(۲) ایوب کا جواب (ابواب ۲۳ ، ۲۴)
ابواب ۲۳ اور ۲۴ دراصل ایک ہی تقریر ہے۔ باب ۲۳ میں ایوب تین بڑے مضامین کو پیش کرتا ہے: (۱) خدا کی عدالت میں اپنے مقدمہ کو پیش کرنے کی آرزو (آیات ۱۔۹)۔ (۲) راست بازی کے اپنے طرزِ زندگی کے لئے اُس کا اپنا دفاع (آیات ۱۰۔۱۲)۔ (۳) خدا کا خوف گویا کہ وہ (خدا) اُس کا مخالف ہے (آیات ۱۳۔۱۷)۔
۲۳:۱۔۹ ایوب کی شکایت بہت تلخ ہے۔ کاش کہ وہ خدا کی مسند کے سامنے جا سکے جہاں وہ اُس سے مل سکے۔ سپرجن یوں تفسیر کرتا ہے:
اُس کی پہلی دعا یہ نہیں کہ ’’کاش مجھے میری بیماری سے شفا مل جائے جو اَب میرے جسم کے ہر ایک حصہ میں ناسور بن چکی ہے!‘‘ اُس کی دعا یہ بھی نہیں کہ ’’کاش میرے بچے زندہ ہو کر قبر سے باہر آ جائیں اور میری جائیداد میرے مخالفین سے مجھے واپس مل جائے!‘‘ بلکہ اُس کی اولین فریاد یہ ہے کہ ’’کاش مجھے معلوم ہو جاتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے تاکہ مَیں عین اُس کی مسند تک پہنچ جاتا!‘‘ جب طوفان آتا ہے تو خدا کے فرزند اپنے گھر واپس آتے ہیں۔ اُنہیں خدا کی طرف سے ملی ہوئی جبلت ہے کہ مصیبتوں میں یہواہ کے پروں کے نیچے پناہ حاصل کریں۔
ایوب پُر اعتماد ہے کہ اگر وہ خداوند کے حضور پہنچ جائے تو خدا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایوب راست باز ہے اور یوں وہ اپنے منصف سے رہائی پائے گا۔
۲۳:۱۰۔۱۲ آیت ۱۰ کو اکثر آزمائشوں کے پاک کرنے والے اثرات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن متن میں ایوب کے اِس اعتماد کو پیش کیا گیا ہے کہ خداوند اُسے بری قرار دے گا۔اِسی دوران خدا ظالمانہ انداز میں عمل کرتا ہے اور اِس سے ایوب خوفزدہ ہو گیا ہے۔ اِس کے باوجود ایوب کا یہ اعتقاد ہے کہ اگر اُس کا مقدمہ کبھی خدا کی عدالت تک لایا جائے، تو وہ خالص سونے یعنی کندن کی مانند ثابت ہو گا اور ثابت ہو گا کہ وہ خدا کے کلام کا فرماں بردار رہا ہے، جسے اُس نے اپنی خوراک سے بھی زیادہ ذخیرہ کیا ہے۔ آیت ۱۰ کے الفاظ ہماری اپنی زندگیوں کے لئے زبانی یاد کرنے کے قابل ہیں:
’’لیکن وہ اُس راستہ کو جس پر مَیں چلتا ہوں جانتا ہے
جب وہ مجھے تالے گا تو مَیں سونے کی مانند نکل آؤں گا۔‘‘
۲۳:۱۳۔۱۷ اِس صورتِ حال میں جبکہ خدا بظاہر خود مختار حیثیت سے من مانی کرتا اور جو چاہتا ہے کرتا ہے، ایوب اُس سے خائف ہے، کیونکہ اُس نے ایوب کے دل کو کمزور کر دیا ہے۔
مقدس کتاب
۱ تب ایوب نے جواب دیا:۔
۲ میری شکایت آج بھی تلخ ہے ۔میری مار میرے کراہنے سے بھی بھاری ہے۔
۳ کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے تاکہ میں عین اُسکی مسند تک پہنچ جاتا !
۴ میں اپنا مُعاملہ اُسکے حُضُور پیش کرتا اور اپنا منہ دلیلوں سے بھر لیتا ۔
۵ میں اُن لفظوں کو جان لیتا جن میں وہ مجھے جواب دیتا اور جوکچھ وہ مجھ سے کہتا میں سمجھ لیتا
۶ کیا وہ اپنی قُدرت کی عظمت میں مجھ سے لڑتا ؟نہیں ۔بلکہ وہ میری طرف توجہ کرتا ۔
۷ راستبازو ہاں اُسکے ساتھ بحث کرسکتے ۔یوں میں اپنے مُنصف کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے رہائی پاتا ۔
۸ دیکھو! میں آگے جاتا ہُوں پر وہ وہاں نہیں اور پیچھے ہٹتا ہُوں پر میں اُسے دیکھ نہیں سکتا ۔
۹ با ئیں ہاتھ پھر تا ہُوں جب وہ کام کرتا ہے وہ مجھے دِکھائی نہیں دیتا ۔وہ دہنے ہاتھ کی طرف چھپ جاتا ہے اَیسا کہ میں اُسے دیکھ نہیں سکتا ۔
۱۰ لیکن وہ اُس راستہ کو جس پر چلتا ہُوں جانتا ہے ۔جب وہ مجھے تالیگا تو میں سونے کی مانند نکل آؤنگا ۔
۱۱ میرا پاؤں اُسکے قدموں سے لگا رہاہے ۔میں اُسکے راستہ پر چلتا رہا ہوں اور برگشتہ نہیں ہوا۔
۱۲ میں اُس کے لبوں کے حکم سے ہٹا نہیں ۔میں نے اُسکے منہ کی باتوں کو اپنی ضروری خوراک سے بھی زیادہ ذخیرہ کیا ۔
۱۳ لیکن وہ ایک خیال میں رہتا ہے اور کون اُسکو پھرا سکتا ہے؟اور جو کچھ اُسکا جی چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
۱۴ کیونکہ جو کچھ میرے لئے مُقرر ہے وہ پُورا کرتا ہے اور بہت سی اَیسی باتیں اُسکے ہاتھ میں ہیں ۔
۱۵ اِسی لئے میں اُسکے حُضُور میں گھبراجاتا ہُوں ۔میں جب سوچتا ہُوں تو اُس سے ڈر جاتا ہُوں
۱۶ کیونکہ خدا نے میرے دِل کو بودا کرڈالا اور قادِرمطلق نے مجھکو گھبرادیا ہے ۔
۱۷ اِسلئے کہ میں اِس ظلمت سے پہلے کاٹ ڈالا نہ گیا اور اُس نے بڑی تاریکی کو سامنے سے نہ چھپایا۔