۱۷ : ۱۔۱۲ ایوب کی جان تباہ ہو گئی ہے اور وہ قبر کے دہانے پر ہے جبکہ اُس کے دوست اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ صرف خدا اُس کے مقدمہ کا فیصلہ کرے کیونکہ اُس کے تنقید کرنے والے بے فائدہ ثابت ہوئے ہیں۔ خداوند نے اُسے نفرت کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ راست باز شخص جانتا ہے کہ اُس کی حالت اُس پر نکتہ چینی کرنے والوں سے بہتر ہو جائے گی۔ اُس کے تینوں مخالفوں میں سے کوئی بھی دانش مند شخص نہیں ہے۔
۱۷: ۱۳۔۱۶ سوائے قبر کے اب کوئی اَور جگہ ایوب کے لئے نہیں بچی۔ وہاں تاریکی ہے، کیڑے ہیں اور سڑاہٹ ہے۔
مقدس کتاب
۱ میری جان تباہ ہوگئی ۔میرے دِن ہو چکے ۔قبر میرے لئے تیار ہے۔
۲ یقیناًہنسی اُڑانے والے میرے ساتھ ساتھ ہیں اور میری آنکھ اُنکی چھیڑ چھاڑ پر لگی رہتی ہے۔
۳ ضمانت دے ۔ اپنے اور میرے بیچ میں تو ہی ضامن ہو۔کون ہے جو میرے ہاتھ پر ہاتھ مارے ؟
۴ کیونکہ تو نے اِن کے دل کو سمجھ سے روکا ہے اِسلئے تو اِن کو سرفراز نہ کریگا ۔
۵ جو لُوٹ کی خاطر اپنے دوستوں کو ملزم ٹھہراتا ہے اُسکے بچوں کی آنکھیں بھی جاتی رہینگی ۔
۶ اُس نے مجھے لوگوں کے لئے ضرب المثل بنا دیا ہے اور میں اَیسا ہو گیا کہ لوگ میرے منہ پر تھوکیں ۔
۷ میری آنکھ غم کے مارے دُھندلا گئی اور میرے سب اعضا پر چھائیں کے مانند ہیں ۔
۸ راستبا ز آدمی اِس بات سے حیران ہونگے ۔ اور معصوم آدمی بے خدا لوگوں کے خلاف جوش میں آئیگا ۔
۹ تو بھی صادق اپنی راہ میں ثابت قدم رہیگا اور جس کے ہاتھ صاف ہیں وہ زورآور ہی ہوتا جائیگا
۱۰ پر تم سب کے سب آتے ہو تو آؤ ۔مجھے تمہارے درمیان ایک بھی عقلمند آدمی نہ ملیگا ۔
۱۱ میرے دِن ہوچکے ۔میرے مقصود بلکہ میرے دِل کے ارمان مِٹ گئے ۔
۱۲ وہ رات کو دِن سے بدلتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں روشنی تاریکی کے نزدیک ہے ۔
۱۳ اگر میں اُمید کُروں کہ پاتال میرا گھر ہے ۔ اگر میں نے اندھیرے میں اپنا بچھونا بچھا لیا ہے ۔
۱۴ اگر میں نے سڑاہٹ سے کہا ہے کہ تو میرا باپ ہے اور کیڑے سے کہ تو میری ماں اور بہن ہے
۱۵ تو میری اُمید کہاں رہی ؟ اور جو میری اُمید ہے اُسے کون دیکھیگا ؟
۱۶ وہ پاتال کے پھاٹکوں تک نیچے اُتر جائیگی جب ہم ملکر خاک میں آرام پائینگے ۔