںمیں سے کسی کو کریگا وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائیگا۔
۳۰ اسلئے میری شریعت کو ماننا اور یہ مکروہ رسمیں جو تم سے پہلے ادا کی جاتی تھیں ان میں سے کسی کو عمل میں نہ لانا اور ان میں پھنسکر آلودہ نہ ہو جانا۔میںخداوند تمہارا خدا ہوں۔