د۔ خطا کی قربانی (۴:۱۔۵:۱۳)
باب ۴۔ خطا کی قربانی مخلصی یافتہ لوگوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ اِس کا یہ مقصد نہیں کہ گنہگار نجات کے لئے خدا کے پاس آتا ہے۔ بلکہ ایک اِسرائیلی خداوند کے ساتھ عہد کے رِشتے کی بِنا پر معافی حاصل کرنے کے لئے آتا ہے۔ اِس کا تعلق اُن گناہوں سے ہے جو سہواً یا غیر اِرادی طور پر کئے گئے ہوں۔
قربانی بذا تہٖ۔ قربانیوں کے مختلف درجے تھے اور ان درجات کا اِس بات پر اِنحصارتھا کہ کس شخص نے گناہ کیا ہے۔ اگر ممسوح کاہن یعنی سردار کاہن کے کسی گناہ کے باعث قوم مجرم ٹھہرتی ہے (آیت ۳) تو وہ ایک بے عیب بچھڑا لاتا۔ پوری جماعت بھی ایک بچھڑا لاتی (آیت ۱۳)؛ ایک سردار (آیت ۲۱) بے عیب بکرا لاتا، ایک عام آدمی (آیت ۲۷) بے عیب بکری لاتا (آیت ۲۸) یا بے عیب مادہ برّہ (آیت ۳۲) (عبرانی زبان میں مستعمل لفظ کا مطلب ہے جوان جانور)۔
قربانی دینے والے کے فرائض۔ عمومی طور پر قربانی دینے والا جانور کو خیمۂ اجتماع کے صحن کے دروازے پر لاتا، اُسے خداوند کے حضور پیش کرتا، اپنے ہاتھ اُس پر رکھتا، اُسے ذبح کرتا، اور چربی، گُردوں اور جِگر پر کی جھِلی کو الگ کرتا۔ بزرگ جماعت کی نمائندگی کرتے (آیت ۱۵)۔ ذبح کئے ہوئے جانور کی موت علامتی طور پر خطاکار کی موت کو ظاہر کرتی تھی۔
کاہن کے فرائض۔ اپنے لئے اور جماعت کے لئے سردار کاہن قربانی کا خون لے کر خیمۂ اجتماع کے پاک مقام میں جاتا اور مقدِس کے پردے کے سامنے اِسے سات بار چھڑکتا (آیات ۵،۶،۱۶،۱۷) اور سونے کے عود سوز کے سینگوں پر بھی خون لگاتا (آیات ۷،۱۸)۔ باقی خون کو وہ سوختنی قربانی کے مذبح کے پائے پر اُنڈیل دیتا (آیات ۷،۱۸)۔کسی سردار یا عام شخص کے لئے کاہن خون کو سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر چھڑکتا اور باقی خون کو مذبح کے پائے پر اُنڈیل دیتا (آیات ۲۵،۳۰،۳۴)۔ عام لوگوں کے لئے وہ چربی، گُردوں، جِگر پر کی جھِلی اور چربی دار دُم کو سوختنی قربانی کے مذبح پر جلا دیتا (آیات ۸۔۱۰، ۱۹،۲۶،۳۱)۔ سردار کاہن یا پوری جماعت کے لئے قربانی کی صورت میں، باقی سارے جانور کو لشکر گاہ کے باہر لے جا کر جلا دیا جاتا (آیات۱۱،۱۲،۲۱)۔
قربانی کی تقسیم۔ خداوند کا وہ حصہ ہوتا تھا جو مذبح پر جلایا جاتا تھا یعنی چربی، گُردے اور جِگر کے اُوپر جھلی وغیرہ۔ کاہن کو کسی سردار یا عام آدمی کی طرف سے گزرانی گئی قربانی کا گوشت کھانے کی اِجازت تھی، کیونکہ اِس قربانی کا خون مقدِس میں نہیں لے جایا جاتا تھا (۷:۳۰) جیسا کہ سردار کاہن اور جماعت کی قربانی کی صورت میں تھا (۴:۵،۶،۱۶،۱۷)۔ وہ ۵:۶،۷،۱۱ میں مذکور اِنہی وجوہات کی بنا پر قربانی کے گوشت کو کھا سکتا تھا۔ مذکورہ بالا قربانی کا کوئی حصہ قربانی پیش کرنے والے کو نہ دیا جاتا۔
خطا کی جس قربانی کا خون پاک مقام میں لے جایا جاتا، اُس پورے جانور کو لشکر گاہ کے باہر جلا دیا جاتا۔ چنانچہ ہمارا خداوند اپنا ہی خون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخل ہو گیا (عبرانیوں ۹:۱۲) کیونکہ اُس نے یروشلیم کے باہر دُکھ اُٹھایا۔ ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ ’’اُس کی ذلت کو اپنے اوپر لئے ہوئے خیمہ گاہ سے باہر اُس کے پاس چلیں‘‘ (عبرانیوں ۱۳:۱۳)۔
