ایّوب ۲۷

(‏۵)‏ ایوب کی اختتامی خود کلامی (‏ابواب ۲۷۔۳۱)‏

نہ تو ایوب کے ’’تسلی دینے والوں‘‘ نے اپنے نظریات کو ثابت کیا ہے اور نہ ایوب نے ہی اپنے مسئلہ کو حل کیا ہے۔ تاہم وہ صحیح سمت پر گامزن ہے اور ایمان میں ترقی کر رہا ہے۔

ایوب کی خود کلامی میں تین بڑے مضامین ہیں:‏ وہ اپنی ایمانداری کا شریروں کے انجام سے موازنہ کرتا ہے (‏باب ۲۷)‏۔ وہ حکمت کی بیش قیمت خوبی کی تعریف کرتا ہے (‏باب ۲۸)‏ اور با لآخر وہ اپنے بارے میں تفصیل سے بیان کرتا ہے (‏ابواب ۲۹۔۳۱)‏۔

۲۷:‏ ۱۔۵ اِس باب کے افتتاحی الفاظ ’’ایوب نے پھر اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگا‘‘ کے بعد ایوب نہ صرف بلدد کو جواب دیتا ہے (‏۲۶:‏۱)‏ بلکہ اُن سب سے مخاطب ہے۔ اب وہ بہت سی باتوں سے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے۔ ایوب متواتر اپنی دیانت داری‏، نیکی اور راست بازی پر اصرار کرتا ہے۔ وہ اِس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ اُس کی مصیبت اُس کے کسی خفیہ گناہ کی وجہ سے ہے۔

۲۷:‏ ۶۔۲۳ ایوب شریروں‏، ناراستوں اور ریاکاروں کا دفاع نہیں کرتا کیونکہ وہ مصیبت اور دُکھ کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے تینوں دوستوں کو ناراست آدمی کے ساتھ خدا کے سلوک کے بارے میں بتاتا ہے ۔۔ اور یہ ایسے حقائق ہیں جن کا اُنہوں نے خود بھی مشاہدہ کیا ہے۔ اکثر اوقات (‏لیکن ہمیشہ نہیں)‏ آفتیں اُس کے خاندان ‏، اُس کی جائیداد‏، اُس کے گھر اور اُس پر نازل ہوں گی۔ وہ برباد ہو جائے گا جبکہ نیک لوگ خوشی منائیں گے۔

مقدس کتاب

۱ اور ایوب ؔ نے پھر اپنی مثل شُروع کی اور کہنے لگا:۔
۲ زندہ خد کی قسم جس نے میرا حق چھین لیا اور قادِرمطلق کی سِوگند جس نے میری جان کو دُکھ دیا ہے۔
۳ ( کیونکہ میری جان مجھ میں اب تک سالم ہے اور خدا کا دم میرے نتھنوں میں ہے)۔
۴ یقینامیرے لب ناراستی کی باتیں نہ کہینگے نہ میری زبان سے فریب کی بات نکلیگی ۔
۵ خدا نہ کرے کہ میں تمہیں راست ٹھہراؤں ۔میں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کرونگا ۔
۶ میں اپنی صداقت پر قائم ہُوں اور اُسے نہ چھوڑونگا ۔جب تک میری زندگی ہے میرا دِل مجھے ملامت نہ کریگا ۔
۷ میرا دُشمن شریروں کی مانند ہو اور میرے خلاف اُٹھنے والا ناراستوں کی مانند !
۸ کیونکہ گوبیدین دَولت حاصل کرلے تو بھی اُسکی اُمید کیا ہے جب خدا اُسکی جان لیلے ؟
۹ کیا خدا اُسکی فریاد سُنیگا جب مصیبت اُس پر آئے ؟
۱۰ کیا وہ قادِرمطلق میں مسروُر رہیگا اور ہر وقت خدا سے دُعا کریگا ؟
۱۱ میں تمہیں خدا کے برتاؤ کی تعلیم دُونگا اور قادِرمطلق کی بات نہ چھپاؤنگا ۔
۱۲ دیکھ! تم سبھوں نے خُود یہ دیکھا ہے پھر تم باِلکل خود بین کیسے ہوگئے ؟
۱۳ خدا کی طرف سے شریر آدمی کا حصہ اور ظالموں کی میراث جو وہ قادِرمطلق کی طرف سے پاتے ہیں یہی ہے۔
۱۴ اگر بچے بہت ہوجائیں تو وہ تلوار کے لئے ہیں اور اُسکی اَولاد روٹی سے سیر نہ ہوگی ۔
۱۵ اُسکے باقی لوگ مرکر دفن ہونگے اور اُسکی بیوائیں نَوحہ نہ کرینگی ۔
۱۶ چاہے وہ خاک کی طرح چاندی جمع کرلے اور کثرت سے لباس تیار کر رکھے ۔
۱۷ وہ تیار کرلے پر جو راست ہیں وہ اُنکو پہنینگے اور جو بے گناہ ہیں وہ اُس چاندی کو بانٹ لینگے ۔
۱۸ اُس نے مکڑی کی طرح اپنا گھر بنایا اور اُس جھونپڑی کی طرح جسے رکھوالا بناتا ہے۔
۱۹ وہ لیٹتا ہے دَولتمند پر وہ دفن نہ کیا جائیگا ۔وہ اپنی آنکھ کھولتا ہے اور وہ ہے ہی نہیں۔
۲۰ دہشت اُسے پانی کی طرح آلیتی ہے ۔رات کو طوفان اُسے اُڑا لے جاتا ہے ۔
۲۱ مشرقی ہوا اُسے اُڑا لے جاتی ہے اور وہ جاتا رہتا ہے۔وہ اُسے اُسکی جگہ سے اُکھاڑ پھینکتی ہے ۔
۲۲ کیونکہ خُدا اُس پر برسائیگا اور چھوڑنے کا نہیں ۔وہ اُسکے ہاتھ سے نکل بھاگنا چاہیگا ۔
۲۳ لوگ اُس پر تالیا ں بجائینگے اور سُسکار کر اُسے اُسکی جگہ سے نکال دینگے ۔