(۴) ایوب کا جواب (باب ۱۹)
۱۹: ۱۔۲۲ ایوب اپنے دوستوں کو بتاتا ہے کہ وہ جس طرح اُس کے ساتھ سختی سے پیش آئے ہیں، اُنہیں اِس رویہ پر شرم آنی چاہئے۔ خدا، اُس کے دوستوں، رشتہ داروں اور نوکروں نے اُس کے ساتھ سخت سلوک کیا ہے۔ اُس کا جسم سڑ گیا ہے اور وہ موت سے بال بال بچا ہے۔ تاہم اُس کے دوست خدا کے ساتھ مل کر اُس پر بے رحمی سے حملہ کرتے ہیں۔
۱۹:۲۳،۲۴ اُسے آرزو ہے کہ اُس کے دفاع کے الفاظ کسی کتاب میں لکھ لئے جائیں اور لوہے کے قلم اور سیسے سے چٹان پر کندہ کر لئے جائیں، تاکہ مستقبل میں کسی وقت اُسے انصاف مل سکے۔
۱۹: ۲۵۔۲۷ اُس کا ایمان ہے کہ ایک مخلصی دینے والا ہے جو کسی دن اُسے بَری کرکے اُسے بحال کر دے گا، خواہ موت اور سڑاہٹ بھی بیچ میں حائل ہو جائیں۔
عظیم انگریز مبشر سپرجن آیت ۲۵ کا بہت خوبصورت اطلاق کرتا ہے:
ایوب کے اطمینان کا لبِ لباب اِس چھوٹے سے لفظ ’’میرا‘‘ میں پوشیدہ ہے ۔۔ ’’میرا مخلصی دینے والا‘‘ اور اِس حقیقت میں کہ اُس کا مخلصی دینے والا زندہ ہے۔ عزیز قاری! زندہ مسیح سے لپٹ جائیں۔ اِس سے پیشتر کہ ہم اُس کی ذات سے لطف اندوز ہو سکیں، لازم ہے کہ وہ ہمارا مخلصی دینے والا بن جائے۔ کیونکہ وہ مخلصی دینے والا جو مجھے نہیں بچاتا، ایک انتقام لینے والا جو میرے خون کا بدلہ لینے کے لئے میرا ساتھ نہیں دیتا، اُس کا کیا فائدہ ہے؟ اُس وقت تک اطمینان سے نہ بیٹھیں جب تک ایمان سے آپ یہ نہ کہیں ’’ہاں مَیں اپنے آپ کو زندہ خداوند کے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور وہ میرا خداوند ہے۔‘‘ عین ممکن ہے کہ آپ اُسے کمزور ہاتھوں سے تھامیں اور محسوس کریں کہ آپ یہ کہنے کے لائق نہیں ہیں کہ ’’وہ میرا مخلصی دینے والا ہے‘‘۔ تاہم یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے تو یہ تھوڑا سا ایمان بھی آپ کو یہ کہنے کا حق دیتا ہے۔
لیکن ایک اَور لفظ بھی ہے جو ایوب کے مضبوط ایمان کو ظاہر کرتا ہے: ’’ مَیں جانتا ہوں۔‘‘ یہ کہنا کہ ’’ مَیں اُمید رکھتا ہوں‘‘ یا ’’لگتا ہے‘‘ کافی نہیں ہے اگرچہ کلیسیا میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو بمشکل اِس سے آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن حقیقی اطمینان کے لئے آپ کو یہ کہنا چاہئے ’’ مَیں جانتا ہوں۔‘‘
ایوب کا ایمان ہے کہ کھال کے برباد ہو جانے کے بعد وہ خدا کو دیکھے گا۔ یہ بات جسم کی قیامت کی نشان دہی کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو عہدعتیق میں اِس قدر زیادہ بیان نہیں کیا گیا، لیکن ہمارے خداوند کے ایام میں اکثر یہودی اِسے تسلیم کرتے تھے۔
پھر سپرجن آیت ۲۶ کی بہت خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے:
ایوب کی حقیقی اُمید ملاحظہ فرمائیے ۔۔ ’’ مَیں خدا کو دیکھوں گا۔‘‘ وہ یہ نہیں کہتا کہ ’’ مَیں مقدسین کو دیکھوں گا ۔۔ گو یہ بلاشبہ ایک واضح خوشی ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ ’’ مَیں نیا یروشلیم دیکھوں گا‘‘ یا ’’ مَیں سونے کا تاج دیکھوں گا‘‘ بلکہ ’’ مَیں خدا کو دیکھوں گا۔‘‘ یہ آسمانی خوشی کا خلاصہ ہے اور یہ سب ایمانداروں کی پر مسرت اُمید ہے۔
