ایّوب ۴۰

۴۰:‏ ۱‏،۲ پھر خدا ایوب کو ملامت کرتا ہے کہ اُس نے خدا میں غلطیاں تلاش کر کے گستاخی کی ہے۔ اگر وہ اِس قدر دانش مند اور زور آور ہے‏، تو اُسے سوالوں کی اُس فہرست کا ضرور جواب دینا چاہئے جو اُس نے ابھی ابھی سنی ہے۔

ب۔ ایوب کا جواب (‏۴۰:‏ ۳۔۵)‏

خدا ایوب سے پوچھتا ہے کہ اُسے کیا حق حاصل ہے کہ وہ پروردگاری کے حوالے سے اپنے خدا کو سکھائے یا اُسے ملامت کرے‏، جبکہ اُسے قدرتی تخلیق کے بارے میں بہت کم علم ہے۔ اِس سے ایوب اپنے اصلی مقام کو پہچانتا اور کہتا ہے‏، ’’دیکھ! مَیں ناچیز ہوں۔ مَیں تجھے کیا جواب دوں؟ مَیں اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھتا ہوں۔‘‘ خدا کے وسیع تر علم سے مرعوب ہو کر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کہے گا۔

ج۔ خدا کا ایوب کو دوسرا چیلنج (‏۴۰:‏ ۶ ۔ ۴۱:‏۳۴)‏

(‏۱)‏ ایوب کو مرد کی طرح جواب دینے کے لئے چیلنج (‏۴۰:‏ ۶۔ ۱۴)‏

چونکہ ایوب کے جواب میں توبہ کی کمی تھی‏، اِس لئے خدا بگولے میں سے اُس کے ساتھ بحث کو جاری رکھتا ہے۔ خدا ایوب کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ مرد کی طرح بات کرے‏، کیونکہ اُس نے خدا پر ناانصافی کا الزام لگایا تھا اور اُسے موردِ الزام ٹھہرا کر اپنے آپ کو راست باز ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیا وہ قادرِ مطلق بن کر اور اُس کی سی آواز سے گرج کر الوہیت کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ کیا وہ خدا کی سی حشمت‏، جلال اور خوبصورتی سے ملبس ہو کر تخت نشین ہو سکتا ہے؟ کیا وہ مجرم پر اپنا غضب نازل کر سکتا ہے؟ کیا وہ متکبر کو خاکسار بنا سکتا ہے؟ اگر وہ یہ سب کام کر سکے تو خدا تسلیم کرے گا کہ اُس میں اپنے آپ کو مخلصی دینے کی قوت ہے۔

(‏۲)‏ ایوب کو چیلنج کیا گیا کہ وہ ہپوپوٹیمس پر غور کرے (‏۴۰:‏ ۱۵۔ ۲۴)‏

اِس کے بعد ایوب کو خدا چیلنج کرتا ہے کہ وہ ہپوپوٹیمس (‏بہیموتھ)‏ پر غور کرے جس کو اُس نے ایوب کے ساتھ بنایا۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ رد ہو جاتا ہے کہ ہپوپوٹیمس اور لویاتان قدیم زمانہ میں فرضی داستانوں میں مذکور جانور تھے۔ جس مخلوق کا وجود ہی نہیں ہے اُسے کس طرح چیلنج کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ لفظ بہیموتھ‏، مویشی کے لئے عبرانی لفظ ’’بہیماہ‘‘ کی جمع ہے۔ میریڈتھ کلائن وضاحت کرتا ہے کہ لفظ بہیموتھ کا مطلب ’’سب سے اعلیٰ قسم‘‘ کا جانور ہو سکتا ہے۔

خدا بہیموتھ (‏ہپوپوٹیمس)‏ کو جانوروں کی دُنیا میں اپنی خاص صنعت کہہ کر پکارتا ہے۔ گو ہم وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کون سا جانور تھا‏، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ چرندہ‏، جل تھلیا اور بہت زیادہ طاقتور جانور ہے۔ یہ سایہ دار اور دلدلی جگہ میں رہتا ہے اور اِسے آسانی سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ اِس سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ اگر ایوب اِس زور آور جانور کو قابو میں نہیں لا سکتا‏، تو وہ کائنات کو کیسے قابو میں لائے گا؟

