(۲) الیفز کی پہلی تقریر (ابواب ۴، ۵)
چوتھا باب ایوب کے دوستوں کی تقریروں اور اُس کے جوابات کے سلسلہ سے شروع ہوتا ہے۔ ریدات اُن کے پیغامات کا خلاصہ اِن الفاظ میں پیش کرتا ہے:
تینوں دوستوں کی بحث میں ایک عام اصول پر مشتمل تصور موجود ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ تمام دُکھ تادیبی ہیں نہ کہ ہدایتی نوعیت کے اور یہ اصول خدا کی محبت کی بجائے اُس کے عدل پر مبنی ہے۔ ایسا اصول راست باز اور شریر کی مصیبت کے مابین امتیاز کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
۴ اور ۵ ابواب میں الیفز گفتگو کا آغاز کرتا ہے۔ الیفز(اُس کے نام کا شاید یہ مطلب ہے : خدا قوت ہے یا خدا خالص سونا ہے) ایک پاک باز اور ممتاز شخص تھا اور وہ خدا کی عظمت کے بارے میں راسخ الاعتقاد تھا، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اُس میں ہمدردی کی کمی تھی۔ اور جوں جوں تقاریر کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے اُس کا رویہ مزید سخت ہوتا جاتا ہے۔ یہ قابلِ غور بات ہے کہ اُس کے تینوں دوستوں کا فہم کمتر ہوتا جاتا ہے جبکہ ایوب باتیں کرتے کرتے خدا کی راہوں کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے، حتیٰ کہ الیہو کی تقریروں کے بعد اُس کا یہواہ سے سامنا ہوتا ہے اور وہ بڑی خاکساری سے خدا کی مرضی کو قبول کر لیتا ہے۔
۴:۱۔۱۱ دراصل الیفز یہ کہتا ہے، ’’ تُو نے دوسروں کی مدد کی(تیری باتوں نے لوگوں کو مستحکم کر دیا‘‘ ۴:۴ جیمز مافٹ)، لیکن تُو اب اپنی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘ (یہ الفاظ تصلیب کے وقت مسیح کا ٹھٹھا اُڑانے والوں کے الفاظ کی یاد دلاتے ہیں۔ ’’اِس نے اَوروں کو بچایا، اب اپنے آپ کو بچائے‘‘)۔ الیفز کے خیال میں اِس کی وجہ یہ ہے کہ ایوب اپنے آپ کو راست باز ٹھہراتا ہے۔ ’’کیا تیری خدا ترسی ہی تیرا بھروسا نہیں؟ کیا تیری راہوں کی راستی تیری اُمید نہیں؟‘‘ (۴:۶)۔ چونکہ لوگ بدی کی وجہ سے دُکھ پاتے ہیں اِس لئے لازماً ایوب نے گناہ کیا ہے (آیات ۷-۹)۔
۴: ۱۲۔۲۱ تب الیفز ایک رویت کا بیان کرتا ہے جو رات کے وقت پوشیدگی میں اُسے دی گئی۔ اِس رویا میں ایک روح سوال پوچھتی ہے، ’’کیا فانی انسان خدا سے زیادہ عادل ہو گا؟ کیا آدمی اپنے خالق سے زیادہ پاک ٹھہرے گا؟‘‘ (آیت ۱۷)۔ اِس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ انسان کو خدا پر الزام لگانے کا کوئی حق نہیں۔ اگر کوئی شخص دُکھ اُٹھاتا ہے تو یہ خدا کی نہیں، بلکہ اُس شخص کی اپنی غلطی ہے۔ خدا اِس قدر عظیم ہے کہ وہ اپنے خادموں پر بھروسا نہیں کر سکتا اور جب اُس کی ذات سے موازنہ کیا جائے تو اُس کے فرشتے بھی غلطی کے مجرم ہیں۔ چونکہ یہ ایسا ہے تو فانی انسان کس قدر خطاکار اور ناقابلِ بھروسا ہیں کیونکہ وہ تو پتنگے کی مانند فنا ہو جاتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ تب تیمائی الیفزؔ کہنے لگا۔
۲ اگر کوئی تجھ سے بات چیت کرنے کی کوشش کرے تو کیا تو رنجیدہ ہوگا ؟ پر بولے بغیر کون رہ سکتا ہے ؟
۳ دیکھ ! تو نے بہتوں کو سکھایا اور کمزور ہاتھوں کومضبوط کیا۔
۴ تیری باتوں نے گرتے ہوئے کو سنبھالا اور تو نے لڑکھڑاتے گھٹنوں کو پایدار کیا۔
۵ پر اب تو تجھی پر آپڑی اور تو بے دِل ہُوا جاتا ہے ۔اُس نے تجھے چھُوا اور تو گھبرا اُٹھا ۔
۶ کیا تیری خدا ترسی ہی تیرا بھروسا نہیں ؟ کیا تیری راہوں کی راستی تیری اُمید نہیں ؟
۷ کیا تجھے یا د ہے کہ کبھی کوئی معصوم بھی ہلاک ہُوا ہے ؟ یا کہیں راستباز بھی کاٹ ڈالے گئے ؟
۸ میرے دیکھنے میں تو جو گُناہ کو جوتتے اور دُکھ بولتے ہیں وہی اُسکو کاٹتے ہیں ۔
۹ وہ خدا کے دم سے ہلاک ہوتے اور اُسکے غضب کے جھوکے سے بھسم ہوتے ہیں ۔
۱۰ ببر کی گرج اور خونخوار ببر کی دھاڑ اور ببر کے بچوں کے دانت ۔یہ سب توڑے جاتے ہیں ۔
۱۱ شکار نہ پانے سے بُڈّھا ببر ہلاک ہوتا اور شیرنی کے بچے تتر بتر ہوجاتے ہیں ۔
۱۲ ایک بات چُپکے سے میرے پاس پہنچائی گئی ۔اُسکی بھنک میرے کان میں پڑی ۔
۱۳ رات کی رویتوں کے خیالوں کے درمیان جب لوگوں کو گہری نیند آتی ہے ۔
۱۴ مجھے خوف اور کپکپی نے اَیسا پکڑا کہ میری سب ہڈیوں کو ہلا ڈالا۔
۱۵ تب ایک رُوح میرے سامنے سے گُذری اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
۱۶ وہ چُپ چاپ کھڑی ہوگئی پر میں اُسکی شکل پہچان نہ سکا ۔ ایک صورت میری آنکھوں کے سامنے تھی اور سناّٹا تھا ۔پھر میں نے ایک آواز سُنی ۔ کہ
۱۷ کیا فانی اِنسان خدا سے زیادہ عادِل ہوگا؟کیا آدمی اپنے خالق سے زیادہ پاک ٹھہریگا ؟
۱۸ دیکھ! اُسے اپنے خادموں کا اعتبار نہیں اور وہ اپنے فرشتوں پر حمایت کوعائد کرتا ہے ۔
۱۹ پھر بھلا اُنکی کیا حقیقت ہے جو مٹی کے مکانوں میں رہتے ہیں ۔جنکی بُنیاد خاک میں ہے اور جو پتنگے سے بھی جلدی پس جاتے ہیں !
۲۰ وہ صُبح سے شام تک ہلاک ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوجاتے ہیں اور کوئی اُنکا خیال بھی نہیں کرتا ۔
۲۱ کیا اُنکے ڈیرے کی ڈوری اُنکے اندر ہی اندر توڑی نہیں جاتی ؟ وہ مرتے ہیں اور یہ بھی بغیر دانائی کے ۔