ایّوب ۵

۵:‏۱۔۷ الیفز ایوب کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ انسانوں اور فرشتوں (‏مقدسوں)‏ کو بلائے تاکہ وہ اِس بات کو کہ گناہ کے بعد عدالت ہوتی ہے غلط ثابت کریں۔ مقرر نے بذاتِ خود بدی اور سزا کے مابین تعلق کا مشاہدہ کیا ہے۔ مصیبت بے وجہ نہیں آتی۔ انسان چونکہ گناہ گار ہے اِس لئے مصیبت اُس کا مقدر ہے۔ یہ عمل اِس قدر یقینی ہے جیسے چنگاریاں اوپر کو اُڑتی ہیں۔

۵:‏ ۸۔۱۶ انسان کو یہ کام کرنا چاہئے کہ وہ خدا کی تلاش کرے اور اپنا معاملہ خدا ہی پر چھوڑے کیونکہ وہی حکمت والا اور قادرِ مطلق خدا ہے۔ اُس کے اِن اوصاف کو ہم کائنات پر اُس کے اختیار اور بنی نوع انسان کے ساتھ اُس کے پروردگاری کے تعلقات میں دیکھتے ہیں۔پولس نے ۱۔کرنتھیوں ۳:‏۱۹ میں اِس جہان کی باطل حکمت کو بے نقاب کرنے کے لئے آیت ۱۳ کا اقتباس کیا ہے۔

۵:‏۱۷۔۲۷ الیفز کہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو قادرِ مطلق کی تنبیہ کے سپرد کرنے سے کال‏، جنگ‏، بہتان تراشی‏، خانہ جنگی‏، مصیبت‏، خشک سالی‏، درندوں اور فصلوں کے نقصان سے مخلصی پاتے ہیں۔ وہ گھریلو سکون‏، تحفظ‏، ترقی اور عمر کی درازی سے مستفید ہوتے ہیں۔

مقدس کتاب

۱ ذرا پُکار ۔کیا کوئی ہے جو تجھے جواب دیگا؟ اور مُقدسوں میں سے تو کس کی طرف پھر یگا ؟
۲ کیو نکہ کُڑھتا بیوقوف کو مار ڈالتا ہے اور جلن احمق کی جان لے لیتی ہے ۔
۳ میں نے بیو قوف کو جڑ پکڑتے دیکھا ہے پر ناگہان اُسکے مسکن پر لعنت کی ۔
۴ اُسکے بال بچے سلامتی سے دُور ہیں ۔وہ پھاٹک ہی پر کچلے جاتے ہیں اور کوئی نہیں جو اُنہیں چھُڑائے ۔
۵ بُھوکا اُسکی فصل کو کھاتا ہے بلکہ اُسے کانٹوں میں سے بھی نکال لیتا ہے اور پیاسا اُسکے مال کو نگل جاتا ہے ۔
۶ کیو نکہ مصیبت مٹّی میں سے نہیں اُگتی ۔ نہ دُکھ زمین میں سے نکلتا ہے۔
۷ پر جیسے چنگاریاں اُوپر ہی کو اُڑتی ہیں ویسے ہی انسان دُکھ کے لئے پیدا ہوا ہے ۔
۸ لیکن میں تو خدا ہی کا طالب رہونگا اور اپنا معاملہ خدا ہی پر چھوڑ ونگا ۔
۹ جو اَیسے بڑے بڑے کام جو دریافت نہیں ہوسکتے اور بے شمار عجیب کام کرتا ہے ۔
۱۰ وہی زمین پر مینہ برساتا اور کھیتوں میں پانی بھیجتا ہے ۔
۱۱ اِسی طرح وہ فروتنوں کو اُونچی جگہ پر بٹھاتا ہے اور ماتم کرنے والے سلامتی کی سرفرازی پاتے ہیں ۔
۱۲ وہ عیّاروں کی تد بیروں کو باطل کردیتا ہے ۔یہاں تک کہ اُنکے ہاتھ اُنکے مقصود کو پورا نہیں کرسکتے
۱۳ وہ ہوشیاروں کو اُن ہی کی چالاکیوں میں پھنسا تا ہے اور ٹیڑ ھے لوگوں کی مشورت جلد جاتی رہتی ہے ۔
۱۴ اُنہیں دِن دِہاڑے اندھیرے سے پالا پڑتا ہے اور وہ دوپہر کے وقت اَیسے ٹٹولتے پھرتے ہیں جیسے رات کو۔
۱۵ لیکن مُفلس کو اُنکے مُنہ کی تلوار اور زبردست کے ہاتھ سے وہ بچا لیتا ہے ۔
۱۶ سو مسکین کو اُمید رہتی ہے اور بدکاری اپنا مُنہ بند کرلیتی ہے ۔
۱۷ دیکھ! وہ آدمی جسے خدا تنبیہ کرتا ہے خوش قسمت ہے ۔اِسلئے قادر مُطلق کی تادیب کو حقیر نہ جان ۔
۱۸ کیو نکہ وہی مجروح کرتا اور پٹی باندھتا ہے ۔وہی زخمی کرتا ہے اور اُسی کے ہاتھ چنگا کرتے ہیں ۔
۱۹ و ہ تجھے چھ مُصیبتوں سے چھُڑائیگا بلکہ سات میں بھی کوئی آفت تجھے چھُونے نہ پائیگی ۔
۲۰ کال میں وہ تجھ کو موت سے بچائیگا اور لڑائی میں تلوار کی دھار سے ۔
۲۱ تو زبان کے کوڑے سے محفوظ رکھا جائیگا اور جب ہلاکت آئیگی تو تجھے ڈر نہیں لگیگا ۔
۲۲ تو ہلاکت اور خشک سالی پر ہنسیگا اور زمین کے درندوں سے تجھے کچھ خوف نہ ہوگا ۔
۲۳ میدان کے پتھروں کے ساتھ تیرا ایکا ہوگا اور جنگلی درِندے تجھ سے میل رکھینگے
۲۴ اور تو جانیگا کہ تیرا ڈیرا محفوظ ہے اور تو اپنے مسکن میں جائیگا اور کوئی چیز غائب نہ پائیگا ۔
۲۵ تجھے یہ بھی معلوم ہوگا کہ تیری نسل بڑی اور تیری اَولاد زمین کی گھاس کی مانند برومند ہوگی۔
۲۶ تو پُوری عمر میں اپنی قبر میں جائیگا جیسے اناج کے پُولے اپنے وقت پر جمع کئے جاتے ہیں ۔
۲۷ دیکھ ! ہم نے اِسکی تحقیق کی اور یہ بات یوں ہی ہے ۔اِسے سُن لے اور اپنے فائدہ کے لئے اِسے یاد رکھ ۔