۱۹:۲۸،۲۹ چونکہ ایوب آخرکار راست باز ٹھہرے گا اِس لئے اُس کے دوستوں کو اُسے ستانا نہیں چاہئے، ورنہ اُنہیں سزا ملے گی۔
مقدس کتاب
۱ تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
۲ تم کب تک میری جان کھاتے رہو گے اور باتوں سے مجھے چور چور کروگے ؟
۳ اب دس بار تم نے مجھے ملامت ہی کی ۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم میرے ساتھ سختی سے پیش آتے ہو ۔
۴ اور مانا کہ مجھ سے خطا ہُوئی ۔میری خطا میری ہے۔
۵ اگر تم میرے مقابلہ میں اپنی بڑائے کرتے ہو اور میرے ننگ کو میرے خلاف پیش کرتے ہو
۶ تو جان لو کہ خدا نے مجھے پست کیا اور اپنے جال سے مجھے گھیر لیا ہے ۔
۷ دیکھو! میں ظلم ظلم پُکارتا ہُوں پر میری سُنی نہیں جاتی ۔میں مدد کے لئے دُہائی دیتا ہُوں پر انصاف نہیں ہوتا ۔
۸ اُس نے میرا راستہ اَیسا مسد ود کردیا ہے کہ میں گذر نہیں سکتا ۔اُس نے میری راہوں پر تاریکی کو بٹھا دیا ہے۔
۹ اُس نے میری حشمت مجھ سے چھین لی اور میرے سر پر سے تاج اُتار لیا ۔
۱۰ اُس نے مجھے ہر طرف سے توڑ کر نیچے گرادیا ۔بس میں تو ہولیا اور میری اُمید کو اُس نے پیڑ کی طرح اُکھا ڑ ڈالا ہے ۔
۱۱ اُس نے اپنے غضب کی بھی میرے خلاف بھڑکا یا ہے اور وہ مجھے اپنے مُخالفوں میں شمار کرتا ہے۔
۱۲ اُسکی فوجیں اِکٹھی ہو کر آتی اور میرے خلاف اپنی راہ تیار کرتی اور میرے ڈیرے کے چوگر د خیمہ زن ہوتی ہیں ۔
۱۳ اُس نے میرے بھائیوں کو مجھ سے دُور کردیا ہے اور میرے جان پہچان مجھ سے بیگانہ ہوگئے ہیں ۔
۱۴ میرے رشتہ دار کام نہ آئے اور میرے دِلی دوست مجھے بُھول گئے ہیں ۔
۱۵ میں اپنے گھر کے رہنے والوں اپنی لونڈیوں کی نظر میں اجنبی ہُوں ۔میں اُنکی نگاہ میں پردیسی ہو گیا ہوں ۔
۱۶ میں اپنے نوکر کو بُلاتا ہُوں اور وہ مجھے جواب نہیں دیتا اگرچہ میں اپنے منہ سے اُسکی منت کرتا ہوں۔
۱۷ میرا سانس میری بیوی کے لئے مکُروہ ہے اور میری منت میری ماں کی اَولاد کے لئے ۔
۱۸ چھوٹے بچے بھی مجھے حقیر جانتے ہیں ۔جب میں کھڑا ہوتا ہوں تو وہ مجھ پر آواز کستے ہیں ۔
۱۹ میرے سب ہمراز دوست مجھ سے نفرت کرتے ہیں ۔اور جن سے میں محبت کرتا تھا وہ میرے خلاف ہو گئے ہیں ۔
۲۰ میری کھال اور میرا گوشت میری ہڈیوں سے چمٹ گئے ہیں اور میں بال بال بچ نکلا ہُوں ۔
۲۱ اَے میرے دوستو! مجھ پر ترس کھاؤ۔ ترس کھاو! کیونکہ خدا کا ہاتھ مجھ پر بھاری ہے۔
۲۲ تم کیوں خدا کی طرح مجھے ستاتے ہو۔اور میرے گوشت پر قناعت نہیں کرتے ؟
۲۳ کاش کہ میری باتیں اب لکھ لی جاتیں ! کاش کہ وہ کسی کتاب میں قلمبند ہوتیں !
۲۴ کاش کہ وہ لوہے کے قلم اور سیسے سے ہمیشہ کے لئے چٹان پر کندہ کی جاتیں !
۲۵ لیکن میں جانتا ہُوں کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے۔اور آخر کار وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔
۲۶ اور اپنی کھال کے اِس طرح برباد ہو جانے کے بعد بھی میں اپنے اِس جسم میں سے خدا کو دیکھونگا ۔
۲۷ جسے میں خود دیکھونگا اور میری ہی آنکھیں دیکھینگی نہ کہ بیگانہ کی ۔میرے گُردے میرے اندر فنا ہو گئے ہیں ۔
۲۸ اگر تم کہو ہم اُسے کیسا کیسا ستائینگے ! حالانکہ اصلی بات مجھ میں پائی گئی ہے
۲۹ تو تم تلوار کی سزاؤں کو لاتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اِنصاف ہوگا۔