یہ الفاظ ملاحظہ فرمایئے: ’’نادانستہ خطا‘‘۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں گناہ سے محض لاعلمی سے زیادہ کچھ پوشیدہ ہے۔ غالباً اِس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ ارادتاً یا بغاوت کے طور پر نہیں کیا گیا۔ جو گناہ قصداً کیا گیا اُس کے لئے کوئی قربانی نہیں تھی، کیونکہ اِس کے نتیجے میں سزائے موت بھگتنا پڑتی تھی۔
خطا کی قربانی علامتی طور پر مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا گیا (حالانکہ وہ گناہ سے واقف نہ تھا) تاکہ ہم اُس میں ہو کر خدا کی راست بازی ہو جائیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خطا کی قربانی اِس بات کی علامت ہے کہ مسیح اُس سے نپٹا جو کچھ ہم ہیں یعنی ہماری ذات سے، جب کہ جرم کی قربانی یہ پیش کرتی ہے کہ مسیح اُس سے نپٹا جو کچھ ہم نے کیا، یعنی ہمارے اعمال سے۔
مقدس کتاب
۱ اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
۲ بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی ان کاموں میں سے جنکو خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے اور اس سے نادانستہ خطا ہو جائے۔
۳ اگر کاہن ممسوح کے واسطے جو اس نے کی ہے ایک بے عیب بچھڑا خطا کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گزرانے۔
۴ وہ اس بچھڑے کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے آگے لائے اور بچھڑے کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے اور اس کو خدواند کے آگے ذبح کرے۔
۵ اور وہ کاہن ممسوح اس بچھڑے کے خون میں سے کچھ لیکر اسے خیمہ اجتماع میں لے جائے۔
۶ اور کاہن اپنی انگلی خون میں ڈبو ڈبو کر اور خون میں سے لے لیکر اسے مقدس کے پردہ کے سامنے سات بار خداوند کے آگے جھڑکے۔
۷ اور کاہن اسی خون میں سے خوشبع دار بخور جلانے کی قربانگاہ کے سینگوں پر جو خیمہ اجتماع میں ہے خدواند کے آگے لگائے اور اس بچڑے کے باقی سب خون کو سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے انڈیل دے۔
۸ پھر وہ خطا کی قربانی کے بچھڑے کی سب چربی کو اس سے الگ کرے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
۹ اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہےاور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ ویسے ہی الگ کرے۔
۱۰ جیسے سلامتی کے ذبیحہ کے بچھڑے سے وہ الگ کئے جاتے ہیں اور کاہن ان کو سوختنی قربانی کے ذبح پر جلائے۔
۱۱ اور اس بچھڑے کی کھال اور اس کا سب گوشت اور سر اور پائے اور انتڑیاں اور گوبر۔
۱۲ یعنی پورے بچھڑے کو لشکر گاہ کے باہر کسی صاف جگہ میں جہان راکھ پڑتی ہے لیجائے اور سب کچھ لکڑیوں پر رکھ کر آگ سے جلائے۔ وہ وہیں جلایا جائے جہاں راکھ ڈالی جاتی ہے۔
۱۳ اگر بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے انجانے چوک ہو جائے اور یہ بات جماعت کی آنکھوں سے چھپی تو ہو تو بھی وہ ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرکے مجرم ہو گئی ہو۔
۱۴ تو اس خطا کے جس کے وہ قصور وار ہوں معلوم ہو جانے پر جموعت ایک بچھڑا خطا کی قربانی کے طور پر چڑھانے کے لئے خیمہ اجتماع کے سامنے لائے۔
