ایّوب ۲۶

(‏۴)‏ ایوب کا جواب (‏باب ۲۶)‏

۲۶:‏ ۱۔۴ سب سے پہلے تو ایوب‏، بلدد کے دلائل کا جواب دیتا ہے۔ ٹھیک ہے‏، ممکن ہے کہ ایوب میں کوئی قوت‏، طاقت یا حکمت نہ ہو‏، لیکن بلدد نے اُس کی کس طرح مدد کی ہے؟اُس کی باتیں کمزور‏، بے حس اور ایوب کے دلائل کے جواب میں کلی طور پر ناکام ہیں۔

۲۶:‏ ۵۔۱۳ باب کے باقی ماندہ حصہ میں کائنات میں خدا کی قدرت کا شان دار بیان ہے:‏ مثلاً بخارات و بارش کا سلسلہ‏، دَل دار بادل‏، روشنی اور تاریکی کا سلسلہ‏، سمندری طوفان‏، ستارے اور ستاروں کا جھرمٹ جس سے اُس کی روح نے آسمان کو آراستہ کیا ہے۔

اگرچہ بلدد آسمان میں خدا کے جلال پر زور دیتا ہے‏، ایوب یہاں گہرائیوں میں پانیوں کے نیچے پاتال اور تباہی کے لئے خدا کی قدرت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ایوب بیان کرتا ہے کہ خدا زمین کو خلا میں لٹکاتا ہے (‏یہ نظامِ شمسی میں زمین کی حالت اور حرکت کا شاعرانہ بیان ہے)‏۔ Ridout کہتا ہے:‏

یہ چند الفاظ بے دین فلسفیوں کے نظریۂ کائنات سے کہیں اعلیٰ ہیں! یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ بائبل سائنسی حقائق کی تعلیم نہیں دیتی۔ یہ تمام ضروری سچائی کی تعلیم دیتی ہے۔ گو سائنسی زبان میں نہیں‏، لیکن سائنسی صحت کے ساتھ تعلیم دیتی ہے۔

۲۶:‏ ۱۴ اِن عجائب میں اُس کی راہوں کے فقط کنارے ہیں اور ہم محض اُس کی دھیمی آواز سنتے ہیں۔ اِس بنا پر اُس کی قدرت کی گرج کو کون سمجھ سکتا ہے؟ 

مقدس کتاب

۱ تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
۲ جو بے طاقت ہے اُسکی تو نے کیسی مدد کی! جس بازو میں قوت نہ تھی اُسکو تو نے کیسا سنبھالا !
۳ نادان کو تو نے کیسی صلاح دی اور حقیقی معرفت خوب ہی بتائی !
۴ تو نے جو باتیں کہیں سو کس سے ؟ اور کس کی رُوح تجھ میں سے ہوکر نکلی ؟
۵ مُردوں کی رُوحیں پانی اور اُسکے رہنے والوں کے نیچے کانپتی ہیں ۔
۶ پاتال اُسکے حُضُور کھلا ہے اور جہنم بے پردہ ہے۔
۷ وہ شمال کو فضا میں پھیلا تا ہے اور زمین کو خلا میں لٹکاتا ہے ۔
۸ وہ اپنے دلدار بادلوں میں پانی کا باندھ دیتا ہے اور بادل اُسکے بوجھ سے پھٹتا نہیں ۔
۹ وہ اپنے تخت کو ڈھانک لیتا ہے اور اُسکے اُوپر اپنے بادل کو تان دیتا ہے ۔
۱۰ اُس نے روشنی اور اندھیرے کے ملنے کی جگہ تک پانی کی سطح پر حّد باندھ دی ہے ۔
۱۱ آسمان کے سُتُون کانپتے اور اُسکی جھڑکی سے حیران ہوتے ہیں ۔
۱۲ وہ اپنی قُدرت سے سمندر کو موجزن کرتا اور اپنے فہم سے رہبؔ کو چھیدا ہے ۔
۱۳ اُسکے دم سے آسمان آراستہ ہوتا ہے ۔اُسکے ہاتھ نے تیزرَو سانپ کو چھیدا ہے۔
۱۴ دیکھو! یہ تو اُسکی راہوں کے فقط کنارے ہیں اور اُسکی کیسی دھیمی آواز ہم سُنتے ہیں !پر کون اُسکی قُدرت کی گرج کو سمجھ سکتا ہے؟