ایّوب ۸

(‏۴)‏ بلدد کی پہلی تقریر (‏باب ۸)‏

بلدد نام کا مطلب ہے تنازع کا بیٹا‏، جو اُس کے لئے نہایت موزوں نام تھا کیونکہ ایوب کا یہ دوست بحث اور تنازع کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا۔ ریدات بلدد کا الیفز سے اسلوب اور علم کے لحاظ سے درج ذیل الفاظ میں موازنہ کرتا ہے:‏

بلدد کی تقریر میں الیفز کی نسبت کم مروت اور وقار ہے‏، اور وہ ایوب کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے۔ بلدد خدا کی عزت کے بارے میں غیرت کا مظاہرہ کرتا ہے‏، اور وہ اُسے کسی بھی طرح موردِ الزام ٹھہرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اِس میں وہ یقیناًدرست اور حق بجانب ہے لیکن وہ ایوب کو قائل نہیں کر سکتا‏، کیونکہ اُس کے تصور میں بنیادی غلطی ہے‏، بلکہ وہ سب ایسی غلطی کے مرتکب تھے۔ لازم ہے کہ خدا گناہ کی سزا دے اور ایوب ضرور گناہ گار ہے کیونکہ اُسے سزا دی گئی۔

۸:‏۱۔۷ ایوب پر غیر ذمہ دارانہ اور زبان درازی سے معمور تقریر کے لئے الزام لگاتے ہوئے بلدد خدا کے انصاف کا دفاع کرتا ہے کہ وہ شریروں کو سزا اور راست بازوں کو جزا دیتا ہے۔ وہ بڑی سختی سے کہتا ہے کہ ایوب کے بیٹے اپنی بدی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایسی تو کوئی بات نہیں تھی اور اگر ہوتی بھی تو ایک غمزدہ اور دُکھی شخص کو ایسی بات کہنا بہت ظالمانہ انداز تھا۔ بلدد کہتا ہے کہ اگر ایوب خلوص دلی سے خدا کی طرف رجوع کرے تو الٰہی حمایت کی اب بھی اُمید ہے۔

۸:‏۸۔۲۲ اِس کے بعد وہ ماضی سے بدی اور اُس کی سزا کا ثبوت دینا چاہتا ہے۔ جیسے سرکنڈا پانی کے بغیر خشک ہو جاتا ہے‏، بعینہٖ بے دین اور ریاکار کا انجام ہوتا ہے۔ یہ خدا شریر کی جگہ بے الزام کو رکھنے میں فرحت محسوس کرتا ہے‏، جسے وہ برکت دینا شروع کر دیتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ تب بِلددؔ سُوخی کہنے لگا:۔
۲ تو کب تک اَیسے ہی بکتا رہیگا ؟ اور تیرے مُنہ کی باتیں کب تک آندھی کی طرح ہونگی؟
۳ کیا خدا بے انصافی کرتا ہے ؟کیا قادِرمطلق عدل کا خون کرتا ہے ؟
۴ اگر تیرے فرزندوں نے اُسکا گُناہ کیا ہے اور اُس نے اُنہیں اُن ہی کی خطا کے حوالہ کردیا
۵ تو بھی اگر تو خدا کو خوب ڈھونڈتا اور قادِر مطلق کے حُضُور منت کرتا
۶ تو اگر تو پاک دِل راستباز ہو تا تو وہ ضُرور اب تیرے لئے بیدار ہو جاتا اور تیری راستبازی کے مسکن کو برومند کرتا ۔
۷ اور اگرچہ تیرا آغاز چھوٹا سا تھا تو بھی تیرا انجام بہت بڑا ہوتا۔
۸ ذرا پچھلے زمانہ کے لوگوں سے پُوچھ اور جو کچھ اُنکے باپ دادا نے تحقیق کی ہے اُس پر دھیان کر
۹ (کیونکہ ہم تو کل کے ہیں اور کچھ نہیں جانتے اور ہمارے دِن زمین پر سایہ کی مانند ہیں )۔
۱۰ کیا وہ تجھے نہ سکھائینگے اور نہ بتا ئینگے اور اپنے دِل کی باتیں نہیں کرینگے ؟
۱۱ کیا ناگر موتھا بغیر کیچڑ کے اُگ سکتا ہے؟کیا سرکنڈا بغیر پانی کے بڑھ سکتا ہے؟
۱۲ جب وہ ہرا ہی ہے اور کاٹا بھی نہیں گیا تو بھی اور پودوں سے پہلے سُوکھ جاتا ہے ۔
۱۳ اَیسی ہی اُن سب کی راہیں ہیں جو خدا کو بھول جاتے ہیں ۔بے خدا آدمی کی اُمید ٹوٹ جائیگی ۔
۱۴ اُسکا اِعتماد جاتا رہیگا اور اُسکا بھروسا مکڑی کا جالا ہے ۔
۱۵ وہ اپنے گھر پر ٹیک لگا ئیگا لیکن وہ کھڑا نہ رہیگا ۔وہ اُسے مضبوطی سے تھامیگا پر وہ قائم نہ رہیگا ۔
۱۶ وہ دُھوپ پاکر ہرا بھرا ہو جاتا ہے اور اُسکی ڈالیاں اُسی کے باغ میں پھیلتی ہیں ۔
۱۷ اُسکی جڑیں ڈھیرمیں لپٹی ہُوئی ہیں ۔وہ پتھروں کی جگہ کو دیکھ لیتا ہے ۔
۱۸ اگر وہ اپنی جگہ سے نیست کیا جائے تو وہ اُسکا اِنکار کرکے کہنے لگیگی کہ میں نے تجھے دیکھا ہی نہیں ۔
۱۹ دیکھ!اُسکی راہ کی خوشی اِتنی ہی ہے اور مٹّی میں سے دُوسرے اُگ آئینگے ۔
۲۰ دیکھ! خدا کامِل آدمی کو چھوڑ نہ دیگا ۔نہ وہ بدکرداروں کو سنبھالیگا ۔
۲۱ وہ اب بھی تیرے مُنہ کو ہنسی سے بھر دیگا اور تیرے لبوں کو للکار کی آواز سے ۔
۲۲ تیرے نفرت کرنے والے شرم کا جامہ پہنینگے اور شریروں کو ڈیرا قائم نہ رہیگا ۔