بہیموتھ کو اُردو میں ہپوپوٹیمس کہا گیا ہے۔ لیکن کسی صورت میں بھی ہپوپوٹیمس کو خدا کی خاص صنعت نہیں کہا جا سکتا۔ ہاتھی یا کوئی اِس سے بڑا جانور اِس صنعت کے معیار پر پورا اُتر سکے تو اُتر سکے‏، لیکن یہ ہپونہیں ہو سکتا۔ جب بچے چڑیا گھر جاتے ہیں تو وہ ہپو کی موٹی اور چھوٹی دُم کو دیکھ کر خوشی سے چلاتے ہیں۔ بے شک اُس کی دُم دیودار کی طرح نہیں ہوتی۔

بعض ایک مسیحی سائنس دان اب اِس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ بہیموتھ ایک ایسا جانور ہے جو اب ناپید ہو چکا ہے۔ شاید یہ ڈائنو سار جیسا رینگنے والا کوئی جاندار ہو۔

مقدس کتاب

۱ خداوند نے ایوب ؔ سے بھی یہ کہا :۔
۲ کیا جو فُضول حُجت کرتا ہے وہ قادِر مطلق سے جھگڑاکرے ؟ جو خدا سے بحث کرتا ہے وہ اِسکا جواب دے ۔
۳ تب ایوب ؔ نے خداوند کو جواب دِیا:۔
۴ دیکھ ! میں ناچیز ہُوں ۔میں تجھے کیا جواب دُوں ؟میں اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھتا ہُوں ۔
۵ اب جواب نہ دُونگا ۔ ایکبار میں بول چُکا بلکہ دوبار ۔ پر اب آگے نہ بڑھُونگا ۔
۶ تب خداوند نے ایوب ؔ کو بگولے میں سے جواب دیا:۔
۷ مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تومجھے بتا۔
۸ کیا تو مجھے مجرم ٹھہرائیگا تاکہ خود راست ٹھہرے ؟
۹ یا کیا تیرا بازو خدا کا سا ہے ؟اور کیا تو اُسکی سی آواز سے گرج سکتا ہے ؟
۱۰ اب اپنے کوشان وشوکت سے آراستہ کر اور عزت وجلال سے مُلبسّ ہوجا۔
۱۱ اپنے قہر کے سیلابوں کو بہا دے اور ہر مغرُور کو دیکھ اور ذلیل کر۔
۱۲ ہر مغرور کو دیکھ اور اُسے نیچا کر اور شریروں کو جہاں کھڑے ہوں پامال کردے ۔
۱۳ اُنکو اِکٹھا مٹی میں چھپا دے اور اُس پوشیدہ مقام میں اُنکے منہ باندھ دے ۔
۱۴ تب میں بھی تیرے بارے میں مان لُونگا کہ تیرا ہی دہنا ہاتھ تجھے بچا سکتا ہے۔
۱۵ اب ہِپوّ پوٹیمس کو دیکھ جسے میں نے تیرے ساتھ بنایا ۔وہ بیل کی طرح گھاس کھاتا ہے۔
۱۶ دیکھ! اُسکی طاقت اُسکی کمر میں ہے اور اُسکا زور اُسکے پیٹ کے پٹھوں میں۔
۱۷ وہ اپنی دُم کو دیودار کی طرح ہلاتا ہے ۔اُسکی رانوں کی نسیں باہم پیوستہ ہیں ۔
۱۸ اُسکی ہڈّیوں پیتل کے نلوں کی طرح ہیں ۔اُسکے اعضا لوہے کے بینڈوں کی مانند ہیں ۔
۱۹ وہ خدا کی خاص صنعت ہے۔اُسکے خالق ہی نے اُسے تلوار بخشی ہے۔
۲۰ یقیناًٹیلے اُسکے لئے خوراک بہم پہنچاتے ہیں جہاں میدان کے سب جانور کھیلتے کُودتے ہیں ۔
۲۱ وہ کنول کے درخت کے نیچے لیٹتا ہے۔سرکنڈوں کی آڑا اور دلدل ہیں ۔
۲۲ کنول کے درخت اُسے اپنے سایہ کے نیچے چھپا لیتے ہیں ۔نالے کی بیدیں اُسے گھیر لیتی ہیں ۔
۲۳ دیکھ! اگر دریا میں باڑھ ہو تو وہ نہیں کانپتا ۔خواہ یردنؔ اُسکے منہ تک چڑھ آئے وہ بے خوف ہے۔
۲۴ جب وہ چوکس ہو تو کیا کوئی اُسے پکڑلیگا یا پھند الگا کر اُسکی ناک کو چھید یگا؟