ب۔تقاریر کا دوسرا دَور (ابواب ۱۵۔۲۱)
تقریروں کے دوسرے دَور میں ایوب کے تسلی دینے والے اب اُسے توبہ کرنے کے لئے نہیں کہتے بلکہ اُن کا رویہ زیادہ سخت اور الزامی ہو جاتا ہے۔ اِس دوران ایوب کا رویہ بھی سخت ہو جاتا ہے۔
(ا) الیفز کی دوسری تقریر (باب ۱۵)
۱۵: ۱۔۶ اب الیفز تیمانی کی باری تھی کہ وہ ایوب کو اُس کی ناپاک اور بے جا غرور پر مبنی بے سود گفتگو کے لئے ملامت کرے۔ کئی سوالوں سے تیمانی ایوب کے علم کا مذاق اُڑاتے ہوئے اِسے بے فائدہ اور بے سود قرار دیتا ہے۔ جب ایوب کے جرأت مندانہ الفاظ نے خدا کو چیلنج کیا، تو اُس پر خوف کو برطرف کرنے کا الزام لگایا جا سکتا تھا، لیکن اُس پر عیاروں کی زبان اختیار کرنے کا الزام کبھی بھی دُرست نہیں تھا۔ ایوب نے بڑی آزادی سے باتیں کیں اور اپنے دل کا حال بیان کر دیا۔ وہ ریاکار نہیں تھا۔
۱۵: ۷۔۱۳ اِس کے بعد الیفز اِس بات کو چیلنج کرتا ہے کہ ایوب تکبر سے اپنے خیالوں کو سب سے اعلیٰ تصور کرتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے ’’کیا تُونے عقل مندی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘‘ الیفز کہتا ہے کہ تینوں تسلی دینے والوں کے الفاظ ’’خدا کی تسلی‘‘ اور ’’نرمی کا کلام‘‘ ہیں۔ اِس سے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حقیقی اور پُر محبت صلاح کاری سے بالکل محروم ہے۔
۱۵: ۱۴۔۱۶ الیفز ۴:۱۷۔۱۹ میں مذکور خدا کی پاکیزگی اور انسان کے گناہ گار ہونے کے بارے میں اپنی رائے کو دہراتا ہے۔ لیکن الیفز کے مقابلہ میں ایوب کس قدر بڑا گناہ گار ہے؟ ریدات سوال کرتا ہے:
اِس کا صرف ایوب پر ہی کیوں اطلاق ہوتا ہے، گویا کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جار رہی تھی کہ وہ دوسروں کی نسبت بڑا گناہ گار ہے؟ایوب کے جوشیلے بیانات کی نسبت یہ زیادہ مکارانہ تقریر ہے۔ الیفز کو بھی ایوب کے ساتھ یہ مقام قبول کرنا چاہئے کہ اقرار کرے کہ وہ مکروہ اور گھناؤنا ہے۔ اِس سے بے چارے مصیبت زدہ کو زیادہ تسلی ملتی۔
۱۵:۱۷۔۲۶ بزرگوں کی قدیم حکمت کا حوالہ دیتے ہوئے الیفز بیان کرتا ہے کہ شریر آدمی کو زندگی میں کس قدر دُکھ اُٹھانے پڑتے ہیں۔
۱۵: ۲۷۔۳۵ شریر پر خوف ناک مصیبتیں آتی ہیں اور یہ مصیبتیں جرم کے حساب سے نازل ہوتی ہیں۔
مقدس کتاب
۱ تب الِیفزؔ تیمائی نے جواب دیا:۔
۲ کیا عقلمند کو چاہئے کہ لغو باتیں جوڑ کر جواب دے اور مشر قی ہوا سے اپنا پیٹ بھرے ؟
۳ کے اوہ بیفاءِدہ بکواس سے بحث کرے یا اَیسی تقریروں سے جو بے سُود ہیں ؟
۴ بلکہ تو خوف کو برطرف کرکے خدا کے حُضور عبادت کو زائل کرتا ہے ۔
۵ کیونکہ تیرا گناہ تیرے منہ کا سکھاتا ہے اور تو عیّاروں کی زبان اِختیار کرتا ہے ۔
۶ تیرا ہی منہ تجھے ملزم ٹھہراتا ہے نہ کہ میں بلکہ تیرے ہی ہونٹ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں ۔
۷ کیا پہلا اِنسان تو ہی پیدا ہُوا ؟ یا پہاڑوں سے پہلے تیری پیدائش ہُوئی ؟