۱۵ اور جماعت کے بزرگ اپنے اپنے ہاتھ خداوند کے آگے اس بچھڑے کے سر پررکھیں اور بچھڑا خداوند کے آگے ذبح کیاجائے۔
۱۶ اور کاہن ممسوح اس بچھڑے کے کون میں سے کچھ خیمہ اجتماع میں لے جائے۔
۱۷ اور کاہن اپنی انگلی اس خون میں ڈبو کر اسے پردہ کے سامنے سات بارخداوند کے آگےچھڑکے۔
۱۸ اور اسی خون میں سے مذبح کے سینگوں پر خداوند کے آگے خیمہ اجتماع میں ہے لگائے اور باقی سارا خون سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے اندیل دے۔
۱۹ اور اس کی سب چربی اس سے الگ کر کے اسے مذبح پر جلائے۔
۲۰ وہ بچھڑے سے یہی کرے یعنی جو کچھ خطا کی قربانی کے بچھڑے سے کیا تھا وہی اس بچھڑے سے کرے۔ یوں کاہن ان کے لئے کفارہ دے تو انہیں معافی ملے گی۔
۲۱ اور وہ اس بچھڑے کو لشکر گاہ کے باہر لے جا کر جلائے جیسے پہلے بچھڑے کو جلایا تھا۔ یہ جماعت کی خطا کی قربانی ہے۔
۲۲ اور جب کسی سردار سے خطا سرزد ہو اور وہ ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کا نادانستہ کر بیٹھے اور مجرم ہو جائے۔
۲۳ تو جب وہ خطا جو اس سے سرزد ہوئی ہے اسے بتادی جائے تو وہ ایک بے عیب بکرا اپنی قربانی کے واسطے لائے۔
۲۴ اور اپنا ہاتھ اس بکرے کے سر پر رکھے اور اسےاس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی قربانی کے جانور خداوند کے آگے ذبح کرتے ہیں۔ یہ خطا کی قربانی ہے۔
۲۵ اور کاہن خطا کی قربانی کا کچھ خون اپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
۲۶ اور سلامتی کے ذبیحہ کی چربی کی طرح اس کی سب چربی مذبح پر جلائے۔یوں کاہن اس کی خطا کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
۲۷ اور اگر کوئی عام آدمیوں میں سے نادانستہ خاطا کرے اور ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کر کے مجرم ہو جائ۔
۲۸ تو جب وہ خطا جو اس نے کی اسے بتادی جائے تو وہ اپنی اس خطا کے واسطے جو اس سے سرزد ہوئی ہے ایک بے عیب بکری لائے۔
۲۹ اور وہ اپنا ہاتھ خطا کی قربانی کے جانور کو سوختنی قربانی کی جگہ پر ذبح کرے۔
۳۰ اور کاہن اس کا کچھ خوناپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
۳۱ اور وہ اسکی ساری چربی کو الگ کرے جیسے سلامتی کے ذبحیہ کی چربی الگکی جاتی ہے اور کاہن اسے مذبح پر راحت انگیز خوشبو کے طور پر خداوند کے لیئے جلائے۔ یوں کاہن اس کے لئے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
۳۲ اور اگر خطا کی قربانی کے لئے اس کا چڑھاوا برہ ہو تو وہ بے عیب مادہ لائے۔
۳۳ اور اپنا ہاتھ خطا کی قربانی کے جانور کے سرپر رکھے اور اسے خطا کی قربانی کے طور پر اس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی قربانی ذبح کرتے ہیں۔
۳۴ اور کاہن خطا کی قربانی کا کچھ خون اپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
۳۵ اور اسکی سب چربی کو الگ کرے جیسے سلامتی کے ذبحیہ کے برہ کی چربی الگ کی جاتی ہے اور کاہن اس کو مذبح پر خداوند کی آتشین قربانیوں کے اوپر جلائے۔یوں کاہن اس کے لئے اس کی خطا کا جو اس سے ہوئی ہے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