ایّوب ۲۵

(‏۳)‏ بلدد کی تیسری تقریر (‏باب ۲۵)‏

ایوب کے تسلی دینے والوں میں سے سب سے آخری تقریر ضوفر کی نہیں بلکہ بلدد سوخی کی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ضوفر کی تقریروں کا خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بلدد کی تقریر بھی بہت مختصر ہے اور یہ ایوب کی کتاب میں سب سے مختصر ہے۔ ریدات کہتا ہے:‏

بلدد کی تقریر مختصر ہے اور اِس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اِس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ دوستوں کے دلائل ختم ہو چکے ہیں اور وہ اِس سے آگے نہیں بڑھ سکتے‏، اگرچہ وہ سنجیدہ اور بامروت لوگ تھے اور اظہار کی خوبیاں اُن میں بدرجہ اُتم موجود تھیں۔ اُن کی زبان نہایت اعلیٰ اور شریفانہ ہے اور اُن کے استعارے بہت خوبصورت اور زور دار ہیں‏، لیکن اُن کا انداز اور دلائل غلط ‏، کمزور اور غیر معقول تھے۔

چونکہ بلدد نے با لآخر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ الفاظ کی کثرت اُس کی معاون ثابت نہیں ہو گی‏، وہ صرف دو مضامین بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے یعنی خدا کی عظمت (‏آیات ۱۔۳)‏ اور انسان کی کم مائیگی (‏آیات ۴۔۶)‏۔

۲۵:‏ ۱۔۳ خدا کا اقتدار اور دبدبہ ہے اور اُس کی فوجیں لاتعداد ہیں۔

۲۵:‏ ۴۔۶ جب چاند اور ستارے خدا کی نظر میں پاک نہیں‏، تو انسان سے کیا توقع وابستہ کی جا سکتی ہے جو محض کیڑا اور کرم ہے؟ بلدد کی باتیں دُرست ہیں اور اِنہیں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے‏، لیکن یہ محبت اور تسلی دینے کے جذبے کے بغیر کہی گئی ہیں‏، اِس لئے یہ ایوب کی ضرورت کو پورا نہ کر سکیں۔

مقدس کتاب

۱ تب بلددؔ سُوخی نے جواب دیا:۔
۲ اِقتدار اور دبدبہ اُسکے ساتھ ہے۔وہ اپنے بلند مقاموں میں امن رکھتا ہے ۔
۳ کیا اُسکی فوجوں کی کوئی تعداد ہے؟اور کون ہے جس پر اُسکی روشنی نہیں پڑتی ؟
۴ پھر اِنسان کیونکر خدا کے حُضُور راست ٹھہر سکتا ہے؟ یا وہ جو عورت سے پیدا ہُوا ہے کیونکر پاک ہوسکتا ہے؟
۵ دیکھ ! چاند میں بھی روشنی نہیں اور تارے اُسکی نظر میں پاک نہیں ۔
۶ پھر بھلا اِنسان کا جو محض کیڑا ہے اور آدم زاد کا جو صرف کِرم ہے ذکر !