۸ کیا تو نے خدا کی پوشیدہ مصلحت سُن لی ہے اور اپنے لئے عقلمندی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟
۹ تو اَیسا کیا جانتا ہے جو ہم میں نہیں جانتے؟ تجھ میں اَیسی کیا سمجھ ہے جو ہم میں نہیں ؟
۱۰ ہم لوگوں میں سفید سرا اور بڑے بُوڑھے بھی ہیں جو تیرے باپ سے بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں ۔
۱۱ کیا خدا کی تسلی تیرے نزدیک کچھ کم ہے اور وہ کلام جو تجھ سے نرمی کے ساتھ کیا جاتا ہے ؟
۱۲ تیرا دِل کیو ں تجھے کھینچ لے جاتا ہے اور تیری آنکھیں کیوں اِشارہ کرتی ہیں
۱۳ کہ تو اپنی رُوح کو خدا کی مخالف پر آمادہ کرتا ہے اور وہ اپنے منہ سے اَیسی باتیں نکلنے دیتا ہے؟
۱۴ اِنسان ہے کیا کہ وہ پاک ہو؟ اور وہ جو عورت سے پیدا ہُوا کیا ہے کہ صادق ہو؟
۱۵ دیکھ! وہ اپنے قُدسیوں کا اعتبار نہیں کرتا بلکہ آسمان بھی اُسکی نظر میں پاک نہیں ۔
۱۶ پھر بھلا اُسکا کیا ذکر جو گھنونا اور خراب ہے یعنی وہ آدمی جو بدی کو پانی کی طرح پیتا ہے ؟
۱۷ میں تجھے بتاتا ہوں ۔ تُو میری سُن اور جو میں نے دیکھا ہے اُسکا بیا ن کُرونگا ۔
۱۸ (جسے عقلمندوں نے اپنے باپ دادا سے سُنکر بتایا ہے اور اُسے چھپایا نہیں
۱۹ صرف اُن ہی کو ملک دیا گیا تھا اور کوئی پردیسی اُنکے درمیان نہیں آیا)۔
۲۰ شریر آدمی اپنی ساری عمر درد سے کراہتا ہے ۔یعنی سب برس جو ظالم کے لئے رکھے گئے ہیں ۔
۲۱ ڈراونی آوازیں اُسکے کان میں گُونجتی رہتی ہیں ۔اِقبالمندی کے وقت غارتگر اُس پر آپڑیگا ۔
۲۲ اُسے یقین نہیں کہ وہ اندھیرے سے باہر نکلیگا اور تلوار اُسکی مُنتظر ہے۔
۲۳ وہ روٹی کے لئے مارامارا پھرتا ہے کہ کہاں ملیگی ۔وہ جانتا ہے کہ اندھیرے کا دِن پاس ہی ہے ۔
۲۴ مصیبت اور سخت تکلیف اُسے ڈراتی ہیں ۔اَیسے بادشاہ کی طرح جو لڑائی کے لئے تیار ہو وہ اُس پر غالب آتی ہیں۔
۲۵ اِسلئے کہ اُس نے خدا کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور قادِرمطلق کے خلاف بے باکی کرتا ہے۔
۲۶ وہ اپنی ڈھالوں کی موٹی موٹی گُلمیخوں کے ساتھ گردن کش ہو کر اُس پر لپکتا ہے ۔
۲۷ اِسلئے کہ اُسکے منہ پر مُٹا پا چھا گیا ہے اور اُسکے پہلُوؤں پر چربی کی تہیں جم گئی ہیں ۔
۲۸ اور وہ ویران شہروں میں بس گیا ہے ۔اَیسے مکانوں میں جن میں کوئی آدمی نہ بسا اور جو کھنڈر ہونے کو تھے ۔
۲۹ وہ دَولتمند نہ ہوگا ۔ اُسکا مال بنا نہ رہیگا اور اَیسوں کی پیداوار زمین کی طرف نہ جُھکیگی ۔
۳۰ وہ اندھیرے سے کبھی نہ نکلیگا ۔ شعلے اُسکی شاخوں کو خشک کر دینگے اور وہ خدا کے منہ کے دم سے جاتا رہیگا ۔
۳۱ وہ اپنے آپ کو دھوکا دیکر بطالت کا بھروسا نہ کرے کیو نکہ بطالت ہی اُسکا اجر ٹھہریگی ۔
۳۲ یہ اُسکے وقت سے پہلے پُورا ہو جائیگا اور اُسکی شاخ ہر ی نہ رہیگی ۔
۳۳ تاک کی طرح اُسکے انگور کچّے ہی جھڑ جائینگے اور زیتون کی طرح اُسکے پُھول گرجائینگے ۔
۳۴ کیونکہ بے خدا لوگوں کی جماعت بے پھل رہیگی اور رِشوت کے ڈیروں کو آگ بھسم کر دیگی ۔
۳۵ وہ شرارت سے باردار ہوتے ہیں اور بدی پیدا ہوتی ہے اور اُنکا پیٹ دغا کو تیار کرتا ہے ۔