۳۷: ۱۔۱۳ الیہو، کائنات کے مختلف شعبوں سے خدا کی حکمت، قدرت، حشمت اور جلالی شان کو ثابت کرتا ہے۔ وہ موسلا دھار بارش، بگولے، برف، ہلکی بارش، سردی، شمالی ہواؤں، دلدار اور بجلی والے بادلوں ، رعد اور دھوپ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
۳۷: ۱۴۔۲۳ الیہو براہِ راست اپیل سے اپنی بات کو ختم کرتا ہے، ’’اے ایوب اِس کو سن لے۔ چپ چاپ کھڑا رہ اور خدا کے حیرت انگیز کاموں پر غور کر۔‘‘ وہ ایوب کو کائنات کے علم کے بارے میں چیلنج کرتا ہے۔ بادلوں کا کیسے توازن قائم رہتا ہے۔ جنوبی ہوا چلنے سے اُسے کیوں گرمی لگتی ہے۔ یہ کائنات کے بارے میں ایسے سوالات ہیں جو خدا خود کتاب کے اگلے حصہ میں ایوب سے کرے گا۔ اِس قدر عظیم قدرت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ہم خداوند سے ڈریں اور اپنے آپ کو اُس کے ڈسپلن کے حوالے کر دیں، نہ کہ ایوب کی طرح تنقید کرنے لگیں کہ اُس کا رویہ درست نہیں۔
۳۷: ۲۴ الیہو کی آخری آیت کا ایوب پر اطلاق ہوتا ہے اور سارے معاملے کا ایک جامع نتیجہ ہے۔ آیت ۲۴ کی پہلی سطر کو سمجھنا آسان ہے، لیکن دوسری سطر مشکل ہے۔ فرانسس اینڈرسن کے مطابق دوسری سطر کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے:
اِسی لئے لوگ اُس سے ڈرتے ہیں۔ یقیناًسب دانا لوگ اُس سے ڈرتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ اِس بات سے بھی میرا دِل کانپتا ہے اور اپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے ۔
۲ ذرا اُسکے بولنے کی آواز کو سُنو اور اُس زمزمہ کو جو اُسکے منہ سے نکلتا ہے ۔
۳ وہ اُسے سارے آسمان کے نیچے اور اپنی بجلی کو زمین کی اِ نتہا تک بھیجتا ہے ۔
۴ اِسکے بعد رعد کی آواز آتی ہے۔ وہ اپنے جلال کی آواز سے گرجتا ہے اور جب اُسکی آواز سُنائی دیتی ہے تو وہ اُسے روکتا ہے ۔
۵ خدا عجیب طور پر اپنی آواز سے گرجتا ہے ۔ وہ بڑے بڑے کام کرتا ہے جنکو ہم سمجھ نہیں سکتے ۔
۶ کیونکہ وہ برف کو فرماتا ہے کہ تو زمین پر گر ۔ اِسی طرح وہ بارش سے اور موسلادھار مینہ سے کہتا ہے ۔
۷ وہ ہر آدمی کے ہاتھ پر مہر کردیتا ہے تاکہ سب لوگ جنکو اُس نے بنایا ہے اِس بات کو جان لیں ۔
۸ تب درِندے غاروں میں گھس جاتے اور اپنی اپنی ماند میں پڑے رہتے ہیں ۔
۹ آندھی جنوب کی کوٹھری سے اور سردی شمال سے آتی ہے۔
۱۰ خدا کے دم سے برف جم جاتی ہے اور پانی کا پھیلاؤ تنگ ہو جاتا ہے ۔
۱۱ بلکہ وہ گھٹا پر نمی کو لادتا ہے اور اپنے بجلی والے بادلوں کو دُور تک پھیلا تا ہے۔
۱۲ اُسی کی ہدایت سے وہ اِدھر اُدھر پھرائے جاتے ہیں تا کہ جو کچھ وہ اُنہیں فرمائے اُسی کو وہ دُنیا کے آباد حصّہ پر انجام دیں
۱۳ خواہ تنبیہ کے لئے یا اپنے ملک کے لئے ۔ یا رحمت کے لئے وہ اُسے بھیجے ۔
۱۴ اَے ایوبؔ اِسکو سُن لے ۔چُپ چاپ کھڑا رہ اور خدا کے حیرت انگیز کاموں پر غور کر۔
۱۵ کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کیونکر اُنہیں تاکید کرتا ہے اور اپنے بادل کی بجلی کو چمکاتا ہے؟
۱۶ کیا تو بادلوں کے مُوازنہ سے واقف ہے؟ یہ اُسی کے حیرت انگیز کام ہیں جو علم میں کامل ہے۔
۱۷ جب زمین پر جنوبی ہوا کی وجہ سے سناٹا ہوتا ہے تو تیرے کپڑے کیوں گرم ہوجاتے ہیں ؟
۱۸ کیا تو اُسکے ساتھ فلک کو پھیلاسکتا ہے جو ڈھلے ہُوئے آئینہ کی طرح مضبوط ہے؟
۱۹ ہمکو سکھا کہ ہم اُس سے کیا کہیں کیونکہ اندھیرے کے سبب سے ہم اپنی تقریر کو دُرست نہیں کرسکتے
۲۰ کیا اُسکو بتایا جائے کہ میں بولنا چاہتا ہُوں؟ یا کیا کوئی یہ خواہش کرے کہ وہ نگل لیا جائے ؟
۲۱ ابھی تو آدمی اُس نور کونہیں دیکھتے جو افلاک پر روشن ہے لیکن ہوا چلتی ہے اور اُنہیں صاف کر دیتی ہے۔
۲۲ شمال سے سُنہری روشنی آتی ہے۔خدا مہیب شوکت سے مُلبسّ ہے ۔
۲۳ ہم قادِرمطلق کو پا نہیں سکتے ۔ وہ قُدرت اور عدل میں شاندار ہے اور اِنصاف کی فراوانی میں ظلم نہ کریگا ۔
۲۴ اِسی لئے لوگ اُس سے ڈرتے ہیں ۔وہ دانادِلوں کی پروا نہیں کرتا ۔